اسلامیاتفقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

فقیہ العصرحضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ العالی

دعامیں غلطی کی وجہ سے ایمان اور نکاح کی تجدید
سوال:- کچھ عرصہ پہلے اخبارات میں یہ بات آئی تھی کہ پاکستان میں ایک عالم صاحب نے نماز جنازہ کے بعد دعاء مانگی ، دعاء کرنے میں کچھ غلطی ہوگئی اور کفریہ معنی پیدا ہوگئے ، لوگوں نے اس پر اپنی ناواقفیت میں آمین کہا ، بعد میں امام صاحب کو تنبہ ہوا اور انہوں نے لوگوں سے کہا کہ جتنے لوگوں نے آمین کہی ہے ، وہ سب دوبارہ کلمہ پڑھیں ، اور اپنے نکاح کی بھی تجدید کرائیں ؛کیونکہ وہ دائرہ ایمان سے باہر ہوگئے؛ لیکن امام صاحب نے خود اپنا تجدید نکاح نہیں کیا ، جب امام صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ نے خود کلمہ نہیں پڑھا اور نکاح کی تجدید نہیں کی تو انہوں نے کہا کہ میں نے چونکہ آمین نہیں کہا تھا؛ اس لئے میں دائرہ ایمان سے باہر نہیں ہوا ۔(سلمان، اندور)
جواب:- کفر کا معاملہ بہت نازک ہے ؛ اس لئے کسی بات پر کفر کا حکم لگانے میں بہت احتیاط کرنی چاہئے؛چنانچہ فتوی دینے کے اصول میں یہ بات ایک قاعدہ کے طور پر تسلیم کی گئی ہے کہ اگر کسی بات کا ایسا معنی تلاش کیا جاسکتا ہو جو وجہ کفر نہ ہو ، تو وہی معنی مراد لے کر کفر کا حکم لگانے سے اجتناب کیا جائے گا ، اسی طرح اگر کوئی ایسی بات کہی گئی جس کو بعض اہل علم کفر قراردیتے ہیں ،اور بعض نہیں قراردیتے ، تو گو ان لوگوں کی رائے دلائل کے اعتبار سے زیادہ قوی ہو جو اسے باعث کفر کہتے ہیں، پھر بھی ازراہ احتیاط ان لوگوں کی رائے کو ترجیح دی جائے گی، جو اس پر کفر کا فتوی نہیں لگاتے ؛ چنانچہ علامہ شامی ابن نجیم مصری ؒسے نقل کرتے ہیں : والذي تحرر أنہ لایفتی بکفر مسلم أمکن حمل کلامہ علی محمل حسن أو کان فی کفرہ اختلاف ولو روایۃ ضعیفۃ(رسم المفتی:۸۳)جو بات منقح ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جب تک کسی مسلمان کی بات کو اچھی صورت پر محمول کرنا ممکن ہو، یا اس کے کفر ہونے میں فقہاء کا اختلاف ہو گو اس سلسلہ میں ضعیف ہی روایت کیوں نہ ہو، اس شخص کے کفر کا فتوی نہیں دیا جائے گا ،جہاں تک غلطی سے کفریہ کلمات زبان سے نکل جانے یا ناواقفیت میں ایسی بات کہہ جانے کا مسئلہ ہے تو اس سلسلہ میں خود حدیث نبوی سے بھی روشنی پڑتی ہے ، حضرت انس ص سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایاکہ ’’ تم میں سے کوئی شخص صحرائی علاقہ میں اپنی سواری پر ہو ، اسی سواری پر اس کا کھانا پینا ہو ، وہ گم ہوجائے اور وہ شخص اس سے مایوس ہوجائے پھر وہ ایک درخت کے پاس آیا ، اور مایوسی کی حالت میں اسی کے سایہ میں لیٹ گیا ، ابھی اسی حالت میں تھا کہ اچانک دیکھتا ہے کہ وہ سواری اس کے پاس کھڑی ہوئی ہے ، اس نے اس کی نکیل تھامی ، اور خوشی سے بے حال ہوکر کہنے لگا : اے اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ، یعنی فرط مسرت سے بولنے میں غلطی کرجائے ، جب کوئی بندہ اپنے خدا کے سامنے تائب ہوتا ہے تو اللہ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے (مسلم، حدیث نمبر ۲۷۴۷)اس حدیث سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ غلطی سے کلمۂ کفر زبان سے جاری ہوجانا جب کہ اس میں ارادہ اور اعتقاد کو دخل نہ ہو ، موجب کفر نہیں ؛ چنانچہ فقہاء نے بھی یہی بات لکھی ہے ، فقہ حنفی کی مشہور کتاب فتاوی بزازیہ میں ہے : أما إذا أراد أن یتکلم بکلمۃ مباحۃ فجری علی لسانہ کلمۃ خطأ بلا قصد والعیاذ باللّٰہ لا یکفر (فتاویٰ بزازیہ: ۶؍۳۲۱) جب کوئی شخص مباح بات کہنا چاہے، اور زبان پر بلا ارادہ غلط بات آجائے والعیاذ باللہ ! تو اس کو کافر قرار نہیں دیا جائے گا ؛ لہذا جو صورت آپ نے لکھی ہے ، اور جو تفصیل اخبارات میں آئی ہے ، اگر واقعی وہ درست ہے تو اس صورت میں آمین کہنے والوں پر کافر ہونے کا حکم لگانا درست نہیں ، اور نہ ان کے تجدید نکاح کی ضرورت تھی ، اور اگر آمین کہنے والے کافر ہوجائیں تو جس کی دعاء پر آمین کہی جائے وہ تو بدرجہ اولی کافر ہوجائے گا؛ اس لئے امام صاحب کا لوگوں کی تجدید نکاح کرانا اور اپنا دامن بچائے رکھنا سمجھ میں نہیں آتا،اس سلسلہ میں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اخبارات میںجن صاحب کا نام آیا ہے ، وہ غیر معروف نام ہے ، کسی ذمہ دار عالم دین نے اس طرح کا فتوی نہیں دیا ہے ، دوسرے آج کل ذرائع ابلاغ اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمانوں اور خاص کر علماء کی تصویر خراب طریقہ پر پیش کرنے کے لئے خبریں گھڑتے بھی ہیں ، اور اس میں کمی بیشی بھی کرتے ہیں ؛ اس لئے بہ ظاہر یہ خبر مشکوک ہے اور عجب نہیں کہ علماء کو بدنام کرنے اور ان کو شدت پسند ثابت کرنے کے لئے لوگوں نے اس طرح کی بات اڑائی ہو ؛ اس لئے مسلمانوں کو ایسی اخباری اطلاعات کے بارے میں چوکنا رہنا چاہئے اور ان پر آنکھ بند کرکے یقین نہیں کرنا چاہئے۔
نظر لگنا
سوال :- کیا واقعی نظر لگ جاتی ہے ؟ ( عبدالعظیم، ناندیڑ)
جواب:- اﷲ تعالیٰ نے جیسے مختلف اشیاء میں صلاحیت اور تاثیر رکھی ہے ، اسی طرح انسانی نظر میں ایک خاص قوت ہے؛ چنانچہ بعض دفعہ کسی شئی کو گہری نظر سے دیکھنے اور اس کے بھا جانے کی صورت میں نظر لگ جاتی ہے اور اس شئی یا شخص پر مضر اثر مرتب ہوتا ہے ، آپ ا نے فرمایا : نظر لگنا حق ہے: العین حق (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۳۸۸۰)،نظر لگنے کے لئے یہ ضروری نہیںکہ دیکھنے والے نے بری نیت سے دیکھا ہو ، نظر تو بعض مرتبہ ماں باپ کی بھی لگ جاتی ہے؛ اس لئے اس سے بدگمان نہیں ہونا چاہئے ۔
رسول اﷲ علیہ وسلم نے نظر کے اثر کو دور کرنے کا طریقہ بھی بتایا کہ جس کے بارے میں خیال ہوکہ اس کی نظر لگی ہوگی ، وہ وضوء یا غسل کرے اور اس کے وضوء یا غسل کے استعمال شدہ پانی کو ایک برتن میں جمع کیا جائے اور جس کو نظر لگ گئی ہو اس کو اس سے غسل دیا جائے ، اس سلسلہ میں سنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے جس میں وضوء کا ذکر ہے اور مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ص کی روایت میں غسل کا تذکرہ ہے ۔ (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۳۸۷۹)
وضوء کا پانی بیت الخلاء کی موری میں
سوال:- گزشتہ اتوار کو جامع مسجد وقار آباد کے انتظامی امور کو حل کرنے کے لئے اراکین انتظامی کمیٹی کی ایک نشست کا اہتمام کیاگیا تھا، اراکین کمیٹی نے یہ تجویز رکھی تھی کہ مسجد کے بیت الخلاء کی موری کی پانی کی قلت کی وجہ سے مناسب صفائی نہیں ہورہی ہے؛ اس لئے وضو کا پانی جانے کے لیے جو علاحدہ موری ہے، اس کا رخ بیت الخلاء کی موری کی طرف کردیا جائے ، تو وضو کے پانی سے بیت الخلاء کی موری صاف رہے گی، تو ایک رکن نے یہ اعتراض کیا کہ وضوء کا پانی بیت الخلاء میں جانے سے نمازیوں کے دلوں میں وسوسے آتے ہیں، کیا یہ اعتراض درست ہے ؟ (مزمل، وقار آباد )
جواب:- یہ بات کہ وضو کا پانی بیت الخلاء کی نالی میں جائے تو اس سے وسوسے پیدا ہوتے ہیں، کسی حدیث سے ثابت نہیں ، اور نہ میرے علم کے مطابق فقہاء نے ایسا کچھ لکھا ہے؛ البتہ یہ بات آئی ہے کہ پیشاب میں احتیاط نہ کرنے اور غسل خانہ میں وضو کرنے سے وسوسہ پیدا ہوتا ہے؛ اس لیے آپ ان دونوں موریوں کو ایک جگہ ملا سکتے ہیں، یوں بھی آخر دونوں پانی کو ڈرینیج کی لائن میں پہنچنا ہی ہے۔
امام سے پہلے مقتدی نیت کرلے
سوال:- باجماعت نماز میں کیا مقتدی امام سے پہلے نیت کرسکتا ہے یا امام کے تکبیر کہنے کے بعد ہی مقتدی کو نیت کرکے رکعت باندھنا چاہئے ؟ ( زکریا، ممبئی)
جواب:- نیت نماز شروع کر نے سے پہلے کا عمل ہے؛ اس لئے اگر مقتدی کی نیت امام سے پہلے ہوجائے توکچھ حرج نہیں ، جو افعال نماز میں کئے جاتے ہیں ، ان میں مقتدی کا عمل امام سے پہلے نہ ہونا چاہئے ، جیسے امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہی مقتدی نے تکبیر تحریمہ کہدیا تو یہ درست نہیں ، نہ اقتداء صحیح ہوگی ، اور نہ مقتدی کی نماز ،نیت چونکہ نماز سے باہر اورنماز سے پہلے کا فعل ہے ؛ اس لئے نیت میں اگر مقتدی امام پر سبقت کرجائے تو کوئی قباحت نہیں ، یہ ایسا ہی ہے جیسے مقتدی امام سے پہلے وضو کرلے ، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر گھر سے چلتے ہوئے نماز میں شرکت کا ارادہ کرلیا تھا ، تو یہی نیت ہوگی ، اور یہ نماز کے لئے کافی ہوگی ۔(ردالمحتار:۲؍۹۳)
لین دین کے سلسلہ میں والدین کی حکم عدولی
سوال:- میں اپنی ایک رشتہ دار حافظہ لڑکی سے نکاح کرنا چاہتاہوںاور لین دین کے خلاف ہوں، میرے ماں باپ ایک خوب دنیوی تعلیم حاصل کی ہوئی لڑکی سے میرا رشتہ کرنا چاہتے ہیں اور لین دین کے ساتھ ، ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ (صہیب، کوکٹ پلی )
جواب:- لین دین کی جو صورت مروج ہے ، یہ قطعا جائز نہیں، لڑکے کا لڑکی والوں سے مطالبہ کر کے کچھ حاصل کرنا رشوت کے حکم میں ہے ، (ردالمحتار:۹؍۶۰۷) ؛اس لیے حرام ہے ، آپ اپنے والدین کو یہ سمجھائیں کہ وہ ناحق اتنا بڑا گناہ اپنے سر نہ لیں، رسول اللہ ا نے لڑکی کے انتخاب میں دین داری کو معیار بنانے کا حکم دیاہے اور فرمایا کہ اسی میں کامیابی ہے (بخاری، حدیث نمبر: ۵۰۹۰) اس لیے بظاہر حافظہ لڑکی والا رشتہ زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے ، شرعا بالغ لڑکے کو اپنے رشتہ کے لیے انتخاب اور ترجیح کا حق حاصل ہے؛ لیکن بہتر ہے کہ اپنے والدین اور بزرگوں کی رائے کو بھی ملحوظ رکھے ؛ کیوں کہ وہ اپنے تجربہ کی بناء پر زیادہ صحیح رائے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
ثبوت رضاعت کے لئے قسم کا کوئی اعتبار نہیں
سوال:-ایک خاندان میں ایک لڑکے کے رشتے کی بات چلی ، لڑکی کی والدہ نے آپسی رنجش کی وجہ سے اس رشتہ سے انکار کردیا ، ایک سال کے بعد دوبارہ رشتہ کی بات چلی اور لڑکی کے والد تیار ہوگئے ، اس صورت حال کو دیکھ کر لڑکی کی والدہ نے کہا کہ میں نے اس لڑکے کو دودھ پلایا ہے ، اس سے پہلے جب رشتہ کی بات چلی تھی توانہوں نے دودھ پلانے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا ، اس دودھ پلانے کا علم نہ تو لڑکی کے والد کو ہے اور نہ لڑکے کے والدین کو؛ بلکہ خاندان کے کسی بھی فرد کو اس کا علم نہیں ہے ، لڑکی کے والد نے جب اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ اس وقت لڑکے کی عمر کیا تھی،تو لڑکی کی والدہ نے جواب میں دو سال لڑکے کی عمر بتائی ، لڑکی کے والد نے یوں ہی کہا کہ اگر دوسال عمر تھی تو نکاح ہوسکتا ہے ، یہ سن کر فورا انہوں نے کہا کہ نہیں لڑکے کی عمرڈیڑھ سال تھی ، والدہ کے اس بیان سے شبہ ہوتا ہے کہ وہ رشتہ نہ کرنے کی خاطر جھوٹ سے کام لے رہی ہے ، اس سلسلہ میں اس کے پاس کوئی گواہ بھی نہیں ہے؛ البتہ وہ قرآن کی قسم کھاکر کہہ رہی ہے کہ میں نے دودھ پلایا ہے ، کیا اس کی قسم کا اعتبار کیا جاسکتا ہے؟(محمد زبیر، ہمایوں نگر)
جواب:- رضاعت اور دودھ کی حرمت کو ثابت کرنے کے لئے امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کی گواہی ضروری ہے ، جو عمر رضاعت میں دودھ پلانے کے گواہ ہوں : یثبت الرضاع بما یثبت بہ المال وھو شھادۃ رجلین أو رجل و امرأتین و ذکر الکافی و النھایۃ أنہ لا فرق أن یشھد قبل النکاح أو بعدہ (تبیین الحقائق:۲؍۱۷۲)صورت مذکورہ میںچونکہ گواہی کا مذکورہ نصاب پورا نہیں ہوتا؛ اس لئے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی؛ البتہ احتیاط اسی میں ہے کہ لڑکے اور لڑکی دونوں اس نکاح سے بچیں اور خوف خدا کو اپنے جذبات پرغالب رکھیں ۔
والدین سے خرید وفروخت کا معاملہ کرنا
سوال:-زید کا انتقال ہو گیا ہے ، اس کے ورثہ میں چار لڑکے اور دو لڑکیاں اور بیوی ہے، بیوی کے پاس ایک اپنا ذاتی مکان ہے، جس کے نصف حصے کو اس نے اپنے ایک بیٹے کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے ، مکان کا بقیہ نصف حصہ ماں ہی کے نام سے ہے ، سوال یہ ہے کہ اس بقیہ نصف حصہ میں دوسری اولاد کی طرح اس لڑکے کو بھی وراثت ملے گی یا نہیں ، نیز اس لڑکے کے خرید کردہ مکان کے حصے میں دوسرے بھائی بہنوں کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟ ( شہاب الدین، نلگنڈہ)
جواب:- ماں باپ کی مملوکہ اشیاء کے حقدار ہونے میں تمام اولاد برابر ہے ، ماں نے مکان کا کچھ حصہ فروخت کردیا ہے؛لیکن جتنا حصہ باقی ہے اس میں ماں کی وفات کے بعد تمام ورثہ کے ساتھ عمر کو بھی حصہ ملے گا ، جب تک ماں زندہ ہے وہ خود جائداد کی مالک ہے اور اس میں تصرف کی مجاز ہے؛ لہذا اگر عمر نے اپنے مملوکہ روپے کے ذریعہ والدہ سے زمین خریدی ہے، تو وہ تنہا اس کا مالک ہے اور اگر گھر کے کسی مشترکہ کاروبار یا مشترکہ ذریعۂ آمدنی کے ذریعہ حاصل کی گئی ہے تو تمام بھائیوں کا حق اس سے متعلق ہوگا ۔
مقروض سے رقم وصول کرنے کی اجرت لینا
سوال:- زید ایک اسکیم چلاتا ہے ، جس میں کئی ممبر ہوتے ہیں، اس کا طریقہ کار اس طرح ہے کہ ضرورت کے لحاظ سے ممبروں کو قرض دیا جاتا ہے ، جیسے ایک ہزار روپے دے کر روزانہ ان سے دس روپے لیے جاتے ہیں، بارہ سو ہونے کے بعد اس کا حساب ختم ہوجاتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ایک ہزار روپے دے کر بارہ سو روپے وصول کرتے ہیں، جو زائد رقم وصول کی جاتی ہے اسے روزانہ اس ممبر کے پاس جاکر دس روپے وصول کرنے کی محنت کا معاوضہ کہا جاتا ہے، اس طرح یہ اسکیم چلتی رہتی ہے ، یہ طریقہ شرعی اعتبار سے کس حد تک جائز ہے ؟ ( امیر حمزہ، پنویل)
جواب:- رقمی لین دین میں کمی بیشی ہو ، تو اس سے سود پیدا ہوجاتا ہے ،حضرت انس ص سے روایت ہے :جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو قرض دے اور وہ کوئی تحفہ دے تو اسے قبول نہ کرے ، یہاں تک کہ وہ اپنی سواری پر بیٹھانا چاہے تو نہ بیٹھے ، سوائے اس کے کہ پہلے سے اس قسم کا سلوک و برتاؤ رہا ہو (ابن ماجہ:۱۴۵)اس لیے محض قرض پر نفع حاصل کرنا تو جائز نہیں؛ البتہ اگر زید قرض لینے والے سے یہ گفتگو کرے کہ یا تو تم خود مجھ تک رقم پہنچادو ، یا میں روزانہ آکر رقم لے لیا کروں گا؛ لیکن ایک سو بار جو دس س روپے لینے کے لیے آؤں گا ، اس کی اجرت دو سو روپے ہوگی ، تو یہ صورت جائز ہے؛ کیوں کہ یہ قرض پر نفع لینا نہیں؛ بلکہ اپنی محنت کی اجرت وصول کرنا ہے ۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker