ہندوستان

اساتذہ نئی نسل کے معمار کی حیثیت سے اپنے فرائض نبھائیں، موثر طریقہ تدریس کے عنوان سے ورکشاپ میں مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی کا خطاب

 

جالے : 6/نومبر ( پریس ریلیز )

قوم آپ کو نہ صرف نئی نسل کا معمار مانتی ہے بلکہ آپ پر اعتماد بھی کرتی ہے اس لئے آپ کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل کی بہتر تعلیم وتربیت اور ان کے خوش آئند مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے آپ مکمل خلوص اور اجتماعیت کے ساتھ وہ پیش رفتیں کریں جو قابل قدر ہوں یہ باتیں نوجوان عالم دین اور آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ کے جنرل سکریٹری مولانا مفتی عمر عابدین نے داراالعلوم سبیل الفلاح کے اندر موثر طریقہ تدریس کے عنوان پر منعقد ورکشاپ میں اپنا محاضرہ پیش کرتے ہوئے کہیں انہوں نے اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انہیں ان کی بنیادی ذمہ داریاں یاد دلائیں وہیں انہوں نے کہا کہ ہم تعلیمی میدان میں ٹھوس طریقہ کار اپنائے بغیر طلبہ کو ان کے کامیاب مستقبل کی راہ نہیں بتا سکتے اس لئے ہمیں پوری سنجیدگی وایمانداری کے ساتھ اس پہلو پر سوچنا ہوگااور موثر طریقہ کار تلاشنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی، انہوں نے کہا تعلیمی تقابل کے اس دور میں ہمیں ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے لئے آپ سب کو اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے برادرانہ اور رفیقانہ انداز میں پالیسیاں طے کرنی ہوگی اگر ایسا کر لیا جاتا ہے تو میں یقین دلاسکتا ہوں کہ ہم ان تمام تعلیمی کمزوریوں پر قابو پا سکتے ہیں جن کے مسائل سے اس وقت بیشتر تعلیمی ادارے جھوجھ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ آپ کے سامنے بیٹھنے والے تمام طلبہ یکساں فکر کے مالک نہیں ہوتے بلکہ ان سب کی صلاحیتیں اور سوچنے کا انداز الگ الگ ہوتا ہے اس لئے آپ کا فرض ہے کہ آپ ان سب کے ذہنی معیار کے مطابق ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا عملی منصوبہ طے کریں تب ہی آپ خود کو کامیاب استاد ثابت کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ اساتذہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ان کے شریک کار بنیں اور تعلیمی مشن کو قابل اعتبار رخ دینے کے لئے ایک دوسرے کے معاون بن کر کام کو آگے بڑھائیں مولانا مفتی عمر عابدین نے کہا کہ آپ کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری طلبہ کے ذہن ودماغ کو آپ کی باتیں قبول کرنے کے قابل بنانا ہے اس کے لئے آپ کئی طرح کی حکمت عملی طے کرنی ہوگی اور ان کے فکر وشعور کے اتار چڑھاو کا جائزہ لینا ہوگا،انہوں نے کہا کہ تعلمی زوال اس وقت بیشتر مدارس کے لئے سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے ہم اچھے افراد تیار نہیں کر پا رہے ہیں اس لئے ہمیں اس صورت حال سے نمٹنے کی فکر بڑے ٹھوس طریقے سے کرنی ہوگی ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آخر ہمارے ادارے شاداب پھولوں سے کیوں خالی ہوتے جارہے ہیں اور ہماری وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے ہمارے ادارے قوم کو اپنی نافعیت کا احساس دلانے میں کمزور ثابت ہو رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا مشن نئی نسل کا شاندار مستقبل ہے تو ہمیں پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ موجودہ نسل کو مدارس کی نافعیت کا احساس دلانا ہوگا،قابل ذکر ہے کہ اس سہ روزہ ورکشاپ میں اساتذہ کی دلچسپی خوش آئند ہے اور اسے دیکھ کر مولانا مفتی عمر عابدین کافی پر امید نظر آئے ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker