Baseerat Online News Portal

شہری ترمیمی بل کے سلسلے میں ممبئی کی ملی تنظیموں کے ذمہ داران نے شیوسینا لیڈر سبھاش دیسائی سے ملاقات کی ـ سبھاش دیسائی نے اس پر غور کرنے کا یقین دلایا

ـــــــــــــــــ

ممبئی، ۸ دسمبر ـ آج ممبئی کی مختلف مذیبی، ملی اور سماجی تنظیموں کے موقروفد نے شہریت ترمیمی بل ( CAB ) کے سلسلے میں شیوسینا کے لیڈر سبھاش دیسائی سے پربھودن جم خانہ (گورے گاؤں، ممبئی) میں ملاقات کی ـ
وفد کے اراکین نے مجوزہ بل کے بارے میں مسٹر دیسائی کو بتایا کہ یہ بل ہندوستان کے دستور،آئین اور قانون کے خلاف ہے، ہندوستان میں پہلی بار مذہبی بنیادوں پر تفریق کرنے والا قانون بننے جارہا ہے، اس قانون کے ذریعے ملک کی دوسری بڑی اکثریت کو ان کے شہری حقوق سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے ـ اگر یہ قانون بن گیا تو اس سے ملک کی یکجہتی اور سالمیت خطرے میں پڑسکتی ہے، ملک دشمن طاقتیں نقلی کاغذات کے ذریعے ہندو، سکھ، عیسائی وغیرہ کے بھیس میں اپنے ایجنٹوں کو داخل کرسکتی ہیں، وہ یہاں خفیہ ایجنسیوں، پولیس، فوج وغیرہ کی حساس جگہوں ہر بھی ملازمت حاصل کرسکتے ہیں، اس طرح ملک کا تحفظ بھی خطرے میں پڑسکتا ہے ـ
وفد نے شیوسینا لیڈر سے یہ بھی کہا کہ اِس وقت پارٹی سیاست میں آپ کا جو رسوخ ہے اُس کو استعمال کریں اور اپنی پارٹی کے ساتھ دیگر سیاسی پارٹیوں سے رابطہ کرکے اُنھیں اس بل کی مخالفت پر آمادہ کریں، پوری کوشش کریں کہ ملک کے دستور کے خلاف یہ بل پارلیمنٹ سے پاس نہ ہونے پائے ـ
وفد نے شیوسینا لیڈر سبھاش دیسائی کی ان کوششوں کی تعریف بھی کی جن کی وجہ سے مہاراشٹر میں بی جے پی تنہا پڑگئی اور کامن مینیم پروگرام کے تحت بقیہ تین بڑی پارٹیوں کی حکومت قائم ہوسکی ـ
وفد کی گفتگو سننے کے بعد شیوسینا لیڈر سبھاش دیسائی نے کہا کہ ہمیں احساس ہے کہ یہ بل ملک کے مسلمانوں کو تنہا کردینے کے لئے بنایا جارہا ہے، یہ مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے، یہ بل دستور اور قانون کے بھی خلاف ہے ـ انھوں نے کہا کہ ہم نے بھی اس کو محسوس کر لیا تھا کہ مودی سرکار کی پالیسیوں کے باعث ملک تباہی کی طرف جا رہا تھا، اسی وجہ سے ہم نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ میں ہماری پارٹی کے صدر اور ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی سے بات کرتا ہوں اور ہمارے لیڈران کی میٹنگ طلب کرکے اس بل کے خلاف متحدہ لائحہ عمل ترتیب دیں گے ـ
وفد کے اراکین میں مولانا حبیب پٹیل، اکبر بھائی(مومن نگر)، مولانا الیاس قاسمی، مولانا اشرف(منشی مسجد، جوگیشوری)، شعیب کڑیوال، اسمعیل بھائی جگرالا، حافظ رحمت اللہ، عبدالرحمن بھائی بھاگل، مولانا رئیس(پٹھان واڑی)، مولانا نصراللہ صاحب موجود تھے ـ

You might also like