ہندوستان

لابنگ کرکے اپوزیشن کو شہریت ترمیمی بل روکنے کے لیے آمادہ کیجئے، معروف عالم دین مولانا یحییٰ نعمانی کی مسلم قیادت سے ایک دردمندانہ اپیل

 

لکھنؤ: 3دسمبر(پریس ریلیز) معروف عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر مولانا یحییٰ نعمانی نے آج مسلم تنظیموں اور شخصیتوں سے اپیل کی کہ وہ شہریت ترمیمی بل CAB کے سلسلے میں سیاسی پارٹیوں کی لابینگ کریں۔ انہوں نے آج ایک اخباری بیان میں کہا کہ سبھی بخوبی واقف ہیںکہ آسام کے عوام پر N.R.Cکی شکل میں کیسی پریشانی آئی تھی۔ تیس سال کی جد وجہد کے بعد بھی 19لاکھ لوگ اپنے آپ کو ہندوستانی ثابت نہیں کر پائے۔ اُن میں غیر مسلموں کی اکثریت ہے ۔ مرکزی حکومت، ان سب کو راحت دینے کے لئے (C.A.B) Citizenship Amendment Bill لا رہی ہے۔ جس کے ذریعہ صرف مسلمانوں کو غیر ملکی ’’گھس پیٹھیا‘‘ قرار دے دیا جائے گا ۔

حکومت کا بارہا اعلان آچکا ہے کہ C.A.Bکے پاس ہوجانے کے بعد N.R.Cکی کاروائی پورے ملک میں کرائی جائے گی ۔ آسام میں تو یہ کارروائی تقریبا تیس سال میں مکمل ہوئی، اور اس کی نگرانی سپریم کورٹ میں نے کی۔ اسی لیے بی جے پی اس سے اتنی نا خوش ہے کہ اس افسر کا تبادلہ بھی کردیا گیا جس کے تحت N.R.C کاکام انجام پایا تھا۔ باقی ملک میں یہ پتہ نہیں کس جلد بازی اور دھاندلیوں کے ساتھ ہوگی، اور اس میں کیسے متعصب کارندے استعمال ہوں گے۔

مولانا نے کہا کہ ظاہر بات ہے کہ یہ صورت حال مسلمانوں کے لئے کیسی تباہ کن ہوگی ،اس کے تصورسے بھی رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں ۔معمولی سی دستاویزی غلطیوں کی بنا پر لاکھوں مسلمان ہر طرح کے حق سے محروم ہوں گے۔ ان کی املاک ضبط اور حقوق سلب ہوں گے۔ پھر ان لاکھوں کی نسلیں کس مظلومیت اور کسمپرسی کی زندگی گزاریں گے، اور کب تک گزاریں گے اس کا کسی کو کچھ پتہ نہیں۔ الامان الحفیظ۔

بظاہر اس ظالمانہ کاروائی سے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے ،اور وہ یہ کہ C.A.Bکو پارلیمنٹ سے پاس نہ ہونے دیاجائے ۔ کیوں کہ NRC ایک دستوری عمل ہے اور آزادی کے فورا بعد سے اس کی سفارش قانونی طور پر چلی آرہی ہے، اس لیے اس کو براہ راست روکنا نا ممکن ہے۔ اس کو فی الوقت ٹال دیا جائے یا معقول طور پر کیا جائے اور اس میں کوئی ظلم نہ ہو، اس کے لیے راستہ صرف اور صرف یہی ہے کہCAB کا دستور مخالف بل پاس نہ ہونے دیا جائے۔ یہ اگر پاس ہو گیا تو پھر آپ کچھ نہیں کر سکیں گے۔

حکومت اس کے لئے بہت پر عزم ہے ، لیکن راجیہ سبھا میں ان کی اکثریت نہیں ہے ۔اور دھیرے دھیرے بی جے پی کے اتحادی بھی اس سے الگ ہورہے ہیں۔ شیوسینا ، لوک جن شکتی (رام ولاس پاسوان ) جنتادل یونائٹڈ (نتیش ) اور شمال مشرق کی تمام پارٹیا ںبے زار ہو رہی ہیں۔یہ صورت حال امید افزا ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کی تمام پارٹیاں اب مضبوط مزاحمت کے موڈ میں ہیں ۔ کل ہی کانگریس کے اعلیٰ رہنما جے رام رمیش نے کہا ہے کہ کانگریس دیگر پارٹیوںکے ساتھ رابطہ کر کے CAB کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

اگر ملت کی قیادت نے منصوبہ بند طریقہ پر کانگریس اور مختلف سیاسی پارٹیوں کی قیادت سے اس سلسلے میں رابطہ کر لیا اور ان کو اس سے آگاہ کرایا کہ C.A.Bصریح طور پر مذہب کی بنیاد پرملک کی شہریت دینے والا قانون ہوگا ,جو سراسر ظلم بھی ہے اور دستور ہند کے خلاف بھی ، توقوی امید ہے کہ C.A.Bجیسا غیر دستوری قانون بننے سے روکا جا سکے گا ۔ شمال مشرق کی پارٹیاں ،ممتا بنرجی،نتیش کمار ،شرد پوار،شیو سینا،D.M.Kاور کانگریس سمیت تمام اپوزیشن کو متفق کر کے آسانی سے اس کوپاس ہونے سے روکاجا سکتا ہے۔

بس تھوڑی سی محنت ومنصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔اور اگر یہ رک گیا تو پہلے مرحلے میں آسام کے تقریبا پانچ لاکھ مسلمانDetention Centre کی آفت سے بچ سکیں گے، وہ بھی اور ان کی آئندہ نسلیں بھی۔ اور پورے ملک کے لاکھوں لاکھ مسلمانوںکو اس بد ترین ظلم سے بچانے کی بس یہی ایک راہ ہے کہ اپنی ساری توانائی اس سیاہ بل کا راستہ روکنے پر لگا دی جائے۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ تمام ملی تنظیموں سے خصوصا جمعیۃ علماء ہند، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جماعت اسلامی اور ملی کونسل وغیرہ سے اس عاجز کی پر زور استدعا ہے کہ اس کام کو فوری ترجیح دیں۔ سیاسی پارٹیوں سے رابطہ کریں ان کی قیادت سے ملاقات کرکے اپنا پورا وزن ڈال دیں کہ ہر حال میں CAB کے تفریق آمیز، غیر دستوری اور ظالمانہ قانون کو روکنا ہے۔ یہ نہایت نازک مسئلہ ہے اور فوری طور پر حرکت میں آنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ وقت بہت کم ہے۔ اگر آپ اس کوشش میں کامیاب ہوگئے تو آپ کا ملت پر تاریخی احسان ہوگا اور اللہ آپ سے راضی ہوگا۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker