ہندوستان

سپریم کورٹ کا فیصلہ ہماری توقع کے مطابق نہیں تھا : مولانا حسن الہاشمی

 

دیوبند۔۱۱؍ اکتوبر(رضوان سلمانی)عالمی روحانی تحریک کے سربراہ مولانا حسن الہاشمی نے کہا کہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ توقع کے مطابق نہیں تھا لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ بابری مسجد بابر نے نہیں بنوائی تھی ، یہ اس شخص کی بنوائی ہوئی تھی جو بابر سے عقیدت رکھتا تھا، اس کانام میر باقی تھا۔ جاری بیان میں مولانا حسن الہاشمی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد رام مندر توڑ کر نہیں بنائی گئی تھی، تقریباً پانچ سو پہلے بنائی گئی مسجد نزاع کا شکار انگریزوں کے دور میں ہوئی اورملک کی آزادی کے بعد 1949میں جب اس مسجد میں ازراہ سازش مورتیاں رکھوائی گئیں تب یہ مسجد ہندو مسلم تفرقہ کی وجہ بنی۔ مولانا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں یہ تسلیم کیا کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی تھی ،اس فیصلے سے اس معنیٰ کر مسلمانوں کی طرف سے ایک بڑے الزام کی تلافی ہوئی ہے۔ مولانا نے کہا کہ سپریم کورٹ نے رام مندر کی تعمیر کی اجازت دیتے ہوئے پانچ ایکڑ زمین بابری مسجد کے لئے دیئے جانے کا فیصلہ دیا ۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے نزدیک رام مندر قابل احترام ہے اور شری رام کو ہم ایک اوتار کا درجہ دیتے ہیں ، اگر سرکار نے فرقہ پرستی سے بالاتر ہوکر ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین پر بابری مسجد قائم کرنے کی اجازت دیدی تو پھر مسلمانوں کے آنسو کسی درجہ پونچھے جاسکتے ہیں ورنہ ایودھیا کے علاوہ کسی اور جگہ اور کوئی بھی مسجد قائم کرنے کے لئے مسلمان کسی زمین کے محتاج نہیں ہیں۔ مولانا نے کہاکہ ایودھیا صرف ہندوئوں کے لئے مقدس مقام نہیں ہے بلکہ قدیم تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ ایودھیا سے مسلمانوں کا بھی مذہبی رشتہ ہے اس لئے ایودھیا میں دونوں قوموں کے جذبات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دونوں قوموں کی مذہبی عمارات کو اہمیت دینی چاہئے ۔ مولانا نے کہا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ رام مندر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بابری مسجد کی تعمیر کی اجازت بھی دے، ورنہ پھر وہ یہ بات یاد رکھے کہ یہ مدعا کبھی ختم نہیں ہوگا اور ہندوستان کے مسلمان ہمیشہ ایک کرب میں مبتلا رہیں گے، سرکار چند مسلم لیڈروں کو اپنے ساتھ لگاکر ہندوستان کے مسلمانوں کے دلوں کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی ۔ مولانا نے کہا کہ مسرت کی بات یہ ہے کہ رام مندر کا فیصلہ آنے پر ہندوستان کے مسلمانوں نے اور دینی مدارس کے طلبہ نے صبر وضبط کا مظاہرہ کیا اورسپریم کورٹ کے فیصلے پر مطمئن نہ ہوکر بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا اور قابل افسوس بات یہ کہ صرف مسلم علاقوں میں پولیس تعینات کی گئی اور سرکار کی طرف سے یہ تأثر دیا گیا کہ فساد مسلم علاقوں ہی میں ممکن ہے۔ مولانا نے کہا کہ بابری مسجد مقدمہ میں وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے جس اخلاص کا ثبوت دیا اس کو تاریخ ملت کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker