ہندوستان

متھلانچل میں یوم معذور پر بیداری مہم کا انعقاد، معذوروں کو ذہنی طور پر بااختیار بنانے اور دوسروں کے مابین باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دینے کی اپیل

 

دربھنگہ۔ ۳؍دسمبر: (رفیع ساگر) یوم معذور کے موقع پر منگل کو المدد ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر ٹرسٹ، پٹنہ کے زیراہتمام متھلا آئی ٹی آئی، جمال چک کے کانفرنس ہال میں ایک بیداری مہم کا انعقاد کیا گیا۔آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے بطورمہمان خصوصی پروگرام میں شرکت کی۔ اس پروگرام کی صدارت بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ کے سابق چیئرمین ڈاکٹراعجازاحمد نے کی۔پروگرام میں بطورمہمان اعزازی اسرارالحق لاڈلے کے علاوہ ٹرسٹ کے صدر و متھلا آئی ٹی آئی کے سکریٹری انجینئرمحمدفخرالدین قمر، کالج کے ڈائرکٹر انجینئرمحمداظہرالدین، پرنسپل انجینئر گنیش پرساد رائے، کالج اساتذہ اور سیکڑوں کی تعداد میں طلباء نے شرکت کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی نظرعالم نے کہا کہ یہ درحقیقت اقوام متحدہ کی مہم کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد معذوروں کو ذہنی طور پر بااختیار بنانا اور دوسروں کے مابین باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔ اس پروگرام کو یومِ معذور کے طور پر منانے کے لئے باقاعدہ آغاز 1992 سے کیا گیا۔ جب کہ اس سے ایک سال قبل1991 میں اقوام متحدہ نے اس تاریخ کو ہرسال 3دسمبر سے بین الاقوامی معذور دن کے طور پر منانے کی منظوری دی تھی۔مسٹر عالم نے مزید کہا کہ آج بھی معاشرے کے لوگ معذور افراد کو غلط نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے معذورافراد نے ملک میں مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے لیکن لوگوں کا ان کے ساتھ آج بھی اچھا برتاؤ نہیں ہے۔ بطور مہمان اعزازی اسرارالحق لاڈلے نے کہا کہ طبی وجوہات کی بناء پر بعض اوقات کسی شخص کے خاص اعضاء میں نقائص پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ معاشرے میں ’معذور‘ کہلاتا ہے اور اسے ایک خاص طبقے کا رکن کی حیثیت سے معاشرے کے لوگ دیکھنے لگتے ہیں۔ انہوں نے آگے کہا کہ عام طور پر ہمارے ملک میں معذوروں کے بارے میں دو طرح کے تاثرات پائے جاتے ہیں اوّل، یہ کہ اس نے پچھلی زندگی میں کوئی گناہ کیا ہوگا، لہٰذا اسے ایسی سبزا ملی ہے اور دوسرا یہ کہ وہ پیدا ہوا تھا صرف مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے، لہٰذا اس پر رحم کیا جائے۔ تاہم یہ دونوں مفروضے بالکل بے بنیاد اور غیرمعقول ہیں۔اسی دوران اپنی صدارتی خطاب میں ڈاکٹراعجاز احمد نے کہا کہ لوگ معذور افراد پر طعنہ کسنے سے خود کو نہیں روکتے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ یہ بھی نہیں سمجھتے کہ لمحہ بہ لمحہ کسی معذور کوطعنہ دے کر یا طنز کس کر اسے اور معذور بنارہے ہیں۔ افسوس ان لوگوں کی ذہنیت پر آجاتا ہے جو درد بانٹنے کی بجائے بڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایک معذور شخص کی زندگی کتنی دشوار ہے اسے سمجھنا بیحد ضروری ہے۔ اگر گھروالوں نے ذہنی مدد نہیں کی تو وہ شخص اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ درحقیقت لوگوں کی ناپسندیدگی کی وجہ سے معذور افراد خود غرض طرزِ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ معذور شخص پر طنز یا طعنہ ان کے ذہن میں زندگی کے بارے میں ایک ناگوار احساس کو جنم دیتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہندوستان میں معذوروں کی حیثیت دنیا کے دوسرے ممالک کے مقابلے بدتر ہی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ایک طرف تو یہاں کے لوگ زیادہ ترحوصلہ شکنی ہی کرتے نظر آتے ہیں ساتھ ہی معذوروں کی حوصلہ افزائی تک نہیں کرتے۔آج کل مٹھی بھر آبادی کا یہ حصہ ہرلحاظ سے نظرانداز کیا جارہا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ان کا مذاق زیادہ بنایا جاتا ہے۔ دوسری طرف غیرممالک میں معذور افراد کے لئے انشورنس کا ایک نظام موجود ہے جو ان کی ہرممکن مدد کرتا رہتا ہے، جب کہ ہندوستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہاں معذوروں کے مفاد میں کسی جانے والی بہت ساری کارروائیاں یقینی طور پر آئین کو بڑھارہی ہے لیکن سلوک کی بنیاد پر آزادی کے سات دہائیوں بعد بھی معاشرے میں معذوروں کی حیثیت صرف افسوسناک ہے۔ یہ ضروری ہے کہ معذور افراد کے لئے تعلیم، صحت اور وسائل کے مواقع دستیاب کرائے جائیں۔ دیکھا جاتا ہے کہ معذور کو ہرماہ دی جانے والی پنشن میں ریاستی حکومت بھی مذاق ہی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر دہلی میں یہ رقم 1500 کے لگ بھگ ہر ماہ معذوروں کو دی جاتی ہے جب کہ جھارکھنڈ سمیت کچھ دیگر ریاستوں میں صرف 400 کے آس پاس روپئے معذور افراد کو رسمی ادائیگی کے طور پر دئے جاتے ہیں۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس رقم کو پانے کے لئے بھی معذور افراد کو بہت ساری پریشانیوں سے گذرنا پڑتا ہے۔ پروگرام کی نظامت انجینئرمحمدفخرالدین قمر نے کی۔ پروگرام کو سنتوش کمار، نتیش کمار، نشانت کمار، مسٹر منظور وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ وہیں دوسری جانب مدرسہ اصلاح البنات سوبھن، دربھنگہ میں بھی اس موقع پر ایک بیداری مہم کا انعقاد کیا گیا جس میں مدرسہ کی پرنسپل ثروت افروز، مولانا منہاج عالم، مولانا نیازاحمد، مولانا ممتاز وغیرہ نے شرکت کی۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker