مضامین ومقالات

فرضی پروپیگنڈہ مندر توڑ کر بابری مسجد تعمیر کی گئی

 

طہ جون پوری

ایڈیٹر بصیرت آن لائن انگریزی

jaunpuri786@gmail.com

بھارت یا جمہوریہ ہندوستان جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے، جو مشرقی اور شمالی نصف کرہ ارض پر واقع ہے۔ ہندوستان کی سرحدیں؛ بحرعرب، بنگال کی کھاڑی، بڑی خلیج منار، اور بحر ہند سے ملتی ہیں ہیں۔ اسی طریقے سے اس کی سرحدیں، ممالک کے حساب سے پاکستان، چائنا، نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش، اور برما (میانمار) سے ملتی ہیں۔ اسی بھارت کے اندر یہ بات پھیلائی گئی تھی،کہ بابری مسجد بابر نے رام کی مندر توڑ کر تعمیر کیا تھا اور رام کی پیدائش یہیں واقع ہوئی تھی۔ واضح ہو کہ بابر برصغیر ہند میں سلطنت مغل کا بانی ہے۔ (14 فروری 1483 تا 26 دسمبر 1530)۔ نیز رام کو ہندوازم میں بڑے خدا کے طور پر جانا جاتا ہے، جنہوں نے سیتا سے شادی کی تھی۔

 

زمانے سے اس پروپیگنڈے کو پھیلایا جاتا رہا اور ذرائع ابلاغ کے توسط سے اس بات کو یقینی بنایا گیا،کہ بابر نے مندر کو ڈھادیا تھا اور پھر مسجد کو تعمیر کیا تھا۔

 

اس فرضی پروپیگنڈے کی وجہ سے سے، لاکھوں برادران وطن کو گمراہ کیا گیا۔ سیاسی درندوں اور نفرت کے پجاریوں نے، ان کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اس کا بھیانک نتیجہ یہ ہوا، کہ مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں، طعنہ دیا گیا، اور ان کے آباؤ اجداد کو گالیاں دی گئیں۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا، کہ وہ ظالم تھے، انہوں نے دیگر مذاہب کا کوئی احترام نہیں کیا۔ چناں چہ یہی وجہ تھی، کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد جسمانی اور ذہنی اعتبار سے، بہت سے موقع پرستائی گئی کی۔ اس فرضی پروپیگنڈے نے لاکھوں لوگوں کی ذہن سازی میں ایک بڑا کردار ادا کیا اور ان کے جذبات کو کھیل کر مسلمانوں کے خلاف اور بہ طورِ خاص بابری مسجد کے سلسلے میں نفرت کا ماحول پیدا کرنے میں اہم ذریعہ ثابت ہوا۔ یہ چیز اس وقت تک چلتی رہی، یہاں تک کہ 6 دسمبر 1992 کا دن آیا، جو ہندوستانی جمہوریت کا ایک سیاہ دن ہے، جب بابری مسجد کو دن دہاڑے بے رحمی سے شہید کر دیا، گیا۔ بابری مسجد کو شہید کرنے والے بھگوا جتھے کی قیادت بہت سے سیاسی قائدین نے کی، جس میں ایک نام سرفہرست لال کرشن اڈوانی کا ہے، جو 8/نومبر 1927 کو پیدا ہوئے اور ساتویں نائب وزیراعظم کے طور پر انہوں نے اس ملک کی خدمت کو انجام دیا۔ وہ 2002 سے 2004 تک اٹل بہاری واجپائی حکومت میں نائب وزیراعظم رہے۔ اس جتھے میں ایک معروف تنظیم وی ایچ پی بھی رہی، جسے وشو ہندوپریشد بھی کہا جاتا ہے۔ جو شدت پسند اور دائیں بازو کی ہندو تنظیم ہے، اور ہندوتوا نظریات کی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ اور 1964 میں مادھو سداشیو گوولواکر (ولادت 19/فروری 1906رام ٹک- وفات 5/ جون 1976 ناگ پور،) نے اس کی بنیاد ڈالی ہے۔ ایم ایس گولوالکر دوسرے سرسنگھ چالک رہے اور یہ راشٹریہ سویم سنگھ کے نظریہ ساز بھی مانے جاتے ہیں۔ ان کی ایک مشہورِ کتاب ( خیالات کا مجموعہ ہے)

بابری مسجد کی تعمیر مئی 1528/29 میں جنرل میر باقی نے نے بابر کے حکم پر کی تھی۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد پورے ملک کے اندر فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا اور جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کی جان شہید ہوگئیں۔ لاکھوں کروڑوں کی املاک تباہ ہوگئیں تھی۔ لیکن اب یہ بات بالکل ثابت ہوگئی ہے، جب کہ پہلے بھی یہی حقیقت تھی، کہ مندر کو توڑا نہیں گیا تھا۔ آرکیولوجیکل سائنس آف انڈیا بھی اس بات کو ثابت نہیں کر پائی ہے، کہ مسجد کو تعمیر کرنے کے لیے مندر کو توڑا گیا تھا اور اس بات کو ہندوستان کی عدالت عظمیٰ نے بھی (09/11/2019) کو تسلیم کیا ہے۔ لہذا اب یہ بات بلا شک و شبہ کہی جاسکتی ہے اور پچھلے زمانے میں بھی کہی جاتی رہی، کہ یہ محض ایک فرضی پروپیگنڈا تھا، کہ جس کے ذریعے مسلمانوں کو یا ان کے آباؤ اجداد کو بدنام کیا گیا، مسلمانوں کے تئیں دلوں میں نفرت پیدا کی گئی۔ لیکن اب دنیا نے اس حقیقت کو تسلیم کر ہی لیا ہے، اور اس فرضی پروپیگنڈے سے بھی واقف ہو گئی ہے، کہ اس کا مقصد کیا تھا۔ اب مسلمانوں کو مزید طاقت اور قوت سے، ہر جگہ، خاص طور سے ٹی وی چینلز پر کہنا چاہیے، اور بتانا چاہیے، کہ کون مجرم تھا اور ہے؟ کون منصف تھا اور ہے؟ تاکہ بھولے بھالے اور سادہ لوح لوگ اب ان سے بچیں اور ان کی حقیقت سے واقف ہوں۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker