ہندوستان

معروف شاعر حسن نواب حسن کی رحلت بڑا خسارہ : نورالسلام ندوی

پٹنہ : 7 دسمبر (پریس ریلیز)

علمی وادبی حلقے کے لئےیہ خبر نہایت روح فرساں ہے کہ دبستان عظیم آباد کے مشہور ومعروف شاعر حسن نواب حسن اللہ کو پیارے ہو گئے،انہوں نے رات سہ پہر آخری سانس لی۔ان کا انتقال مظفرپور میں ہوا۔چند دنوں قبل وہ مظفر پور اپنے نواسہ کی شادی میں تشریف لے گئے تھے۔اچانک رات کے قریب دو بجے دل کا دورہ پڑا ہاسپیٹل لے جایا گیا لیکن جانبر نہ ہوسکے اور انتقال کر گئے۔سدا رہے نام اللہ کا۔

حسن نواب کی عمر تقریبا 80 سال کی تھی وہ 1940 میں گیا میں پیدا ہوئے۔تعلیم سے فراغت کے بعد انسورینس کپنی میں ملازم ہوئے لیکن انہوں نے اردو زبان وادب سے اپنا رشتہ ہمیشہ بنائے رکھا۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد اردو کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔اردو زبان وادب کے تعلق سے منعقد ہونے والے سیمینار وپروگرام کی زینت بنتے رہے۔

حسن نواب حسن قادرالکلام شاعر تھے،غزلوں کے مقابلے نظموں میں ان کی فنی صلاحیت زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں فکر کی ندرت، تخیلات کی بلندی، ہیئت کی پابندی،اور اوزان وقافیہ میں ڈھلی شاعری دلوں پر دستک دیتی ہیں۔ان کی شاہکار نظموں میں بہار نامہ،پانی اور آنسو،بیٹی کا مقام،ماں،آگ،زخمی پرندہ،ایک لاوارث گونگی لڑکی،مختلف رنگوں کے سانپ وغیرہ بہت مشہور ہیں،ان کی نظموں کا اپنا رنگ وآہنگ ہے۔لفظیات کا فنی استعمال اور لہجہ کی روانی وبے ساختگی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔معاصر شعراء کے درمیان انہوں نے اپنی منفرد پہچان بنائ یہی وجہ ہے ان کے معاصرین بھی ان کے قدر داں رہے ہیں۔

حسن نواب حسن نے لمبی زندگی پائ اور جب تک باحیات رہے سرگرم رہے،ادبی محفلوں اور انجمنوں کے پروگراموں میں برابر شرکت کرتے رہے۔بڑے شاداب اور محفلی طبیعت کے آدمی تھے۔ہر ایک سےاخلاق ومحبت سے پیش آتے،اپنی تعریف سے بہت خوش ہوتے،عزیزوں کی بھی تعریف کر کے ان کی حوصلہ افزائ کرتے۔مجھ سے بے حد محبت کرتے،فون کرنے میں تاخیر ہوتی تو خود ہی فون کر کے خیریت بھی دریافت کرتے اور فون نہ کرنے پر شکایت بھی کرتے،اخبار یا رسالہ میں میرا کوئ مضمون پڑھتے تو فون کر کے مبارکباد دیتے،موصوف اسلاف کے قدروں کے پاسدار اور کلاسیکی تہذیب کے امین تھے۔دل درد مند اور فکر ارجمند کے مالک تھے۔ان کے انتقال سے ذاتی طور مجھے بے حد صدمہ پہنچا۔خدا انکی مغفرت فرمائے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آمین

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker