مضامین ومقالات

کملیش تیواری قتل ایک معمہ

نقاش نائطی

کملیش تیواری قتل پر کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل، سابقہ پندرہ بیس سالوں میں چمنستان ہندستان میں بڑھتی ہندو احیاء پرستی اور اس تناظر میں دیش کی مسلم مائینورٹی پر ہورہے ظم و ستم پر ایک نظر ڈالی جائے تو کملیش کو قتل کروانے والوں کے مکروہ و بھیانک چہرے از خود سامنے آتے چلے جاتے ہیں۔
ملک کے سابق نائب وزیر اعظم, اس وقت کے بی جی پی کے قدآور نیتا ایل ایڈوانی کا دہلی کے تخت تک پہنچنے کے لئے, شری رام کے نام کی رتھ یاترا نکالنا ،دیش کے سب سے بڑے راجیہ یوپی پر بی جی پی سرکار کے ہوتے ہوئے، دیش بھر کے ہزاروں کارسیوکوں کا ایودھیا بابری مسجد والے مقام پر جماوڑا، دیش کی سب سے بڑی عدلیہ میں بابری مسجد کی حفاظت کے تیقن کے باوجود لاکھوں رام بھگتوں کی موجودگی میں ہزاروں جنونی کارسیوکوں کے ہاتھوں سیکیولرزم کا قتل عام ہوتے، بابری مسجد کی شہادت اور ہندستان بھر میں بابری مسجدشہادت پر مسلمانوں کا رد عمل نہ آنے دینے کے لئے،اسکے دوسرے ہی دن سے، کانگریس زمام حکومت والے مہاراشٹرا کے، ہندستان کے سب سے بڑے تجارتی شہر ممبئی میں، ممبئی شیوسینا کا، مسلمانوں کا قتل عام کرتامنظم فساد برپاہونا، یہ سب چمنستان ہندستان کو ہندو احیا پرستی کے جبڑے میں جکڑنے کی ایک منظم سازش کی کچھ کڑیاں ہیں۔جہاں بابری مسجد کو ڈھانے سے قبل کئی سال تک ایڈوانی جی نے اپنی زہریلی سنگھی تقاریر سے،اور اپنی رتھ یاترا سے، شدت پسند سنگھیوں کا ذہن بناتے صرف کئے تھے،بابری مسجد شہادت کے دوسرے ہی دن،بابری مسجد شہادت پر مسلمانوں کے خاموش احتجاج کو منظم فساد میں بدلتے ہوئے، ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام شیو سینکوں کے ہاتھوں کروانے کے پیچھے ، مہاراشٹرا پر حکومت کر رہی، اس وقت کی کانگریس سرکار، شیو سینا کے ساتھ برابر کی شریک تھی۔

1993-1992 ممبئی فساد کے، بدلے کے تناظر میں چند مسلم شرپسندوں نے، 12 مارچ 1993 ایک ہی دن 12 سیریل بم دھماکوں سے ممبئی شہر کو دہلا دیا تھا جس میں 317 بے قصور انسانوں کی جان چلی گئی تھیں۔ انڈین جوڈیشری نظام نے تقریبا بیس سال بعد، ممبئی بم دھماکوں کے مسلم ملزمین کو کیفر کردار تک پہنچانے کا کام جہاں بحسن خوبی نبھایا تھا، وہیں پر 1993 فساد میں، مارے گئےآفیشیل آن ریکارڈ کے مطابق 900 اور عام اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے دو ہزار بے قصور مسلمانوں کے مارے جانے کے، اس واقعہ پر 26 سال گزرنے کے باوجود اور اس فساد کی تحیقات کر رہی جسٹش شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ شیو سینا کو، فساد کے لئے ذمہ دار ٹہرانے کے باوجود، اس واقعے سے 2014 تک مرکز پر حکومت کررہی کانگریس حکومت نے، فساد کے ذمہ دار شیو سینکوں کو سزا دلوانے کے بجائے، جسٹس شری کرشنا کمیشن رپورٹ ہی کو ٹھنڈے بکسے میں ڈالتے ہوئے، ایک طرف جہاں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے تو وہیں پر دوسری طرف سیکیولرزم کا نقاب اوڑھے، شدت پسند سنگھیوں کی در پردہ حمایت وسرپرستی کرتے ہوئے، چمنستان ہندستان کے سیکیولر اثاث و روایات کے برخلاف، ہندو احیا پرستی کی آگ کو اور بھڑکانےکا کام کیا ہے اپنے آپ کو سیکیولر کہنے والی آل انڈیا کانگریس نے۔

یہی نہیں، بابری مسجد شہادت بعد سے 2014 تک سوائے واجپائی جی کے 5 سالہ کاریہ کال کے 15 لمبے سال تک، مرکز پر حکومت کررہی سیکیولر کانگریس سرکار ہی کے زمام اقتدار میں، مرکزی حکومت کے تابع رہی، نیشنل تحقیقاتی ایجنسیز، این آئی آے، سی بی آئی اور اے ٹی ایس کو استعمال کر، دیش بھر میں، مختلف مقامات پر بم بلاسٹ جیسی گھناؤنی شدت پسندانہ کاروائیاں کرنے اور کروانے والے، آرایس ایس کی ذیلی ہندو دہشت تنظیم ابھینو بھارت و دیگر ہندو شدت پسند تنظیموں کے دہشت گردوں کو پکڑتے ہوئے، انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے بجائے، انہیں مکمل طور بچاتے ہوئے، دیش بھر کے تعلیم یافتہ مسلم نوجوان کو ان دہشت گردانہ حملوں میں پھنسانے ہوئے، ہزاروں تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی زندگیوں کو،دیش پر حکومت کررہی، اپنے آپ کو سیکیولر اور مسلمانوں کا ہمدرد ظاہر کرتے نہ تھکنے والی، آل انڈیا کانگریس نے برباد کیا ہے۔ اپنے آپ کو سیکیولر کہنے والی آل انڈیا کانگریس پارٹی کی انہی دوغلی پالیسیوں کی نتیجے میں، نہرو اور اندرا گاندھی کے، مکمل کنٹرول میں رکھے ان سنگھیوں کو، راجیو گاندھی اور نرسمہا راؤ کے زمام اقتدار میں رہتے وہ شہ اور طاقت ملی کہ 2014 کے بعد سب کا ساتھ سب کا وکاس کے دل لبھاونے نعرے کے ساتھ پورے ہندستان پر قبضہ جمانے والے آرایس ایس بی جے پی مودی جی نے، صرف انگلیوں پر گنے جانے والے برہمن سنگھی پونجی پتیوں کا وکاس کرتے ہوئے ، دیش کے سوآ سو کروڑ مدھیاوتی اور غریب دیش واسیوں کو،بدحال اور چمنستان ہندستان کو دیوالیہ ہونے کے کگار تک پہنچا دیا ہے۔

2002 اپنی نگرانی میں گودھرا کانٹ کرواتےہوئے، بدلے کی بھاونا سے، گجرات فساد کروائے جیسا ڈھونگ رچا، تقریبا دو ہزار گجراتی مسلمانوں کے قاتلوں نے اپنے لمبے گجرات حکومت دوران، فرضی اینکونٹر میں مسلمانوں کو ڈھیر کرنے کا جو وطیرہ سنگھیوں کو سکھایا تھا اب انکے مرکز پر اقتدار میں رہتے،یوگی سنگھی سرکار، کچھ ریاستی حکومتی انتخاب جیتنے کے لئے ہندو مسلم منافرت پھیلانے کی خاطر،اپنی راہ کے روڑے کچھ اپنے ، کملیش تیواری جسے ہندو احیاپرستی کے دعویدار سنگھی لیڈر تک کو کرائے کے قاتلوں سے قتل کروا بھی لیتی ہے تو کیا ہوا؟ یہ تو زمانے کے عین دستور مطابق گیہوں (مسلمانوں) کے ساتھ گھن بھی پسنے والی بات پوری طرح ثابت ہوتی ہے۔

کملیش تیواری قتل کیس، یوگی جی کی سنگھی حکومت آنے کے بعد، کملیش کو پہلے سے حاصل سیکیورٹی کا ہٹایا جانا، کملیش کا اپنے ہزاروں کاگیہ۔کرتاؤں کو دئیے ویڈیو میسیج میں، اپنے ہی لیڈروں سے، اپنی جان کو خطرے میں ہونے کا برملا اظہار کرنا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں اس کے گھر تشریف لاتے نظر آئے، ایک خاتون سمیت تین مشتبہ افراد کا،کملیش سے ملنا اور دہی بڑے اور پان کھان سے کملیش کا ان کی تواضع کرنا،ان تین میں دو کو جاتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج میں بتانا،ان قاتلوں کی تیسری پارٹنر کا منظر عام سے غائب پایا جانا، تنفتیشی اہلکاروں کو غلط راہ پر ڈالنے کے لئے، گجراتب سے خریدے آلہ قتل ریوالور اور وہاں سے لائے گئے، مٹھائی کے ڈبے کو ٹیبل پر کھلا چھوڑ جانا، کملیش کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس کانسٹیبل تک کو کچھ لانے کے لئے، موقعہ واردات سے دور بھیجنا، اور بعد قتل یوپی سرکار کا اشاروں کنایوں میں اس قتل کو مسلمانوں کی طرف موڑنے کی راہ ہموار کرنا، مقتول کملیش کی بیوی کے بیان پر گستاخ امہات المومینین حضرت عائشہ رض کو، قابل گردن زد ٹہرانے والے، مولویوں کو، ہریانہ ممبئی اور کرناٹک انتخابات سے قبل، زیر حراست میں لیتے ہوئے، ان انتخابات ہندو مسلم پولرائز ووٹ حاصل کرنے کی سازش،اور کملیش کی ماں کے ممتا بھرے، سنگھیوں ہی کو قاتل ٹہرانے والے بیان پر، سنگھیوں کو زیر حراست نہ لینا، یہ سب یوگی جیسے شدت پسند سنیاسی کے دماغ کی اپچ سے کہیں زیادہ، گجرات فرضی اینکونٹر اور کرایہ کے قاتلوں کو استعمال کر، گجرات ریاستی سنگھی لیڈر، ہرن پانڈیا اورفرضی اینکونٹر پر اسے دار پر لٹکانے ،سپریم کورٹ کے حکم سے،تحقیق کرنے گجرات آئے، جسٹس لویا کے قتل کے شبہ میں رہے، گجرات تڑی پار مجرم، شری امیت شاہ جیسیوں کے کرمنل دماغ کی اپچ، اپنے دشمنوں کو اپنے راستے سے ہٹانے کی سازش زیادہ لگتا ہے۔کملیش کے دن دھاڑے قتل بعد، 2019 عام انتخاب سے قبل دیش بھر میں ہندو مسلم منافرت بھڑکاتے ہوئے، انتخاب جیتنے کی خاطر، پلوامہ سی آر پی ایف ملٹری کانوائے فرضی حملہ کرواتے ہوئے، دیش کے 50 بہادر فوجیوں کی ساموہک ہھتیہ کا الزام، دیش پر حکومت کر رہے سنگھی ٹولے پر ڈالنے سے تک، نہ چوکنے والے، آل انڈیا سطح پر مشہور ہندو سنگھی لیڈر سنت یوراج مہاراج،جنہوں نے کملیش کے دن دھاڑے قتل کو بھی انہی سنگھی لیڈروں پر ڈالتے الزام کے باوجود، اتنے بڑے الزام تک کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے،کملیش کے قتل کو مسلمانوں کی طرف موڑتے ہوئے، اس کا فائدہ ہریانہ کرناٹک اور ممبئی انتخاب میں اٹھانے کی ان سنگھیوں کی سعی، گرفتار کئے گئے مولوی مسلمان آج نہیں تو کل عدلیہ سے صاف آزاد ہوجائیں گے، لیکن اپنے وقتی فائیدے کےلئے،قتل کئے گئے کملیش، کیا واپس آسکتے ہیں؟ کیا کملیش کے قتل بعد پولرائز ہوئے ووٹوں کے فائدے سے، ممبئی ہریانہ میں،بی جے پی شیوسینا جیت آج جیت بھی جاتی ہے تو کل کملیش کے قاتل سنگھی ہی ثابت ہوجائیں تو اس جیت سے سنگھیوں کو بے دخل کیا، کیاجاسکے گا؟ وما علینا الا البلاغ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker