مضامین ومقالات

کیا آج کا ہندوستان حاجی حبیب کےلیے شہریت رجسٹر کی مخالفت کرے گا؟

رویش کمار
ترجمہ: بی این ایس
آسام کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے، شہریت رجسٹر کے نام ریاست نے 1600کروڑ پھونک دئیے، ریاست کے تقریباً چار سال برباد ہوئے، 2019کے اگست میں جب آخری فہرست آئی تو اس میں صرف 19لاکھ لوگ نہیں آسکے، ان میں سے بھی 14لاکھ ہندو ہیں، باقی پانچ لاکھ کے بھی کچھ رشتے دار ہندوستانی ہیں اور کچھ نہیں، ان سب کو فارن ٹریبیونل میں جانے کا موقع ملے گا، اس کے بعد طے ہوگا کہ آپ ہندوستان کے شہری ہیں یا نہیں، وہاں بھی کیس کو پورا ہونے میں چھ ماہ سے سال بھر کا وقت لگ سکتا ہے۔
ہم حکومت کا خرچ جوڑتے ہیں، کبھی اس کا بھی حساب کیجئے کہ آسام کے عام آدمی کا کتنا خرچ ہوا، ایک ایک سرٹیفکیٹ بنانے میں پانچ ہزار سے پندرہ ہزار تک خرچ ہوئے، بہار اور یوپی سے گئے لوگوں کی نسل واپس اپنے گائوں میں آکر رشوت دے کر سرٹی فکیٹ بنواتے رہے، ٹریبونل کے لیے وکیلوں کی فیس بھی جوڑ لیں، ساڑھے تین کروڑ لوگ چاہے وہ ہندو تھے یا مسلم، نیشنل رجسٹر کےلیے اپنی جیب سے پانچ سے پچاس ہزار تک خرچ کررہےتھے، کسی کسی کے معاملے میں ایک لاکھ روپئے تک، اب اگر ہندوستان بھر میں یہ ہوا تو سوچ لیں کہ آپ سب پر نوٹ بندی کی طرح ایک اور بوگس اسکیم تھوپی جانے والی ہے۔
آسام میں اتنے بڑے قواعد کا نتیجہ ایک طرحح سے صفر نکلا، دہائیوں سے لیڈران ہندی پردیش کے لوگوں پر جھوٹ تھوپتے رہے ہیں کہ ایک کروڑ درانداز آگئے ہیں، کسی نے چالیس لاکھ کہا تو کسی نے کہا کہ پورا ملک گھس پیٹھیوں سے بھر گیا ہے، یہ خیال اتنا مضبوط ہوگیا کہ نیشنل رجسٹر کی نوبت آگئی، راجیو گاندھی حکومت اور آسام کے طلبہ آندولن کے درمیان جو آسام سمجھوتہ ہوا تھا، اس میں بھی یہ بات تھی 2013میں سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ نیشنل رجسٹر کا کام شروع ہو، آسام گن پریشد بھی گھس پیٹھیوں کو نکالنے کی سیاست کرتی تھی، لیکن اس نے ہندو گھس پیٹھیوں یا مسلم گھس پیٹھیوں میں فرق نہیں کیا، فرق اب کیاجارہا ہے۔
مشتبہ شہریوں کی جو تعداد نکلی ہے وہ اتنی تو نہیں ہے جو ہمارے لیڈران اپنی تقریروں میں لوگوں پر تھوپتے ہیں، کروڑوں گھس پیٹھیوں کا بھوت دکھایاگیا، جبکہ ملے تین سے پانچ لاکھ، وہ بھی ابھی ثابت نہیں ہیں، اس کے بعد بھی اب پورے ملک میں این آر سی کی بات ہورہی ہے، ظاہر ہے پورے ملک کو طویل وقت کےلیے ایک اور ہندو مسلم ڈیبٹ میں پھنسایا جارہا ہے، وزیر داخلہ کو بھروسہ ہے کہ صرف مسلمان کو چھوڑ کر ہندو، عیسائی، سکھ، جین، پارسی اور بودھشٹ کو شہریت دینے سے اپوزیشن جب مخالفت کرے گا تو لوگ اپنے آپ سمجھ جائیں گے کہ مسلمانو ں کو شہریت دینے کی وکالت ہورہی ہے، اور یہ ان کے کام آئے گی۔
ایک سوال ہے۔ اس فہرست میں عیسائی کیوںہیں؟ عیسائی ہیں تو مسلمان کیوں نہیں؟ کیا بین الاقوامی شبیہ یا دبائو کے ڈر سے عیسائی کو شامل کیاگیا ہے؟ سنگھ پریوار اپنے شروعاتی دنوں میں عیسائی مشنری پر تبدیلی مذہب کا الزام لگاتا تھا، اڈشیہ میں گراہم سینٹس کو جلا کر مار دیاگیا تھا، اب مذہب تبدیلی کی بات کیوں نہیں ہورہی ہے؟ پھر مسلمانوں کو ہٹا کر شہریت کے قانون کو مذہب کی بنیاد پر کیوں بانٹا جارہا ہے؟ آپ کو لگتا ہے کہ یہ درست ہے تو ہندوستان کے اس صفحے کو پلٹ لیجئے۔
20اگست 1906کو سائوتھ افریقہ میں ٹرانسوال شہر میں قانون بنتا ہے کہ پرانی پرمٹ رد کی جائے گی، ایشائی ممالک کے باشندوں کو رجسٹرار کے دفتر میں جاکر نیا رجسٹریشن کرنا ہوگا اور انگوٹھے کے نشان دینے ہوں گے، یہ فیصلہ ہندوستان اور چین کے لوگوں کو متاثر کرتا تھا، نیا پرمٹ نہیں دکھانے پر جیل کی سزا تھی، گاندھی جی نے ماننے سے انکار کردیا۔
11ستمبر1906کو جوہانسبرک کے پرانے ایمپائر تھیٹر میں 3000ہندوستانیوں کا پروگرام ہوتا ہے، گاندھی جی کے ساتھ گجرات کے تاجر سیٹھ حاجی حبیب بھی تھے، انہوں نے کہہ دیا کہ ہم سبھی خدا کی قسم کھاکر حلف لیں گےکہ اس قانون کو نہیں مانیں گے، گاندھی جی حیرت زدہ رہ گئے، انہو ںنے کہاکہ ہم ایسا نہیں کرسکتے، خدا کی قسم کھاکر توڑ نہیں سکتے، ہمیں ٹھیک سے سوچناچاہئے، سب نے سوچ لیا اور طے کیا کہ پرمٹ کو نہیں مانیں گے، اس دن ستیہ گرہ کا جنم ہوا۔
آج اسی سیٹھ حاجی حبیب کا بھارت بدل گیا ہے، اس میں اب تک اخلاقی قوت نہیں رہی کہ وہ حلف لے کر حاجی حبیب کےلیے کھڑا ہوجائے، بس سوچئے کہ ہندو مسلم کی سیاست آپ کو کہاں دھکیل رہی ہے، رجسٹر کی لائن میں کھڑا کرکے آپ سے بھی شہریت کا ثبوت مانگ رہی ہے، قاعدے سے تو پورے ملک کو این آر سی کے خلاف ستیہ گرہ کرناچاہئے اور این آر سی جیسے خیال کےلیے گاندھی اورحاجی حبیب سے معافی مانگنی چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker