Baseerat Online News Portal

شہریت ترمیمی بل پیر کو لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا

 

شمال مشرقی خطوں میں احتجاج، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کے آثار، جنتا دل یو کا رخ غیر واضح، کے سی آر کو منانے کی کوشش

نئی دہلی۔۸ ؍دسمبر : مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پیر کو لوک سبھا میں شہریت (ترمیمی) بل پیش کریں گے۔ اس بل کے تحت پاکستان ، بنگلہ دیش اورافغانستان میں مبینہ مظلوم غیر مسلم مہاجرین کو ہندوستانی شہریت دینے کا انتظام ہے۔ وزیر داخلہ اس سہ پہر میں بل پیش کریں گے۔اس بل میں چھ دہائی قدیم شہریت کے قانون میں ترمیم کی بات کی گئی ہے۔ پیش کرنے کے بعد ، اس بل پر بحث کی جائے گی اور اسے منظور کیا جائے گا۔ اس بل کی وجہ سے شمال مشرقی ریاستوں میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں اورعوام اور تنظیموں کی ایک بڑی تعداد اس بل کی مخالفت کر رہی ہے۔اس درمیان نام نہادسیکولرپارٹیوں کے سیکولرزم کابھی امتحان ہوگا،خاص طورپرجدیو،جس کے مسلم لیڈران اپنی پارٹی کے قصیدے الیکشن میں پڑھ کرمسلمانوں سے ووٹ مانگتے ہیں،ان سے بھی سوال ہوگاکہ کیاان کی پارٹی طلاق بل کی طرح پارلیمنٹ سے بھاگ کربی جے پی کی مددتونہیں کرے گی ،اسی طرح اویسی کی حلیف تلنگانہ راشٹریہ سمیتی کوبھی مسلمانوں نے بڑی تعدادمیں ووٹ د یاتھا،دیکھنایہ ہوگاکہ اس پارٹی کانفاق اس باربھی جاری رہتاہے؟اسی طرح مہاراشٹرمیں نئی نئی سیکولربنی پارٹی شیوسیناکے تئیں کانگریس ،این سی پی اورسماجوادی پارٹی کابھی امتحان ہوگاکہ یہ پارٹیاں کامن مینیمم پروگرام سے انحراف پرشیوسیناکے ساتھ کیارویہ اپناتی ہیں یاشیوسیناکواس متنازعہ بل پراپنی طرف کرلیتی ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس سے آسام معاہدہ 1985 کی شقوں کو منسوخ کردیا جائے گا ، جس میں مذہبی امتیاز کے بغیر غیر قانونی مہاجرین کی وطن واپسی کی آخری تاریخ 24 مارچ 1971 کو مقرر کی گئی ہے۔شمال مشرقی طلباء کی بااثر تنظیم (NESO) نے 10 دسمبر کو خطے میں 11گھنٹوں کے بند کا مطالبہ کیا ہے۔شہریت(ترمیمی)بل ، 2019 (سی اے بی) کے مطابق ، ہندو ، سکھ ، بودھ ، جین ، پارسی اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد،جو 31 دسمبر 2014 کو پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی ظلم و ستم کی وجہ سے ہندوستان آئے تھے ، ان کوغیرقانونی مہاجرین نہیں سمجھا جائے گا۔ ہندوستانی شہریت دی جائے گی۔ششی تھرور نے کہا ہے کہ شہریت ترمیمی بل کی منظوری کا مطلب گاندھی کے نظریات پر جناح کے خیالات کی فتح ہوگی۔بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت نے اپنے سابقہ دور حکومت میں یہ بل لوک سبھا میں پیش کیا تھا اور اسے وہاں پاس کردیا تھا۔ لیکن انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں میں احتجاج کے خدشات کے پیش نظر اسے راجیہ سبھا میں پیش نہیں کیا۔آخری لوک سبھا کی تحلیل کے بعد ، بل کی مدت بھی ختم ہوگئی۔ یہ بل 2014 اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا انتخابی وعدہ تھا۔

You might also like