ہندوستان

سپریم کورٹ کے فیصلے میں تضاد، وقف ایکٹ کے مطابق مسجد کے بدلے زمین نہیں دی دی جا سکتی، فریق مخالف کو زمین دینے کا کوئی جواز نہیں، کئی نکات غیر واضح، زمین منظور نہیں، آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کا ریویو پٹیشن داخل کرنے کا اہم فیصلہ، پانچ ایکڑ زمین کو ٹھکرایا

 

لکھنؤ :17نومبر(بی این ایس) آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کی ایک اہم ہنگامی میٹنگ آج بتاریخ ۱۷؍نومبر۲۰۱۹ء کو بورڈ کے صدر مولانا سید محمدرابع حسنی ندوی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ مؤرخہ 9.11.2019کی بابت تفصیلی گفتگو کی گئی ۔میٹنگ کے بعدپریس کانفرنس میں مسلم پرسنل لاء بورڈنے واضح اعلان کیاہے کہ بابری مسجدکی جگہ دوسری زمین ہرگزمنظورنہیں ہے،ساتھ ہی ساتھ اس نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کوچیلنج کرنے کااعلان کیاہے۔بورڈریویوپٹیشن داخل کرے گا،اس طرف پورے ملک کی نگاہیں تھیں،بلکہ کئی علماء،دانشوران اورتنظیموں نے خط لکھ کرمسلم پرسنل لاء بورڈسے اپیل بھی کی تھی۔اس فیصلے کی اہم فریق جمعیۃ علمائے ہندنے تائیدکی ہے اوراس نے بھی سپریم کورٹ جانے کااعلان کیاہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ کیسزسنیئروکیل راجیودھون لڑیں گے۔اس میٹنگ میں صدرمسلم پرسنل لاء بورڈمولانارابع حسنی ندوی کے ساتھ ساتھ،نائب صدرمولاناجلال الدین عمری،جنرل سکریٹری مولاناولی رحمانی،سکریٹری مولاناخالدسیف اللہ رحمانی،سکریٹری مولاناعمرین محفوظ رحمانی،سکریٹری ظفریاب جیلانی،بیرسٹراسدالدین اویسی،رکن عاملہ مولاناارشدمدنی،مولانامحمودمدنی،ڈاکٹراسماء زہراسمیت اہم اراکین موجودتھے۔بورڈنے کہاکہ آج کی میٹنگ میں یہ محسوس کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ کے مذکورہ بالا فیصلے میں کئی پہلوؤں پر نہ صرف باہمی تضاد ہے بلکہ کئی نقطوں پر یہ فیصلہ سمجھ سے پر ے ہے اور پہلی نظر میں ہی غیر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ مجلسِ عاملہ خاص طور پر درج ذیل بنیادوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو اصول انصاف کے مطابق نہیں پاتاہے۔ جب 22/23دسمبر1949کی رات میں جبراً رکھی گئی رام چندر جی کی مورتی اور دیگر مورتیوں کا رکھا جانا غیر قانونی تھا تو اس طرح غیر قانونی طور سے رکھی گئی مورتیوں کو Deityکیسے مان لیا گیا ہے جو ہندو دھرم شاستر کے مطابق بھی Deityنہیں ہو سکتی ہیں؟جب بابری مسجد میں 1857سے 1949تک مسلمانوں کا قبضہ اور نماز پڑھا جانا ثابت مانا گیا ہے تو کس بنیاد پر مسجد کی زمین مقدمہ نمبر 5کے مدعی نمبر 1کو دیدی گئی۔آئین کی دفعہ 142کا استعمال کرتے وقت معزز ججوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ وقف ایکٹ 1995کی دفعہ 104-Aاور 51(1)کے مطابق مسجد کی زمین کے Exchange یا Transfer کو مکمل طور پر منع کیا گیا ہے تو وقف ایکٹ کے درج اس قانونی روک؍پابندی کو دستور کی دفعہ 142کے تحت مسجد کی زمین کے بدلے میں دوسری زمین کیسے دی جا سکتی ہے؟ جبکہ خود سپریم کورٹ نے اپنے دیگر فیصلوں میں وضاحت کر رکھی ہے کہ دفعہ 142کے اختیارات معزز ججوں کے لئے لا محدودنہیں ہیں۔مجلس عاملہ نے مذکورہ پہلوؤں پر غور کرنے اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں مذکورہ اور دیگر Apparent errors ہونے کی وجہ سے نظر ثانی کی درخواست داخل کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔ جس میں اس پہلو کا بھی ذکر کیا جائے گا کہ مسجد کی زمین کے بدلے میں مسلمان کوئی دیگر زمین قبول نہیں کر سکتے ہیں اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ مسلمانوں کو بابری مسجد کی زمین دی جائے، مسلمان کسی عام حصہ زمین پر جائز حق لینے کے لیے سپریم کورٹ نہیں گئے تھے بلکہ مسجد کی زمین کے لئے انصاف حاصل کرنے کی خاطر عدالت گئے تھے۔مجلس عاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ مؤرخہ ۹؍نومبر۲۰۱۹ء میں دیئے گئے مندرجہ ذیل باتیں خاص طور سے زیر بحث آئیں۔بابری مسجد کی تعمیر بابر کے کمانڈر میر باقی کے ذریعہ 1528میں ہوئی تھی جیسا کہ مقدمہ نمبر ۵ کے فریقین نے اپنے مقدمہ کے عرضی دعویٰ میں خود مانا ہے اور سپریم کورٹ نے اسے قبول کیاہے۔ مسلمانوں کے ذریعہ دیئے گئے ثبوت سے یہ واضح ہے کہ 1857 سے1949تک بابری مسجد کی تین گنبد والی عمارت اور مسجد کا اندرونی صحن مسلمانوں کے قبضہ اور استعمال میں رہا ہے،اسے بھی سپریم کورٹ نے ماناہے۔بابری مسجد میں آخری نماز 16دسمبر 1949کو پڑھی گئی تھی، سپریم کورٹ نے اسے بھی تسلیم کیاہے۔22/23دسمبر، 1949کی رات میں بابری مسجد کے بیچ والے گنبد کے نیچے رام چندر جی کی جو مورتی رکھ دی گئی تھی سپریم کورٹ کی نگاہ میں وہ قانون کی خلاف ورزی تھی۔بابری مسجد کے بیچ والے گنبد کے نیچے کی ’’زمین‘‘ رام چندر جی کی جائے پیدائش (جنم استھان) کی شکل میں پوجا کیا جانا ثابت نہیں ہے۔لہٰذا سوٹ نمبر ۵ کے فریق نمبر ۲ (جنم استھان) کو Deity نہیں مانا جاسکتا۔ مسلمانوں کے ذریعہ دائر کردہ مقدمہ نمبر ۴ میعاد(limitation)کے اندر ہے اور جزوی طور سے ڈگری کئے جانے کے لائق ہے۔سپریم کورٹ نے فیصلہ میں یہ بھی رائے دی ہے کہ ۶؍دسمبر 1992کو بابری مسجد گرائے جانے کا کام ہندوستان کے سیکولر آئین کے خلاف تھا۔نزاعی عمارت میں چونکہ ہندو بھی سینکڑوں سال سے عبادت (پوجا) کرتے رہے ہیں اس لئے پوری نزاعی عمارت کی زمین مقدمہ نمبر ۵ کے فریق نمبر 1(بھگوان شری رام للا) کو دی جاتی ہے۔چونکہ نزاعی زمین مقدمہ نمبر 5کے فریق نمبر1کو دی گئی ہے اس لئے مسلمانوں کو 5ایکڑ زمین مرکزی حکومت کے ذریعہ یا تو Aquired Landیا صوبائی حکومت کے ذریعہ ایودھیا میں کسی دوسری اہم جگہ پر دی جائے جس پر وہ مسجد بنا سکیں۔ یہ حکم سپریم کورٹ نے آئین کی دفعہ 142کا استعمال کرتے ہوئے دیاہے۔ جس کے مطابق مذکورہ 5ایکڑ زمین سنی وقف بورڈ کو دیئے جانے کا حکم صادر کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اے۔ایس۔آئی۔ (آثارِ قدیمہ) کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ بات تسلیم کی ہے کہ کسی مندر کو توڑکر مسجد نہیں بنائی گئی ہے۔میٹنگ میں اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ 22/23دسمبر 1949کی رات میں بابری مسجد کے گنبد کے نیچے مورتیاں رکھے جانے کے تعلق سے درج F.I.R.اور حکومت اتر پردیش ، ڈی۔ایم۔ فیض آباد و ایس۔پی۔ فیض آباد کے ذریعہ مقدمہ نمبر1اور 2میں داخل جواب دعوی میں یہ مانا جا چکا ہے کہ مذکورہ مورتیاں چوری سے یا زبردستی رکھی گئی تھیں اورہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے 30ستمبر2010کے فیصلہ میں بھی مذکورہ مورتیوں کو Deityنہیں مانا تھا۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker