ہندوستان

ملک کے موجودہ حالات پر ملی کونسل کے وجے واڑہ اجلاس نے پاس کیا 9نکاتی قراراداد ۔آرٹیکل 370 کو بتایا کشمیریوں کا بنیادی حق

نئی دہلی ۔23اکتو بر (پریس ریلیز)
ملک کی معروف تنظیم آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے 20 ویں سالانہ عمومی اجلاس میں ملک کے موجودہ صورت حال پر شدید بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین حالات سے تعبیر کیاہے ۔ا جلاس نے عمومی طور پر ملک کے تمام سلگتے مسائل کو گذشتہ دنوں وجے واڑا میں منعقد ہونے والے سہ روزہ اجلاس کا ایجنڈا بنیا اور ملک بھر سے تشریف لائے کونسل کے اربا ب حل وعقد نے حکومت وقت کو تمام مسائل کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ۔مجلس عمومی کے سہ روزہ اجلاس کے دوران کونسل نے دستور بچاﺅ دیش بچاﺅ کا نعرہ دیا اورا سی عنوان پر گنٹور کے وجے واڑہ میں ایک اجلاس عام کا بھی انعقاد کیا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کر کے ملک کے تئیں اپنی بے چینی کا اظہار کیا ۔ ملی کونسل نے اس موقع پر ایک نو نکاتی قرارداد بھی پاس کیا جس میں کشمیر ،این آرسی ،معاشی بحران سمیت تمام اہم مسائل شامل ہیں ۔
آل انڈیا ملی کونسل کا یہ مانناہے کہ جس طرح آسام اور شمال مشرق کی دیگر ریاستوں کو ان کے کلچر اور تہذیب کی حفاظت کیلئے خصوصی ریاست کا درجہ حاصل ہے اسی طرح آئین ہند کی روشنی میں کشمیر کو بھی اپنے کلچر اور تہذیب کی تحفظ کا حق حاصل ہے ۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ غیر آئینی اور دستور ہند کے خلا ف ہے ۔ملی کونسل کی مجلس عمومی کے اجلاس کا یہ غیر معمولی احساس ہے کہ فوج اور سیکوریٹی دستوں کے ذریعہ لوگوں کو تشدد اور ٹارچر کا نشانہ بنایاجارہاہے ۔بے بسی وبے کسی میں پڑے ضعفاء،کمزور ،خواتین اور بچوں ونوجوانوں کو مختلف بہانوں سے پریشان کیا جارہاہے ۔ اجلاس کا مطالبہ ہے کہ غیر ضرروی طور پر فوج اور پارا ملٹری کو عوام مقامات سے ہٹایاجائے اور عام لوگوں کو اپنی معمول کی زندگیاں گزارنے کا موقع فراہم کئے جائیں ۔ 5اگست 2019 سے لیکر اب تک جن بے گناہوں کے ساتھ ظلم ہواہے اور ان کی جانیں تلف ہوئی ہیں ان کے خاندان کے لوگوں کو معاوضہ ادا کیاجائے ۔ اجلاس کا یہ عمومی احساس ہے کہ وہاں حقوق انسانی کی پامالی ہورہی ہے ،جو کسی بھی جمہوری ملک کیلئے اچھی بات نہیں ہوسکتی اور یہ عمل دستور ہند کی روح اور کشمیر الحاق کے اصولوں کے منافی ہے ۔ دفعہ 19 اور 21 کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔
 آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عمومی کے اجلاس کا یہ شدید احساس ہے کہ مسلمانوں کی فلاح وبہبود سے متعلق وزرات اقلیتی امور اور وزیر اعظم کے 15نکاتی پروگراموں کی تنفید کا معاملہ نہ صرف ڈھیلاڈھالا ہے بلکہ حکومت کے عزائم کا بھی شدید فقدان ہے ۔جس کے نتیجے میں اسکمیں اور اعلانات زمینی حقائق سے بہت دور ہیں ۔ لہذا اجلاس کا یہ شدید احساس ہے کہ مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں ایک بڑی مائنریٹنگ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے ۔
یو اے پی اے قانون میں جو ترمیمات ہوئی ہیں وہ عوام مخالف ہیں اور بے حد خطرناک ہیں۔ مسلمانوں کیلئے یہ قانون ایک عذاب کی صورت میں ہے جس کا سہارا لیکر حکومت کے اند ربیٹھے اقلیت دشمن لوگ ،اقلیتوں کے نوجوانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ سکتے ہی اور بے شمار بے قصور نوجوانوں کو اس اس قانون کے تحت ظلم وجبر کا نشانہ سکتے ہیں۔ آل انڈیاملی کونسل کا یہ اجلاس حکومت اور بالخصوص وزیر داخلہ سے یہ پرزور مطالبہ کرتاہے کہ اس قانون کی زد میں آئے نوجوانوں اور بے قصور افراد کو تعذیب میں مبتلا نہ کیا جائے اور جولوگ بھی بغیر کسی ٹرائل کے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں انہیں رہا کرایاجائے ۔
آل انڈیا ملی کونسل کی مرکزی مجلس عمومی کااجلاس اس کی بات کی شدت سے ضرورت محسوس کرتاہے کہ مسلمانوں کے درمیان اور مسلم مفادات کیلئے کام کرنے والی مختلف تنظیموں کے درمیان اشتراک وارتباط ہو اور یہ ارتباط ملت اسلامیہ کے مجموعی مسائل کے حل کیلئے لازمی قرار دیتاہے اور اس سلسلے میں سبھی مسلم تنظیموں واداروں سے اپیل کرتاہے کہ وہ ذاتی وجماعتی مفادات سے اوپر اٹھ کر کام کریں ۔ آل انڈیا ملی کونسل اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے یہ اعلان کرتی ہے کہ اس نے میثاق اتحاد کیلئے ملک گیر تحریک چلائی تھی اور ملک بھر کے ملی قائدین ،مختلف جماعتوں اور متفرق ملی تنظیموں کے نمائندگان نے جس طرح اسے اپنی مکمل تائید دی تھی اسے جاری رکھنے کیلئے اپنے فیصلے پر قائم ہے ۔
آسام میں این آرسی کاایسا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا جس کی امید کی جارہی تھی ، 19 لاکھ شہریوں کا نام اب بھی فہرست میں نہیں ہے ۔اس میں کئی ایسے شہری بھی شامل ہیں جن کی شہریت پر ذرہ برابر کوئی شک نہیں ہے ۔ ملی کونسل پورے ملک میں این آرسی کے نفاذ کی سختی سے مذمت کرتی ہے ۔وزیر داخلہ نے جس طرح این آرسی کے حوالے سے بیان دیاہے وہ ملک کے گنگا جمنی تہذیب کے خلاف ہے اور اس سے ملک کے مسلمانوں میں خوف پیدا ہواہے ۔ دستور کے مطابق 1950 میں جتنے لوگ ہندوستان میں تھے وہ سب یہاں کے شہری ہیں ۔کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی کی شہریت جانچیں ۔ملی کونسل اس موقع پر مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت جاری کرتی ہے کہ وہ اپنے دستاویزات درست کرالیں اور خامیوں کی تصحیح کرائیں ۔
ملی کونسل کی مجلس عمومی کے اجلاس کا یہ احساس ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی کے نئے ڈرافٹ میں میں ایک جگہ بھی سیکولر ،جمہوی اقدار ، گنگاجمنی تہذیب یا مشترکہ تہذیب وثقافت کے الفا ظ استعمال نہیں کئے گئے ہیں ۔مسودہ کے جس حصے میں ہندوستانی عوام اور ہندوستانی ادب سے سبق آموز اسباق شامل کرنے کی صراحت ہے وہاں مہاتماگاندھی ،اے پی جے عبد الکلام ، وویکا نند وغیرہ کا نام موجود ہے تاہم سر سید احمد خان ۔ مولانامحمد علی جوہر ، مولانا ابو الکلام آزاد اور وپنڈٹ جواہر لال نہرووغیرہ کا نام شامل نہیں ہے ۔ملی کونسل کا مطالبہ ہے کہ مذکورہ ڈارفٹ کے اندر موجود نقائص کو دور کرتے ہوئے اسے مزید بہتر شکل میں لایاجائے ۔
آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عمومی کا یہ اجلاس مہنگائی ، افراط زراور ملکی معیشت کی گرتی صورت حال پر اپنے شدید اضطراب کا اظہار کرتاہے ۔ معیشت کی یہ صورت حال حکومت ہند کیلئے امتحان کی گھڑی ہے ۔ اجلاس کا احساس ہے کہ حکومت ہند کو سنجیدگی سے آگے بڑھنا ہوگا ورنہ حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں ۔ آمدنی میں مسلسل کمی نے ملک کی معیشت کو کمزور اور مفلوج زدہ کردیا ہے ۔حکومت ہند کو گرتی معیشت کو کنٹر ول کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیئے ۔
آل انڈیا ملی کونسل کے اجلاس کا یہ عمومی احساس ہے کہ گزشتہ 5-6 سالوں کے دوران تسلسل کے ساتھ مذہبی بنیاد تفریق ، فرقہ وارانہ منافرت ، علاقائیت ،اور زبان وبیان کی بنیاد پر امتیاز کا عمل جاری وساری ہے۔ اجلاس کا مطالبہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں اور دوسرے کمزور طبقات کے خلاف نفرت وعناد پھیلاتے ہیں ،ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی کی جائے اور انہیں کیفر کردار تک پہونچایاجائے ۔ ماب لنچنگ اور دوسرے بہانوں سے ان کے قتل عام کو روکنے کیلئے سخت قانون بنائے جائیں ۔
واضح رہے کہ 18تا 20اکتوبر 2019 کو آندھر ا پردیش کے وجے واڑاہ میں آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عمومی اور اراکین عاملہ کا سہ روزہ اجلاس منعقد ہواتھا جس میں ملک بھر سے جمع ہوئے ارباب حل وعقد نے یہ اتفاق رائے سے یہ قرارداد پاس کیا ۔ علاوہ ازیں کونسل نے اگلے تین چار مہینوں کے دوران پورے ملک میں ایک کارواں نکالنے کابھی فیصلہ کیاہے ۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker