ہندوستان

راجیودھون کی عزت سے جمعیۃ کا کھلواڑ! پہلے ریویو پٹیشن سے ہٹانے کی خبر آئی پھر وضاحت کی کہ مقدمہ سے نہیں ہٹایا گیا، ایڈوکیٹ راجیو دھون نے کہا کہ اب وہ جمعیۃ کی طرف سے نظرثانی کی درخواست پر جرح نہیں کریں گے

 

نئی دہلی۔ ۳؍دسمبر: بابری مسجد مقدمہ کے سینئر وکیل راجیو دھون سپریم کورٹ میں دائر نظر ثانی کی درخواست پر جرح نہیں کریں گے،نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے والی جمعیۃ علمائے ہند نے مسٹر دھون کو معاملے سے الگ کردیا ہے۔آج اس خبر کے پھیلتے ہی عام مسلمانوں میں شدید بے چینی دوڑ گئی، حالانکہ بعد میں جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ’وضاحت‘ کے نام پر لیپا پوتی کی کوشش بھی کی گئی لیکن بابری مسجد معاملہ کے ری ویو پٹیشن سے ہٹائے جانے یا ’برطرف ‘کیے جانے کی خبر خود ایڈوکیٹ دھون نے اپنے فیس بک پوسٹ کے ذریعے دی ۔انہوں نے لکھا ہے کہ انہیں بابری مسجد کیس کے جمعیۃ علما ہند کے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے برخاست کردیا ہے،اور برخاستگی کی وجہ ان کا بیمار ہونا بتایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب نظر ثانی پٹیشن یا اس معاملے میں کسی بھی سماعت میں وہ شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے ’بیمار‘ بتانا بکواس ہے‘‘۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’’ مجھے اطلاع ملی ہے کہ ارشد مدنی نے اشارہ دیا ہے کہ مجھے خراب طبیعت کے سبب ہٹایا گیاہے۔ یہ پوری طرح سے بکواس ہے۔ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اپنے وکیل اعجاز مقبول کو ہدایت دیں کہ وہ مجھے ہٹا دیں، انہوں نے یہی کیا ہے،لیکن اس کے پیچھے بتائی جانے والی وجہ بدبختانہ اور جھوٹی ہے‘‘۔اس معاملہ پر وکیل اعجاز مقبول نے کہا ’’ معاملہ یہ ہے کہ میرے کلائنٹ یعنی کہ جمعیۃ کل ( پیر کے روز) نظر ثانی کی عرضی داخل کرنا چاہتی تھی‘۔ یہ کام ایڈوکیٹ راجیو دھون کو کرنا تھا وہ دستیاب نہیں تھے اس لئے میں عرضی میں ان کا نام نہیں دے پایایہ کوئی بڑی بات نہیں ہے‘‘۔اس تعلق سے جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے ملک کے ممتاز اور سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون کے تعلق سے میڈیا میں آرہی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے انہوں کہا کہ ’’انہیں ہرگز ہرگز کیس سے الگ نہیں کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں ایڈوکیٹ اعجاز مقبول جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ تھے اور ریویوپٹیشن داخل کرنے میں بھی وہی ہمارے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ہیں لیکن اس سے یہ مطلب اخذ کرلینا کہ ڈاکٹر راجیودھون کو جمعیۃعلماء ہند کے کیس سے الگ کردیا گیا ہے انتہائی نامناسب بات ہے۔مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ ہم ڈاکٹر راجیودھون سے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی کبھی ان سے ہماری فون پر گفتگوہوئی ہے، ہمارے درمیان اعجاز مقبول ہی ایک ایسا ذریعہ تھے جو ہماری بات ان تک پہنچاتے تھے،انہوں نے کہا کہ اگر کسی طرح کی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے توہم ڈاکٹر راجیودھون سے مل کراپنی غلطی کی معافی مانگ لیں گے۔ مولانامدنی نے وضاحت کی کہ ریویوپٹیشن داخل کرتے وقت جب ہم نے ایڈوکیٹ اعجاز مقبول سے دریافت کیا تو انہوں نے اطلاع دی کہ ان کے دانت میں تکلیف ہے اور وہ ڈاکٹر کے یہاں گئے ہوئے ہیں ہم نے پریس کانفرنس میں بھی یہی بات کہی ہے، یہ ہرگز نہیں کہا کہ ڈاکٹر راجیودھون کو خرابی صحت کے بناء پر کیس سے الگ کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے اس حوالہ سے کوئی خط یا ای میل نہیں لکھا البتہ راجیو دھون نے اعجاز مقبول کو ای میل بھیجاہے، انہوں نے آخرمیں کہا کہ ڈاکٹر راجیودھون آج بھی جمعیۃعلماء ہندکے وکیل ہیں اور اس کیس میں آگے جو بھی قانونی عمل ہوگا ان کے مشورہ سے ہی ہوگا۔سوشل میڈیا پر اعجاز مقبول کے تعلق سے کئی افراد نے لکھا کہ وہ سماعت کے دوران جمعیۃ اور بورڈ دونوں سے پیسے لیتے رہے ، جبکہ ڈاکٹر راجیو دھون نے ایک روپیہ بھی نہیں لیا، اور فرقہ پرستوں کی دھمکیوں کے باوجود مقدمہ لڑتے رہے۔ ایک یوزر نے لکھا کہ ڈاکٹر راجیو دھون کو تکلیف دو باتوں سے ہے ایک انہیں بیمار کہنا جو کہ غلط بیانی ہے جبکہ انہو ںنے گزشتہ روز ہی یوم قانون پر دہلی میں بڑی تفصیلی تقریر کی تھی، دوسری تکلیف دہ بات اعجاز مقبول کے گستاخانہ جملے اور غیر شریفانہ لب ولہجہ سے ہے۔ انہیں اس طرح کنارے کرنا احسان فراموشی ہے مستقبل میں یہ واقعہ بطور مثال پیش کیاجائے گا اور ہم لوگوں پر کوئی بھروسہ نہیں کرے گا۔ کئی یوزرس نے تو یہ بھی لکھا کہ اتنی بڑی تنظیم میں اعجاز مقبول جیسے افراد آخر امت کو کہاں لے جاناچاہتے ہیں۔ آخر انہیں دروغ گوئی کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی۔ اور وہ کون ہوتے ہیں اتنا بڑا فیصلہ لینے والے۔ جمعیۃعلماء ہند نے بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں گزشتہ 9/نومبر کوآئے فیصلہ کے خلاف کل سپریم کورٹ میں ریویوپٹیشن (ڈائری نمبر43241-2019) داخل کردیا ہے۔ ریویوپٹیشن (نظرثانی کی عرضی) کی دفعہ 137کے تحت دی گئی مراعات کی روشنی میں داخل ہے۔ کل سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول نے صدرجمعیۃ علماء ہند مولانا سیدارشد مدنی کی ہدایت پر ریویوپٹیشن داخل کی۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker