ہندوستان

بابری مسجد حق ملکیت پر سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول مگر توقع کے خلاف، مسجد بنانے کے لیے دوسری جگہ دینا عجیب و غریب فیصلہ : محمد سعید نوری

 

ممبئی۔ ۹؍نومبر: ملک بھر میں سب سے زیادہ تنازع کی صورت میں رہنے والا موضوع آخر کار اپنے انجام کو پہونچا جب امیدوں کے برعکس حقائق و شواہد سے کوسوں دور بابری مسجد حق ملکیت پر آج سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا جس میں عدالت عظمیٰ سے وابستہ پانچ ججوں کی ٹیم نے آج صدیوں پرانی بابری مسجد کی جگہ رام للا کو دے دیا اور مرکز کے زیر انتظام ٹرسٹ کی تشکیل کے ساتھ رام مندر بنانے کا راستہ صاف کردیا عنقریب اپنے عہدے سے ریٹائر چیف جسٹس گگوئ نے جیسے ہی اپنا فیصلہ سنایا ، مسلم حلقوں میں صف ماتم سی بجھ گئی اور چاروں طرف سے مسلم تنظیموں نے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی اپیل شروع کردی کچھ تنظیموں نے تو پہلے ہی اپنے موقف کا اظہار کردیا تھا کہ فیصلہ جو بھی آئے ہم اسے قبول کریں گے انہیں تنظیموں میں سر فہرست رضا اکیڈمی نے بھی ملک کے مسلمانوں سے امن و شانتی قائم رکھنے کی اپیل کو مضبوطی کے ساتھ دہرانا شروع کردیا ۔ رضا اکیڈمی کے سربراہ محمد سعید نوری نے بابری مسجد ملکیت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نمدیدہ آنکھوں سے کہا کہ ملک کی سالمیت کے لئے ہم ہر حال میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کریں گے مگر جس طرح سے یہ فیصلہ آیا ہے توقع کے بالکل برعکس ہے آپ نے مزید کہا کہ جب محترم ججز حضرات نے خود ہی اس کا اعتراف کیا ہے بابری مسجد میں نماز پڑھی جاتی رہی ہے مزید اس جگہ پر مسلم فریق کا قبضہ ہمیشہ سے رہا ہے پھر کس طرح سے مسجد کی جگہ کو رام جنم بھومی کو دے دیا گیا ہے ۔ شروع میں بابری مسجد معاملہ پر سپریم کورٹ میں فریق بننے کی کوشش میں مصروف رہنے والی تنظیم رضا اکیڈمی کے جنرل سکریٹری محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد ا ب صوتحال یہ پیدا ہوجائیگی کہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو شہید کرو بدلے میں انہیں جگہ دیدو یہ تو اقلیتی طبقے بالخصوص مسلمانوں کے لیے پریشان کن ماحول قائم کرنے کی کوشش کہی جاسکتی ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ بابری مسجد کی شہادت پر تقریباً دونوں طرف سے تین ہزار سے زائد لوگ مارے گئے عورتوں سے ان کے سہاگ چھین لئے بچوں کو یتیم کردیا گیا بدلے میں آج ان سے ان کی جائے عبادت گاہ بھی چھین لی گئ یہ بہت ہی افسوس ناک ہے ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ سنتے ہی نوری صاحب نے کہا کہ ہم کسی بھی حال میں ملک کی جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتےعدلیہ کا فیصلہ جوبھی ہو ہم قانونی طور پر تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کریں گےمگر شرعی طور پر اس جگہ کی حیثیت بطور مسجد قیامت تک باقی رہے گی ۔ آخر انہوں نے اپیل کے طور پر سبھی مسلمانوں سے گزارش کی کہ وہ اس فیصلے سے مایوس تو ہیں مگر ہم مایوسی کے عالم میں کوئ ایسا قدم نہ اٹھائیں جس کا فائدہ شر پسند عناصر اٹھائیں ۔ آپ نے برادران وطن سے بھی اپیل کی وہ بظاہر مسجد کی جگہ قبضیانے میں تو کامیاب ہوگئے ہیں لیکن خوشی میں مسلم بھائیوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچانے کی کوشش نہ کریں ہم بھی بھارت کے شہری ہیں ہمارے بھی جذبات ہیں جس کی وجہ سے ملک میں امن و سکون قائم رہے ۔ انجمن برکات رضا کے مولانا سید ہاشمی میاں رضوی نے بھی بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر کریں اللّٰہ تعالیٰ بہتر بدلہ عطا فرمائے گا آپ نے بھی ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker