مضامین ومقالات

اسرائیل : دنیا کی ناکام ترین ریاست

ڈاکٹر سلیم خان

اسرائیل میں  ایک بر سرِ اقتدار  وزیر اعظم پر بدعنوانی ، دھوکے اور عوام کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ اٹارنی جنرل نے بن یامین نیتن یاہو پر کئی ماہ سے زیر تفتیش مذکورہ  تین الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی ہے۔ان  پر اس وقت   یہ مصیبت اس لیے آئی کہ وہ رواں سال منعقد ہونے والے دوسرے انتخابات کے بعد بھی  حکومت سازی میں ناکام رہے۔ کسی طرح جوڑ توڑ کرکے اگروہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتے تو اٹارنی جنرل کی کیا مجال تھی کہ انگشت نمائی کی جرأت کرتے ۔ اب  باضابطہ سماعت کے بعد   عدالت ان کے خلاف فیصلہ سنائے گی ۔ چار ماہ قبل ’عالمی دوستی کے دن ‘ اسرائیلی سفارتخانے نے مودی اور یاہو کی ایک تصویری  ویڈیو شائع کی تھی  جس کے پس منظر  میں شعلے فلم کا نغمہ ’’یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے ‘‘  چل رہا تھا ۔ اس کے جواب میں مودی جی نے عبرانی زبان میں لکھا تھا ’’ شکریہ، اسرائیل کے عوام اور میرے بہترین دوست نیتن یاہو کی خدمت میں    فرینڈشپ ڈے کی مبارکباد۔ ہندوستان اور اسرائیل وقت کی کسوٹی پر  آزمائے ہوئےدوست ہیں۔ہمارا تعلق مضبوط اور لازوال ہے۔ دعا ہے ہماری رفاقت  اور بھی پھولے پھلے  ‘‘۔ اس آزمائش  کی گھڑی میں  یاہو کو اگر مودی غمخواری کا پیغام بھیجیں کو جواب میں  غالب کا یہ شعرآئے گا؎

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے                             ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

نیتن یاہو پر لگائے گئے سب سے سنگین ترین الزام کو 4000 کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں نیتن یاہو پر رشوت لینے اور عوام کو ٹھیس پہنچانے جیسے الزامات ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم پر دوسرے الزام کو 2000 کے  نام  سے موسوم کیا گیا ہے اور اس کیس میں ان پر ایک ٹیلی کام کمپنی کے مالک کو رشوت اور اپنے حوالے سے مثبت خبریں شائع کرنے کے عوض حریف اداروں کے لیے سخت مشکلات میں ڈالنے جیسے الزامات لگائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تیسرے سنگین الزام  1000 کا نام  ہے اور اس کیس میں اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ پر امیر ترین افراد سے سیاسی فوائد پہنچانے کے عوض قیمتی تحائف لینے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے اپنے خلاف فرد جرم عائد کیے جانے کے فوری بعد شاہ جی کی طرح ڈھٹائی دکھاتے ہوئے  بن یامین نیتن یاہو نے ان  الزامات کو سیاسی سازش قرار دے دیا۔

یاہو کی اس احمقانہ منطق سے کون اتفاق کرسکتا ہے کہ ان کے زیر اقتدار اٹارنی جنرل کے دفتر نے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے طاقت اور پیسوں کا استعمال کیا اور اس کے ذریعہ  تختہ الٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے باوجود یاہو اقتدار کو چھوڑنے کے بجائے  عوام کی خدمت کرنا چاہتےہیں۔ اسرائیل کی عجیب و غریب جمہوریت میں  وزیر اعظم اس وقت تک عہدے پر براجمان رہ سکتا ہے جب  تک کہ  عدالت سزا نہیں سناتی ، تاہم اخلاقی طور پر اگر وہ چاہے تو استعفیٰ دے سکتا ہے لیکن مودی جی کے جگری دوست حسن اخلاق کی توقع کرنا سراسر حماقت ہے۔ ڈھائی سال سے جاری  تفتیش کے دوران جب یاہو کو حیا نہیں آئی تو اب فرد جرم داخل ہوجانے کے بعد کیونکر آسکتی ہے۔ ایک طرف یاہو اقتدار کو اپنے دانتوں سے پکڑے ہوئے ہیں اوردوسری جانب سڑکوں ان کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں ۔ عوام تو دو مرتبہ شکست فاش سے دوچار کرکے اپنی  ناراضگی ظاہر کرچکےہیں  لیکن بقول ذوق؎

اے  !  ذوقؔ  اتنا   دُخترِ رز کو  نہ منہ  لگا                           چھٹُتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

 اسرائیل میں تحریک برائے معیاری حکومت نے عدالتِ عظمیٰ  سےدرخواست میں کہا ہے کہ  وزیراعظم کے خلاف فوجداری الزامات میں فرد جرم  کے عائد ہوجانےسے  حکومت  پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔اس لیے نیتن یاہو کو مستعفی ہونے یا عارضی طور پر خود کو وزارتِ عظمیٰ کے فرائض سے سبکدوش ہونے پر مجبور کیاجائے لیکن عدلیہ اسرائیل کے ناقص آئین کے آگے بے یارو مددگار ہے۔ نیتن یاہو کی اپنی جماعت لیکوڈ کے رہنما  گڈون سعار بھی دباو بڑھا رہے ہیں لیکن جیل جانے سے خوفزدہ یاہواقتدار  ٹس سے مس نہیں ہورہے۔سعار نے  کہا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں ان کی جماعت ملک میں منعقد ہونے والے آئندہ تیسرے انتخابات میں بھی  کامیاب نہیں ہوسکے گی اس  نئی قیادت کا انتخاب کرنا چاہیے لیکن جب تک اقتدار کے حریص یاہو اپنی  جگہ سے  فیویکول لگا کر چپکے رہیں گے  یہ کیونکر ممکن ہے  ۔

نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ برسراقتدار رہنے والے وزیراعظم ہیں ۔ وہ مسلسل چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں لیکن  ستمبر میں چھے ماہ  کے اندر  دوبارہ منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بھی وہ  اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہےاوردیگر جماعتوں  کی حمایت سے  مخلوط حکومت کی تشکیل بھی حاصل نہیں کرسکے ۔ان کے مد مقابل سابق آرمی چیف بینی گانز کو حکومت قائم کرنے موقع دیا گیا تو وہ بھی حکومت سازی  میں  ناکام رہے ہیں ۔ فی الحال  اسرائیلی صدر کی جانب سے عطا کردہ  اکیس دن کے وقفہ میں کوئی بھی جماعت نئی حکومت بنانے میں ناکام رہتی ہے تو پھر اسرائیل کے اندر ایک سال میں تیسری مرتبہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے۔ اس سیاسی بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گڈون سعار نے کہا  ہے کہ’’ ہم صرف ایک ہی طریقے سے ملک کو موجودہ بحران سے نکال کر لیکوڈ کی حکمرانی کے تسلسل کو یقینی بنا سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اس  اکیس دن کی مدت کے خاتمہ سے قبل  نئے لیڈر کا انتخاب کریں۔‘‘

اس بحران سے نکلنے کی خاطر بینی گانز نے ادھو  کی طرح ڈھائی ڈھائی سال کے اقتدار میں اشتراک کا فارمولا بھی پیش کیا ہے۔  نیتن یاہو کے کٹر مخالف یہ تجویز پیش کی ہے کہ پہلے ڈھائی سال وہ وزیراعظم رہیں گے اور اس بیچ اگر نیتن یاہو ان الزامات سے بری ہوجاتے ہیں تو وہ باقی مدت میں وہ اقتدار سنبھال سکتے ہیں لیکن یاہو نے اس تجویز کو فڈنویس  مسترد کردیا ہے۔اس طرح  اسرائیل میں جمہوریت کے ذریعہ   سیاسی استحکام کا جنازہ اٹھ گیا ہے ۔ اپریل (۲۰۱۹؁)   کے پارلیمانی انتخاب  میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ  کو  ایوان پارلیمان کی 120 نشستوں میں سے35پر جیت حاصل  ہوئی ۔ وہ  پھر سے دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کے سہارے  اکثریت ثابت کردیتے  تو  پانچویں مرتبہ  وزیراعظم بن کر  تاریخ رقم کردیتے  لیکن  ایسا نہیں ہوا۔ ڈیڑھ ماہ کی جوڑ توڑ ناکامی کے بعد ستمبرکے اندر دوبارہ  انتخابات کا اعلان  کرنا پڑا۔   یاہو کو اگر بدعنوانی کے سبب جیل جانے کا خوف  نہ ہوتااور وہ  پارلیمان تحلیل نہ کرتے تو حزب اختلاف کو حکومت سازی کا موقع  ملتا   دنیا بھر کے وسائل ضائع نہ ہوتے مگراقتدار کی ہوس  اور بیجا خود اعتمادی  نے نہ صرف یاہو  کو ذاتی طور پر  بدنام کیا بلکہ ملک کی ساکھ بھی ملیا میٹ کردی۔

اس کے بعد  ۶ ماہ تک تمام سیاسی جماعتوں نے بشمول لیکوڈ نے نہایت شرمناک اور نفرت انگیز انتخابی مہم چلائی ۔22 ویں کنیسٹ (پارلیمانی) انتخابات میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ اور سابق آرمی چیف بینی گانز کی بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کو کم وبیش برابر نشستیں حاصل ہوئیں۔ نتین یاہو کی  سربراہی والے اتحاد کو 120 میں سے 55 نشستیں اور حزب اختلاف  کے اتحاد کو 56 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ  لیکوڈ کے صرف 31 اور حریف نیلی اور سفید پارٹی کو ۳۳  نشستوں پر کامیابی  ملی۔  اس اخلاقی شکست کے باوجود یاہونے ایک ماہ تک قومی حکومت تشکیل کرکے پھر سے وزیراعظم بننے کی بھرپور کوشش کرتے رہے اور بالآخر ہمت ہار کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد  گینز  کو حکومت سازی  کی دعوت دی گئی تو وہ بھی  ناکام ہ گئے اور پھر سے تیسرے الیکشن کے بادل منڈلانےلگے۔  جائزوں کے مطابق آئندہ الیکشن میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی اس لیے کہ عوام اپنا موقف تبدیل کرنے کے لیے آمادہ  نہیں ہیں ۔ ایسے میں مارچ کے اندر کارگذار سرکار  کو بجٹ کا اختیار  نہیں ہونے کے سبب یہ سیاسی بحران قومی  معاشی  بحران  میں تبدیل  ہوجائے گا ۔  مشرق وسطیٰ کے اعلیٰ ترین جمہوریت کا یہ حال ہے تو خستہ حال جمہوریتوں کے بارے میں قیاس  آرائی  مشکل نہیں ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جبکہ ساری عرب حکومتوں کے سامنے اسرائیل کو ایک نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا  تھا۔ حال  میں بحرین کے اندر امریکہ نے  مختلف سربراہانِ  مماملک کو  بلا کراس کے سانچے میں ڈھالنے کی ترغیب  دی  گئی  لیکن  قدرت نےاسرائیل  کے جمہوری نظام  کی بدولت خود اس کو  زبردست خلفشار کا شکار کردیا۔ 

 اسرائیل اور پاکستان ایک ساتھ ہی عالم وجود میں آئے اور جب بھی دنیا کے کامیاب ترین ممالک کا ذکر ہوتا ہے تو سرفہرست اسرائیل کا نام لیا جاتا ہے اور پاکستان کو ناکام ریاست(failed state) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔  وکی پیڈیا  میں ناکام  ریاست کی یہ تعریف بیان ہوئی ہے کہ ’’ ناکام ریاست ایک سیاسی ادارہ ہے جو اس مقام پر منتشر ہوچکا ہے جہاں خود مختار حکومت کی بنیادی شرائط اور ذمہ داریاں ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتی ۔ ایک ریاست بھی ناکام ہوسکتی ہے اگر حکومت اپنا جواز کھو دیتی ہے چاہے وہ اپنے فرائض صحیح طریقے سے انجام دے رہی ہو۔ مستحکم ریاست کے لئے حکومت کو تاثیر اور قانونی حیثیت سے لطف اندوز ہونا ضروری ہے‘‘۔ فی الحال یہ تعریف اسرائیل پر پوری طرح صادق آتی ہے۔سہل  ترین تصور کے مطابق ایک ناکام ریاست کسی بھی ایسی ریاست کو کہا جاسکتا ہے کہ جہاں کی حکومت ان فرائض کی ادائیگی میں کوتاہ یا ناکام رہی ہو جو موجودہ انسانی تہذیب کے معیار کے مطابق  عوام پر حکمرانی کے لحاظ سے اس پرلازم  ہوں۔ اسرائیل میں گزشتہ ۶ ماہ سے یہی صورتحال ہے اور آئندہ ۶ ماہ بعد ہونے والے انتخاب تک جاری  رہنے کا قوی  امکان  ہے اس لیے  اسے بجا طور پر دنیا کی ناکام ترین ریاست کے خطاب سے نوازہ جانا چاہیے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ معاشیات اور انسانی تاریخ کے ماہرین ناکام ریاستوں کو دنیا اور انسانیت کے لیے ایک عظیم خطرہ قرار دیتے ہیں اور اسرائیل تو ایک ناسور ہے۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker