ہندوستان

امن و امان کی ساری اپیلیں صرف مسلمانوں سے کیوں؟ امن کی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی، لاء اینڈ آرڈر حکومت کی ذمہ داری

 

اجودھیا معاملے پر دھواں دھار اپیلوں پر مولانا ابوطالب رحمانی نے سوال اٹھائے، کہا، فیصلے پر پوری دنیا کی نگاہیں مرکوز

گونڈہ۔ یو پی: 8 نومبر (پریس ریلیز)
دھانےپور قصبے میں منعقد دینی اجلاس میں شرکت کے لیے گونڈہ آٸے رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کولکاتہ مولانا ابو طالب رحمانی نے اخباری نماٸندوں سے ایک خصوصی ملاقات میں اجودھیا معاملے میں آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مدنظر حکومت اور انتظامیہ کے ذریعہ مسلسل کی جارہی امن کی اپیلوں پر سوال کھڑے کٸے ہیں اور کہا ہے کہ آخر ساری امن وامان کی اپیلیں ہمیں سے کیوں کی جارہی ہیں جبکہ دوسرے طبقے کے کچھ لوگ آج بھی یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ کچھ بھی ہو مندر تو ہم وہیں بناٸیں گے ۔ سوشل میڈیا پر فرقہ پرست عناصر سرگرم ہیں،
مولانانے کہا کہ امن کی تالی صرف ایک ہاتھ سے نہیں بج سکتی اس کے لیے ملک کے ہر باشندے کو مل جل کر بجانی پڑے گی خواہ کوٸی ہندو ہو یا مسلم،
انھوں نے کہا کہ بابری مسجد مقدمے کے آنے والے فیصلے پر دنیا کے تمام ماہرین قانون کی نگاہیں ہیں ۔اب 2019 کے اس ترقی یافتہ دور میں ضرور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت والے ملک کی سب سے بڑی عدالت ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہے یا آستھا اس پر بھی غالب ہے ؟
مولانا نے کہا پورے ملک میں امن وامان کو برقرار رکھنا حکومت کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔اگر حکومت کو داخلی ایجنسی سے کسی قسم کے خطرے کی خبر مل رہی ہے تو ایسی تمام سرگرمیوں پر سختی سے نگرانی متعین کرے اور پولیس فورس کو شرارتی لوگوں پر فاٸرنگ کرنے کی اجازت دے ۔لیکن یہ بات ہر گز مناسب نہیں ہے کہ پورے ملک کو نفسیاتی خوف میں مبتلا کردیاجاٸے اور غیراعلانیہ کرفیو جیسا ماحول بنادیا جاٸے ۔ ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں اس کی شان کو برقرار رکھا جاٸے ہر جگہ کشمیرکا تجربہ نہ کیا جاٸے ۔ انھوں نے ملک بھر کے شہریوں سے اپیل کرتے ہوٸے کہا کہ ہمیں ہر حال میں ہندوستان کی سلامتی اور انسانیت کے تحفظ کو اپنی ذات اور قوم پر ترجیح دینا چاہٸے ۔ مولانا نے بہت صاف لفظوں میں حکومت اور انتظامیہ کو مخاطب کرتے ہوٸے کہا کہ مسلمان تو ہمیشہ سے ہی یہی کہتا آرہا ہے کہ ہم عدالت کے فیصلے کو مانیں گے لیکن دوسرے مذاہب کی وہ شدت پسند جماعتیں جو آج تک آگ اگل رہی ہیں اور ہر حال میں مندر وہیں بناٸیں گے کا مالا جپتی پھر رہی ہیں کیا وہ بھی ہماری طرف آگے بڑھ کر عدالت کے ہر فیصلے کو مانتے ہوٸے ہمیں گلے لگانے کو تیار ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں سے بہتر اس ملک کی وفاداری اور یہاں کے قوانین کی پابندی کی مثال کون پیش کرسکتا ہے ؟

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker