Baseerat Online News Portal

مولانا ابو الاعلی مودودی ؒ—– متکلم اسلام

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

مولانا ابو الاعلی مودودی ؒؒزندگی بھر اسلام کے دفاع کے لیے سینہ سپر رہے۔قلم مولانا کے ہاتھ میں ایک تیغ جوہر دار تھا جو گذشتہ صدی میں باطل نظریات کے خلاف مسلسل چلتا رہا، انھوں نے اپنے قلم سے تلوار کا کام لیا اور اتنا بڑا کام انجام دیا کہ اس کی نظیر آسانی سے نہیں ملتی ۔ وہ خود سپاہی تھے، اور خود سپہ سالار اور خود ایک لشکر جرار ، نصف صدی تک مسلسل مغرب سے درآمد کیے ہوئے نظریات کا مقابلہ کرتے رہے، مسلمانوں کی نئی نسلوں میں انھوں نے اسلام کا اعتماد بحال کیا، اور ان کو احساس کمتری سے نکال دیا، آج ساری دنیامیں جہاں جہاں اسلام کے غلبے اور نشأۃ ثانیہ کی کوششیں ہورہیں ہیں ان کی تہہ میں کہیں نہ کہیں مولانا ابو الاعلی مودودی کا قلم بھی کارفرما ہے، بلکہ اس میں مولانا مودودی کے قلم کا بہت بڑا حصہ نظر آئے گا۔
مولانا کا بہت بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے نئی نسل کے دلوں میں اسلام سے محبت پیدا کی، اور اسلام کے سر بلندی کے جذبہ کو سینوں میں بیدار کیا اور اس نسل کو جو اشتراکیت یا الحاد کی گود میں گرنے والی تھی، ان کے دلوں میں اسلام سے محبت پیدا کی۔مولانا مودودی کو یہ کامیابی اس لیے حاصل ہوئی کہ انہوں نے قدیم طرز کے علماء کے برخلاف دور جدید کے نظریات کا گہرا مطالعہ کیا۔ان کی واقفیت صرف دینی علوم پر محدود نہ تھی بلکہ جدید اور نئی دنیا کے افکار سے بھی وہ واقف تھے، مغربی تہذیب اور اس کی کمزوریوں کا ا نہیں علم تھا، اور انھیں اس بات کا پورا یقین تھا کہ مغربی تہذیب کا سفینہ موجوں کی تاب نہیں رکھتا ہے، اور اس میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ انسانیت کے اس قافلے کو ساحل مراد تک پہونچا سکے، مغربی تہذیب پر تنقید کے معاملے میں اگر کوئی شخصیت پورے عالم اسلام میں ان کے ہم رتبہ ہو سکتی تھی تو وہ علامہ اقبال ؒ کی تھی جنھوں نے اپنی شاعری میں مغربی تہذیب پر شدید تقیدیں کی تھیں، مولانا مودودی کی کتاب ’’تنقیحات‘‘کا مطالعہ کیجیے اس کے بیش تر مضامین میں مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن کو ادب وانشاء کے بہترین پیرایہ بیان میں پیش کیا گیا ہے اور ان اہل قلم کے مضامین پر فکر انگیز تنقید کی گئی ہے جو عقیدئہ اسلام کے بارے میں شک پیدا کرتے ہیں، اور الحاد کی تبلیغ کیا کرتے ہیں۔ان کی کتاب ’’رسالہ دینیا ت ‘‘کو پڑھیئے یہ اگر چہ طالب علموں اور بچوں کے لیے لکھی گئی ہے لیکن خوبصورت اور سادہ وپرکار نثر کا بہت اچھا نمونہ ہے یہ اسلام کی گائیڈ بک اور رہنما کتاب ہے، ان کی کتاب ’’خطبات ‘‘ میں اسلام کے ارکان اور بنیادی احکام اور اصولوں کی دلآویز اور دلنشین تشریح کی گئی ہے۔
مولانا ابو الاعلی مودودی کے کاموں کی الگ الگ حیثیتیں ہیں، لیکن مولانا مودودی کا سب سے نمایاں کام وہ ہے جسے جدید علم کلام کہا جا سکتاہے، جدید علم کلام میں مولانا مودودی کا کیا مقام ہے، اگر اسے سمجھنا ہو تو ان کی کتاب پردہ ، الجہاد فی ا لاسلام، اسلام میں قتل مرتدکی سزا، اسلام اور ضبط ولادت ، سود ، اسلام اور جدید معاشی نظریے ، قادیانیت اور ترجمان القرآن کے منصب رسالت نمبر کا مطالعہ کیجیے، پردے کی حمایت میں دینا میں کسی بھی زبان میں لکھی ہوئی کتابوں میں سب سے طاقتور کتا ب مولانا مودودی کی ہے۔ بیسویں صدی کی بالکل ابتداء میں مصر کے ایک مشہور صاحب قلم قاسم امین نے عورت کی آزادی (تحریر المرأۃ) کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، مولانا مودودی کا عنفوان شباب تھا وہ ان سے متأثر ہوئے اور انہوں اس کا ترجمہ کردیا، اور پھر کتاب شائع ہوگئی ، بعد میں جب انہوں نے دینی علوم میں دست گاہ حاصل کی تو انہیں اس کا بڑا قلق ہوا اور انہوں نے اس کا کفارہ پردے کی حمایت میں ایک مستقل تصنیف تیار کرکے کیا۔الجہاد فی الاسلام مولانا مودودی کی پہلی تصنیف ہے جو شروع میں دار المصنفین اعظم گڑھ سے شائع ہوئی تھی، دار المصنفین کے اس وقت سر براہ مولانا سید سلیمان ندوی تھے۔ جہاد وہ موضوع ہے جو مستشرقین اور یورپ کے علماء کے طنز وتنقین کا ایک زمانئہ دراز تک ہدف رہا ہے، اور انہوں نے اسلام کی ایک غلط تصویر پیش کی ہے، کہ یہ قتل وغارت گری کا مذہب ہے، اور اسلام کی تاریخ کے بارے میں مستشرقین کا نظریہ یہ ہے کہ ’’بوئے خوں آتی اس قوم کے افسانے سے‘‘ ، یورپ کے اس اعتراض کے جواب میں مسلمان علما اور اہل قلم ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار کرتے رہے ، اور یہ کہتے رہے کہ تلوار کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔ مولانا مودودوی نے پہلی مرتبہ دفاعی پوزیشن کے بجائے اقدام کا موقف اختیار کیا اور انہوں نے’’ مصلحانہ جنگ‘‘کی ایک نئی تعبیر اسلامی لٹریچر کو عطاکی ، اسلامی جنگوں کے اعلی مقاصد کا یورپ کی جنگوں اور ان کے اسباب ومحرکات سے موازنہ کیا۔ اسلام میں ارتداد کی سزا وہ موضوع ہے جس پر یورپ کے نام نہاد دانشوروں کو اعتراض ہے، مولانا نے اس امر کی اتنی اچھی تنقیح کی ہے کہ اس سے بہتر شاید ممکن نہیں۔سود کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ معاشیات پر جو دور جدید کی ایک سائنس ہے مولانا کی نظر کتنی گہری ہے ،کسی بھی شخص کا اسلامی نظام معیشت کا مطالعہ مکمل اور اپ ٹو ڈیٹ نہیں کہلائے گا اگر اس نے ’سود ‘‘اور ’’اسلام اور جدید معاشی نظام ‘‘کا مطالعہ نہ کیا ہو، مولانا کی پردہ اور سود دونوں کتابیں عرب دنیا میں بہت مقبول ہوچکی ہیں ، ان دونوں کا ترجمہ مولانا مسعود عالم ندوی نے کیا تھا، جو عربی زبان کے بہت بڑے انشا پرداز تھے۔ بعض علما ء نے دار الحرب میں اور ہندوستان میں سود کے جواز کا فتوی دیا تھا مولانا مناظر حسن گیلانی کا بھی اس سلسلہ میں ایک مضمون شائع ہواتھا، مولانا مودودی نے اس مضمون کا جواب دیا تھا اور اس پر گہری تنقید کی تھی، مولانا مودودی کا یہ مضمون بھی کتاب کا جزء بن گیا ہے، پروویڈنٹ فنڈ اورلائف انشورنس کے مسائل بھی اس کتاب میں آگئے ہیں۔
مولانا مودودی کے علم کلام کے سلسلہ کی کتابوں میں ’’اسلام اور ضبط ولادت ‘‘کوبھی بڑی اہمیت حاصل ہے، ضبط ولادت کی تحریک کی مخالفت میں بہت سے علماء نے کتابیں لکھی ہیں، ان سب کو سامنے رکھئے اور مولانا مودودی کتاب کو سامنے رکھیے اس تقابلی مطالعے سے آپ کو مولانا مودودی کے وسعت مطالعہ اور دقت نظر اور قوت استدلال کا اندازہ ہوگا۔
مولانا مودودی نے صرف دور جدید کی پیدا کردہ فکری گمراہیوں کا مقابلہ نہیں کیا، بلکہ اندرون ملک اور بر صغیر ہندوستان اور پاکستان کے داخلی فتنوں اور کج فکریوں کی روک تھام کی کوشش کی ، قادیانیت کا فتنہ انہی داخلی فتنوں میں سے ایک فتنہ ہے ، مولانا نے اس فتنہ کا سر ہتھیلی پر رکھ کر مقابلہ کیا اور قادیانیت کے رد میں وہ رسالہ لکھاجس پر حکومت وقت نے انہیں پھانسی کی سزا دی تھی، گویا دین اسلام کے خلاف اس سازش کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ دار ورسن کی آزمائش کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہو گئے، پاکستانی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پورے عالم اسلام سے احتجاج بلند ہوا اور حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ داخلی فتنوں کی دوسری مثال انکار حدیث کا فتنہ ہے یوں تو اس فتنہ پر بعض چیزیں مولانا مودودی کے قلم سے پہلے شائع ہوچکی تھیں، جو ان کی کتاب تفہیمات میں شامل ہیں، لیکن اس موضوع پر ان کی باضابطہ اور معرکہ آرا چیز ترجمان القرآن کا رسالت نمبر ہے، یہ کتاب در اصل غلام احمد پرویز کے ایک دست راست اور انکار حدیث کے مبلغ کی مولانا مودودی سے خط وکتابت کا مجموعہ ہے اور اس کی تحریروں کا جوا ب ہے ،بعد میں منصب رسالت نمبر ایک الگ کتاب کی شکل میں شائع ہوا، اور کتاب کا نام تھا ’’سنت کی آئینی حیثیت ‘‘۔
مولانا مودودی صاحب اس عہد کے ان جلیل القدر علماء میں تھے جنھوں نے اسلام کو دلوں اور دماغوں میں اتارنے کے لیے نئی زبان واسلوب کو ضرور اختیار کیا لیکن مسلک میں علماء سلف کے خیالات سے بالعموم انحراف نہیں کیا، پردے کا مسئلہ ہویا سود کا ، تصویر کا مسئلہ ہو یا ضبط ولادت کا، مولانا مودودی کے خیالات وہی ہیں جو قدیم علماء کے تھے، لیکن اس کے باوجود مولانا مودودی اور ان کی جماعت کے بارے میں ایک مخصوص مکتبہ فکر کے لوگوں نے وہ موقف اختیار کیا جو کسی بھی اعتبار سے عد ل وانصاف اور شرافت اور شائستگی کے معیار کے مطابق نہیں تھا، مولانا کے خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور تنقید میں قلم بھی اٹھایا جا سکتا ہے لیکن ایک خادم دین کو ہادم دین قرار دینا اور اس کی دینی خدمات کا اعتراف نہ کرنا صراحتاً ظلم ہے۔مولانا مودودی نے اسلام کے خدمت گزاروں کی ایک بڑی جماعت پیدا کردی اور ایک ذہن بنا دیا جو اس وقت پوری دنیائے اسلام میں اپنا کام کررہا ہے، اور ہر جگہ غلط نظریات اور مسموم خیالات کا مقابلہ کر رہا ہے، یہ کوششیں جہاں جہاں ہوں گی اور جتنے زمانے تک جاری رہیں گی ، مولان مودودی کے لیے انشاء اللہ صدقہ جاریہ کے حکم میں ہوںگی ،
کسی بھی شخصیت کے دینی مقام کے تعین کرنے میں بالعموم افراط وتفریط سے کام لیا جاتا ہے،اور لوگ انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں، اصل یہ ہے کہ دین کا تصور جس قدر متوازن ہوگا اتنی ہی متوازن رائے کسی شخص کی دینی خدمات کے بارے میں ہوگی، دین در اصل عبادت اور خلافت کے مجموعے کا نام ہے، قرآن کی آیت ہے وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون اور دوسری آیت ہے انی جاعل فی الارض خلیفۃ ان دونوں آیتوں کو ملانے سے دین کا جامع تصور پیدا ہوتا ہے۔ جن شخصیتوں نے ان دونوں میدانوں میں بہتر خدمات انجام دیں یعنی ان کا تعلق عبادات اور روحانیت سے بھی رہا اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور غلبہ اسلام کے کاموں سے بھی رہا، وہ شخصیتیں اسلام کے نقطئہ نظر سے زیادہ معتبر اور مؤقر ہیں، اور دین کے صحیح تصور کے نہ پائے جانے کی صورت میں شخصیات کے بارے میں تبصرے عام طور سے غیر مناسب اور غیر متوازن ہوجاتے ہیں۔

You might also like