ہندوستان

مولانا ابوالکلام آزاد کے قومی اتحاد کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت : امارت شرعیہ

 

مولانا آزاد کی یوم ولادت کے موقع سے امارت شرعیہ میں عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد

پٹنہ۔ ۱۱؍نومبر: (عادل فریدی) امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے زیر اہتمام امام الہند حضرت مولانا ابو الکلام آزاد کی یوم ولادت کی مناسبت سے ان کی ہمہ جہت دینی و علمی شخصیت ، فکر وفن ، خدمات اور کارناموںکو نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب دا مت برکاتہم امیر شریعت بہار ، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی ہدایت پر امارت شرعیہ کے کانفرنس ہال میں ایک بڑا نمائندہ اجتماع ہو ا، جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے شرکت کی ، انہوں نے فرمایا کہ مولانا آزاد مختلف قوموں کے درمیان اتحاداور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے متحدہ قومیت کا پیغام دیا ، جس کو انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک زندگی سے مستفاد کرتے ہوئے کہا کہ مدینے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے مختلف قبائل کے درمیان اتحاد اورمسلمانوں کے درمیان آپس میں اتحاد کے ذریعہ وہاں کے باشندوںکو ایک دھاگے میں پرویا جس کی مثال میثاق مدینہ اور مواخاۃ کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ، مولانا آزاد نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے اس طرز عمل اور اتحاد امت واتحاد ملت کے پیغام کو گذشتہ صدی میں جس مضبوطی کے ساتھ عام کیا ضرورت ہے کہ آج بھی آپ کے اس اتحاد قومیت کے تصو ر کو عام کیا جائے اور برادران وطن کے درمیان جو فاصلے ہیں انہیں کم کیا جائے۔انہوں نے مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی تحریر کردہ کتاب ’’امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد؛کئی دماغوں کا ایک انساں‘‘ کا اجراء کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت کی زبان بہت شیریں ، سلیس اورجاذب ہو تی ہے ، ان کے ادبی ذوق اور سخنوارانہ مہارت سے سارے ادباء متاثر ہیں ، مولانانے فرمایا کہ اس وقت یہاں کے باشندے جس نازک دور سے گذر رہے ہیں ، ضرورت ہے کہ مولانا آزاد کے افکار و نظریات کو عام کیا جائے۔صدارتی خطاب کرتے ہوئے قائم مقام ناظم امارت شرعیہ مولاناشبلی القاسمی صاحب نے کہا کہ مولانا نے جن نازک حالات میں ملت کی عملی رہنمائی کی ،آج بھی امت انہیں حالات سے دو چار ہے ، ضرورت ہے کہ مولانا نے مذہبی اور سیاسی میدان میں ملت کی جس طرح رہنمائی کی ہے ، اس کو مشعل راہ بنا یا جائے۔مولانا آزادنے ملت کی تعلیمی ترقی کے لیے بھی مختلف جہت سے منصوبے بنائے ، ان منصوبوں کو بھی بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ، اسی ضرورت کے پیش نظر مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب نے مولانا ابو الکلام آزاد کی مذہبی بصیرت اور سیاسی شعور کو قوت بخشنے کے لیے یہ اجتماع طلب کیا ، تاکہ نئی نسل ان کے افکار و نظریات کو چراغ راہ بنائے۔ مولانا سہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ نے کہا کہ ہندوستا ن کی تحریک آزادی کی تاریخ مولانا آزاد کے تذکرے کے بغیر ادھوری سمجھی جائے گی ،انہوں نے تحریک آزادی میں جو قربانیاں دیں وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے ۔ مولانا کا فکرامارت سے بڑا گہرا تعلق تھا ،ا ور انہیں روابط کی بنیاد پران کی ملاقات مولانا سجادؒ سے ہوئی اور قیام امارت پر تبادلہ خیال ہوا۔مولانا احمد حسین قاسمی معاون ناظم نے کہا کہ مولانا آزاد کی فکر میں آفاقیت تھی ، اس لیے وہ آزادی کی تمام جہتوں کے علم بردار تھے اور اسکے لیے انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو قربان کر دیا تھا۔ ا س موقع پر امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی تحریر ’’امام الہند حضرت مولانا ابو الکلام آزاد؛ کئی دماغوں کاایک انساں‘‘ اور نسیمہ خاتون ریسرچ اسکالر رانچی یونیورسٹی کی تحریر کرد ہ کتاب’’مولانا آزاد ، قومیت اور مذہبی منافرت‘‘ کا رسم اجراء بھی اکابر علماء و دانشوران کے ہاتھوں ہوا۔اس اجلاس کی نظامت مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ نے بہت خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی ، انہوں نے تمہیدی کلمات میں مولانا ابو الکلام آزاد کی حیات وخدمات اورکارناموں پر سیر حاصل گفتگو کی اور مندوبین کا تعارف بھی کرایا ، مولانا ابوشحمہ صاحب کی تلاوت کلام پا ک سے کانفرنس کا آغاز ہوا، مولانامشہود عالم صاحب نے بارگاہ رسالت میںگلہائے عقیدت پیش کیا، جب کہ مولاناشمیم اکرم رحمانی صاحب نے مولانا آزاد پر رضا کوثری کی نظم پیش کی ۔ قاضی عبد الجلیل قاسمی قاضی شریعت امارت شرعیہ کی دعا پر اجلاس اختتام پذیرہوا ، اجلاس کی تیاری کے کنوینر مولانا سہیل اختر صاحب نے اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف جہت سے کوششیں کیں ، ان کے ساتھ ، مولانا انظار عالم قاسمی ، مولانا ارشد رحمانی ، مولانا مفتی سعیدالرحمن قاسمی، جناب سمیع الحق صاحب ، مولانا رضوان احمد ندوی، مولانا مفتی احتکام الحق قاسمی، مولانا مرسل صاحب، مولانا منہاج عالم ندوی، مولانا احمد صاحب سجادی، مولانا مطیع الرحمن صاحب، مولانا مفتی امتیاز صاحب، مولانا مجیب الرحمن صاحب ، مولاناساجد رحمانی ، مولانا راشد العزیری ندوی اور دیگر کارکنان امارت شرعیہ بھی شریک کار رہے ، ا س اجلاس میں جناب جاوید اقبال ایڈووکیٹ، کوثر خان ، مرزا نصیر احمد بیگ، حاجی سلام الحق، انوار الہدیٰ ، عتیق احمد ، شیث احمد ، جناب شمائل احمد صاحب صدر پرائیوٹ اسکول ایسو سی ایشن بہار، جناب نجیب الرحمن ململی لکھنؤ کے علاوہ شہر پٹنہ اور اسکے اطراف کے ممتاز علماء کرام عمائدین قوم و ملت اور اصحاب فکرو نظر نے شرکت کی۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker