مسلم دنیا

بغدادی شام میں امریکی فوجی کارروائی میں ہلاک، ٹرمپ نے تصدیق کردی، داعش سربراہ کے تعلق سے متضاد دعوے سامنے آئے

دمشق ۔ ۲۷؍اکتوبر: امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ ميں سرگرم شدت پسند تنظيم ’اسلامک اسٹيٹ‘ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے ايک خصوصی خطاب ميں بغدادی کی ہلاکت سے متعلق خبروں کی تصديق کی۔انھوں نے بتايا کہ داعش کے سربراہ کو خصوصی امريکی دستوں نے گزشتہ روز شمال مغربی شام ميں انسداد دہشت گردی کی ايک کارروائی ميں ہلاک کیا۔ يہ کارروائی دو گھنٹوں تک جاری رہی اور اس ميں امريکی افواج کا کوئی اہلکار ہلاک نہيں ہوا۔ ٹرمپ نے مزيد بتايا کہ بغدادی کی ہلاکت کے بعد متعلقہ کمپاؤنڈ سے حساس معلومات ومواد امريکی فورسز نے اپنی تحويل ميں لے ليا ہے۔ابوبکر البغدادی کی ايک امريکی فوجی آپريشن ميں ہلاکت کی خبريں اتوار کے روز صبح ہی سے دنيا بھر ميں ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھيں۔ اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر ايک امريکی سیکوریٹی اہلکار نے بھی بتايا تھا کہ بغدادی کو ہلاک کر ديا گيا ہے۔ ترکی نے بھی عنديہ ديا تھا کہ اس آپريشن ميں امريکی دستوں کی معاونت کی گئی۔صدر ٹرمپ نے اپنے بيان ميں کہا کہ بغدادی ’بزدلوں والی اور ايک کتے کی موت مرا۔‘ معاونت پر انہوں نے عراقی حکومت کی بھی تعريف کی۔ امريکی صدر نے بالخصوص ان فوجيوں کو خراج تحسين پيش کيا، جنہوں نے اس آپريشن ميں حصہ ليا۔ ان کے بقول يہ ايک انتہائی خطرناک آپريشن تھا اور انہوں نے اس آپریشن مناظر براہ راست ديکھے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اتوار کے روز علی الصباح کی جانے والی ٹویٹ جس میں انھوں نے ’’بڑی کامیابی‘‘ ملنے کی نوید سنائی تھی کے بعد وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ گرینچ کے معیاری وقت والے ایک بجے صدر ٹرمپ اہم اعلان کرنے والے ہیں۔نیوز ویک جریدے نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج نے ایک ہفتہ قبل صدر ٹرمپ کی منظوری کے بعد شام میں داعش کے گڑھ پر بمباری کی۔جریدے نے امریکی کارروائی سے متعلق آگاہ پینٹاگان کے اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ شمالی مغربی شام کے شہر ادلب میں کی جانے والی اس کارروائی کا نشانہ ابوبکر البغدادی تھا جس میں امریکی ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس کے انٹیلیجنس اداروں کے تعاون سے ممکن ہوئی۔ جبکہ ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کو اس کارروائی کے بارے میں پہلے سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔داعش یا اسلامک اسٹیٹ پر پچھلے پانچ برس کے دوران ہزاروں عام شہریوں کے قتل عام، تشدد، ريپ اور جنگی جرائم کے الزامات ہیں۔ اس گروہ سے منسلک افراد پاکستان اور افغانستان میں بھی شہریوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔خیال ہے کہ امریکی فورسز کی تازہ کارروائی ترکی سے متصل شام کے علاقے اِدلِب میں کی گئی۔ سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق ادلب ميں بريشا کے ديہات کے ايک مکان پر ہيلی کاپٹر حملے کی اطلاعات ہیں۔ اس حملے میں نو افراد کے مارے گئے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان میں داعش کے سربراہ شامل تھا یا نہیں۔ابو بکر بغدادی کی ہلاکت کے حوالے سے پہلے بھی متعدد بار دعوے ہوتے رہے ہیں لیکن وہ بعد میں غلط ثابت ہوئے۔داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی نے سن دو ہزار چودہ میں خود کو خلیفہ قرار دیتے ہوئے ایک عالمی خلافت کے قیام کے لیے کوششیں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت پاکستانی طالبان کے بھی ناراض دھڑوں نے داعش کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور پورے خطے کے عسکریت پسندوں سے ان کا ساتھ دینے کی اپیل کی تھی۔بعد میں داعش عراق کے علاوہ شام میں بھی وسیع تر علاقوں پر قابض ہوگئی اور اس نے بڑے پیمانے پر اقلیتوں کو قتل کیا اور اپنی طرز کا شدت پسند شرعی نظام نافذ کیا۔ان برسوں میں داعش ایک خطرناک ترین عسکری تنظیم بن کر ابھری تھی۔ اس گروہ نے متعدد غیر ملکی امدادی کارکنوں اور صحافیوں کو اغوا اور قتل بھی کیا ہے۔ بعد میں مغربی ممالک بشمول امریکا اور اس کے علاوہ روس نے بھی اس انتہا پسند تنظیم کے خاتمے کے لیے فضائی کارروائیاں کیں۔عراقی انٹیلیجنس کی رپورٹوں کے مطابق بغدادی اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتا تھا۔ اس کی پیدائش انیس سو اکہتر میں سمارہ کے علاقے میں ہوئی۔ وہ تکریت یونيورسٹی میں پروفیسر بھی رہ چکا ہے۔ بغدادی نے شدت پسندی کا راستہ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد اختیار کیا۔ابوبکر البغدادی دولت اسلامیہ کے مبینہ سربراہ تھا اور گذشتہ پانچ سالوں سے زیرزمین تھا۔اپریل میں دولت اسلامیہ کے میڈیا ونگ الفرقان نے ایک ویڈیو جاری کی تھی اور اس نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے کہا تھا کہ بغدادی زندہ ہے۔فروری 2018 میں متعدد امریکی عہدیداروں نے بتایا تھا کہ بغدادی مئی سنہ 2017 کے ہوائی حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔اسے دولتِ اسلامیہ کے رہنما کو دنیا کا مطلوب ترین شخص تصور کیا جاتا تھا۔اکتوبر 2011 میں امریکہ نے انھیں باضابطہ طور پر ‘دہشتگرد قرار دیا اور انھیں گرفتار یا ہلاک کرنے میں مدد دینے والی معلومات پر ایک کروڑ ڈالر (اس وقت 58 لاکھ پاؤنڈ) کے انعام کا اعلان کیا۔2017 میں یہ رقم بڑھا کر ڈھائی کروڑ ڈالر کر دی گئی تھی۔بغدادی ایک انتہائی منظم اور بے رحم جنگی حکمتِ عملی ساز تصور کیاجاتا تھا۔ اس کا حقیقی نام ابراہیم العود البدری تھا۔اطلاعات کے مطابق جب 2003 میں امریکہ کی زیرِ قیادت عراق پر حملہ کیا گیا تو وہ اسی شہر کی ایک مسجد میں امام تھا۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker