ہندوستان

مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان پر سیمانچل میڈیا منچ کامارچ میں قومی سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی، 8دسمبر (بصیرت نیوز سروس / ایجنسی ) سیمانچل میڈیا منچ نے کشن گنج کے سابق رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی کو ان کی پہلی برسی پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی حیات و خدمات پر آئندہ سال مارچ میں آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ایک قومی سیمینارمنعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ آج یہاں مولانا قاسمی کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقدہ ایک تقریب میں کیا گیا ہے میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کے سابق صدر، و جمعیتہ علمائے ہند کے سابق جنرل سکریٹری مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی حیات و خدمات کی مختلف جہات پر ایک قومی سطح کا سیمینار منعقدکیا جائے گاجس میں قومی سطح کے علماء، دانشور، سیاسی و سماجی اور ملی شخصیات کو بلایا جائے گا اور اس کیلئے ڈاکٹر خالد مبشر، فیاض عالم اور منظر امام کی کنوینر شپ میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشرنے کہاکہ اپنے ہیرو اور اہم شخصیت کو یاد کرنا ان پر احسان کرنا نہیں؛ بلکہ زندہ ہونے کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیمانچل والوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنے محسن کو یاد نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہاکہ سیمانچل نے مولانا قاسمی سے بڑی شخصیت پیدا نہیں کیا جو ہر اعتبار سے بڑا ہو۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں۔

سیمانچل میڈیا منچ کے صدر اور صحافی عابدا نور نے کہا کہ مولانا اسرارالحق قاسمی ملک وملت کے مسائل کے لیے ہمیشہ پریشان اور ان کو حل کرنے کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ منسکرانہ اور فقیرانہ زندگی گزاری اور لوگوں کو کبھی احساس نہیں کرایا کہ وہ رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ان کی سب سے اہم بات یہ تھی وہ بڑے بڑے دشمنوں کو معاف کردیتے تھے اور کسی کے خلاف کوئی رنجش اپنے دل میں نہیں رکھتے تھے۔
میڈیا منچ کے نائب صدر عبدالقادر شمس نے کہاکہ مولانا کی سادگی اور جفاکشی ان کی خاصیت تھی۔ وہ ایک رکن پارلیمنٹ ہوتے ہوئے بھی سادگی اور جفا کشی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھے جہاں سب کے لئے جگہ تھی۔مولانا کے داماد اور ہمدرد کے اعلی عہدیدار فیاض عالم نے کہاکہ میں ان سے خسرکی حیثت سے کم  ان کی انسانیت سے زیادہ متاثر تھا۔ ان کی خاص چیز یہ تھی ان کا برتاؤ سب کے ساتھ ایک جیسا تھا خواہ وہ ایک اعلی عہدیدار ہو یا فقیر ہو۔ وہ سب کو یکساں اہمیت دیتے تھے۔
پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤدنڈیشن کے جنرل سکریٹری پرویز اعظمی نے کہا کہ مولانا کی شخصیت آفتاب و ماہتاب کی مانند تھی جس سے ہر شخص کو فیض پہنچتا تھا۔صحافی اور ایشین رپورٹر کی ایڈیٹرتسنیم کوثر سعید نے کہاکہ مولانا قاسمی کردار کے غازی تھے۔ ان کے جانے کے بعد یہ احساس ہورہا ہے ہم لوگوں نے کیا کھویا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کی جو سیاساسی صورت حال ہے وہ ان میں فٹ نہیں بیٹھتے تھے۔ دیگر مقررین میں یوسف رام پوری، شاہ عالم، محبوب عالم(سب صحافی)اور دیگر لوگ شامل تھے۔
پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے میڈیا منچ کے جنرل سکریٹری منظر امام نے مولانا قاسمی کی زندگی کے کئی گوشوں پر روشنی ڈالی اور کہاکہ مولانا ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے اور مسلکی اختلافات سے گریز کرتے تھے اور وسیع المشربی اور ہم آہنگی ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker