ہندوستان

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نظر ثانی کے فیصلہ پر دانشوران قوم (شہر پونہ) کی حمایت

بابری مسجد رام جنم بھومی زمینی تنازعہ برسوں کے بعد اپنے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے عدالت عظمٰی تک پہنچا، تقریبا دس سال مقدمہ چلنے کے بعد عدالت عظمیٰ نے 1045 صفحات پر مشتمل اپنا فیصلہ اہل وطن کے سامنے رکھا یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس پر پوری دنیا کی نظریں ٹکی ہوئی تھیں؛
اسی لیے فیصلہ آنے سے قبل تمام فریقوں نےاپنے مذاہب کے ماننے والوں سے یہ اپیل کی تھی تھی کہ فیصلہ چاہے جس کے حق میں ہو ہمیں اسے بہرصورت منظور کرنا ہے اور ہندوستان کی اعلیٰ تہذیب و تمدن کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے
حکومت کی جانب سے بھی تحفظات کے مکمل انتظامات کر لیے گئے تھے تاکہ کسی طرح کا کوئی ہنگامہ وجود نہ پا سکے
12 نومبر کو جیسے ہی عدالت عظمی بے شمار تضاد پر مشتمل اپنافیصلہ سناتی ہے
تو 17 نومبر کو مسلم پرسنل لا بورڈ نظرثانی کرنے کے لئے عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کرتا ہے

مسلم پرسنل لا بورڈ کہ اس جرات مندانہ قدم کو مزید طاقت دینے کے لیے شہر پونہ کے دانشوران نے مسلم پرسنل لا بورڈ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں
صدر مہاراشٹر ایکشن کمیٹی، جناب زاہد بھائی صاحب نے پریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہیکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نظر ثانی کا جو فیصلہ لیا ہے وہ بہتر فیصلہ ہے اور ہم اسکی بھرپور تائید کرتے ہیں اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ہم ہمیشہ ساتھ تھے ساتھ ہیں اور آگے بھی ساتھ رہینگے.

علماء ایکشن کمیٹی کے صدر مفتی وحیدالزماں صدیقی صاحب نے پریس سے کہا کہ ایودھیا فیصلہ کے بعد ملک بھر میں امن وامان کا قائم رہنا یہ اس بات کا ثبوت ہیکہ واقعی میں مسلمان امن، سکون، شانتی اور بھائی چارے پر یقین رکھتے ہیں ورنہ اس ملک میں ایسا بھی دیکھا گیا ہیکہ اس ملک میں زانی باباوں کے حامیوں نے ٹرین کے پٹریاں تک اکہاڑی ہیں
لیکن مسلمانوں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور امن وامان کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح آج بھی یہ ثابت کردیا کہ مسلمان امن پسند قوم ہے. نیز مفتی وحید الزماں صدیقی نے یہ بھی کہا کہ جب سپریم کورٹ مان رہا ہیکہ مسجد میں مورتی رکھنا، مسجد کو شہید کرنا غیر قانونی ہے تو قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو عدالت کب سزا دیگی؟
مسلمانوں کا عقیدہ ہیکہ جس جگہ پر ایک دفعہ مسجد بن جاتی ہے وہ ہمیشہ مسجد رہتی ہے مسجد الله کا گھر ہے اور مسجد کے بدلے میں 5 اکڑ کیا ہزار اکڑ زمین بھی بدلے میں دیا جائے تو وہ مسجد کا بدل نہیں ہوسکتا وقف بورڈ کے پاس زمین کی کمی نہیں ہے ریلوے کے بعد سب سے زیادہ زمین وقف بورڈ کے پاس ہے
شاعر کہتا ہے کہ :-
*ہمیں کو قاتل کہيگی دنیا ہمارا ہی قتل عام ہوگا*
*ہمیں کنوئیں کھودتے پھرینگے ہمیں پہ پانی حرام ہوگا*

مہاراشٹر ایکشن کمیٹی کے سیکرٹری جناب اظہر تنبولی نے پریس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ملت اسلامیہ ہندیہ کا متحدہ پلیٹ فارم ہے اور مسلمان ہمیشہ سے بورڈ کا ساتھ دیتے تھے اور آگے بھی دیتے رہینگے اور اس وقت ایودھیا فیصلہ پر نظر ثانی کا جو فیصلہ ہے وہ ایک عظیم فیصلہ ہے اور ہمیں عدلیہ سے امید ہیکہ عدلیہ اس فیصلہ پر غور وخوض کریگی اور ہمیں انصاف دلوائیگی..

پریس کانفرنس میں موجود رہے صدر مہاراشٹر ایکشن کمیٹی جناب زاھد بھائی علماء ایکشن کمیٹی کے صدر مفتی وحیدالزماں صدیقی، نائب صدر ایکشن کمیٹی محی الدین سید، سیکرٹری ایکشن کمیٹی جناب اظہر تنبولی، ملت فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی نوید صاحب، پاپولر فرنٹ آف انڈیا مہاراشٹر کے نمائندہ جناب رضی خان صاحب، مفتی زید قاسمی، ایڈووکیٹ تاج الدین، جناب علاء الدین سید ، الیاس شیخ، ودیگر داشوران قوم وملت..

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker