جہان بصیرتفکرامروز

مولانا سید محمد ولی رحمانی : نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری

مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت میڈیا گروپ
اس عمر نے نہ جانے کتنی اہم شخصیتوں کو اپنی ان آنکھوں سے دیکھا ہے ,اس میں بڑے سیاسی قد آور رہنمابھی ہیں ,اور خانقاہوں میں بیٹھے بزرگان دین بھی ہیں,مدرسوں میں چٹائیوں پر بیٹھے عظیم اسا تذہ بھی ہیں ,مسجدوں کے ممبروں سے خطاب کرکے انسانیت کی رہنمائی کرنے والے خطیب حضرات بھی ہیں, قلم کے شہسوار بڑے صحافیوں کی جماعت بھی ہے , دعوت و تبلیغ کی راہ کے عظیم داعی بھی ہیں, سب اپنی جگہ یکتائے روزگار اور اپنے اپنے فن میں بے مثال بھی ,ایسا کم دیکھا جاتا ہے کہ ایک آدمی اگر اچھا سیاست داں ہو تو وہ اچھا مدرس بھی ہو ,خطیب بے مثال ہو ,داعی اور مصلح بھی ہو, لیکن بعض شخصیتیں دنیا میں ایسی بھی گذری ہیں, جو اچھے قائد کے ساتھ مبلغ,معلم ,مصلح اور مربی , بھی تھے ,لیکن ایسی مثالیں انسانی تاریخ میں بہت کم ملتی ہیں۔
یاد آتا ہے آج سے 30/ سال قبل جب میری ان آنکھوں کی عمر صرف 10/ سال کی تھی , ابھی اس نے دیکھا ہی کیا تھا ,بستی کی ہریالی اور گاؤں کے اساتذہ کی شفقت ,لیکن جب مونگیر شہر میں واقع جامعہ رحمانی خانقاہ والد گرامی کے ساتھ بغرض تعلیم حاضر ہوا تو والد صاحب سے بہت ڈرتے ہوئے سوال کیا وہ حضرت صاحب کون ہیں جس کا ذکر آپ گھر میں کیا کرتے تھے ,ابا نے کان کو قریب کرتے ہوئے بہت ہی سر گوشی میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وہی حضرت صاحب ہیں ,بیٹا ! یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے تیز بات نہیں کی جاتی ہے ,داخلہ ہوا اور تعلیم میں مشغول ہوگئے ,کسے فکر تھی حضرت کی اب تو اپنی شامت آگئی تھی کتابوں کے یاد کرنے کی , اس طرح آنکھوں ہی آنکھوں میں سال گذر گیا لیکن ایک شخص کو بار بار یہ آنکھیں دیکھتی رہیں ,وہ چمچماتی کار سے آتے بارعب خوبصورت گول چہرہ ,پیشانی کشادہ ,بالیں سیاہ ,آنکھیں بڑی ,سر پر گول ٹوپی ,سفید باریک کپڑے کا کرتہ چوری موڑھی کا پائجامہ, میں نے اپنے ایک ساتھی سے پوچھا یہ کون مولوی صاحب ہیں ,اس نے مجھے تھوڑا تلخ لہجے میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا یہ حضرت جی کے لڑکا ہیں مولانا ولی رحمانی صاحب ,اس کے بعد 4/سال تک مونگیر میں رہا ہم طلبہ کو کیا سروکار کسی سے لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ ہم ان کو اپنے گاؤں کے مولوی صاحب سے زیادہ نہیں سمجھتے تھے۔
زبان و بیان کی اصلاح کے لئے وہاں ایک انجمن قائم ہے اس وقت اس شعبہ کے ذمہ دار ہمارے نہایت ہی مشفق استاد حضرت مولانا نعیم صاحب رحمانی دامت برکا تہم تھے ,وہ ہرسال انجمن کے تحت تقریر, تحریر ,بیت بازی کا انعامی پروگرا م رکھتے تھے ہم لوگ بھی حصہ لیتے تھے ,چونکہ اب شعور کوپر لگنے لگے تھے ,مقابلہ ہوا کون کامیاب ہوا اور کون نہیں یہ سب یاد نہیں ہے , لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ “آپ کو اپنے مستقبل کی ضما نت خود لینی ہوگی ,یہ دنیا بہت وسیع ہے ,یہاں کام کرنے والوں کی قدر ہوتی ہے ,نکمے دنیاں میں ڈھیر سارے ہیں ,آپ کو آج سوچنا ہوگا کہ اگلا پراؤ آپ کا کیا ہوگا اور کہاں ہوگا ,ہمیں افسوس ہیکہ طلبہ دورہ حدیث سے فارغ ہو جاتے ہیں اور ان کو اپنی منزل تک کا پتہ نہیں ہوتا ,” آواز میں درد ,تسلسل ,جملوں کا حسن انتخاب ,اتار چڑھاؤ اور گرجدار آواز کے ساتھ خطاب جو دلوں کی دنیاں میں ہلچل بپا کردے اورسمت کی تعیین کوآسان کردے یہ تھے حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکا تہم ,ایسی گفتگو جس میں درد بھی ہو درس بھی ہو ,پیغام اور اپنائیت بھی ہو ,بہت کم سنا تھا ,مولانا میں وہ تمام خوبیاں بیک وقت پائی جاتی تھیں,جو بہت کم لوگوں میں پائی جا تی ہیں ,اچھے خطیب کے ساتھ کہنہ مشق مدرس ,جادوئی قلم کے شہسوار ,رمز گاہ سیاست کے رازداں,عظیم مصلح اور مربی, لاکھوں مرید کے تنہا پیر,بہترین منتظم کار ,اور وہ ساری خوبیاں جو ایک انسان کو عام لوگوں سے ممتاز کرتی ہیں۔
ویسے یہ بات بھی مسلم ہے کہ حضرت کو جو نسبتیں اپنے باپ دادا سے وراثت میں ملی ہیں وہ ان کی شہرت اور عظمت کی بلندی کے لئے کافی ہے ,انہیں اپنی خانقاہ میں عقیدتوں کی بھیڑمل جاتی ,وہیں سے شہرت کو پر لگ جاتے ,خزانے کا انبار ہوتا ,سکون کی نیند آتی ,مریدین ومعتقدین سر لئے کھڑا ہوتے,لیکن انہوں نے منجھدار میں امت کی پھنسی کشتی کو پار لگا نے کے لئے دشت وجبل کے خاک چھانے ,رات کی نیند اور دن کے چین کو برباد کیا ,مریدوں کے در میان سے اٹھ کر اغیار کے بیچ گئے,اپنوں کے ساتھ پرائے کو بھی گلے لگایا ,امت کے مسائل کے لئے جان کو گھلایا , سلامت رکھے اللہ اس زندگی کو جو پوری دنیا کی انسانیت کے لئے راتوں میں اپنی آنکھوں کو جلاکر رب سے عافیت کی بھیک مانگتے ہیں,اوردن کے اجالے میں شریعت اسلامیہ اور دین ودستور کی حفاظت کے لئے باطل طاقتوں سے پنجہ آزمائی کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے صحافی برادری میں بعض ایسے احباب ہیں ,جو حضرت مولانا پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں ,یہ واقعہ نہایت ہی قابل افسوس ہے ,اور بعض ایسے احباب ہیں جو حضرت کے نام کو نسبت کی بنیاد پر غلط استعمال کرتے ہیں,ابھی گذشتہ دنوں ایک فاضل نوجوان صحافی جو علمی تفوق کی بنیاد کی وجہ کر اپنے ہم عصروں میں ممتاز اور امت کو ان سے بڑی توقعات وابستہ تھیں لیکن غلط ہاتھوں میں پڑکر اور 99/ کے چکر میں اپنی ڈگر سے ہٹ گئے ہیں گذشتہ دنوں اس خبر نے طبیعت کو اور مکدر کردیا کہ برادر محترم اسرائیل کی میٹنگ میں بھی شریک ہوئے تھے , یہ خبریں نہایت افسوس ناک ہیں, ابھی گذشتہ دنوں انہوں نے ایک سیاسی پارٹی “متحدہ ملی مجلس” کے نام سے تشکیل دیا ہے ,اس کی عمر کچھ زیادہ نہیں ہے ,لیکن اس کی سرپرستی حضرت اقدس مفکر اسلام مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کار گذار جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف کرکے اس کی اہمیت کو بڑھانے کی کوشس کی گئی ہے ,جب کہ اس مقصد صرف اتنا ہے کہ سیکولرزم کی جڑوں کو ہلاکر فسطائی طاقتوں کو مستحکم کیا جائے ,جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوء تو سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تردیدی بیان دیا اور ایک اردو اخبار میں 16/اپریل 2015 کو بیان دیا کہ “بہار کی مجوزہ پارٹی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے “اس وضاحت کے باوجود صحافی برادری کا ایک قد آور شخص جن کا نام لکھ کر میں اپنے قلم کو شرمندہ نہیں کرسکتا انہوں نے بہار الکشن سے عین قبل حضرت مولانا کی جانب سیجاری تردیدی بیان کے پڑھے بغیر ایک اردو اخبار میں یہ بیان دے دیا ۔ سیاست میں فیصلہ کی ٹائمنگ بہت اہمیت رکھتی ہے ,مسلمانوں کی بدقسمستی ہے کہ ان کے نام پرسیاست کرنے والی تنظیمیں الیکشنکے موقعہ پر سرگرم ہوتی ہے ,سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کی سر پرستی میں قائم پارٹی نتیش ولالو کی قیادت تسلیم نہیں کرے گی ,تو پھر کس کی کرے گی ۔ اس کے پاس کیسا متبادل ہے,اس نے لالو ونتیش کی مخالفت کو مسلمانوں غیرت وحمیت سے جوڑدیا ہے ,یہ کہاں تک درست ہے ,وہ یہ بتائے کہ کس کی حمایت کا فیصلہ ہے ” ۔ یہ اور اس طرح کے دیگر بیانات ایسے موقعہ پر دینا کہاں کی دانشمندی ہے اور حضرت کو بدنام کر کے کیا چاہتے ہیں؟ جب کہ بی جے پی کے حالیہ عروج نے ملک میں فسطائی طاقتوں کو نئے بال وپر عطا کردیئے ہیں ,اس کانتیجہ ہے کہ وہ دروبام جہاں ان کی رسائی بھی محال تھی اب ان کے لئے رہ گذر بن چکا ہے ,اس لئے حالات کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے ہمیں فکری قدم اٹھانے ہونگے , خدا کرے ہمیں علما کی قیادت میسر آئے اور سیکولرزم کی جیت ہو ,اور یہ صدا عام ہوجائے ۔ کہ
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری
( مضمون نگار دارلعلوم سبیل الفلاح جالے دربھنگہ کے استاذ ہیں ، رابطہ: 9431402672)
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker