مضامین ومقالات

حیرت میں ڈال دینے والا فیصلہ

وصیل خان ( ممبئی اردو نیوز )
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ سے ایک طرف جہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں خوف و ہراس اور مایوسی کی لہر پھیل گئی ہے وہیںبی جے پی اور دیگر فاشسٹ جماعتوں کے حوصلے مزید بلند ہوگئے ہیں ۔ہندوستان جیسے گنگا جمنی تہذیب کے حامل ملک میں یہاں کے جمہوری ڈھانچے میں پہلا شگاف اس وقت لگا تھا جب دن دہاڑے بابری مسجد منہدم کردی گئی تھی اور دوسرا شگاف اس وقت لگا جب ۲۷؍سال بعد اس کا فیصلہ یکطرفہ طور پر کردیا گیا ۔بابری مسجد آج کی تعمیر نہیں ہے  وہ اپنی جگہ پانچ سو سال سے کھڑی تھی اور وہاں باقاعدہ نمازیں پڑھی جارہی تھیں اور یہ بھی سچ ہے کہ ماضی  بعیدسے ایک طویل عرصے تک اس ضمن میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین نہ کوئی تنازعہ تھا نہ کوئی اختلاف سارے تنازعات انگریزو ں کے دور حکومت میں شروع ہوئے جو بڑھتے بڑھتے اپنی انتہا کو پہنچ گئے پہلے وہاں رات کے اندھیرے میں کچھ مہنتوںنے ایک سازش کے تحت مورتیاں رکھ دیں اور یہ کہنے لگے کہ مسجد کے مرکزی گنبد کے عین نیچے کی جگہ وہ ہے جو رام للا کی جائے پیدائش ہے،اسے ہندوؤں کے حوالے کردینا چاہیئے۔ اس کے بعد آرایس ایس لابی نے سارا معاملہ اپنے  ہاتھ میں لے کر ایسا طوفان اٹھایا جو ۶؍دسمبر ۱۹۹۲ءمیں اس کے انہدام پر ختم ہوا ۔معاملہ نچلی عدالتوں سے ہوتا ہوا ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پہنچا، بالآخر ملک کی عدالت عظمیٰ نے ۹؍نومبر ۲۰۱۹ءمیں اپنا فیصلہ سناکروہاںرام مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا ۔ہمیں عدالت کے فیصلے کا احترام بہر حال کرنا ہے اور کریں گے ،لیکن ہمیں یہ کہنے کا بھی حق ضرور حاصل ہے کہ ہم اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں اور یہ غیراطمینانی  یوں ہی نہیںہےاس کی بہت ساری وجوہات ہیں سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ملک کے ابتر ہوتےحالات کے باوجود ہم یہ دیکھ رہے تھے کہ جہاں ملک کے دیگر ادارے کرپشن اور افراتفری کا شکار ہیں لیکن عدلیہ واحد ایک ایسا ادارہ ہے جس نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی صداقت اور قانون کی پاسداری کی اور عدیم المثال فیصلے دے کر اپنا بھر م قائم رکھا ۔اسی بنیاد پر ہمیں یقین تھا کہ اس حساس ترین مسئلے میں بھی عدلیہ اپنا فیصلہ حقائق اور دلائل کی روشنی میں ہی سنائے گی لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔آج سے یہ یقین بھی پوری طرح متزلزل ہوگیا۔کسی قضیئے کو نمٹانے کیلئے ۲۷؍سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا ،لیکن بہر حال خوشی کی بات یہ ضرور ہے کہ فیصلہ جیسا بھی آیا ،آگیا اور یہ تنازعہ ختم ہوا جو ایک طویل عرصے سے اس مقدمہ کے فریقین کی توانائیاں چوس رہا تھا ۔فیصلہ آنے کے بعد متعدد سیاسی،غیر سیاسی اورقانون کے ماہرین کے مختلف بیانات کا سلسلہ چل پڑا ہے بیشتر بیانات ایسے ہیں جن میں کوئی نئی اور قابل غور بات نہیں کی گئی ہے لیکن کچھ بیانات انتہائی معقول اورحقائق پر مبنی ہیں ۔ ہم یہاں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اشوک کمار گنگولی کا وہ بیان پیش کررہے ہیں جو انہوں نے فیصلے کے فورا ً بعد دیا تھا وہ کہتے ہیںکہ’’ جس طرح کا فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے دیا گیا ہے اس سے ان کے ذہن میں شک و شبہات جنم لے  رہے ہیں نیز اگر اسی طرح کے فیصلے ہوں گے تو ملک میں بے شمار ایسے مذہبی مقامات ہیںجنہیں توڑنا پڑے گا ۔آخر اس فیصلے کے بعد ایک مسلمان کیا سوچے گا اور کیا محسوس کرے گا ۔وہاںصدیوں سے ایک مسجد تھی  جسے منہدم کردیا گیا ۔اب سپریم کورٹ نے وہاں ایک مندر بنانے کی اجازت دے دی ۔یہ اجازت اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ یہ زمین رام للاکے ساتھ منسلک ہے ۔صدیوں پہلے زمین پر کس کا مالکانہ حق تھا اس کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ کرے گی ؟کیا سپریم کورٹ یہ بھول جائے گی کہ جب آئین وجود میں آیا تو وہاں پر مسجد پہلے سے موجود تھی ؟آئین میں دفعات موجود ہیں اور اس کی حفاظت کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ’’ یہ فیصلہ کرنا سپریم کورٹ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ آئین کے وجود میں آنے سے پہلے وہاں کیا موجود تھا ۔ہندوستان میں اس وقت جمہوریت نہیں تھی ،اس وقت وہاں ایک مسجد تھی ،ایک مندر تھا ،بودھ استوپ تھا ،ایک چرچ تھا ۔ اگر ہم اس پر فیصلہ کرنے بیٹھیں گے تو بہت سے مندروں ،مسجدوں اور دیگر تعمیرات کو توڑنا پڑے گا ،یقینا ً ہم افسانوی حقائق کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھ سکتے ۔اقلیتوں نے نسلوں سے دیکھا ہے کہ وہاں ایک مسجد تھی اورمسجد کو توڑ دیا گیااورسپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اب وہاں ایک  مندر تعمیر ہوگا ،اس فیصلے نے میرے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کردیئے ہیں اور آئین و قانون کے طالب علم کی حیثیت سے مجھے اس فیصلے کو قبول کرنے میں دقت محسوس ہورہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ۱۸۵۶۔۵۷
میں شاید نماز پڑھنے کا کوئی ثبوت بھلے نہ ملا ہو لیکن ۱۹۴۹ کے بعد سے یہاں نماز پڑھی گئی ہے جس کا بین ثبوت موجود ہے ۔جب ہمارا آئین معرض وجود میں آیا تو یہاں پر نماز پڑھی جارہی تھی ۔ایک ایسی جگہ جہاں نماز پڑھی گئی اور اگر وہ وہ جگہ مسجد تھی تو اقلیتوں کا بھی حق ہے کہ وہ اپنی مذہبی آزادی کا دفاع کریں کیونکہ آئین کے مطابق سبھی لوگوں کو بنیادی حقوق حاصل ہیں ۔ ‘‘
فیصلہ اگر ٹھوس دلائل کی بنیاد پر دیا گیا ہوتا تو کوئی قباحت نہیں تھی لیکن افسوس ناک امر یہی ہے کہ چیف جسٹس بار بار یہ کہتے رہے کہ فیصلہ آستھا کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق اور دلائل کی بنیاد پر ہوگا لیکن صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ فیصلہ آستھا کی بنیاد پر دے دیا گیا جو آئین کے برعکس ہے ۔کہا جاتا ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے جس کا مطلب صاف ہے کہ وہ کسی فریق کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ حقائق اور ٹھوس دلائل کو دیکھتا ہے اور اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے ۔ بابری مسجد قضیہ کے آغاز سے ہی ایک طبقہ مسلسل زیادتی کرتا چلا آرہا تھا پہلے تو اس نے چوری چھپے رات کے اندھیرے میں مسجد کے اندر مورتیاں رکھ دیں اور شورمچانے لگا کہ یہ جگہ شری رام چندر کی جائے پیدائش ہے ۔ لہذا اسے ہمارے حوالے کردیا جائے ،مسلمان نے بغیر کسی اشتعال کے قانونی اور آئینی لڑی اور اسے یقین تھا کہ انصاف اسی کے حق میں ہوگا کیونکہ مسجد وہاں صدیوں سے قائم تھی جہاں باقاعدہ نماز پڑھی جارہی تھی۔مسلمانوں نے نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور بڑی مستقل مزاجی اور ثابت قدمی سے اپنے حق کی لڑائی لڑتے رہے اور اس کے لئے انہوں نے جس طرح سے اپنی جان و مال کی قربانی دی وہ ایک جمہوری ملک اور اس کے مزاج سے پوری طرح ہم آہنگ تھی لیکن ۲۷؍سال بعد جب فیصلے کی گھڑی آئی تو اس طرح فیصلہ کردیا گیا کہ مسلمان ہی نہیں بہت سارے غیر مسلم انصاف پسند افراد بھی حیرت میں ڈوب گئے ۔اور یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ایک جمہوری ملک میں فیصلہ جمہوری انداز کا ہی ہونا چاہیئے تھا ۔لیکن اب کوئی کر بھی کیا سکتا ہے ایک جمہوری ملک کی سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ بہر صورت تسلیم کرنا ہی پڑے گا ۔دنیا میں بہت کچھ ہوتا چلا آرہا ہے ایک یہ بھی سہی مسلمانوں نے تو ہمیشہ ہی صبر سے کام لیا ہے اب بھی صبر کریں گے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ہی ساتھ ہےجس کا انہیں یقین کامل ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker