مسلم دنیا

آزادی مارچ : اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس جاری

 

اسلام آباد : 4 نومبر (ایجنسی)

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیرز کانفرنس (اے پی سی) اسلام آباد میں جاری ہے۔

 

آل پارٹیز کانفرنس میں حزب اختلاف کی مختلف جماعتیں شریک ہیں۔

 

آل پارٹیز کانفرنس میں آزادی مارچ کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہونے والی اے پی سی میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی اعلی قیادت شریک نہیں ہے۔

 

پیپلزپارٹی کے وفد کی قیادت پارٹی رہنما نیر حسین بخاری اور فرحت اللہ بابر کر رہے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان پارٹی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

 

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ اے پی سی کے فیصلوں کا باضابطہ اعلان دھرنے کے مقام پر کیا جائے گا۔

 

مسلم لیگ ن کا اجلاس

 

اس سے پہلے لاہور میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن صرف ایسے احتجاج کے حق میں ہے جو آئین اور قانون کے دائرے میں ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن آئندہ کا لائحہ عمل اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر طے کرے گی۔

 

دھرنے میں شرکت کے حوالے سے فیصلے پر پوچھے گئے سوال پر احسن اقبال بولے کہ مسلم لیگ ن رہبر کمیٹی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرے گی۔

 

اتوار کے روز آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم اگلے اقدامات کا فیصلہ بھی تمام اپوزیشن کی باہمی مشاورت سے کریں گے۔

 

یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت اتوار کے روز ختم ہو چکی ہے۔

 

ڈیڈ لائن ختم ہونے اور آزادی مارچ کے چوتھے روز خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہر الیکشن میں مداخلت کی جاتی ہے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔

 

آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں مولانا فضل الرحمٰن نے فوج کے کردار کو زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ میں بڑی وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ آئندہ کے لیے ہماری فوج، جو ہمارے لیے محترم ہے، وہ ہر حال میں اس بات کو طے کرے گی کہ پاکستان کے عام انتخابات سے ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا۔

 

جمعیت علما اسلام کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بے چارہ تو ہم سے بھی زیادہ بے بس ہے۔ اگر وہ بے بس نہ ہوتا تو لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اسلام آباد میں نہ ہوتی۔

 

مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت اتوار کے روز ختم ہو گئی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کے لیے دی جانے والی مہلت اتوار کے روز ختم ہو گئی ہے۔

پیپلز پارٹی بھی حکمت عملی کی تیاری میں مصروف

 

علاوہ ازیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی نے دھرنے میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی۔ تو ہم دھرنے میں شرکت کرسکتے ہیں۔

 

پیپلز پارٹی نے بھی اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں جمعیت علماء اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے بعد کی حکمت عملی زیر غور لائی جائے گی۔

 

قومی اسمبلی کا اجلاس طلب

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 7 نومبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

 

آئین پاکستان کے آرٹیکل 54 کے تحت صدر عارف علوی کی طرف سے جمعرات کے روز شام چار بجے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker