ہندوستان

ایس پی دیہات ودیا ساگر کا دورہ دارالعلوم دیوبند

مفتی ابوالقاسم نعمانی سے ملاقات، ایودھیا معاملے پر امن وامان کی برقراری پر شکریہ ، نماز جمعہ کی وجہ سے خفیہ محکمہ مستعد رہا

دیوبند۔۱۵؍ نومبر (رضوان سلمانی) ملک کے سب سے بڑے حساس مسئلے ایودھیا معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امن وامان قائم رکھنے میں انتظامیہ کا تعاون کرنے کے لئے ایس پی دیہات نے آج دارالعلوم دیوبند پہنچ کر ادارہ کے مہتمم اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ آج جمعہ سے پہلے دارالعلوم دیوبند پہنچے ایس پی دیہات ودیا ساگر مشر نے ادارے کے مہمان خانہ میں مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی سے ملاقات کی اور ایودھیا معاملے پر ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے پر امن وامان قائم رکھنے میں انتظامیہ کے تعاون کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس دوران ادارے کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق سنبھلی ، ایس ڈی ایم دیوبند اور سی او دیوبند بھی موجود رہے۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی دیہات ودیا ساگر مشر نے بتایا کہ ایودھیا معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آجانے کے بعد انتظامیہ کا تعاون کرنے کے لئے سبھی مذاہب کے رہنمائوں سے ملاقات کرکے ان کا شکریہ ادا کیا جارہا ہے ۔ اسی سلسلہ میں آج وہ دیوبند آئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کیوں کہ دارالعلوم دیوبند ایک عالمی شہرت یافتہ ادارہ ہے اور یہاں سے نکلنے والی آواز ملک بھر میں سنی جاتی ہے اس لئے ایودھیا معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل بھی ہم لوگ یہاں پر آئے تھے اور ادارہ کے ذمہ داران سے ملاقات کرکے امن وامان قائم رکھنے میں تعاون طلب کیا تھا، علماء نے اس وقت جو بات کہی تھی اس پر وہ پوری طرح کھرے اترے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع کے دیگر کئی مدارس کے ذمہ داران سے ملاقات کرکے پولیس انتظامیہ کے تعاون کے لئے ان کا بھی شکریہ ادا کیا جائے گا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پہلا جمعہ ہونے کے سبب خفیہ محکمہ پوری طرح الرٹ رہا اور شہر کی اہم مساجد میں جمعہ کی نماز سے قبل اور بعد میں ہونے والی تقاریر پر نظریں جمائے رکھیں، حالانکہ شہر کی کسی بھی مسجد میں اس سلسلہ میں نہ تو کوئی تقریر نہیں کی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے بھی مساجد کے سامنے پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا ۔ واضح ہو کہ ایودھیا تنازعہ پر کورٹ کے فیصلے کو لے کر مسلم طبقے کی جانب سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا تھا ، اتنا ہی نہیں دارالعلوم کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کی عزت کرتا ہے لیکن ایودھیا معاملے پر کورٹ کا فیصلہ حیرت انگیز اور سمجھ سے پرے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker