ہندوستان

ہماری شادی بیاہ کی تقریبات سنت نبویؐ کے مطابق ہوں : مولانا نسیم اختر شاہ قیصر

دیوبند۔۱۵؍ نومبر (رضوان سلمانی) دارالعلوم وقف کے استاد ، صاحب قلم و مشہور عالم دین مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان خطا ونسیان کا پتلا ہے، غلطیوں کا امکان ہر صورت میں ہے، گناہ بھی انسان سے سرزد ہوسکتے ہیں، ہزار کوششوں کے بعد بھی شیطان غالب آکر برائیوں میں مبتلا کردیتا ہے ۔ ہمیں اپنے گناہوں کی بارگاہ الٰہی میں توبہ مانگنی چاہئے، استغفار کرنا چاہئے، توبہ کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ پر شرمندہ ہو، ندامت محسوس کرے ، دوسرے گناہ سے ہمیشہ کے لئے تائب ہوجائے ، مضبوطی اور استحکام کے ساتھ توبہ پر قائم رہے، اگر یہ شرائط پائی جائیں گی تو انشاء اللہ بارگاہ رب العزت میں توبہ قبول ہوگی اور پھر خدائی مہربانیو ں اور فضل وکرم کے دروازے کھلیں گے ۔ مولانا نے مزید کہا کہ اسلام ایک رہنما مذہب ہے او رانسانی زندگی کی تمام ضرورتوں اور تقاضو ں کی جتنی فہم اسلام میں ہے دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں۔ یہ آدمی کے فطری وطبعی مطالبوں سے آگاہ ہے اور بھرپور واقفیت رکھتا ہے کہ کس گوشہ زندگی میں کس طرح کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہمیں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زندگی گزارنی چاہئے اور ان خطوط کو ملحوظ رکھنا چاہئے جو اسلام نے قائم کئے ہیں۔ ہماری صبح سے شام تک کی زندگی اور شام سے صبح تک کے اوقات کس طرح گزررہے ہیں اس پر نظر رہنی چاہئے۔ اسلام ہماری تقریبات اور خوش ومسرت کے مواقع پر بھی رہبری کے فریضے سے غافل نہیں رہتا، آج ہمارے معاشرے میں خصوصاً شادی بیاہ کی تقریبات مذاق بن کر رہ گئی ہیں ، کھڑے ہوکر کھانا، بے حیائی اور بے پردگی کا مظاہرہ، آداب شریعت کا لحاظ نہ رکھنا، مسجدوں میں نکاح کرنے کے بجائے شادی ہال میں نکاح کا فرض انجام دینا، فضول خرچی کرنا، بے ضرورت انواع واقسام کے کھانے بنانا اور ان کا ضائع ہونا ایسی چیزیں ہیں جنہیں اسلام پسند نہیں کرتا۔ پھر ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی نے تو ہر گھر میں ہر آدمی کو پہنچادیا ہے ، ظلم تو جب زیادہ بڑھ جاتا ہے جب اسکرین پر شادی کی تقریبات دکھائی جاتیں اور بے محرم عورتوں کو تمام لوگ دیکھتے ہیں۔ شادی بیاہ شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوں، سادگی کے ساتھ ہوں۔ مولانا نسیم اختر شاہ قیصر نے کہا کہ ہمارا معاشرہ اور سماج کہیں سے بھی اسلامی معاشرہ نظرنہیں آتا وہی ہا ، وہو ، شور وشغب ، ہنگامے ، گانے اور ساز کی آوازیں جودوسری اقوام کے یہاں رائج تھیں اب ہماری تقریبات میں بھی کھلے عام ہورہی ہیں اور افسوس یہ ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ علماء بھی ان تقاریب میں شرکت کرتے ہیں اور کوئی اس ذمہ داری کو نہیں نبھاتا کہ وہ اس پر روک لگائے اور تقریب کرنے والوں سے سہل اور آسان انداز میں گفتگو کرے کہ ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ جن کی یہ ذمہ داری تھی وہ خاموش ہیں، بلکہ اس مصیبت میں خودبھی مبتلا ہیں تو معاشرہ بگڑے گا نہیں توکیا ہوگا۔ ہمیں اپنے حالات سدھارنے چاہئیں اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہئے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ہمیں اپنے بچوں کی دینی تعلیم کا اہتمام کرنا چاہئے ، ان کی تربیت اور پرورش اسلامی بنیادوں پر ہو، ان کا عقیدہ مضبوط اور فکر اسلامی ہو، دین کی بنیادی تعلیمات سے وہ واقف ہوں اور نماز روزہ ، حج وغیرہ کی اہمیت وعظمت ان کے دل میں جاگزیں ہوں۔ پھر وہ عصری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے ، ڈاکٹر بنے یا وکیل یا انجینئر ، جب صحیح بنیادوں پر ہم ان کی تربیت کا اور تعلیم کی فکر کریں گے تو وہ جہاں بھی رہیں گے مسلمان بن کر رہیں گے۔ انجینئر بنیں گے ، ڈاکٹر بنیںگے، وکیل بنیں گے، ساتھ ساتھ وہ بہترین مسلمان بھی ہوںگے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker