مضامین ومقالات

رام کے ہیں نہ عوام کے، بھاجپائی تو ہیں پجاری بس اقتدار کے!!!

 

احساس نایاب (شیموگہ، کرناٹک)
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن

ممکن ہے بابری مسجد و رام مندر کا فیصلہ بہت جلد سُنادیا جائے گا….. کیونکہ بابری مسجد – رام مندر تنازع کی سماعت سپریم کورٹ میں تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور مسلسل کئی سالوں کے انتظار کے بعد یہ انکشاف کیا جارہا ہے کہ 17 نومبر 2019 سے پہلے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی پانچ ججوں کی بینچ سے تاریخی فیصلہ سُنا سکتے ہیں، کیونکہ 17 نومبر کو چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی ریٹائر ہونے والے ہیں جس کو لے کر قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ وہ اپنے جانے سے قبل اس فیصلے کے ساتھ خود کو تاریخ کا حصہ بنانا چاہینگے ….

ابھی دیکھنا یہ ہے کہ فیصلہ کس بنیاد پہ ہوگا؟ شواہد، ثبوتوں، دلائل و دستاویزات کی بنا پہ یا محض کھوکھلی آستھا کی آڑ اور اقتدار کے دباؤ میں …..
ویسے دوران سماعت کئی ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جس سے مسلمانوں میں امید کی ہلکی سی کرن نمودار ہوئی ہے کیونکہ اتنے سالوں میں شاید ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ چیف جسٹس گگوئی کے کہنے پر بھری عدالت میں ہندو فریق کی جانب سے پیش کئے گئے بےبنیاد کاغذات پھاڑے گئے اور سپریم کورٹ نے صاف صاف لفظوں میں یہ بھی کہا تھا کہ فیصلہ ملکیت کی بنیاد پہ ہوگا نہ کہ آستھا کی …..
اس طرح کے کئی واقعات کو دیکھتے ہوئے ممکن ہے فیصلہ ثبوتوں و دستاویزات کی بنا پر بابری مسجد کے حق میں فیصلہ سنایا جائے , سالوں سال انتظار کے بعد بابری مسجد کو انصاف ملے اور اس دوران مسلم رہنماؤں و دیگر مسلمانوں کی جانب سے کی گئی بےلوث قربانیاں اُن کی محنت خاص کر ایڈوکیٹ راجیودھون جیسے مخلص انسان کی محنت، ایمانداری اور بے لوث جدوجہد رنگ لائے گی ……

لیکن فیصلہ جو بھی ہو سبھی کو چاہئے کہ وہ عدالت عظمی کے اس فیصلے کو قبول کریں اور مستقل درپیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے خود کو ذہنی و جسمانی طور پر تیار رکھیں ……

خدا نخواستہ فیصلہ مندر کے حق میں آگیا تو بھی کوئی بات نہیں اللہ کی رضا اُس پروردگار کی مصلحت سمجھ کر ہمیں صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر سیکولر ہندو بھائیوں کی خوشی میں خوشی کا اظہار کرنا چاہئے تاکہ ہماری پریشانی، بےچینی، مایوسی و اداسی دیکھ کر فرقہ پرستوں کو خوش ہونے کا موقعہ نہ ملے اور وہ اس کا سیاسی فائدہ نہ اٹھانے پائیں ….
ویسے بھی اس فیصلے کے بعد ضروری نہیں کہ آر ایس ایس وہاں پہ مندر بننے دے گی، اس لئے مسلمانوں کو پریشان یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے …. کیونکہ یہ فیصلہ محض انسانی عدالت کا ہے جبکہ ان شاءاللہ مالک کائنات کی عدالت کا فیصلہ تو کچھ اور ہی ہوگا………

اس موقع پر بتادوں کہ شیتل نامی صحافی اور کئی ہندوؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ رام مندر بنانے کا دعوی مودی کی جملے بازیوں کی طرح ہی کھوکھلا، ڈھکوسلہ ہے کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس رام بھکتوں کو صرف رام مندر کے نام کا لالی پاپ چٹارہی ہے ……

” ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق 1986 میں مسئلہ رام مندر ایک حد تک سُلجھ چکا تھا اور متنازع زمین کے فریقین یعنی ہندو اور مسلمان مذاکرات کے بعد اس بات پہ راضی ہوگئے تھے کہ مسجد کو ہٹاکر دوسری جگہ منتقل کیا جائے گا اور وہ زمین رام مندر کے لئے دے دی جائے گی …..
” ایس پی سنگھ ” لکھنؤ میں ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے صحافی شیتل کو دئے گئے ایک انٹرویو میں رام جنم بھومی معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے آر ایس ایس سے جڑے کئی راز فاش کئے ہیں ……… جنہیں مضمون میں شامل کرنا ضروری ہے …….

مضمون کو آگے بڑھانے سے پہلے ایس پی سنگھ کا مختصر تعارف کرادینا ضروری سمجھتی ہوں….
ایس پی سنگھ 1982 بیچ اترپردیش کے کیڈر کے آئی پی ایس آفیسر رہ چکے ہیں اور 1997 میں فیض آباد کے کمشنر رہ چکے ہیں، ساتھ ہی رام جنم بھومی آندولن رام جنم بھومی تنازعہ اور اس سے جُڑی تمام حقائق کو انہوں نے بہت قریب سے دیکھا ہے .
کمشنر ہونے کے ناطے رام مندر سے جُرے ہر معاملے کا بخوبی علم رکھتے ہیں
ان کا کہنا ہے کہ یہ وہاں کی ایک مسجد کے متولی بھی رہ چکے ہیں اور شری شری روی شنکر کے ساتھ جُڑ کر راشٹریہ سیوا سنگھ و رام جنم بھومی معاملے سے جڑی دیگر تنظیموں سے مذاکرات کرنے کی بھی انہوں نے کوشش کی ہے …………..

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید اُن کا کہنا تھا کہ 93 , 97 اور 2003 کو ہائی کورٹ کی جانب سے” آرکائیولوجیکل سروے آف انڈیا کو کُھدائی کا کام سونپا گیا تھا تاکہ کھدائی کرکے یہ دیکھیں کہ جو آر ڈی فیکس نکل رہا ہے وہ کیس سے متعلق تو نہیں، یعنی وہاں کوئی ہندو ڈھانچہ، مندر یا رام مندر تو نہیں تھا جس کو توڑ کے مسجد بنائی گئی ہو ……..
لیکن کھُدائی کے دوران ایسا کچھ بھی ثابت نہیں ہوپایا کہ اُس جگہ پہ کوئ مندر یا ہندو ڈھانچہ رہا تھا……. اس سے رام جنم بھومی کا دعوی تو سرے سے خارج ہوتا ہے ………

آگے ایس پی سنگھ نے 1986 کا ذکر کیا . جب تالا کھول کر پوجا کی گئی تھی اُس وقت وہ چیف منسٹر کے جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے پہ فائز تھے
اُس دوران جو بھی معاملات پیش آئے اُس کے متعلق ……….
جب شیلا نیاس ہوا تھا جس کو این ڈی تیواری نے کیا تھا اُس وقت بھی میں وہاں موجود تھا .
وہاں کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان سب کے درمیان وہاں کے مقامی مسلمانوں نے بہت ہی صبر اور برداشت سے کام لیا، نہ کوئی جھگڑا کیا نہ ہی کسی بھی قسم کی مخالفت کی جس سے ماحول میں کشیدگی ہو …………

دوران انٹرویو ایس پی سنگھ کا ایک اور اہم بیان جس پہ زور دیتے ہوئے واضح طور پہ انہوں نے کہا ہے کہ ” جب رام مندر کو لے کر سارا معاملہ سلجھنے ہی والا تھا اور دوسرے دن صبح تمام فریقین کو بلاکر ایک ساتھ پریس کانفرنس کے ذریعہ عوام کے آگے مصالحت کی بات رکھنی تھی کہ اچانک آر ایس ایس کے کرشن گوپال کا یہ کہنا کہ
” سینکڑوں سالوں کی لڑائی ہے اتنی آسانی سے ہم کیسے ختم کردیں ؟؟؟
آر ایس ایس کو مندر بنانے سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ سیاست کرنی ہے
کس کو مندر چاہئے ؟؟
رام تو گھٹ گھٹ میں ہیں، رام کے مندر ہزاروں ہیں . اگر صرف مندر ہی بنانا ہوتا تو اتنا سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہوتی ؟؟؟
ہمیں تو ہندو ابھیمان جگانا ہے اور کس کو پتہ کس نے دیکھا ہے کہ وہاں رام پیدا ہوئے ہیں ؟؟؟
ایس پی سنگھ کے مطابق یہ الفاظ کرشن گوپال کے ہیں ………….

ایس پی سنگھ کے انٹرویو کو دیکھنے کے بعد ہندو پنڈت کی کہی وہ بات بھی یاد آتی ہے جو انہوں نے دوران جلسہ عوام سے مخاطب ہوکر کہا تھا کہ کیسے اقتدار کی لالچ میں سازش کے تحت راتوں رات چوری چُھپے مسجد میں مورتیاں رکھوا کر مسجد کی اراضی پہ جبرا قبضہ جمانے کی کوشش کی گئی تاکہ آستھا کے نام پہ ہندو ووٹ بینک حاصل کیا جائے ………
اور کیسے ایڈوانی نے سومناتھ سے رتھ یاترا نکالی تھی اور جب مصالحت کی بات آئی تو مسلم رہنماؤں نے فراخ دلی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ مسجد کے آگے جو 65 سے 70 ایکڑ زمین خالی پڑی ہے وہ رام مندر کے لئے دے دیں .
اور جب ایڈوانی رتھ یاترا میں بیٹھ کے یوپی کے قریب پہنچے تو اُن کے آگے اس تجویز کو رکھا گیا تو وہ مسکراتے ہوئے بولے
” کیا مجھے بےوقوف سمجھ رکھا ہے جو میں رام کا ایک اور مندر بنانے نکلا ہوں ؟؟؟ ”
کیا تم نے میرا نعرہ نہیں سُنا ؟
” سوگندھ رام کی کھاتے ہیں مندر وہیں بنائینگے ”
یہاں مندر وہیں بنانے سے مُراد ایودھیا کی زمین نہیں بلکہ بابری مسجد کے بیچ و بیچ 4 بائی 4 کا وہ احاطہ ہے جہاں ممبر ہے ……….

ان تمام باتوں سے یہ بات تو واضح ہوجاتی ہے کہ آر ایس ایس، بی جے پی کو رام مندر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے نہ ہی رام سے ان کا کوئی دلی لگاؤ ہے، انہیں تو بیچارے رام کے نام پہ سیاست کرنی ہے، اقتدار حاصل کر آستھا کے نام پہ بھولی بھالی عوام کو بیوقوف بنانا ہے . ملک میں لوٹ مچانی ہے اور رام راجیہ کے نام پہ رام ہی کو بدنام کرنا ہے ……..

اپنی تمام چالبازیوں، گندی سازشوں کے باوجود یہ بھی ممکن ہے کہ آر ایس ایس کا پاسہ الٹا پڑجائے، جیت کے ساتھ بھاجپا کی اُلٹی گنتی شروع ہوجائے اور یہ جیت کر بھی جیت نہ پائیں، کیونکہ بی جے پی، آر ایس ایس کے لئے رام مندر وہ مدعا ہے جس سے اُن کا وجود زندہ ہے جیسے راجا کی جان طوطے میں بسی تھی ویسے ہی بی جے پی کا وجود، ہندوتوا کا خواب اس مدعے سے جڑا ہے جس دن یہ مسئلہ حل ہوگیا عنقریب ہی بھاجپا کے اقتدار کی سانسیں بھی دم توڑتی نظر آئینگی ……. اس لئے آر ایس ایس کسی بھی قیمت پہ اس مسئلہ کو زندہ رکھنے کی پوری کوشش کرے گی ……..

یہاں کملیش تیواری کے قتل کے بعد کے خلاصے شاید یاد ہوں کہ کیسے قتل سے پہلے کملیش تیواری اور قتل کے بعد اُس کے ساتھیوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر یہ الزام لگایا تھا کہ یہ اقتدار کی لالچ میں رام مندر نہیں بنانا چاہتے ….. دیکھا جائے تو یہ الزام نہیں حقیقت ہے …………

ویسے بھی یہ بھاجپائی نہ رام کے ہیں نہ عوام کہ بلکہ یہ تو شیطان کے پجاری ہیں ……… وہ اس معاملے کو کسی بھی رُخ موڑ سکتے ہیں کیونکہ ابھی اُن کا حال آگے کنواں پیچھے کھائی والا ہے، رام مندر بنے گا تو بھی نقصان ہے نہ بنے گا تو بھی نقصان ………
اس لئے وہ اس نقصان سے خود کو بچانے کے لئے ہوسکتا ہے ملک کا ماحول بگاڑنے کی ہرممکن کوشش کرینگے، رام بھکتوں کے ذہن سے رام مندر کا خیال ہٹانے کی خاطر ہوسکتا ہے دوبارہ کسی اور کملیش تیواری، پلوامہ کے حملے جیسی کوئی سازش رچیں جس کا الزام مسلمانوں پہ لگاکر ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا سکیں تاکہ ملک میں تشدد کی آگ بھڑکائیں، جگہ جگہ فسادات ہوں اور بھکت مندر کے مدعے سے ہٹ جائیں …….

ایسے میں سمجھداری اسی میں ہے کہ مسلمان محتاط رہیں، ہندو اکثریتی علاقوں میں رہنے والے مسلم بھائی بہنوں کا خاص خیال رکھتے ہوئے کوئی بھی ایسی حرکت نہ کریں جس سے ہم تو بچ جائیں لیکن اُن بےچاروں کو قربان ہونا پڑے ……..

بیشک مسلمانوں نے بنا ڈرے، بنا پیچھے ہٹے انصاف و حق کی اس لڑائی کو طویل وقت تک جاری رکھا اور ظالم کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے، الحمدللہ ظالم کے آگے کھڑے رہنا بھی بہت بڑی بات ہے اس لئے مایوس ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے……….

باقی رہی انصاف، بھلائی و انعام کی امید وہ صرف اللہ سبحانہ تعالیٰ سے جوڑیں اور اس بات پہ پختہ یقین رکھیں کہ مسجد اُس مالک دوجہاں کی ملکیت ہے اُس رب کا گھر ہے ان شاءاللہ وہی اُس کی حفاظت بھی فرمائینگے . جیسے خانہ کعبہ کی حفاظت فرمائی تھی اور ڈھانے آئے ظالموں کو ننھے پرندوں کے ذریعہ نیست و نابود کیا تھا اُسی طرح ان ظالم درندوں کا خاتمہ بھی عنقریب ہوگا ……….

اور ان شاءاللہ اللہ کے فضل و کرم سے فیصلہ بابری مسجد کے حق میں آجائے تب بھی خدارا خوشیوں کے نام پہ بیکار کی اودھم کود نہ مچائیں بلکہ بارگاہ الہی میں سجدہ ریز ہوکر شکرانہ ادا کریں اور انسانیت کے حق میں دعا کریں کہ اللہ اس جیت کو امت مسلمہ کے لئے سلامتی کے ساتھ مبارک بنائیں اور دونوں صورتحال میں ملک کے اندر امن و امان قائم ہو خیر و عافیت برقرار رہے اور شیطان کے شر سے انسانیت محفوظ رہے آمین ……
یہاں بہتری اسی میں ہے کہ دکھاوے یا جذباتی خوشیوں سے اجتناب کریں اور یہ عہد کریں کہ آج سے کسی بھی شہر, گلی کی مساجد ویران نہیں ہوں گی بلکہ نمازیوں سے ہمیشہ آباد رہینگی تاکہ مستقبل میں کوئی بھی مسجد فرقہ پرستوں کی نظروں میں نہ کھٹکے ………..

لیکن کبھی بھی حالات سے خوفزدہ، مایوس، ناامید نہ ہوں اور صبر بھی اُس وقت تک کریں جب تک آگے والا انسان، انسان بنا رہے اگر کوئی حیوان بننے کی کوشش کرے تو اُس کو روکنا بھی ہم پہ لازم ہے یہ بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے، بھلے پہلا وار نہیں لیکن دوسرا وار ایسا کریں کہ آگے والا پھر کسی وار کے قابل نہ بچے ………

آخر میں ملی و سیاسی رہنماؤں کو بھی چاہئیے کہ وہ مسلم نوجوان کے حوصلے پست کرنے کے بجائے اُن کا حوصلہ بڑھائیں …فیصلے سے پہلے کوئی فیصلہ نہ سنائیں ….نہ ہی صرف مسلمانوں سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے مظلوم بےگناہ مسلمانوں کو ہی موردالزام نہ ٹھہرائیں بلکہ اصل شرپسندوں پہ لگام کسیں ……..

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker