ہندوستان

وکلاء کے ہاتھوں پٹائی کے بعد دہلی پولیس کا یونیفارم میں مظاہرہ، ہمیں انصاف چاہیے، عدم تحفظ کا احساس ہورہا ہے : پولیس

 

کانگریس نے امیت شاہ کی خاموشی پر سوال اُٹھایا، پولس کمشنر پٹنائیک کا اہلکاروں سے کام پر لوٹنے کی اپیل بعد احتجاج ختم

نئی دہلی۔۵؍نومبر: تیس ہزاری کورٹ میں ہفتہ کو وکلاء اور پولیس کا تنازعہ ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ آج دہلی پولیس وردی میں سڑکوں پر اتر کر احتجاج کر رہی ہے۔ پیر کو وکلاء نے کام کاج بند رکھا تھا اور اس دوران ان کی غنڈہ گردی بھی سامنے آئی تھی۔ دہلی کی مختلف عدالتی احاطے میں پولیس اور میڈیا کے علاوہ عام لوگوں کے ساتھ مارپیٹ کی گئی تھی۔ ادھر بار کونسل نے وکلاء سے جلد سے جلد کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔آئی ٹی او واقع دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کر رہے پولیس اہلکاروں نے ’ہمیں انصاف چاہیے‘ کے نعرے لگائے اور کہا کہ ہمیں عدم تحفظ کا احساس ہو رہا ہے۔اس درمیان ہفتہ کو تیس ہزاری کورٹ میں ہوئے تشدد کا نیا سی سی ٹی وی فوٹج سامنے آیا ہے۔ نئے ویڈیو میں جھگڑے کے شروعات کی پوری کہانی ہے۔ ایک وکیل پولیس وین کے برابر میں اپنی کارلگا دیتا ہے۔ بعد میں ایک پولیس اہلکار اس کے پاس جاتا ہے اور وہاں سے گاڑی ہٹانے کو کہتا ہے۔ دونوں کے درمیان پہلے بحث ہوتی ہے اور پھر مار پیٹ شروع ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد پولیس والا وکیل کو لاک اپ میں ڈال دیتا ہے۔ حالانکہ وہاں اس سے کسی طرح کی مارپیٹ نہیں ہوتی ہے۔ کچھ دیر بعد وکیل کو لاک اپ سے چھوڑ دیا جاتا ہے اور وہ وہاں سے چلا جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد وکیل اپنے ساتھی وکلاء کے ساتھ پولیس کے پاس پہنچ جاتا ہے اور مارپیٹ کی شروعات ہوتی ہے۔دہلی پولس کمشنر امولیہ پٹنائک نے پولس ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کر نے والے پولس اہلکاروں کو انصاف کا بھروسہ دلاتے ہوئے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے اطلاعات کے مطابق دس گھنٹے تک جاری رہنے والا احتجاج آئی ٹی او سے ختم کردیاگیا ہے۔ پٹنائک نے پولس اہلکاروں سے کہا تھا کہ یہ وقت دہلی پولس کے لئے امتحان کی گھڑی ہے اور پولس والوں کی ساری شکایتیں دور کی جائے گی۔ دہلی پولس کے لئے یہ امتحان، توقع اور انتظار کا وقت ہے۔ حکومت اور دہلی کو عوام کو پولس والوں سے کافی توقع رہتی ہے کیونکہ ہم قانون کے رکھوالے ہیں۔ انتظار کی گھڑی ہے کیونکہ تیس ہزاری عدالت کے احاطے میں جو واقعہ ہوا ہے اس میں ہائی کورٹ کی جانب سے عدالتی تحقیقات کا حکم دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تحقیقات میں انصاف ملے گا اور انتظار کرنے کی ضرورت ہے پولس کمشنر نے پولس اہلکاروں کے سمجھاتے ہوئے کہا کہ آپ کے دماغ میں جو خدشہ ہے اسے ہم سمجھ رہے ہیں۔ ہم قانون کے رکھوالے ہیں اور عوام کو ہم سے امید ہے اور ہمارا برتاؤ بھی اسی طرح کا ہونا چاہئے۔ انہوں نے پولس اہلکاروں کی تمام شکایات دور کرنے کا بھی یقین دلایا۔پٹنائک نے پولس اہلکاروں کو بھروسہ دلایا کہ وکلاء کے ساتھ پولس کی جھڑپ کے معاملے کو لے کر دہلی ہائی کورٹ کی پہل پر ایک عدالتی تحقیقات شروع کی جا رہی ہے اور ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ عدالتی جانچ صحیح طریقے سے ہوگی۔ کانگریس نے منگل کو کہا کہ قومی دارالحکومت میں پولیس کا سڑکوں پر مظاہرہ کرنا ہندوستان کے لئے آزادی کے 72 سالوں میں ایک ’نئی گراوٹ‘ ہے۔ پارٹی نے اس معاملے پر وزیر داخلہ امت شاہ کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے۔کانگریس کے مرکزی ترجمان رندیپ سنگھ سرجیوالا نے کہا کہ کیا یہ ہے بی جے پی کا’نیا ہندوستان‘۔انہوں نے پوچھا کہ حکمراں پارٹی ملک کو کہاں لے جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے تحت آنے والی دہلی پولیس آئی ٹی اوواقع پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر سڑکوں پر مظاہرہ کر رہی ہے اور وزیر داخلہ امت شاہ اور وزارت داخلہ اس بارے میں کچھ نہیں کر رہا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک طرف تو وکلاء کو گولی مار ی جا رہی ہے اور ان کی پٹائی کی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف پولیس کی پٹائی ہو رہی ہے۔سرجیوالا نے پوچھاکہ قانون و نظام اور قومی دارالحکومت دہلی کے شہریوں کی حفاظت کون کرے گا۔کیا یہ وہی نیا ہندوستان ہے جس کے بارے میں بی جے پی بات کیا کرتی تھی۔ کہاں ہیں وزیر داخلہ امت شاہ۔براہ مہربانی سامنے آئیں اور بتائیں کہ آپ یہ کیسے یقینی بنائیں گے کہ قومی راجدھانی دہلی میں قانون ونظام قائم رہے اور پورے معاملے کو قانونی طریقہ کار کے مطابق حل کیا جائے۔پارٹی کے ترجمان آر پی این سنگھ نے کہاکہ یہ بے مثال ہے۔اگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں ہی سڑکوں پر اتر آئی ہیں تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟ جب بھی بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ وکلاء کے ساتھ تصادم کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملے کی مخالفت میں منگل کو سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے یہاں پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہرہ کیا۔غور طلب ہے کہ گذشتہ ہفتہ کو یہاں کی تیس ہزاری کورٹ میں دہلی پولس اور وکلاء کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی تھی، پولس اہلکاروں کا الزام ہے کہ وکلاء نے پولس کے کئی جوانوں کو مارا پیٹا گیا اور ساتھ میں تیس ہزاری کورٹ احاطے میں کئی مقامات پر آگ زنی بھی کی۔وکلاء کی طرف سے پولس اہلکاروں کی پٹائی کے بہت سے ویڈیو وائرل بھی ہوئے ہیں۔ مختلف عدالتوں کے مظاہرے کرنے والے وکلاء نے کل بھی کچھ پولس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ اور دھکا مکی کی تھی۔ پولس اہلکاروں کی اس پٹائی کی مخالفت میں ہی دہلی پولس ہیڈکوارٹر کے باہر پولس اہلکار احتجاج کر رہے ہیں۔ دوسری طرف وکیل بھی پیر سے ہڑتال پر ہیں۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker