Baseerat Online News Portal

سعودی عرب کے شائقین اردو ادب کا عالمی مشاعرہ الجبیل میں منعقد

 

رپورٹ : نقاش نائطی

الجبیل : 7 دسمبر

الجبیل کے نہایت عمدہ الحمیدان شادی ھال میں، شائقین ادب الجبیل اور “گیر” نامی این جی او کی طرف سے منعقدہ عالمی مشاعرہ تلاوت آیات قرآنی سے شروع ہوا۔ویسے تو سعودی عرب کا صنعتی شہر الجبیل اور دمام اردو ادب کی محافل وعالمی مشاعرے منعقد کرنے میں یکتا پائے گئے ہیں مختلف این جی اوز ،مختلف نام سے، ہر سال بڑے مشاعرے منعقد کرتے آئے ہیں۔ اسی ادبی ماحول میں کچھ عاشقان اردو نے ، شائقین ادب تنظیم کے نام نامی سے دو سال قبل معرض وجود آتے ہوئے،ہر ماہ دو ماہ کے وقفہ سے چھوٹی چھوٹی شعری نشستوں کو منعقد کرتے کرتے، گذشتہ دو دہے سے تعلیم نسواں میں سرگرم عمل علیگڑھ اولڈ بوائز چند معزز حضرات کھ شرور کردہ ،گرل ایجوکیشن اینڈ ریھیبلیشن “گیر” نامی این جی او کے اشتراک سے، پہلی مرتبہ اس عالمی مشاعرہ کا انعقاد کیا ہے اور اس مشاعرے سے ہونے والی آمدنی کو “گیر” این جی او کی معرفت سے، تعلیم نسواں کے عظیم مقصد کے لئے خرچ کئے جانے پر وچن بند ہیں۔ اس عالمی مشاعرے میں بطور مہمان خصوصی ابو عاصم اعظمی اور مہمان اعزازی جناب جاوید جعفری صاحب تشریف فرما تھے آج کا منعقدہ یہ مشاعرہ اس لحاظ سے اپنے پہلے مرحلے ہی میں اپنی کامیابی کی سند دلواچکا تھا کہ اس مشاعرہ کے 450 عام ٹکٹ اور 100 وی آئی پی ٹکٹ تین قبل ہی فروخت ہوچکے تھے۔مشاعرہ کے پہلے دور کی نظامت جناب ارشد محسنی صاحب نے کی مقامی شعراء میں ڈاکٹر سجاد صاحب، آقبال اسلم بدر صاحب، فیاض صاحب ثاقب سہیل صاحب جناب باقر نقوی صاحب عارف چلبل صاحب اور محترمہ قدسیہ ندیم لالی صاحبہ تھے۔ جناب اقبال اشعر صاحب دہلی، اسلم بدر صاحب جھاڑکھنڈ، ندیم شاد صاحب بریلی اور صباح بلرام پوری صاحبہ بطور مہمان شاعر ہندستان سے تشریف فرما تھے۔

 

ناظم مشاعرہ نے حمد کے طور کچھ اشعار پڑھتے ہوئے مشاعرہ کا باقاعدہ آغاز کیا اور مشہور غزل سنگر محترم صلاح الدین نے اپنے لحن داودی سے نعت کے اشعار ترنم میں پڑھتے ہوئے شعر و سخن کے لئے فضاء ساز گار کی۔ محترمہ ۔۔۔۔ بنت باقر نقوی صاحبہ نے علی گڑھ والوں کے گرلز ایجوکیشن اینڈ ریھیبلیشن “گیر” این جی کی کارکردگی پر نہایت مسحورکن انداز میں پریزینٹیشن پیش کیا۔ شائقین ادب کی طرف سے جناب ریحان صدیقی صاحب نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔

مشاعرہ کی ابتداء جناب فیاض صاحب نے اپنے کلام سے کی ۔اس کے بعد جناب اقبال اسلم بدر نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ الجبیل میں مصروف معاش بہار سے تعلق رکھنے والے جناب عارف چلبل صاحب نے، اپنے چلبلے انداز میں اپنے طنز و مزاح والی شاعری سے حاضرین اجلاس کو لالہ زار کیا ۔ جناب باقر نقوی صاحب جو آج کے اس مشاعرہ کی نظامت بھی انجام دے رہے تھے چلبل صاحب کی زعفران زار باری سے مسحور کن مجمع کو، مشاعرے کی سنجیدگی کی طرف واپس لانے کے لئے خود کو پیش کرتے ہیں متنوع موضوعات پر کچھ اشعار سناتے ہوئے داد تحسین حاصل کی۔ اس کے بعد منطقہ شرقیہ دمام میں مصروف معاش پاکستانی شاعر جناب ثاقب سہیل صاحب نے اپنے کلام سے حاضرین اجلاس کو جھومنے پر مجبور کیا۔پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے الخبر منطقہ شرقیہ کی مشہور شاعرہ محترمہ قدسیہ ندیم لالی صاحبہ نے بھی متنوع کچھ اشعار اور ایک چھوٹی غزل پڑھی۔چونکہ شائقین اردو ادب کا یہ جو سیلاب مشاعرے میں امڈا پڑا تھا مہمان شعراء کو سننے کے لئے بے تاب لگ رہا تھا اسلئے تمام مقامی شعراء کے ساتھ ہی ساتھ مقامی شعراء میں اپنی کہنہ مشق کلام میں یکتائیت رکھنے والے المحترم ڈاکٹر سجاد صاحب نے بھی مہمان شعراء اور سامعین میں زیادہ مانع بن کھڑے رہنے کے بجائے غزل کے چند اشعار سنا کر حاضرین کو تشنہ لب ہی چھوڑا۔

مہمان شعراء میں محترمہ صباح بلرام پوری صاحبہ نے، اپنے ترنم ریز خوش گلو آواز میں کچھ غزل گا کر محفل مشاعرہ میں ایسا سما باندھا کہ پورا مجمع جھوم اٹھا۔ تین چار مختلف کلام سنانے کے باوجود مجمع سے فرمائشوں پر فرمائشیں صباح بلرام پوری صاحبہ کے لئے آرہی تھیں۔دوسرے مہمان شاعر ندیم شاد بریلوی نے بھی صباح بلرام پوری کے لئے جھومنے والے مجمع کو، اپنے لحن داؤدی والے ترنم سے کچھ ایسا مسحور کیا کہ مجمع ندیم شاد کے لئے، ایک اور ایک اور کی صدا لگانے پر مجبور ہوگیا۔

 

آج کے اجلاس کے لئے اپنی سیاسی مصروفیات کو پس پشت رکھتے ہوئے، ہم شائقین ادب کی دعوت پر لبیک کہتے کچھ ساعتی دورے پر یہاں ہمارے بیج پہنچے، ہمارے بے باک ہردلعزیز رہنما ابو عاصم اعظمی صاحب نے آج کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، ماقبل آزادی ھند کے غداران وطن کے، آج چمنستان ہندستان پر قابض حکومت، سنگھیوں کے ہاتھوں تاراج ہوتی معیشت اور اپنی کوتاہیوں سے عوام کی نظریں ہٹاتے، ملک کو منافرتی الجھنوں میں گرفتار کرتے تناظر میں کی ہوئی تقریر نے، سامعین مشاعرہ میں ایک نئی امنگ، ایک نئی توانائی والی انگڑائی لینے پر مجبور کیا ہے۔ایک بات جو اعظمی صاحب نے کہی وہ یقینا حقیقت پر مبنی تھی کہ گذشتہ چالیس ایک سالوں سے، خلیجی صحرا کے مختلف عرب ممالک میں، ہم تارکین بند و پاک کو جو روزگار کے مواقع میسر ہوئے ہیں، اس سے یقینا نہ صرف ہم غرب ایشیا کے مختلف ممالک کو بیرونی زرمبادلہ سے ترقی جو ملی ہے اس سے پرے ،خلیجی صحراؤں میں اپنا خون پسینہ بہاکر محنت کے کمائے پیٹرو ڈالر سے،آپ تارکین نے،مختلف این جی اوز قائم کرتے ہوئے، اپنے اپنے علاقے کےغرباء و مساکین میں،خصوصا صنف نسواں کے تعلیمی آگہی کے لئے جو خدمات ان چالیس سالوں میں انجام دئے ہیں آس کے لئے نہ صرف آپ تارکین وطن کو، سلام کرنے کو دل کرتا ہے بلکہ سعودی عرب سمیت مختلف عرب ممالک کی ترقی کے لئے بھی، بارگاہ ایزدی میں دعا کرنے کو دل چاہتا ہے کہ یہاں ان علاقوں میں اور ترقیاتی منصوبے عمل پذیر ہوں اور اسی طرح آپ تارکین کو، یہاں خدمات دیتے ہوئے، اپنے اپنے علاقوں کی تعلیمی ترقیاتی منصوبوں پر عملی اقدام کرنا آسان ہوجائے۔

 

مہمان خصوصی کے ہاتھوں آج کے مشاعرے کے اہتمامی شراکت دار کمپنیوں کو جہاں تمغات عطا کئے گئے وہیں پر مہمانان خصوصی و مہمان اعزازی کے ساتھ ہی ساتھ تمام مہمان شعراء و آج کی تقریب کے انعقاد میں پورے انہماک سے کام کرنے والی بنات سرپرست شائقین ادب اکرام صدیقی صاحب کو تہنیتی تمغات سے بھی نوازا گیا۔

شب کی تاریکی جیسے جیسے اپنے شباب پر پہنچ رہی تھی مشاعرہ بھی اپنی تابناکیوں کی منزلیں طہ کررہاتھا۔ داد تحسین سے ولولے میں ڈوبی شام کی سحر انگیزیوں سے اپنا حصہ لوٹنے آئے مہمان شاعر المحترم اقبال اشعر نے بھی مشاعرہ لوٹنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔ پتہ نہیں آج مشاعرہ کا مزہ لوٹ رہا مجمع، ہر کسی کے کلام سے لطف اندوز ہوتے ہوئے خوب داد لٹارہا تھا ۔ اقبال آشعر کے سنائے مختلف کلام سے محظوظ ہونے کے باوجود، مجمع کی پر زور فرمائش پر، انہیں اپنی معرکتہ الآرا نظم بزبان اردو ترنم سے سنانی پڑی۔آج کے مہمان خصوصی جناب جاوید جعفری نے ،ستر سال قبل بند و پاک سرحدوں میں بٹی مشترکہ اقدار، ہندستانیوں اور پاکستانیوں کے، آپسی سرحدی تنازعات کو بھول کر، ذوق اردو ادب کی خاطر، ایسے اردو کی محفلوں جمع ہونے کو، دشمنان اردو کے سامنے اسے شائقین ادب کی جیت قرار دیا اور سابقہ بالی ووڈ تقاریب کے دوران پیش آئے طنز و مزاح کے واقعات کا تذکرہ اپنے مخصوص انداز میں کرتے ہوئے، محفل مشاعرہ کو زعفران زار کیا۔

 

آج کی محفل مشاعرہ کےصدر محترم، جھاڑ کھنڈ انڈیا سے آئے مہمان استاد شاعر المحترم اسلم بدر صاحب نے،اپنے استادانہ کلام سے سامعین کو مسحور کیا۔ شب کے آخری پہر دستک دینے کے باوجود،آج شب شائقین ادب الجبیل کی دعوت پر،جمع جم غفیر اردو ادب کے لئے مرے جارہے تھے۔ندیم شاذ اور صبا بلرام کو اور سننے کے مشتاق ھجوم کے آگے منتظمین مشاعرہ کو جھکتے ہوئے،اختتام مشاعرہ سے پہلے ایک مرتبہ پھر سےعوام کی فرمائش پر ایک آخری غزل سنانے، عوام کے سامنے محترمہ صبا بلرام پوری کو پیش کرنا پڑا اور یوں یہ مشاعرہ اردو ادب سعودی عرب کی تاریخ کا ایک ان منٹ باب بن چکا ہے۔

 

یہی ہوتی ہے اردو سے محبت، اردو زبان سے الفت۔ وقت کی سنگھی حکومت چاہے کتنا زور لگا دے خاتمہ اردو زبان کے لئے،علامہ اقبال کے اس شعر کے مصداق “جتنا ہی دباؤگے اتنی ہی یہ ابھرے گی” مادر وطن سے ہزاروں کلو میٹر دور، اس ریگزار عرب میں، پیٹرول کی پھیپڑے جھلسانے والی مہک اور، ان کی آل اولاد کی خوشیاں سنوارتی پیٹرو ڈالر کی چمک،جہاں انہیں سقم زد و خیزان خیز کئے، ان دیکھی زنجیروں میں جکڑے رکھے ہوئے ہے، وہیں پر انہیں،اردو زبان کی سحر انگیزی، اپنی چاشنی سے سرشار کرنے، ایسے مشاعروں میں کھینچ لاتی ہے اور یہی وہ مشاق شعراء ہوتے ہیں جو ان شائقین ادب کو، اردو ادب کے باد نسیم کے جھونکوں کے سہارے، کچھ لمحات میں مادر وطن کی، تخیلات ہی میں سیر کرالاتے ہیں۔کچھ لمحات کے یہ ادبی ماحول والے سحر انگیز لمحات، ہم تارکین وطن کو اس دیار عرب کی تنہایاں جھیلنے میں بڑے ممد اور مددگار ہوا کرتے ہیں، تفکرات و الجھنوں سے ماورا ایک نئی امنگ، نئی تازگی کے ساتھ اپنی آل اولاد اور اپنے مادر وطن چمنستان ہندستان کی مالی آسودگی یا معشیتی بڑھوتری کے لئے، تازہ دم ہوکر مشقت میں لگے رہنے کی آس جگا جاتے ہیں۔صباح بلرام پوری کے غزلوں کی رعنائیاں،ہم تاریک وطن کو، اپنے بچھڑے یار کی تڑپ یاد دلاجاتی ہے تو اقبال اشعر کے سلگائے جذبات، اردو ادب سے ہمیں جوڑے رکھتے ہیں، ندیم شاد کی نعت گوئی ہمیں عاشق رسول ﷺ بناتی ہے تو اسلم بدر کا استادانہ کلام، ہمیں سنہرے تابناک مادر وطن ھند کی یاد دلاتا، وطن سے محبت و الفت باقی رکھنے کا درس دے جاتا ہے۔جب تک اس سرزمین پیٹرو ڈالر پر، اردو ادب کی رعنائیوں والے باد نسیم کے جھونکے ہو لے ہولے چلتے رہیں گے، اس ریگزار کی تپش کو اپنے پسینے سے تر کرتے، ہم تارکین وطن میں، وطن و قوم ملت کی تڑپ کو زندہ جاوید ہم پائیں گے۔ ان شاءاللہ ثم ان شاءاللہ

You might also like