ہندوستان

بابری مسجد ملکیت مقدمہ کا حتمی فیصلہ :متنازعہ زمین مندر کے لیے دی جائے، دوسرے مقام پر مسلم فریق کو پانچ ایکڑ زمین مسجد کے لیے دی جائے گی : سپریم کورٹ

1949 تک بابری مسجد میں نمازہوتی رہی ہے اور بابری مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی:سپریم کورٹ

نئی دہلی:٩ نومبر – سپریم کورٹ نے اپنے انتہائی اہم اور تاریخی فیصلہ میں کہا کہ مسلم فریق یعنی سنی وقف بورڈ کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایودھیا کی متنازعہ اراضی ہندوؤں کو دی جائے گی، سپریم کورٹ نے شیعہ وقف بورڈ اور نرموہی اکھاڑا کے دعوی کو سرے سے خارج کردیا، چیف جسٹس رنجن گگوئی نے کہا کہ سنی وقف بورڈ کو دوسری جگہ پانچ ایکڑ پر مشتمل زمین الاٹ کی جائے گی اور اس کے لیے مرکزی حکومت کو تین ماہ کے اندر زمین دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ متنازعہ زمین ہندو فریق کو دی جانے کی بات فیصلے میں کہی گئی ہے اور اس سے متعلق کچھ احکامات حکومت کو جاری کیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین ہندوؤں کو دی جائے گی اور اس کے لیے ایک ٹرسٹ کا قیام کیا جائے۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ فی الحال اس متنازعہ زمین کو حکومت اپنے قبضے میں لے گی اور دی گئی ہدایت کے مطابق آگے کی کارروائی کرے گی۔ البتہ سپریم کورٹ نے اس بات کو مانا ہے کہ 1949 تک بابری مسجد میں نمازہوتی رہی ہے، اور بابری مسجد مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی-سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ تین سے چار مہینے میں ایک ٹرسٹ بنائے جس کے حوالے متنازعہ زمین کریں؛ تاکہ مندر کی تعمیر ہوسکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker