ہندوستان

غم کے ماحول میں ہوئی بابری مسجد کی یاد تازہ، مختلف مقامات سے گونج اٹھی ممبئی میں اذان و دعا کی صدا، ہم آخری دم تک انصاف کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے : الحاج محمد سعید نوری

غم کے ماحول میں ہوئی بابری مسجد کی

ممبئی۔ ۶؍دسمبر: ملک میں یوں تو ہزاروں مسائل ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ملک کی بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عالمی سطح پر ہمارے ملک کی شبیہ خراب ہوئ ہے۔ ان تمام واقعات میں سب سے زیادہ بھیانک واقعہ 6دسمبر 1992کا ہے جب شرپسندوں نے دن کے اجالے میں پولیس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود 16ویں صدی کی بابری مسجد کو شہید کر دیا اور برسرِ اقتدار حکمران تماشا دیکھتے رہے اس دن سے لیکر آج تک یہ واقعہ جمہوری ملک کے پر ماتھے پر ایک سیاہ دھبہ کے مانند لگا ہوا ہے جو کسی طرح سے دھلنے کا نام نہیں لے رہا ہے ملک میں سیکولر ازم پر یقین رکھنے والے کو یہ امید تھی کہ ایک نہ ایک دن سب سے بڑی عدالت کا فیصلہ مسجد کے حق میں آیا گا اور فرقہ ورانہ ماحول پیدا کرنے والے فسطائیوں کو سزا ملے گی مگر ہوا اس کے برعکس کہ سارے ثبوت مسجد کے حق میں ہونے کے باوجود فیصلہ اکثریتی طبقے کے حق میں دیا گیا 9نومبر کو پھر ایک مرتبہ بابری مسجد کو شہید کرتے ہوئے بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے لیے دے دی گئی اس غیر متوقع فیصلہ پر مسلمانوں کے ساتھ انصاف پسند وں کو بھی رونا آگیا کہ فیصلہ کا احترام تو ضرور ہے مگر حقائق سے چشم پوشی ہےان سب کے باوجود ملک کے مسلمانوں نے امن و سلامتی کا وہ پیغام دیا کہ اس کی نظیر دنیا بھر میں ملنا مشکل ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عوام کو یہ پیغام دینے کی یہ بھی خوب کوشش کی جارہی تھی کہ اب سب کچھ ہو گیا مسجد معاملہ اب ہمیشہ کےلئے ٹھنڈے بستہ میں چلا جائے گا مگر رضا اکیڈمی جو شروع سے ہی بابری مسجد کی تاریخ شہادت 6دسمبر پر ممبئی میں مختلف مقامات پر مسجد کی تعمیر نو کے عہد کے ساتھ اذان و دعا کا اہتمام کرتی رہی ہے مذکورہ تاریخ پر پھر ایک بار عہد نوکے پیغام کے ساتھ 6, دسمبر کو سڑکوں پر اجتماعی طور پر ۔ مینارہ مسجد محمد علی روڈ ممبئی کھتری مسجد۔ بنیان اسٹریٹ مانڈوی پوسٹ آفس وبھنڈی بازار جنکشن پر اذان و دعا کا اہتمام کیا مذکورہ اذان و دعائیہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے رضا اکیڈمی کے چئیرمن قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ بابری مسجد شہادت ہمارے ملک پر ایک بدنما داغ ہے جو 27برسوں سے بھی دھلنے کا نام نہیں لے رہا ہے اب اگر جمہوری ملک پر لگے ہوئے اس داغ کو مٹاناہے تو بابری مسجد کی تعمیر نو اسی جگہ پر کی جائےجس سے ملک کاوقار پوری دنیا میں بلند ہوآپ نے مزید کہا کہ بھلے مسجد ملکیت پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے وہ جگہ آستھا کے نام پر رام للا کو دے دی گئی ہے مگر ملک کی عدالت عظمیٰ نے اس جگہ پر مسجد کی موجودگی کو تسلیم کیا ہے مزید سپریم کورٹ نے مسجد کی شہادت کو غیر قانونی آئین کے خلاف بھی قرار دیا ہے رضا اکیڈمی کے جنرل سکریٹری حضرت نوری صاحب نے مزید کورٹ کے فیصلے کے چند نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ محترم ججز حضرات نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اس جگہ پر کوئ مندر نہ تھی جس کو مسمار کرکے مسجد بنائی گئی ہو یہاں تک کہ 16دسمبر 1949 کو عشاء کی نماز پڑھی گئ اسی رات میں زبردستی مورتی داخل کی گئی ہے ان سب حقائق کے باوجود وہ جگہ مسجد کے بجائے مندر کو دی گئ جس پر خاصی مایوسی ہوئ الحاج محمد سعید نوری صاحب نے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب سپریم کورٹ نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ مسجد کو شہید کرنا غیر قانونی تھا تو جتنے بھی لوگ اس میں شریک تھے انہیں سزا دی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کیا جائےرضا اکیڈمی کے چئیرمن وملی ملکی سطح پر اپنی خدمات کی وجہ سے نمایاں مقام رکھنے والے حضرت نوری صاحب نے کہا کہ مسجد کی بازیابی کیلئے آخری دم تک کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ آنے والی نسلوں میں بابری مسجد کی عظمت و اہمیت باقی رہےآپ نے آخر میں تاریخی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان جدو جہد جاری رکھیں مسجد کے لئے کوششیں چھوڑ دینا خود کشی کے مترادف ہوگا حضرت مولانا امان اللہ رضا نے بھی کہا کہ بابری مسجد جس جگہ پر تھی ہم ہمیشہ اسی جگہ پر تسلیم کریں گے آپ نے کہا کہ کورٹ نے فیصلہ دیا ہے جس کا ہم احترام تو کرتے مگر انصاف کیلئے ہم میدان میں کھڑے رہیں گے آپ نے مزید کہا کہ ملک کے دستور سے کھلواڑ کرنے والے سب سے بڑے دھشت گرد ہیں بابری مسجد کی شہادت بھی آئین کی خلاف ورزی ہے لہذا جو بھی مسجد کی شہادت میں پیش پیش تھے وہ ملک کے آئین کے غدار ہیں انہیں بھی وہی سزا دی جائےحضرت مولانا خلیل الرحمٰن نوری نے اس موقع پر کہا کہ بابری مسجد شہادت مسلمانوں کے لیے زخم تھا جو اب مزید بڑھ گیا ہے جس کا مسلمانوں کے پاس اب کوئ علاج نہیں یہی وجہ ہے کہ رضا اکیڈمی اپنے رب کے حضور دعا کرتی ہے کہ خالق کائنات اپنے گھر کیلئے اسباب پیدا فرمائےحضرت مولانا محمد عباس رضوی نے کہا کہ 6دسمبر 92کو ایودھیا میں صر ف مسجد کی شہادت نہیں ہوئ تھی بلکہ ملک کی جمہوریت کو بھی قتل کردیا گیا تھا یہاں کے آئین کی خوبصورت عمارت سے ایک ایک اینٹ فرقہ پرستوں نے نکال کر دستور ہند کی مضبوط عمارت کو بھی منہدم کردیا تھا مولانا محمد عباس رضوی نے مزید کہا کہ بابا بھیم راؤ امبیڈکر جنہوں نے ملک کے تمام طبقات کے حقوق کو دیتے ہوئے آئین بنایا تھا بلوائیوں نے اس دن آئین ہند کو بھی پیروں تلے روند کر مسجد کو شہید کیا تھا لہذا بابری مسجد کی تعمیر نو کرکے ملک کی جمہوریت کو مضبوط کیا جائےمسلم کونسل ٹرسٹ کے چیئرمین الحاج محمد ابرہیم طائ نے بھی بابری مسجد کی بازیابی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد ہماری اسی جگہ پر تھی ہمیں وہی جگہ چاہئے ہم 5ایکٹر زمین کے محتاج نہیں ہیں لہذا ہم بدلے کی زمین کو مسترد کرتے ہوئے کورٹ کے فیصلے کے مطابق وہاں مسجد تھی وہ جگہ ہمیں دی جائےرام مندر کیلئے مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت پوری ایودھیا کی زمین دے دے ہمیں کوئ اعتراض نہیں ہے بس 500سال پرانی مسجد کی جگہ ہمیں دے دے جو ہمارا حق ہے شرکاء میں مولانا غلام مصطفیٰ رضوی دارالعلوم معراج مصطفی چیتا کیمپ قاری عبد الرحمٰن ضیائی گوونڈی آصف منصوری انجمن برکات رضا آصف سردار شاکر پنجابی شیخو بھائ محمد علی رضوی مظہر اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن حاجی مشتاق قادری گوونڈی حافظ جنید رضا رشیدی حاجی جاوید برکاتی عبد القیوم رضا اکیڈمی چیتا کیمپ ناظم بھائی رضوی امین بھائی مختار بھائ ابراہیم رضا دادا بھائی خالد رضوی یوسف بھائی بٹاٹا والے نور احمد رضوی عباس رضوی نوری محفل وغیرہ شامل تھے۔

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker