ہندوستان

حیدرآباد انکاؤنٹر : مقتول ملزمین کے لواحقین نے پولس کارروائی پر اٹھائے سوال

 

حیدرآباد۔۶؍دسمبر: حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کو قتل کرنے کے ملزمان کے خلاف مقدمہ چلائے جانے سے قبل ہی پولس کی طرف سے انکاؤنٹر میں مار گرائے جانے پر ان کے اہل خانہ نے سوالات اٹھائے ہیں۔ دو ٹرک ڈرائیوروں اور دو کلینرز کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر عدالت انہیں مقدمے کی سماعت کے بعد سزا دیتی تو وہ ذرا بھی افسردہ نہیں ہوتے۔اطلاعات کے مطابق پولس جب ملزمان کے مقابلے میں ہلاک ہونے کی خبر لے کر تلنگانہ کے نارائن پیٹ ضلع میں مقیم ان کے اہل خانہ تک پہنچی تو وہ دنگ رہ گئے۔ میڈیا اہلکار جب بات کرنے ان کے لئے کلیدی ملزم (میڈیا رپورٹوں کے مطابق) محمد پاشا عرف عارف کی والدہ نے گھر پہنچے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ روتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنے بیٹے کو کھو دیا۔ اب تم مجھ سے کیا سننا چاہتے ہو؟‘‘ عارف کے والد محمد حسین اور دیگر رشتے دار اس کی لاش لینے کے لئے رنگا ریڈی ضلع کے شاد نگر کے لئے روانہ ہو گئے۔اسی اثنا میں ایک اور ملزم چتاکنٹا چیناکیشولو کی حاملہ بیوی رینوکا چاہتی ہے کہ پولس اسے بھی وہیں قتل کردے جہاں میرے شوہر کو مار دیاگیا ہے۔ رینوکا نے کہا، ’’میں اپنے شوہر کے بغیر نہیں رہ سکتی ہوں۔ مجھے بھی مار ڈالو۔‘‘ رینوکا نے مزید کہا ، ’’پولس نے میرے شوہر کو یہ کہتے ہوئے اٹھایا تھا کہ وہ اسے واپس لائیں گے لیکن انہوں نے اسے مار ڈالا۔‘‘ دونوں کی شادی ایک سال قبل ہوئی تھی۔تیسرے ملزم جولو شیوا کے والد راجپا حیران ہیں کہ ماضی میں پولس نے ملزم کو ایسی سزا کیوں نہیں دی! انہوں نے سوال کیا، ’’صرف میرے بیٹے اور باقی تینوں کو ہی کیوں مارا گیا؟‘‘وہیں چوتھے ملزم جولو نوین کے والد ایلپا نے الزام لگایا کہ پولس نے اسے اپنے بیٹے سے ملنے بھی نہیں دیا۔ انہوں نے کہا، ’’پولس کو چاہئے تھا کہ ہمیں اس سے ملاقات کی اجازت دیتے، بات کرنے دیتے۔ پولس کے پاس پورا وقت تھا کہ وہ اسے اور دوسرے ملزمان کو عدالت میں پیش کرتی اور انہیں قصوروار ثابت کرتی۔‘‘

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker