Baseerat Online News Portal

انسانی حقوق کمیشن نے انکاؤنٹر کے جانچ کا حکم دیا

 

حیدرآباد۔ ۶؍دسمبر: حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹر سے گینگ ریپ کے بعد قتل اور لاش کو جلانے کے معاملے کے سبھی چاروں ملزمین کو پولس نے انکائونٹر میں مار دیا ہے۔ کہاجارہا ہے کہ سبھی ملزمین بھاگنے کی کوشش کررہے تھے، تبھی پولس نے ان پر گولیاں چلادیں یہ واردات این ایچ 44 پر ہوئی، پولس نے ان چاروں ملزمین کو موقع واردات پر لے جارہی تھی، جہاں ان چاروں ملزمین نے بھاگنے کی کوشش کی، اس کے بعد پولس نے چاروں کا انکائونٹر کردیا اسی درمیان حقوق انسانی کمیشن نے اپنی ٹیم سے اس انکائونٹر کی تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن نے رپورٹ کا حولہ دیتے ہوئے کہا کہ ان چاروں ملزمین کو علی الصبح تین بجے حیدرآباد سے ۶۰ کلو میٹر دور موقع واردات پر لے جایاگیا، پولس جانچ کے دوران جرم کے وقت کے ’مناظر‘ کو سمجھنے کے لیے انہیں وہاں لے گئی تھی، پولس کے مطابق ان میںسے ایک نے دوسرے کو وہاں سے بھاگنے کا اشارہ کیا او رانہوں پولس سے ہتھیار چھیننے کی بھی کوشش کی، اسی دوران فائرنگ ہوئی اور پولس کی فائرن میں چاروں ڈھیڑ ہوگئے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ اس کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں احتیاطی جانچ کی ضرورت ہے۔ کمیشن کی ٹیم پولس کی قیادت میں جائے گی اور جلد سے جلد رپورٹ دے گی۔ وہیں وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق پولس کو قومی انسانی حقوق کمیشن کو اپنی رپورٹ دینی ہوگی۔ گائیڈ لائن کے مطابق کسٹڈی میں موت کے معاملے می ںپولس کو وزارت داخلہ کے ذریعے انسانی حقوق کمیشن کو پورا واقعہ بتایاجائے گا، چونکہ پارلیمنٹ میں سیشن جاری ہے اور وزیر داخلہ سے سوال پوچھے جاسکتے ہیں۔

You might also like