ہندوستان

مہاراشٹر بحران : صدر راج پر صدر جمہوریہ کی مہر، شیوسینا کی درخواست پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ممکن، مودی شاہ کے دباؤ میں صدر راج کا فیصلہ، اب خرید و فروخت ہوگی

 

دگ وجے سنگھ نے کہا،سپریم کورٹ نے اجودھیامعاملے میں جن واقعات کوجرم ماناہے،جلدفیصلہ ہو

چٹ منگنی ،پٹ بیاہ نہیں ہوتا،رجنی پاٹل نے گورنرپرسوال اٹھائے

گورنر نے آئینی عمل کا مذاق بنایا،پارٹیوں کومہلت دینے میں تفریق کیوں؟

کانگریس کومدعوکیوں نہیں کیاگیا؟رندیپ سرجیوالانے گورنرپرسیاست کاالزام لگایا

بی جے پی کو 48 گھنٹے دیے، شیوسینا کو صرف 24 گھنٹے

شاہی محل نے بی جے پی کے اشارے پرکام کیا، گورنر کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل

نئی دہلی ۔۱۲؍نومبر: تین ہفتوں سے جاری ڈرامے کے بعدمہاراشٹر میں صدر راج نافذہوگیاہے۔مرکزی کابینہ اور مہاراشٹر کے گورنر کی سفارش کے بعد صدر رام ناتھ کووند نے صدرراج کی منظوری دی ہے۔دل چسپ بات یہ ہے کہ کل شیوسیناکومطلوبہ وقت نہیں دیاگیااوراین سی پی کی مہلت ختم ہونے سے پہلے ہی صدرراج کی سفارش کر دی گئی۔اس سے اہم بات یہ کہ جب گورنرساری پارٹیوں کوالگ الگ مدعوکررہے تھے توکانگریس کومدعوتک نہیں کیاگیا،اسی لیے سیاسی پارٹیاں گورنرہائوس پربی جے پی کے دبائوپرکام کرنے کاالزام لگارہی ہیں۔گورنرکی سفارش کے بعدفوراََکابینہ کی میٹنگ بلائی گئی اورآناََفاناََمہربھی لگ گئی جس کے بعدرسمی طورپرصدرجمہوریہ کے اسٹمپ لگادینے کے بعدباضابطہ صدرراج نافذکردیاگیا۔اس دوران شیوسینا نے حکومت کی تشکیل کے لیے اور وقت دیئے جانے سے مہاراشٹر کے گورنرکے انکار کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایاہے۔ شیوسینا کی درخواست پر بدھ کو سماعت ہو سکتی ہے۔شیوسیناکی درخواست پر سپریم کورٹ میں آج سماعت نہیں ہوگی۔کل صبح درخواست کونوٹس میں لیں گے، جلد سماعت کے لیے۔ شیوسینا نے درخواست میں کہا ہے کہ گورنر نے ہمیں دوسری پارٹیوں سے حمایت کاخط حاصل کرنے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا۔ اکثریت کا فیصلہ اسمبلی میں ہوتا ہے، شاہی محل میں نہیں۔شاہی محل بی جے پی کے اشارے پر کام کرتا ہوا نظر آرہا ہے۔مہاراشٹر میں صدر راج نافذ ہونے پر کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ دگ وجے سنگھ نے کہاہے کہ حکومت کی تشکیل کولے کر مہاراشٹر کے گورنر نے جو عمل شروع کیاتھا، وہ صحیح تھا۔تھرڈ لارجیسٹ پارٹی کا وقت آج رات 8 بجے ختم ہونا تھا، لیکن گورنرنے پہلے ہی لگا صدر راج کے لیے خط لکھ دیا، جوکہ غلط ہے۔اس فیصلے سے ایسا لگتا ہے کہ یہ وزیر اعظم اور وزیرداخلہ کے دباؤ میں گورنر کی طرف سے یہ فیصلہ لیاگیاہے جوکہ مکمل طورپرغلط ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ، بی جے پی کے پاس بہت پیسہ ہے، اب وہاں خریداری فروخت شروع ہوگی۔دگ وجے سنگھ نے کہاہے شیوسینا کے ساتھ بی جے پی نے وعدہ خلافی کی ہے۔ پہلے 50-50 کے فارمولے پر اتحاد طے ہوا تھا، اس معاملے میں امت شاہ کچھ نہیں بول رہے ہیں۔ شیوسینااورکانگریس پارٹی کے نظریات نہیں ملتے ہیں، لیکن اب شیوسینا میں تبدیلی آ رہی ہے۔ایودھیا تنازعہ آئے فیصلے پرممبرپارلیمنٹ نے کہا کہ، کانگریس پارٹی ہمیشہ یہ کہتی رہی ہے کہ اس حساس فیصلے کو عدالت کے فیصلے پر ہی چھوڑنا چاہیے۔کانگریس عدالت کے فیصلے کا احترام کرتی ہے۔سال 1949 اور 1992 کہ واقعہ کو کورٹ نے جرم ماناہے۔ اس پربھی فیصلہ جلدی ہو جانا چاہیے۔مہاراشٹر کانگریس کی سینئر لیڈر رجنی پاٹل نے کہا کہ صدر راج لگنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ہمارے تین لیڈر ممبئی گئے ہیں، دودن میں فیصلہ ہو جائے گا۔ اہم فیصلہ ہے ۔لہٰذاوقت لگ رہا ہے۔چٹ منگنی پٹ بیاہ کی طرز پر فیصلہ نہیں ہو سکتاہے۔شوسینا نے گورنر کے فیصلے پر سوال کھڑے کیے ہیں۔شیوسینا لیڈر پرینکا چترویدی نے کہا ہے کہ گورنر این سی پی کو دیے گئے وقت سے پہلے صدر راج کی سفارش کس طرح کر سکتے ہیں؟مہاراشٹر میں گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کی جانب سے صدر راج کی سفارش کے بعد کانگریس نے کوشیاری پر نشانہ لگایاہے۔ پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجیوالا نے گورنر کوشیاری پرانصاف کی خلاف ورزی اور آئینی عمل کا مذاق بنانے کا الزام لگایاہے۔سرجیوالا نے گورنر پر این سی پی، شیو سینا اور بی جے پی کو حکومت بنانے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کے لیے غیرمساوی’ وقت دینے کا الزام بھی لگایا۔سرجیوالا نے ٹویٹ کرکے کہاہے کہ گورنر کوشیاری نے صدر راج کے نفاذ کی سفارش کے ساتھ ہی انہوں نے آئینی عمل کا مذاق بنا دیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ آئینی منصوبہ بندی کی چار سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔سرجیوالا نے کہا کہ اگر کسی ایک پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہے تو گورنر کو سب سے پہلے انتخابات کے پہلے بنے اتحادیعنی بی جے پی-شیوسینا کو حکومت بنانے کے لیے رابطہ کرناچاہیے تھا۔ اس کے بعد دوسری سب سے بڑی اتحادی جوکہ کانگریس این سی پی کا تھا، اس کی دعوت دینی چاہیے تھی۔ رندیپ سرجیوالا نے سوال اٹھایا کہ اگر گورنر سیاسی پارٹیوں کو الگ الگ مدعوکر رہے تھے تو انہوں نے کانگریس کو حکومت بنانے کی دعوت کیوں نہیں دی۔سرجیوالانے پوچھا کہ سیاسی پارٹیوں کومناسب وقت کیوں نہیںدیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو 48 گھنٹے، شیوسینا کو 24 گھنٹے ملے اور این سی پی کو 24 گھنٹے بھی نہیں دیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گورنر کا یہ قدم سیاست سے حوصلہ افزاہے۔شیوسینا نے سپریم کورٹ میں گورنر کی طرف مہاراشٹرمیں صدر راج لگانے کی سفارش کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیاہے۔شیوسینا نے کہاہے کہ اس نے این سی پی اورکانگریس سے حمایت خط حاصل کرنے کے لیے تین دن کا وقت مانگا تھا لیکن گورنر نے مسترد کر دیا۔شیوسینا کا کہنا ہے کہ گورنر نے بی جے پی کو یہ بتانے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا کہ کیا وہ حکومت بنا سکتی ہے، لیکن حمایت خط حاصل کرنے کے لیے شیوسیناکوصرف 24 گھنٹے کا وقت دیا۔شیوسینا نے الزام لگایا کہ گورنر نے حکومت بنانے کے مواقع سے انکار کرنے کے لیے بی جے پی کے اشارے پر جلدی میں کام کیا۔شوسینا نے عرضی میں کہا ہے کہ گورنر نے اس معاملے میں فاسٹ فاروڈ طریقے سے کام کیاہے۔گورنر کا شیوسینا کو وقت نہ دینے کا 11 نومبر کا فیصلہ غیرآئینی ہے،غیر قانونی اور مساوات کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔شیوسینا نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت بنانے کے لیے اسے واجب وقت دینے کی ہدایت جاری کرے۔غور طلب ہے کہ مہاراشٹر میں صدر راج کے لیے گورنر کی سفارش کو مرکزی کابینہ نے منظوری دے دی ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم کے وزیر دورے سے پہلے ہوئی کابینہ میٹنگ میں مہاراشٹر کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا اور گورنر کی سفارش کو مان لیاگیا۔ حالانکہ اس سے پہلے جب این سی پی لیڈر نواب ملک سے سوال کیا گیا کہ ریاست میں صدر راج لگائے جانے کی سفارش کی گئی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ شاہی محل سے اس پر ظاہرکیاگیا ہے کہ ایسی کوئی سفارش نہیں کی گئی ہے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker