ہندوستان

ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے جدید دفتر کا افتتاح، نسل نو کو اسلام کی آفاقیت سے روشناس کرانا ہمارا مقصد : انیس الرحمن قاسمی

 

نظریاتی اورفکری اختلاف زندہ قوموں کی علامت:قاسم خورشید

پٹنہ: یکم دسمبر(پریس ریلیز)علم و تحقیق اورریسرچ کا معروف ادارہ ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے نئے دفتر کا افتتاح آج پھلواری شریف پٹنہ میں عمائدین شہر کی موجودگی میں ہوا اس موقع پر شہر پٹنہ کے معروف ومشہور علمی،ادبی اورسیاسی شخصیتوں نے شرکت کی،فاؤنڈیشن کے جدید دفتر کے میٹنگ ہا ل میں علم وتحقیق کے نئے منہج اورضرورت و اہمیت نیز نوجوانوں میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ اورعلماء اساتذہ کی علمی اورتحقیقی تربیت کے عنوان سے ایک اہم نشست منعقد کی گئی اس علمی نشست کی صدارت بزرگ صحافی اورمصنف جناب خورشید انورعارفی نے کی،نشست کا آغازقاری انورقاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،فاؤنڈیشن کے بانی اورچیرمین مولاناانیس الرحمن قاسمی (رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈوقومی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل)نے اپنے خطبہ ئ استقبالیہ میں ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ یہ فاؤنڈیشن گزشتہ دس سالوں سے کام انجام دے رہا ہے، ہم اللہ کے شکر گزار ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کا مقصد اللہ کے پیغام کو پوری دنیا تک عصری اسلوب میں پیش کرنا اوربطور خاص نسل نو کو اسلام کی فکری آفاقیت سے روشناس کرانااورانہیں اللہ کے دین سے قریب کرنا ہے،سیرت،حدیث کی باتوں کو جدید رنگ وآہنگ میں زمانے کے تقاضے کے مطابق اس اسلوب میں پیش کرنا ہے جس کا سمجھنا ملت وملک کے ہر فرد کے لیے آسان ہو،مولانا قاسمی نے اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ برصغیر کی اکثریت فقہ حنفی کی ماننے والی ہے حتی کہ ایران کے جن صوبوں میں سنی مسلمان آباد ہیں وہاں کی اکثریت بھی امام ابوحنیفہ ؒکے ماننے والوں کی ہے،گزشتہ دوسو سالوں سے علمانے مسلمانوں کی دینی رہنمائی کی ہے اورآج بھی کررہے ہیں ہزاروں کی تعدادمیں لوگوں نے فتوے پوچھے اورعلما نے ان کے جوابات دئے ہیں یہ فتاوے سینکڑوں جلدوں میں ہزاروں صفحات پر مشتمل ہیں اورالگ الگ چھپے ہوئے ہیں ہم نے یہ بیڑا ٹھا یا کہ ان فتاووں کو یکجا ”فتاویٰ علماء ہند“کے نام سے جمع کردیا جائے اورصرف جمع نہ کیا جائے بلکہ ان فتاووں کو محققانہ تحقیقات سے مزین کردیا جائے نیز ہر مسئلے کے تحت حاشیہ پر دین کے اصل مآخذ یعنی قرآن کریم اور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلے میں وارد احادیث کو نقل کردیا جائے پھر حدیث جس درجے کی ہو اس کی صراحت بھی آجائے تاکہ لوگوں کا رجوع دین کے اصل ماخذ کی طرف ہو اورانہیں یہ احساس ہو کہ ان کا عمل بعینہ وہی ہے جو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا،مولانا قاسمی نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ آپ نے میری حقیر دعوت پر لبیک کہا اس کے لیے میں اورادارہ آپ کا تہہ دل سے شکریہ اداکرتے ہیں اورامید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی اسی طرح آپ اپنے قیمتی مشوروں سے ہمیں نوازتے رہیں گے۔

شہر کی معروف علمی شخصیت ممتاز شاعر اور ادیب ڈاکٹر قاسم خورشید (سابق چیرمین ڈپارمنٹ آف لنگویجیز،ایس سی ای آر ٹی)نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یہاں آکر مسرت اورخوشی ہو رہی ہے اس کو میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا مجھے یہ تو معلوم تھا کہ ہمارے محترم مولاناانیس الرحمن قاسمی بڑا کام کررہے ہیں لیکن مجھے یہ ہز گز اندازہ نہیں تھا کہ اتنا اہم اورتحقیقی اورعلمی کام یہاں ہو رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے پوری دنیا کو نئی فکری جہت عطا کی اورانہوں نے نئے تعلیمی منظرنامہ کووجود بخشا جس کی افق پر ہندوستان اپنی تعلیمی سرگرمیوں کے نشانات ثبت کر رہا ہے یونیورسیٹیوں کی یہ بہاریں مولانا آزاد کی رہین منت ہے ڈاکٹرخورشید نے مزید کہا کہ فکری اورنظریاتی اختلاف زندہ قوموں کی علامت ہے،اختلاف بری چیز نہیں ہے مخالفت بری چیز ہے انہوں نے مولانا قاسمی کو مبارک باد دیتے ہو ئے کہا کہ آپ زمین سے جڑے ہوئے آدمی ہیں اس لیے مجھے توقع ہے کہ یہ ادارہ جلد ہی برگ و بار لائے گا۔

اردو اورعربی کے معروف ادیب ڈاکٹر حبیب الرحمن علیگ(صدر شعبہ ئ عربی علامہ اقبال کالج بہار شریف)نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہ ابوالکلام فاؤنڈیشن تاریخی کام انجام دے رہا ہے،یہ وقت کی ضرورت تھی انہوں نے مولانا انیس الرحمن قاسمی کو مبارک باد دیتے ہوئے ان سے گزارش کی کہ اسے مزید وسعت دی جائے اوریہاں ایسا کام ہو کہ یہ ادارہ برصغیر کے لیے ایک سند کی حیثیت اختیارکر لے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر اقلیتی فلاح پروفیسر عبد الغفور نے کہا کہ بڑا اہم کام مولانا انجام دے رہے ہیں مولانا کو چاہئے کہ اس ادارہ میں اچھے محققین اورریسرچ اسکالروں کو جگہ دیں،جناب اشفاق الرحمان صاحب قومی صدر راشٹروادی جنتا دل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا انیس الرحمن قاسمی قابل مبارک باد ہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر علمی کام انجام دے رہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کاموں سے پوری دنیا باخبر ہو اوراسے استفادہ کا موقع ملے اس لیے ضروری ہے کہ یہ سارے مواد اورتحقیقاتی چیزیں انٹر نیٹ پر شائع کی جائیں اوراس کا ایپ بھی بنایا جائے،جناب شاہنواز صاحب نے مولانا قاسمی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر کام کرنے کی ضرورت تھی جو مولانا کررہے ہیں،پروفیسر محمود نہسوی نے اپنی رائے کچھ یوں ظاہر کی کہ مفکر اسلام مولانا انیس الرحمن کی شخصیت مقناطیسی ہے،اوریہ بڑا علمی کام کررہے ہیں اورانہیں بڑی مقبولیت حاصل ہے،جب کہ جناب مشرف صاحب سابق ترجمان ریاستی کانگریس نے کہا کہ اس اہم کام کو انٹرنیٹ کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیلانے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر جاوید اخترسب ایڈیٹرروزنامہ انقلاب نے اپنے تاثرات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مولانا نے بڑے کام بیڑا اٹھایا ہے اس دور میں جب کہ علم و تحقیق کے نام پر صرف کٹنگ،پیسٹنگ ہورہی ہے آپ کا یہ قدم قابل مبارک باد ہے،اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے ریاستی جنرل سکریٹری مولانا محمد عالم قاسمی صاحب نے کہا کہ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے ملک کے نامور مصنف ہیں اورانہیں کسی بھی بات کو عام فہم اورسہل اندازمیں پیش کرنے میں مہارت حاصل ہے،ان کی متعدد کتابیں خود اس کی شہادت دیتی ہیں،جب کہ انوار الہدیٰ نے کہا کہ مولانا لائق مبارک باد ہیں کہ انہوں نے علم وتحقیق کی یہ بزم سجائی ہے،اس موقع پر دوسری نشست میں مولانا مشہود احمد قادری ندوی صدرمدرس مدرسہ شمس الہدٰی پٹنہ نے اپنی مسرت و خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس تحقیقی ادارہ کے ذریعہ مستقبل میں قوم و ملت کے لیے علمی ودینی ترقی کے مواقع مسیر ہوں گے انہوں نے مزید کہا کہ مسلم معاشرہ کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے حصول کا جذبہ ان میں پیدا کیا جائے،جناب ایس آئی فیصل ڈائیرکٹر اقلیتی امورحکومت بہار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت ہے کہ مختلف نئے موضوعات پر تحقیقی کام کرائے جائے اوراس کے لیے کوچنگ بھی کرائی جائے، اس میٹنگ میں جن اہم لوگوں نے اپنے تاثرات و خیالات کا اظہار کیا ان میں مولانا نورالسلام ندوی،وغیرہ کے نام اہم ہیں،اخیر میں جناب خورشید انورعارفی نے اپنے صدارتی کلمات میں ابوالکلام فاؤنڈیشن کی تعریف کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا انہوں نے مزید کہا کہ ہر دورمیں علماامت کی رہبری کرتے آئے ہیں آج بھی آپ علما کی رہبری اورقیادت کی امت محتاج ہے ورنہ امت کا شیرازہ بکھر جائے گا،اس میٹنگ میں اہم لوگوں نے شرکت کی ان میں ڈاکٹر مظفر الاسلام عارف،سراج انور صاحب،عقیل احمد،ظفر صاحب، ادریس صاحب،سید اشتیاق احمد راستی،مولانا رضاء اللہ قاسمی،مولانا ابونصر ہاشم ندوی،مولانا عبد الواحد رحمانی سب ایڈیٹر عوامی نیوز،جناب ارشد اجمل،اکرم اے ٹی این اردو،نجم الحسن نجمی،زاہد حسین،ایم قیوجوہر،ریاض الدین قاسمی،مولانا مصباح صاحب،،محمد محبوب عالم،ماسٹر نسیم اختر صاحب، وغیرہ کے نام اہم ہیں۔اخیر میں ریاستی ملی کونسل کے کارگزارجنرل سکریٹری اورابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے رفیق مفتی محمد نافع عارفی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”فتاویٰ علماء ہند“کا پروجیکٹ بڑا تحقیقی،علمی اوروسیع ہے،تقریباً ساٹھ جلدوں میں یہ کام ہونا ہے،اب تک اس کی آٹھ جلدیں شائع ہو چکی ہیں،جب کہ اردو کے علاوہ انگریزی اورعربی میں بھی ایک ایک جلد شائع ہو چکی ہیں،ہندی ترجمہ کا بھی منصوبہ ہے،دعاپر اس نشست کا اختتام ہوا۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker