ہندوستان

ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے مجرمین کو سرِ عام پھانسی دینے کی ضرورت : مولانا بدر الدین اجمل

کسی مجرم کے مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلانے والے لوگ بھی مجرم ہیں
نئی دہلی/ ممبئی:2؍ دسمبر (پریس ریلیز)آل انڈیا ٰیونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل نے حیدرآبا د کی ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے ریپ اور قتل کے دلخراش اور شرمناک واقعہ پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام مجرمین کو لاکھوں لوگوں کے سامنے بالکل سرِ عام پھانسی د ینے کی ضرورت ہے تاکہ دوسرے لوگ اس طرح کے جرم کا ارتکاب کرنے سے پہلے اس کی سزا کا سونچ کر کانپ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2012 میں دہلی میں نربھیا کے ساتھ ہونے والے دردناک واقعہ کے بعد پورے ملک میں اس کے خلاف غصہ دیکھنے کو ملا تھا ، اس کے بعد 2013 میں ایک نر بھیا ایکٹ پارلیمنٹ سے پاس ہوا جس کے تحت ریپ کے مجرمین کو پھانسی دینے کی سزا موجود ہے مگر سونچنے کی بات یہ ہے کہ اس قانون کے بننے کے بعد بھی ہر دن عورتوں کا ریپ ہو رہا ہے اور پہلے سے بھی زیادہ ہو رہا ہے مگر اب تک اس قانون کے تحت کسی کو پھانسی نہیں ہوئی ہے یہاں تک کہ نر بھیا کے مجرمین کو بھی اب تک پھانسی نہیں ہو پائی ہے۔اس لئے سرکار کو چاہئے کہ ٹال مٹول کے بجائے فوری طور پرریپ کے مقدمات کے لئے علیحدہ فاسٹ ٹریک کورٹ پورے ملک میں قائم کرے اور مجرمین کو تین مہینہ کے اندر لاکھوں لوگوں کو جمع کرکے سب کے سامنے پھانسی دی جائے ۔مولانا نے کہا کہ صرف قانون بنانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا جب تک کہ اس کا صحیح سے نفاذ نہ ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ریپ کے مجرمین کو سرِ عام پھانسی دینے کی شروعات ہو گی اور اس سزا کی تشہیر ہوگی تو ریپ کے واقعات میں کمی آئے گی۔ مولانا نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ہماری پولس کو بھی اس سلسلہ میں مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے کہ جب کوئی متاثر ان کے پاس جائے یا مد د کے لئے فون کرے تو اس میں کوتاہی کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہونی چاہئے، اسی طرح سماجی طور پر بھی ریپ کے خلاف بیداری پیدا کرنے اور تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا اجمل نے مزید کہا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ریپ جیسے گھنائونہ جرم کے بعد بھی کچھ سماج دشمن اور ملک مخالف ذہنیت کے مالک لوگ مجرمین کا مذہب اور ذات دیکھ کر رد عمل ظاہر کرتے ہیں،چنانچہ حیدرآباد ریپ کے بعد جب معلوم ہوا کہ چار میں سے ایک مجرم مسلمان ہے تو نفرت کے پجاریوں نے اس جرم اور مجرم کے خلاف آواز اٹھانے کی بجائے مسلمان اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کشمیر کے کٹھوا میں ایک نابالغ کے ریپ میں ملوث لوگوں کی حمایت میں ریلی نکالی یا اس کی حمایت کی کیونکہ مجرمین ہندو تے، یہی لوگ اُنّائو کے ریپ کے مجرم کی حمایت میں اُترآتے ہیں، یہ وہی لوگ ہیںجو ابھی جھارکھنڈ میں لاء کی طالبہ کے گینگ ریپ پر خاموش ہیںکیونکہ تمام 12 مجرمین ہندو تھے۔مجرمین کا مذہب اور ذات دیکھ کر رد عمل ظاہر کرنے والے بے شرم لوگ اس ملک کے دشمن ہیں جن کی وجہ سے ایک طرف تو مجرمین کو شہہ ملتی ہے اور دوسری طرف ملک میں نفرت کی وبا پھیلتی ہے جو اس ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ اسلئے تمام لوگوں کو جرم اور مجرم کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے خواہ مجرم کسی بھی مذہب، ذات اور فرقہ کا ہو اس کو سزا ملنی چاہئے۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker