ہندوستان

بابری مسجد فیصلے پر نظرثانی درخواست دائر کی جائے، پانچ ایکڑ زمین کی پیشکش کو مسترد کیا جائے : ایس ڈی پی آئی

 

نئی دہلی ۔۱۴؍نومبر: ( پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کے موقف کا بابری مسجد کے حالیہ سپریم کورٹ فیصلے پراظہارکرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد، قومی جنرل سکریٹری محمد شفیع، قومی سکریٹر یان محترمہ یاسمین فاروقی،ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی اور سیتا رام کوہیوال نے کہا کہ بابری مسجد کیس کے فیصلے کے توقع میں میڈیا کے ذریعے متعصبانہ اقدامات اور تیاریوں نے ملک کے بہت سے حصوں میں خوف و ہراس پھیلایا گیا اور 9نومبر ، بروز ہفتہ غیر متو قع طور پر فیصلہ سنایا گیا۔ خوف زدہ ماحول کئی دن تک جاری رہا کیونکہ یہ انتباہ کیا گیا تھا کہ اگر مسلمان بابری مسجد سے اپنا دعوی ترک نہیں کرتے ہیں تو ہندوستان کو شام جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ صحت مند جمہوریت اور کثیر الثقافتی کیلئے خوف ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ ان حالات میں ، عام طور پر سپریم کورٹ میں جس دن چھٹی رہتی ہے اس دن یہ فیصلہ سنایا گیا ۔ متعدد ماہر قانون ، ججس اور دانشوروں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ ایس ڈی پی آئی نے بھی ملک کے ماضی ، حال اور مستقبل کو مدنظر رکھ کر بابری مسجد کے معاملے کی عوامی اہمیت کے پیش نظر غور و فکر کیا ہے اور اپنے موقف واضح کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے پانچ رکنی ججس بنچ کے ذریعے مندرجہ ذیل انکشافات کئے ہیں۔ 1)۔سن 1528میںبابری مسجد کی تعمیر کیلئے کوئی مندر مسمار نہیں کیا گیا تھا ۔ 2)۔بابری مسجد کے مرکزی گنبد کے نیچے بتوں کا رکھنا ایک غیر قانونی فعل تھا ، 22/23دسمبر1949کی درمیانی رات کو یہ کام کیا گیا تھا۔ 3)۔ 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کا انہدام کیا جانا غلط اور غیر قانونی تھا۔ 4)۔ عدالت کو مذہبی عقیدے میں مداخلت نہیں کرنا چایئے۔چاہے وہ دانشتہ ہو یا غیر دانشتہ ۔ یہ حقیقت ہے کہ دسمبر 1949یا دسمبر 1992میں انجام دیئے گئے سنگین جرائم کیلئے آج تک کسی ایک فرد کو کو بھی سزا نہیں دی گئی ہے ۔ معروف مجرمان اس جرم میں ان کے کردار کے تعلق سے بڑے فخر سے بیانات دیتے رہے ہیں اور انہیں اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی بھی اجازت دی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ ان سوالات کی وضاحت کرنے کے بجائے اپنے 9نومبر 2019کو نتیجہ خیز فیصلہ دینے میں ناکام رہی ہے ۔ماہر قانون ، ججوں اور سابق ججوں نے فیصلے کی خود تضادات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ عدالت کا فیصلہ غیر مساوی شہریت کی حمایت کرتا ہے اور ان تمام عناصر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جنہوں نے سیکولرازم ، جمہورت اور آئین کے نظام کو مستقل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس سمیت اہم سیاسی پارٹیاں بھی موقع پر آواز اٹھانے میں ناکام رہی ہیں۔ وہ گولوالکر کی تھیوری کے اثرو رسوخ کے زد میں آگئیں ہیں کہ ہندوبرادری کے مقابلے میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کو مساوی حق حاصل نہیں ہے ۔ حیرت کی بات ہے کہ اے ایس آئی کی اہم رپورٹ جن پر تمام مجاز افسران نے دستخط کیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ مسجد کے نیچے کوئی مندر نہیں ملا تھا۔ اس رپورٹ کو ایک طرف رکھ کر بغیر دستخط والی رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ مسجد کے نیچے جو ڈھانچہ تھا وہ اسلامی نظر نہیں آتا اس کی بنیاد پر فیصلہ دیا گیا ہے ۔ یہاں اس بات کی ذکر بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کا مقدمہ اگر مسترد ہوجاتا ہے تو انہیں ایک اراضی بھی نہیں ملنی چاہئے ۔ اگر پانچ ایکڑ اراضی فراہم کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو معاوضہ دیا گیا ہے اور بغیر کسی زخم کے معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوتوا کو خوش کرنے اور راضی کرنے کیلئے یہ فیصلہ سنایا گیا ہے ۔ عدالت عظمی نے اس مسئلے میں مبہم اور پیچیدہ نکات کو ابھی باقی رکھا ہے ۔عدالت نے ایودھیا میں مسجد کی تعمیر کیلئے پانچ ایکڑ زمین الاٹ کرنے کی ہدایت دی ہے اس کو رد کیا جانا چاہئے ۔ ان حالات اور حقائق کی بنیاد پر بابری مسجد کیس میںمسلمانوں کی جانب سے لڑنے والے فریقوں سے ایس ڈی پی آئی اپیل کرتی ہے کہ بابری مسجد کے تنازعہ کو تاریخی حقائق کے ساتھ اور مناسب طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے نظر ثانی درخواست دائرکرنے کوترجیح دیں۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker