Baseerat Online News Portal

آپ آئے تو عورت کو عزت ملی

 

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت (اور اس سے پہلے برسوں سے) سب سے زیادہ جو مظلوم اور ستم رسیدہ طبقہ تھا وہ دو طبقات تھے خواتین اور غلام ۔ ان دو طبقوں کی آفتاب نبوت کے طلوع( ہونے) کے وقت جو حالت اور پوزیشن تھی اگر اس کا تذکرہ کیا جائے تو انسانیت شرم سار ہونے لگتی ہے اور دل و دماغ اس کی منظر کشی سے متاثر ہونے لگتے ہیں ۔ بعض قبیلے ایسے تھے کہ بچی کی ولادت کو نحوست اور اپنے لئے شرم و عار سمجھتے تھے اور بچیوں کے پیدا ہونے پر انہیں زندہ در گور کر دیا کرتے تھے ۔ ان کے ذہن میں یہ منفی تصور تھا کہ اگر لڑکی بڑی ہوگی تو اس کی شادی کرانی ہوگی اور وہ اپنی بچی کا عقد کرکے کسی دوسرے مرد کے حوالے کرے یہ تو اس کے لئے شرم اور عار کی بات ہے وہ کسی کو اپنا داماد بنائیں یہ رشتہ انہیں بلکل پسند نہیں تھا ۔ حیض (ایم سی) کی حالت عرب اپنی بیویوں کو ایک طرح سے کال کوٹھری میں بند کر دیتے تھے اور ان کے ہاتھ کا بنا بنایا کھانا نہیں کھاتے اور نہ ہی ان کے ہاتھ سے پانی پیتے تھے ( آج بھی یہ رواج کیرلا وغیرہ کے ہندوؤں میں پایا جاتا ہے بلکہ بعض ناخواندہ مسلمانوں میں بھی یہ تصور ہے)

حیض کی حالت میں ان کو ڈبو اور بڑے چمچے کے ذریعہ دور سے کھانا پانی دیا جاتا تھا ۔ ان کو غسل کرنے اور کپڑے تبدیل کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی ۔ صرف شوہر ہی ان سے دور نہیں رہتا بلکہ گھر کے سارے لوگ اس حالت میں ان سے کتراتے تھے ۔ اس حالت کو بہت منحوس خیال کرتے تھے۔ دوسری جہالت یہ بھی تھی کہ شوہر کے انتقال کے بعد بیوی ترکہ میں شمار کی جاتی اور بڑے بیٹے کا ماں پر حق بن جاتا اور وہ ماں ہی سے شادی کر لیتا تھا ۔ اس طرح بے شمار گندگی اور جہالت تھی جس کا تذکرہ زبان پر لانا ممکن نہیں ہے ۔ عورتوں کو جانوروں کا سا درجہ دے رکھا تھا، میراث میں عورتوں کا کوئ حصہ نہیں تھا، عورتوں کی عزت و حرمت اور شرافت کو اس درجہ مجروح کر دیا گیا تھا کہ ایک خاتون کے کئ شوہر بھی ہو سکتے تھے ۔ اسی لئے اس زمانے کو زمانئہ جاہلیت کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ان کا کھویا ہوا مقام دلایا ۔ ان کی صنفی نزاکتوں کے خیال رکھنے کی بھرپور تلقین کی ۔ ان کے ساتھ حسن سلوک کی شہادت کے لئے یہی کافی ہے کہ یا تو عورتوں کو گناہ کا دروازہ اور سامان نگ وعار تصور کیا جاتا تھا، اسلام نے ان کو ایسی عزت دی کہ قران پاک میں مستقل ایک سورہ عورتوں سے منسوب کی گئ اور اس کا نام ۰۰ النساء ۰۰ قرار پایا ۔ جب کہ مردوں سے منسوب ۰۰الرجال۰۰ نام کی کوئ سورہ قرآن مجید میں موجود نہیں ۔ ایک پاکباز اور باعصمت خاتون ۰۰ مریم۰۰ کے نام پر ایک سورہ کا نام رکھا گیا ۔ اسی طرح دنیا میں بلکہ آخرت کے اعتبار سے بھی جو جگہ اور گاوں اور شہر سب زیادہ قابل احترام اور بابرکت ہے اس کی نسبت بھی ماں کی طرف کی گئ ہے اور جس کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی ہے یعنی ۰۰ام القری۰۰ ۔

عورت کے احترام اور ان کے مقام و مرتبہ کی قدر دانی کا اندازہ اس واقعہ سے بھی کیجئے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے تمام نسخوں کو ختم کرکے جو سب سے زیادہ مشہور و معروف نسخہ تھا جب اس خط والا نسخہ (حجازی لغت والا نسخہ) اور ایڈیشن تیار کروایا تو اس خط عثمانی والا پہلا نسخہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو ہدیہ کیا اور پھر اس کی مدد سے سارے نسخے تیار کرکے عالم اسلام میں بھیجا گیا ۔

ان تمام حقائق اور واقعات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں یہ طبقہ کتنا قابل احترام اور معزز ہے !

عورتوں کی صنفی نزاکتوں کا اسلام میں کتنا خیال رکھا گیا اس اندازہ اس واقعہ سے لگائے کہ ایک موقع پر حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ اونٹ پر اپنی بیوی اور بچوں کو سوار کرکے اونٹ تیز ہکا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک حضرت انجشہ پر دور سے پڑ گئ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا مخاطب کرکے فرمایا :

یا انجشہ ! رفقا بالقوایر

انجشہ ان آبگینوں مہ پاروں اور صنف نازکوں کا خیال رکھو ! خبر دار اونٹ کو تیز مت ہکاو ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مستقل شخصیت کی مالک قرار دیا ۔ ملکیت میں تصرف کا پورا حق دلایا،حق نقد و تنقید دیا، ان کی تعلیم و تربیت کے خاص انتظام کیا گیا ،ان کے لئے خصوصی وعظ و نصیحت کی مجلس قائم کی گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانےمیں جو خیر القرون تھا عورتوں کو مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت دی۔ زندگی کا تحفظ دیا اور عزت و وقار اور آبرو کی حفاظت کی نیز عصمت و حیا کی چادر دی ۔

الغرض عورتوں کے جو بھی حقوق (ان کی صنفی نزاکتوں کا خیال کرتے ہوئے) ہو سکتے تھے وہ تمام اسلام نے اور پیغمبر اسلام نے بیٹی کی شکل میں ماں کی شکل میں بہن کی شکل میں اور بیوی کی شکل میں دئے ۔

 

حقیقت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مظلوم و مقہور اور ستم رسیدہ طبقہ کو عزت کا مقام دیا،ان کے جائز حقوق دلائے اور ایک ایسا سماجی قانون اور آئین عطا کیا جس میں عورتوں کی عزت نفس اور شرافت و خوداری کا پورا پورا لحاظ رکھا گیا ہے ،اور ان کی صنفی نزاکتوں کا بھر پور خیال رکھا گیا ہے ۔

عام طور پر ہم لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کا احسان ہے کہ اس نے مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات و برابری کا حکم دیا ہے یہ تعبیر اور یہ بات صحیح نہیں ہے اس نے اس سلسلہ میں عدل کا حکم دیا ہے اور عدل کا مفہوم بہت وسیع ہے اس لفظ اور تعبیر میں بہت گہرائ ہے اس کے معانی بہت وسیع ہیں ۔ عدل کا ترجمہ مساوات اور برابری سے کرنا یہ کسی طرح درست نہیں ہے ۔ کیوں کہ مردوں اور عورتوں کی صلاحیتوں میں قدرتی طور پر فرق واقع ہوا ہے ۔ اس لئے اس فرق کی رعایت کے بغیر دونوں کے لئے ایک طرح کے حقوق و فرائض کو متعین کرنا دانش مندی اور عقل مندی کی بات نہیں ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو کیا کچھ مقام و مرتبہ عطا کیا اور ان کے حقوق کا کس قدر خیال رکھا یہ موضوع بہت تفصیل طلب ہے اس مختصر پیغام میں اس کو سمیٹنا ناممکن ہے لیکن مالا یدرک کلہ لا یترک بعضہ کے ضابطے کے تحت صرف بیٹی ،ماں اور بیوی کو اسلام نے کیا دیا اس کا مختصرا تذکرہ کروں گا کیونکہ خاندان میں عورت عام طور پر انہیں تین مرحلوں سے گزرتی ہے ،پہلے بیٹی بنتی ہے پھر بیوی بنتی ہے اور اس کے بعد ماں بنتی ہے ۔

عرب بیٹیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تھے ان کی پیدائش کو منحوس سمجھتے تھے ۔ بعض خاندان اور قبیلے کے لوگ تو اتنے سخت دل اور سخت جاں تھے کہ بیٹی کے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیتے تھے ۔

اسی لئے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کے مقام و مرتبہ کو بہت بڑھایا ان کی پیدائش کو وجہ مسرت قرار دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی پرورش و پرداخت،تعلیم و تربیت اور ان کی نگہداشت کی خاص فضیلت بیان فرمائ ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :

جس کی دو بچیاں ہوں اور وہ بہتر طور پر خوش اسلوبی کے ساتھ ان کی پرورش و پرداخت کرے اور بیٹیوں پر بیٹے کو ترجیح و فوقیت نہ دے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انگشت شہادت اور تیسری انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم اور وہ جنت میں اتنے قریب ہوں گے، جیسے یہ دونوں انگلیاں، اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی صاحب زادیوں کے ساتھ جو سلوک فرمایا جس محبت اور شفقت سے پیش آئے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں ملنی مشکل ہے ۔ روایت میں اتا ہے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا جب آپ سے ملاقات کے لئے آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کھڑے ہوجاتے ،ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے اور اپنی جگہ ان کو بٹھاتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے گھر جاتے تو یہی معاملہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی طرف سے ہوتا ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے جاتے تو آخری ملاقات حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے کرکے جاتے ،واپس آتے تو مسجد میں پہلے تشریف لاتے اور پھر سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف لے جاتے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کو بیٹی کی کفالت اور تعلیم و تربیت کا ذمہ دار قرار دیا ۔

حکم شریعت یہ ہے کہ اگر لڑکا عاقل و بالغ ہوجائے اور کمانے کے لائق ہوجائے تو باپ اس کی کفالت سے دست کش ہو سکتا ہے اس کی کفالت کے بوجھ اور ذمہ داری سے برئ الذمہ ہو سکتا ہے ۔ لیکن لڑکی بالغ ہو جائے تب بھی اس کی پرورش اور کفالت کی ذمہ داری اس وقت تک والد کے کندھے پر رہتی ہے جب تک کے شادی نہ ہو جائے اور اپنے شوہر کے حوالے اور سپرد نہ ہوجائے اور اس کا نفقہ و سکنی کا انتطام شوہر کے ذمہ نہ آجائے ۔ اور خدا نا خواستہ اگر نباہ نہ ہوسکے اور طلاق و جدائگی کی نوبت آجائے یا وہ بیوہ ہوجائے تو پھر دوبارہ اس کی کفالت والدین کے ذمہ آجاتی ہے ۔ لڑکی کے لئے اس کے معیار کے مطابق رشتہ ڈھونڈنا اس کے لئے آگے کی زندگی کا انتظام کرنا نکاح کے فرائض انجام دینا یہ تمام ذمہ داریاں والدین کے حوالے اور سپرد ہیں ۔ اسلام نے بیٹوں کی طرح بیٹیوں کو بھی میراث میں حق دلوایا اگر چہ بعض مصلحت کی بنا پر بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں آدھے کا حق دار قراد دیا کیونکہ کہ بیٹی کو آگے شوہری حق ملتا ہے اور ماں اور بیوی کے طور پر بھی آگے وہ وراثت کا حق دار بنتی ہیں ۔ اور یہ بات ییاد رہے کہ بیٹیاں ان رشتہ داروں اور قرابت مندوں میں ہیں جو کبھی میراث سے محروم نہیں ہو سکتیں ۔

 

 

عورت کی دوسری حیثیت بیوی کی ہے ،اہل عرب زمانہ جاہلیت میں بیوی کے ساتھ بھی ناروا سلوک کرتے تھے ،اس کے ساتھ بدگوئ کرتے تھے ،گالیاں دیتے تھے ،برا بھلا کہتے تھے ،گالی اور دشنام طرازی کا ایک طریقہ اور صورت یہ تھی کہ عرب غصہ میں آکر بیوی سے ۰۰ ظہار۰۰ کر لیا کرتے تھے یعنی بیوی کو ماں بہن سے تشبیہ دیتے تھے ۔ اسلام نے ان تمام چیزوں سے منع کیا اور حکم دیا گیا کہ اگر کوئ شوہر ایسا کرے تو اس وقت تک بیوی کے پاس نہیں جاسکتا جب تک کہ وہ اس کا کفارہ ادا نہ کرلے اور اس کے لئے کفارہ بھی سخت مقرر کیا گیا ۔ جس کے احکام اور دیگر تفصیلات قرآن مجید میں موجود ہے ۔

ایک طرف اہل عرب کا اپنی بیویوں کے ساتھ یہ رویہ تھا اس کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کا کیا درجہ اور مقام بتایا اور اس کے ساتھ کس طرح پیش آنے کی تلقین کی نیز اس کی صنفی نزاکتوں کا کتنا خیال رکھنے کا حکم دیا آئیے اس کی تفصیلات سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تلاش کرتے ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کے ساتھ جس قدر حسن سلوک کی تاکید و تلقین فرمائ اس کی مثال بہت کم ہی کہیں مل پائے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر وقت تک بیوی کے ساتھ حسن سلوک اور نیک برتاو کی تلقین کی، خطبئہ حجۃ الوداع میں بھی اس جانب توجہ دلائ اور مرض وفات کے درمیان جو نصیحتیں فرمائیں ان میں بھی اس پہلو پر اور اس جانب خاص زور دیا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۰۰ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق و کردار عمدہ ہوں اور عمدہ و بہتر اخلاق رکھنے والا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر برتتا ہو ۔ پھر فرمایا کہ میں تم سب میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر برتاو کرنے والا خود میں ہوں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کی جملہ ضروریات شوہر کے ذمہ کر دی ،

اس پہلو سے بھی ذرا غور کیجئے کہ دوسرے کا مال بلا اجازت لینا اور اس کا کھانا ناجائز اور سخت گناہ بلکہ حرام ہے لیکن بیوی کو اجازت دی گئ کہ اگر شوہر باوجود خوش حالی اور مالداری کے خرچ میں تنگی کرتا ہو بخل سے کام لیتا ہو تو ضرورت کی مقدار شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر بھی لے سکتی ہے ۔ اس سلسلہ میں عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مشہور واقعہ اور اسوہ ہمارے سامنے ہے کہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی کہ ابو سفیان رضی اللہ عنہ کسی قدر بخیل آدمی ہیں، ضرورت کے مطابق خرچ بھی نہیں دیتے تو کیا میرے لئے ان کے مال میں سے بلا اجازت کچھ لینا جائز ہوگا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اتنا لے سکتی ہو جو تمہارے اور تمہارے بچے کی کفالت کی لئے کافی ہوجائے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو حق دیا کہ شادی کے بعد بھی والدین کریں ۔ اسے حق دیا کہ وہ جب مناسب سمجھے اپنے والدین سے مل سکتی ہے ان کی خدمت کرسکتی ہے بلکہ اگر بلا اجازت بھی ہفتہ میں ایک بار والدین سے ملنے جاتی ہے تو ان کا یہ ملنا غلط نہیں ہوگا ۔

اہل عرب زمانئہ جاہلیت میں بیوی سے ناراض ہو کر بے تعلق رہنے کی قسمیں کھاتے تھے ۔ اس کو شریعت کی اصطلاح میں ایلاء کہا جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس طرح کی غلط باتوں کو ختم کیا اور اگر کوئ شخص نہیں ماتا اور وہ قسمیں کھاتا ہے تو شریعت نے حکم دیا کہ اگر کوئ شخص چار ماہ بیوی سے بے تعلق رہنے کی قسم کھا لے اور اس سے ربط نہ رکھے تو میاں بیوی کے درمیان علحدگی کا حکم دیا جائے گا اور اس طرح دونوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا ۔

 

رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بیویوں کے ساتھ لطف و کرم اور الفت ومحبت کا جو معاملہ فرمایا اور ان کی صنفی نزاکتوں کا جس درجہ اور جس حد تک خیال رکھا تاریخ انسانی میں اس کی کوئ مثال اور نظیر نہیں ملتی ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام سلوک اور برتاو اپنی ازواج مطہرات (پاک بیویوں) کے ساتھ نہایت شفقت و درگزر لطف و کرم اور بے تکلفی کا تھا ،بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کوئ کسی بات کا جواب دے دیتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا برا نہیں مانتے ،مثالیں کتب احادیث میں موجود ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ازواج مطہرات کے ساتھ بے تکلفی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا :

جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تب بھی میں اس کا اندازہ کر لیتا ہوں اور جب ناراض ہوتی ہو ،جب بھی اندازہ ہو جاتا ہے اور اس طور سے کہ جب ناخوش ہوتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو *برب ابراھیم* ابراہیم کے رب کی قسم اور جب خوش ہوتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو *برب محمد*

محمد کے رب کی قسم ! عائشہ رضی اللہ عنہا ہنسی اور فرمایا کہ یہ صرف زبان کی حد تک ہوتا ہے ،ورنہ دل میں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جلوہ فرما ہوتی ہے ،اس سے اندازہ کیا جا جاسکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے ساتھ کس خوش مزاجی اور دلداری کا معاملہ فرمایا کرتے تھے ۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی دلبستگی کے لئے اور ان کے مزاج کو فرحت و تازگی بخشنے کے لئے کبھی کبھی رات میں ماضی کے سچے اور اچھے واقعات بھی سناتے تھے ام زرع والا واقعہ تو مشہور و معروف ہے جس کا تذکرہ احادیث کی کتابوں میں موجود ہے ۔

*ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا* حرم مبارک میں آئیں تو کم عمر تھیں ، ان کی اس کم سنی کا آپ نے ایسا خیال رکھا کہ خود کھڑے ہوکر حبشیوں کا کھیل دکھایا اور جب تک تھک نہ گئیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے،حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں آئیں تھی تو ان کے پہلے شوہر کے کئ بچے یتیم ہوکر آپ کے ساتھ تھے لیکن حضرت سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ان بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا سلوک کیا کہ ان بچوں کو کبھی آپ نے یتیمی کا احساس ہونے نہیں دیا اور خود حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے خود کبھی ان یتیموں کے وجود کو اپنے لئے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے لئے بار خاطر نہیں سمجھا ۔

بیوی کے ساتھ ہنسی مذاق شگفتہ مزاجی سے پیش آنا اور اس کے ساتھ کھیل کود میں کبھی کبھی مقابلہ بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کیا پہلی بار آپ جیت گئے اور پھر دوسرے موقع پر مقابلہ ہوا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آگے نکل گئیں اور وہ جیت گئیں واقعہ یہ تھا کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم بھاری تھا آپ موبدن اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پھرتیلی اور تیز رفتار تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو معاملہ برابر سرابر ہوگیا ۔

بیوی کو روپیے پیسے دے دینا زیورات سے ان کو اراستہ کر دینا اور زیورات و ملبوسات میں نہا دینا مالدار اور روپیئے پیسے والوں کے لئے کچھ دشوار نہیں، لیکن گھر کے باہر اتنی مصروف و مشغول زندگی ہو اور کاموں اور ذمہ داریوں کے بوجھ بندھے ہونے کے باوجود قدم قدم پر پر جذبات و احساسات کی یہ پاسداری اور مزاج کی ایسی رعایت آسان نہیں ہے ۔

یہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال تھا اور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر باہر کی زندگی میں پوری انسانیت کے لئے سب سے عظیم نمونہ اور آدئیل ہیں داخلی اور گھریلو زندگی میں بھی اسی قدر آپ سب کے لئے بہترین اور بے مثال اسوہ اور نمونہ ہیں ۔

 

*عورت* کی تیسری حیثیت ماں کی ہے ۔ اس حیثیت سے عورت کو اسلام نے جو قدر و منزلت اور مقام و مرتبہ دیا اس کی مثال کسی بھی مذھب اور سماج میں نہیں ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ماں کو جو عزت عطا فرمائ ،شاید اس سے بڑھ کر عزت و احترام ممکن نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ جہاں ازدواجی حقوق میں شوہر سے زیادہ بیوی کا خیال رکھا اور کی تاکید فرمائ ،اسی طرح ماں کے حقوق، باپ کے مقابلے میں زیادہ رکھے اور ماں کی فضیلت زیادہ بیان کی ،آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :

ماں کے قدموں کے نیچے باغ و بہشت (جنت ) ہے اور باپ کے بارے میں فرمایا کہ وہ جنت کا دروازہ ہے ۔

ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ!

میرے حسن سلوک اور میری خدمت کا سب زیادہ مستحق اور حقدار کون ہے ؟

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سوال کے جواب میں تین مرتبہ ماں کا ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تمہاری ماں ،اور چوتھی بار میں باپ کا ذکر کیا، اس حدیث سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں ماں کا درجہ کتنا اونچا اور بلند ہے ۔

انسان پر ضروری ہے کہ وہ ماں اور باپ دونوں کی کفالت کرے اور ان کے معاش اور ان کے نفقہ کی ذمہ داری اپنے کندھے پر لے اگر وہ محتاج اور ضرورت مند ہیں، لیکن اگر کوئ شخص ان دونوں میں سے صرف ایک ہی کی کفالت کر سکے اور ان میں سے ایک ہی کا نفقہ برداشت کر سکے تو فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ماں کی کفالت اس صورت میں واجب ہوگی اور اس کی ضروریات مقدم ہوں گی ۔

اسلام نے ماں کے حقوق کی اتنی اور اس درجہ رعایت رکھی ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ایمان لے آئے، لیکن ان کی والدہ نے اسلام قبول نہیں کیا، ایمان نہیں لائیں اور بیٹے سے ماں نے پوچھا کہ تمہارے رسول اور پیغمبر ماں کے ساتھ کیسے برتاو اور سلوک کا حکم دیتے ہیں ؟ اس صحابی رسول نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بہتر اور نیک سلوک و برتاو کا حکم اور تاکید فرماتے ہیں، روایت میں آتا ہے کہ ان کی والدہ نے خورد و نوش (کھانا پینا) ترک کر دیا اور کہا جب تک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان سے باز نہیں آتے میں کھانا نہیں کھاوں گی ،صحابی رضی اللہ کے لئے یہ صورت حال بہت ہی مشکل اور پریشانی کا باعث تھی ،وہ صحابی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی پریشانی اور مشکل کا اظہار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی بر قراری بھی ضروری ہے اور والدہ کو کھانا کھلانا بھی، روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کے بعد وہ صحابی ایک دو وقت فاقہ کے بعد جبرا والدہ کو کھانا کھلاتے اور ان کی ہر طرح کی کڑوی کسیلی اور کھری کھوٹی کو برداشت کرتے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا دیا کہ اگر ماں باپ ظلم بھی کریں پھر بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک اور بہتر معاملہ کرو ۔ ہاں خلاف شریعت باتوں میں ان کی اطاعت و فرمانبرداری نہیں کی جائے گی ۔ کیوں کہ خالق کی نافرمانی کرکے مخلوق کی اطاعت درست نہیں ہے ۔ *لا طاعت لمخلوق فی معصیت الخالق*۔

شریعت نے وراثت میں جس طرح بیوی اور بیٹی کو حصہ دار اور شریک و سہیم بنایا ہے ماں کو بھی حصہ دیا ہے ۔ حکم شریعت یہ ہے کہ اگر اولاد کا انتقال ماں کی زندگی میں ہو جائے تو اس کے ترکہ میں سے ماں کو بھی حصہ دیا جائے ۔ اور ماں بھی ان ورثاء میں سے ہے جو کسی دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی کی وجہ سے ترکہ سے محروم نہیں ہو سکتی ۔

خلاصہ یہ کہ اسلام نے عورت کو عزت و احترام اور قدر و منزلت کے جس مقام پر پہنچایا اور خاص طور پر ماں کی شکل میں اسلام نے جو عزت و رفعت ان کو عطا کی اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جس اہتمام اور تاکید کے ساتھ ماں کے حقوق کی طرف توجہ دلائ اس بڑھ کر کسی مذہب اور سماج نے عورت کو ایسی عزت و احترام اور رفعت و بلندی نہیں دی ۔

عورت کے حوالے سے ان سنہری تعلیمات کے باوجود جن کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں نے عملا برت کر دکھایا اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ اسلام عورت کے معاملے میں امتیازی رویہ اور سلوک کا معاملہ کرتا ہے تو گویا وہ تنگ نظر اور متعصب ہے اور وہ انصاف اور حقیقت پسندی کی عینک سے نہیں بلکہ تنگ نظری اور عناد کی عینک سے چیزوں اور ثابت شدہ حقیقتوں کا مشاہدہ کر تا ہے ۔

You might also like