تاریخ ہندمسلم پرسنل لاء

آزادی سے پہلے اوربعد کے فرقہ وارانہ فسادات

ہندوستان کی تاریخ میںاب تک پچاس ہزار سے زائد فرقہ وارانہ فسادات ہوئے،فسادکی شروعات آزادی سے قبل۶۴۹۱ء میںہندوستان کی تقسیم کولیکر ہوئی۔ملک کے بٹوارے کی خبر سب سے پہلے مرشدآباد(بنگال)اور بہار کے متصل علاقوں میں آگ کی طرح تیزی سے پھیلی۔اس فرقہ وارانہ فساد میں ۰۱؍ہزار سے زیادہ آدمی مارے گئے۔ہزاروںخاندان بے گھر ہوئے اور کئی بستیاں ویران ہوئیں۔
مگر ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی وفات کے بعد فرقہ پرست شرپسند عناصر کوپنپنے اور فروغ پانے کاموقع ملا۔آرایس ایس کے سربراہ گرو گول والکر نے یوم آزادی کی تقریب میں جب شرکت کرنی چاہئے تو پنڈت جواہر لعل نہرو انہیںکسی بھی قیمت پرآزادی کی تقریب میں شرکت کی اجازت دینے کوتیار نہ ہوئے اور انہیں پیغام بھیجا:
’’آپ(گروجی)آزادی کی تقریب میں شریک ہوکر کیا کریں گے،اس لئے کہ آپ کانگریس میں آنہیں سکتے اور میں کانگریس کوچھوڑ نہیں سکتا‘‘۔
یہیں سے آرایس ایس اور کانگریس کے درمیان دوری بڑھتی گئی۔حالانکہ جواہر لعل نہرو کی وفات کے بعد لال بہادر شاشتری جو اس وقت وزیر اعظم تھے،انہوں نے گروگول والکر کویوم آزادی کی تقریب میں باقاعدہ مدعو کیا، اور وہ لال بہادر شاستری کے ساتھ اس تقریب میں شریک ہوئے۔اس طرح نہرو جی نے فرقہ پرست عناصر سے جودوری اختیار کی تھی وہ لال بہادر شاستری کے وزیر اعظم بنتے ہی قربت میں تبدیل ہوگئی، اس طرح ملک کے لوگوں کووزیر اعظم کی طرف سے یہ پیغام گیا کہ کانگریس پارٹی کے لوگوں کوآرایس ایس کے تئیں نرم گوشہ رکھنا چاہئے۔اس پالیسی کانتیجہ یہ ہوا کہ آرایس ایس کی سرگرمیاں آہستہ آہستہ بڑھتی گئیں،یہ شاستری جی کی اسی پالیسی کانتیجہ ہے جوہم ہزاروں فسادات کی صورت میںآج دیکھتے آرہے ہیں۔
بہار میں فساد کی شروعات
۶۴۹۱ء میںبہاراور بنگال کے درمیان فرقہ وارانہ فساد کے بعدبھی یہ سلسلہ رکا نہیں۔بھاگلپور،رانچی،سیتامڑھی،جمشید پور،چائباسہ،راورکیلا،بہار شریف وغیرہ میںایسے خوف ناک اور دل دہلادینے والے فسادات ہوئے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ان فسادات میں بہار کے مسلمانوں کو معاشی اور اقتصادی اعتبار سے مفلوج اور ان کی نسل کشی کی گھنائونی سازشیںرچی گئیں،انہیں مفلوج اور بے دست وپاکرنے کے مقصد سے بھرپور کوششیںہوتی رہیں۔ان کے سامنے خوف وہراساں کے حالات پیداکردئے گئے، تاکہ وہ علمی،سیاسی،اقتصادی،کسی بھی میدان میں آگے نہ بڑھ سکیںاور ہندوستان میںان کامستقبل غیر محفوظ رہے۔جن میں فرقہ پرست عناصر کے ساتھ ساتھ خود حکومت کی ایڈمنیسٹریشن کے لوگ شانہ بہ شانہ رہیں،ریاست بہار کے علاوہ بیرون ریاست میں بھی ایسے ایسے شہروں میں فسادات کرائے گئے جہاں مسلمان صنعت وحرفت اور دستکاری کے میدان میں آگے تھے،ان میںگجرات،علی گڑھ،بجنور،مرادآباد،حیدرآباد،میرٹھ وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
فسادات اورراحت رسانی کے امور
مولانا سید نظام الدین صاحب بحیثیت ناظم امارت شرعیہ اور امیر شریعت کے مدت کار میں۰۵؍سے زائد زبردست فرقہ وارانہ اورنسل کش فسادات ہوئے،جن میں اربوںکھربو کے املاک تباہ وبرباد ہوئے،ہزاروںلاکھوں کی تعداد میں بے قصور مسلمان شہید ہوئے،مساجد،مکاتیب،مکانات اور فیکٹریاںنظر آتش کی گئیں،ان ہولناک اور دل آویز فسادات کے دوران متاثرین کی امداد ،مسلمانوں کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانا حضرت امیر شریعت کی پہلی کوشش رہی جس میں بڑی حد تک آپ کو کامیابی ملی،بعض مقامات پر آپ خود تشریف لے گئے اور مہینوں کیمپ کر کے متاثرین کی امداد کی،بے قصور مارے گئے اہل خانہ کو تسلی دی اور ان کی ڈھارس بندھائی،معصوم بچوں کے سرپر دست شفقت رکھااور آنسوں پوچھے،انہیں سہارا دیا،فوری طور پرامداد وریلیف کاانتظام کرایا،امارت شرعیہ کے فنڈ سے مالی تعاون پیش کیا،وہاںمتاثرین کے درمیان رہ کرفسادات پرقابو پانے کے لئے انہیں حکمت عملی بتائی،بعض فسادزدہ جگہوں پر اپنے رفقاء کوبھیج کر مظلوموں کوامداد کرائی،اس سلسلے میں کئی بار مرکزی اور صوبائی حکومت پر فساد روکنے کادبائوبنایا،فرقہ پرست عناصر کے ناپاک ارادوں کوکچلنے کے لئے حکومت اور انتظامیہ سے روابط قائم رکھا،آپ نے کئی جگہوں پرریڈیو،الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا کے ذریعہ عوام کوسہی صورت حال سے اگاہ کیا۔
عہد امارت میں فسادات نیز سیلاب اور زلزلہ سے متاثرہ مقامات
آپ کے دورے امارت میں جوفرقہ وارانہ فسادات ،تباہ کن سیلاب،اور زلزلہ کے واقعات پیش آئیںان کاسرسری طور پرذکر کیاجاتا ہے:
’’۴۶۹۱ء میں عرب اور اسرائیل کی جنگ، بھیونڈی، جل گائوں (مہاراشٹر) کے فسادات، جمشیدپور، رانچی، راورکیلا، بیتا، پورنیہ کا فساد، نیلی (آسام) کا فساد، ۷۸۹۱ء میں شمالی بہار کا سیلاب اور ۸۸۹۱ء میں زلزلہ، ۹۸۹۱ء میں بھاگل پور، سورسنڈ (سیتامڑھی)، سہسرام اور مونگیر کا ہولناک فساد، ۰۹۹۱ء میں پٹنہ سیٹی، رانچی اور مالدہ (بنگال) کا فساد، ۰۹۹۱ء میں اڑیسہ میں آئے تباہ کن سیلاب، ۱۹۹۱ء میں کٹک (اڑیسہ) کا فساد، ۹۹۹۱ء میں سوپر سائیکلون اڑیسہ ( جس موقع پر ایک کڑور روپیہ خرچ کیا گیا)،۱۰۰۲ء میں گجرات کا بھیانک زلزلہ ،۲۰۰۲ء میں گجرات کافرقہ وارانہ فساد،۳۰۰۲ء میں مغربی بنگال کے نعمت گائوں میں فرقہ وارانہ فساد ،۴۰۰۲ء میں شمالی بہار کا بھیانک سیلاب،۴۰۰۲ء سونامی کا ہولناک طوفان ،۵۰۰۲ء میں مئو کا فساد ،۷۰۰۲ء میں شمالی بہار کے۵۱؍سے زائد اضلاع جو بھیانک سیلاب کی زد میں آئے ،۸۰۰۲ء میں کوسی کا پشتہ ٹوٹا جس کی تباہی نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا،بنگال کا آئیلہ طوفان اور دھولیہ کا فساد بھی تباہی کے اعتبار سے کوئی معمولی نہیں تھا۔ابھی حالیہ۳۱۰۲ء میں مظفرنگر(یوپی)کافساد،ان تمام فسادات کی تفصیلی ذکر اور آپ کی گراں قدر خدمات کوبیان کرنے کے لئے ایک مستقل باب کی ضرورت ہے۔
ذیل میں ہم صرف چند اہم فسادات اور حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب کی خدمات پر اجمالی روشنی ڈال رہے ہیں، جن سے آپ کی قیادت، حکمت، دور اندیشی، دردمندی کا اندازہ لگ جائے گا۔
رانچی کے فسادمیں متاثرین کی بازآبادکاری میں آپ کارول
۲۲؍اگست ۷۶۹۱ء کو رانچی میں اردو کی مخالفت میں نکالے گئے طلبا کے جلوس میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا،چھرے بازی کے متعدد واقعات رونما ہوئے،فرقہ وارانہ کا ننگا ناچ شہر میں ہفتوں ناچتا رہا،ہٹیا میں پانچ سو افراد کوقتل کرکے شہید کیاگیا،چاروں طرف قتل وغارت گری اور لوٹ مار کابازار گر م رہا،سات ہزار سے زائد لوگ اس فساد سے متاثر ہوئے، تین ہزار کے قریب لوگ بے گھر ہوئے، سو سے زیادہ مکان و دکا ن برباد ہوئے ۔واقعہ کی اطلاع پاکر فوراََ امیر شریعت مولانا نظام الدین صاحب (اس وقت ناظم امارت شرعیہ) بلاخوف وخطر۳۲؍اگست کو دن کے گیارہ بجے بذریعہ طیارہ رانچی کی طرف روانہ ہوئے،ساتھ میں غلام سرور(سابق اسپیکر)اورجسٹن رچرڈبھی تھے۔یہاں مہینوں رہ کر فساد زدہ لوگوں کی آبادکاری میں مشغول رہے، بروقت انتظامیہ سے رجوع کر حکمت عملی اختیار کی جس سے کئی لوگوں کی جان محفوظ ہوئی،فسادیوں نے منصوبہ بندطور پر ڈاک خانہ ،ٹیلی گرام ،فون،کے رابطہ کومنقطع کردیا تھاجس کی وجہ کررانچی کا ربط پورے ملک سے کٹاہوا تھا،آمدروفت بھی خطرہ سے خالی نہیں تھا،پورے شہرپرکرفیونافذتھا،آپ مسلسل کئی دنوں تک امارت سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے،آخر جدوجہد کے بعدامارت شرعیہ میں فون کی گھنٹی بجی،قاضی مجاہدالاسلام صاحبؒ کو آپ نے فسادات کے متعلق پوری تفصیل بتائی،امیر شریعت کے بیان کی روشنی میں قاضی صاحب نے پورے ملک کے اخبارات کو رپورٹ کی شکل میں مرتب کربھیجا،جو فساد کی پہلی رپورٹ تھی اور پورے ہندوستا ن میں منظر عام پر آئی ،اسی رپورٹ کی بنیاد پرپورے ملک کو اس فساد کی ہولناکی کااندازہ ہوا ،امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانیؒ بھی رانچی تشریف لے گئے اور فساد زدہ مقامات کا دورہ کیا ،متاثر افراد سے ملاقات کی اور انہیں صبر اور خدا سے لو لگانے کی تلقین کی ۔
رانچی کے اس فرقہ وارانہ فساد میں بہت سے اہم گوشے ایسے تھے جس کو امیر شریعت مولانا نظام الدین صاحب نے مہینوں رہ کرمحسوس کیاتھا،وہاں کے حقائق پر مبنی جب امارت شرعیہ کورپورٹ پیش کی تو اس میں فساد کے اسباب کاذکر کرتے ہوئے کئی اہم سوال حکومت ،عوام اور مسلم رہنمائوں کے سامنے پیش کئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ رانچی کا فساد کس طرح منصوبہ بند طریقہ سے انجاد دیا گیا ۔ملاحظہ ہو وہ نکات جوامیر شریعت مدظلہ نے اپنی رپورٹ میں پیش کی تھی:
(۱)رانچی میں ایک ماہ پہلے سے اردومخالف کے نام پر مسلمانوں کے خلاف اکثریت کے لوگوں کوبھڑکایا جارہاتھا۔فسادسے ایک ہفتہ قبل اردو کے خلاف جومیٹنگ یاجلسہ ہوا،اس میں مسلمانوں کے خلاف خوب خوب زہر پھیلایاگیا۔۷۱؍اگست کوایک نہایت اشتعال انگیزپمفلٹ بہت بڑی تعداد میں لوگوں کے اندر تقسیم کیاگیا۔جس میں بہار کے ۰۴۔۵۴لاکھ مسلمانوں کوپاکستانی قرار دے کراور ان کوآستین کاسانپ کہہ کرسر کچلنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ان کاروائیوں سے شہر کی فضا خراب ہورہی تھی ،مگر مقامی حکام اور پولس نے اس کاکوئی نوٹس نہیں لیااور نہ کوئی احتیاطی کاروائی یاتدبیر ہی عمل میں لائی اور نہ سیاسی لیڈروں نے اس کی پرواہ کی۔
(۲)اردومخالف جلوس والے جب پتھرائوکرتے ہوئے واپس ہوئے تو انھوں نے اپربازاراورہندومحلوں میں یہ پروپگینڈاکیا کہ مسلمان ہندپٹیرھی اور دوسرے محلوں میں ہندئووںکو ماررہے ہیںاور مکانوں میں آگ لگارہے ہیں۔پھر یہ افواہ منظم طریقہ پررانچی شہر اوردھروامیں پھیلائی گئی کہ مسلمانوں نے سینکڑوں ہندئووںکو مارڈالا ہے۔ان کے پاس پاکستانی ہتھیار ہے۔یہ افواہ جن سنگھ کے ورکر اور غنڈوں کی سرپرستی کرنے والے سرمایہ دارزوروں پرپھیلارہے تھے اور اس طرح وہ مسلمانوں کی خون ریزی کاجواز پیدا کررہے تھے۔پولس اور حکام جوامن کے ذمہ دار ہیں،انھوں نے ان افواہوں کی تردید کرنے کے بجائے مسلمانوں کوظلم وستم کانشانہ بنایااور مارپیٹ کرجیل بھیجا۔دھروا میں جب مسلم ملازمین نے کارخانہ کے چیئرمین ٹی،آر گپتا سے جاکر کہا کہ مائک پراس افواہ کی تردید کی جائے اور حفاظت کاانتظام کیا جائے ۔مگر چیئر مین صاحب نے اس پرکوئی توجہ نہیں دی اور جان بوجھ کرلاپرواہی سے کام لیا۔
(۳)ہوم گارڈ اور بہار ملیٹری فورس نے کرفیو کے اوقات میں مسلمانوں پر جوظلم ڈھائے ہیں ان کی داستان بھی لمبی ہے۔غنڈے جہاں نہیںپہنچ سکے وہاں ان ظالموں نے ستایااور پریشان کیا۔
(۴)اتنا بڑا خون ریزی ،لوٹ اور آتشزدگی کاواقعہ گزرگیا اور سب کرفیو کے اوقات میں ہوا۔مگر پولس والوں نے ایک بھی گولی نہیں چلائی۔چلائی بھی تو نواسرائے گائوں میں ،یہاں ۶۲؍اگست کورات میں ۵رائونڈ سے زیادہ فائر ہوئے جس میں ایک مسلمان جواپنے مکئی کے کھیت سے نکل کربستی کی طرف جارہاتھا ہلاک ہوگیا۔
(۵)فساد میں مسلم اقلیت کے جانی ومالی نقصان کاحکومت کے ذمہ داروں اور دوسرے لیڈروں نے اعتراف کیا ہے اور اس المیہ پر اظہار افسوس کیا ہے۔مگر جس وقت رانچی کی سرزمین پر فساد کابیج بویا جارہاتھا تو یہ لوگ مطمئن تھے۔ہماری حکومت اور ہمارے رہنما جب تک فساد کے اسباب پر غور کرکے اس کوبند نہیںکریں گے اور مسلم اقلیت کے بارے میں ان کی پالیسی صاف نہیں ہوگی اس وقت تک یہ فساد بند نہیں ہو سکتے۔
(۶)مسلم جماعتوں کے لیڈروں کو یہ سوچنا ہے کہ اگر فسادات کا یہی سلسلہ رہاتو ہم لوگ ملت کے لئے کوئی ٹھوس کام نہیں کرسکیںگے۔بس ہمارا کام یہی رہ جائے گا کہ فرقہ وارانہ فسادات میں ریلیف لے کر دوڑیں،پھر ان کوکھلائیں،کچھ روپیہ کپڑا تقسیم کریں،رونے والوں کے ساتھ خود بھی آنسو بہائیں،حکومت کے سامنے میمورنڈم پیش کریں اور اس کے بعد خاموش ہوجائیں۔
ْْ (۷)ا ن فسادات میں بعض واقعات ایسے بھی سامنے آئے جس سے پتہ چلا کہ اکثریتی فرقہ میںبہت سے شریف ،انسانیت دوست ایسے بھی ہیں جنھوں نے خطرناک موقع پرمسلمانوں کواپنے گھروں میں پناہ دی اور جان بچائی۔
(۸)رانچی کے مسلمانوں نے اپنی رواداری کاایک مثالی مظاہرہ کیا اور ہرشخص نے مصیبت زدوں اورتباہ حال بھائیوں کے لئے اپنا مکان کادروازہ کھول دیا۔
(۹)ہٹیا کارخانہ میں مسلم ملازمین کوجس بربریت کاشکار بنایاگیا اس سے ان کامستقبل بالکل غیر محفوظ ہوگیاہے۔اگر ان کوایک علاحدہ سکٹر میںنہیں بسایاگیا اور ان کی حفاظت کامعقول نظم نہیں کیاگیا تووہ صرف کارخانہ سے، بلکہ تمام صنعتی میدان اور ترقیاتی منصوبوں سے ایک دم چھانٹ دئے جائیںگے۔
(۰۱)جہاں تک امارت شرعیہ کی خدمات کاتعلق ہے،یہاں سب سے پہلے ۳۲؍اگست بدھ کوحاضر ہوگیا۔فساد کے دوران گھرے ہوئے لوگوں کو نکالنے اور ابتدائی ریلیف پہنچانے کی خدمت امارت شرعیہ کی طرف سے انجاد دی گئی۔میں نے تمام متاثرہ علاقوں کادورہ مکمل کرلیا ہے۔انشاء اللہ مصیبت زدہ لوگوں کوہرممکن مدد پہنچائی جائے گی۔
ّ (۱۱)اس فساد میں یہ دیکھاگیا کہ جومسلمان غیر محفوظ مقام پرتھے ان کووہاں سے نکالنے کوکوئی نظم حکومت نے نہیں کیا۔مسلم جماعت کے لیڈروں اور شہر کے ذمہ داروں نے باربار ملیٹری فورس کے لئے درخواست دیں، مگر اس کاکوئی نظم نہ ہوسکا۔
(۲۱)مسلمان شہیدوں کی لاشیں تین چار دنوں تک موقع واردات سے اٹھائی گئیں،ہنگامہ ختم ہوچکاہے،تباہ حال لوگوں کوریلیف پہنچانے کی ضرورت ہے،یہاں کی سیاسی جماعتوں کاکوئی پتہ نہیں۔حکومت کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم ہے،وزیر پولس برابرہی مسلمانوں کے محلہ میں آتے ہیں۔
(۳۱)اس فساد میں ایک نمایاں اور قابل غوربات یہ بھی ہے کہ یہ فساد جس وقت شروع ہوابہار کے چیف منسٹر اور وزیر پولس شری رامانند تیواری اور غالباََ مرکز کے دو ایک وزرابھی موجود تھے۔
(۴۱)ہٹیا کارخانہ کے ذمہ دار مسٹر ٹی۔آر گپتا اور میڈیکل کالج کے ڈاکٹر مترا کارول حکومت ہنداور حکومت بہار کے لئے انتہائی قابل توجہ ہے۔ان دونوں مقامات پر انسانی قتل کے سلسلے میںجس طرح منظم شقاوت قلبی کامظاہرہ کیاگیا ہے،یہ بات پوری ہندوستانی قوم کے لئے قابل غور ہے کہ اگر تعلیمی اداروں اور صنعتی مراکز میں اس قسم کے زہریلے ذہن کونشوونما حاصل ہوئی تو اس ملک کاکیا حشر ہوگا؟۔
(بحوالہ،رانچی فسادکی مختصر رپورٹ،ہفتہ وار’’نقیب‘‘۹؍اگست۷۶۹۱)
اس رپورٹ کے حوالہ سے آپ نے فساد کے اسباب اور اس کے محرکات کو بھی واضح کردیااور ساتھ ہی حکومت اور دیگر تنظیموں کو اپنی ذمہ داری کااحساس بھی دلایا۔
میرٹھ کافساد
یوں تو شہر میرٹھ میں کئی بار فرقہ وارانہ فسادات ہوئے،مگر۹۱؍مئی۷۸۹۱ ء میں جوفساد ہواوہ انتظامیہ اور پولس کی ملی بھگت کانتیجہ تھا کہ پورا شہر میرٹھ میں قہر برپاہوگیا۔ جس کی مثال ہندوستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
بابری مسجدمسئلہ اور رتھ یاترا کی وجہ سے میرٹھ فساد سے ایک سال قبل یعنی ۶۸۹۱ء سے ہی دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی، بابری مسجد کا تالا کھولنے کے خلاف احتجاج کے لئے میرٹھ کے مسلمانوں نے ۴۱؍فروری ۶۸۹۱ء کو ’’ورودھ دیوس‘‘منایاتھا،اپنے گھروں اور دوکانوں پر سیاہ پرچم لہرائے تھے،اس کے جواب میں ہندئوں نے بھی اپنے دوکانوں پر زعفرانی جھنڈئے لہرائے۔وشو ہندوپریشد نے بابری مسجدکو رام جنم بھومی کانام دے کر اس کوآزاد کرانے کے لئے مہم شروع کی، ملک کے مخصوص حصوں میں رتھ یاترائیں نکلے جس سے ہندئووں میں نئی جاگرتاآئی،آہستہ آہستہ دونوں فرقوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی گئی، بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے قیام کے نتیجہ میں بھی ہندئووں نے ریاست کے تمام بڑے شہروں میں بجرنگ دل اور بلیدان جتھے قائم کئے ۔ یہی یعنی رام جنم بھومی اور بابری مسجد معاملہ دونوں فرقوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کاسبب بن گیا۔
میرٹھ فساد پرتحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق:
’’یہ ایک ایسا انتہائی منصوبہ بند اور منظم بڑے پیمانے پر ہونے والے فرقہ وارانہ فساد تھا ،کیونکہ رام جنم بھومی،بابری مسجد تنازعہ کے سلسلے میں دونوں فرقوں کی جانب سے تقریروں کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیداہوئی تھی ،اور لوگوں کوفساد ہونے کااندیشہ تھا اس لئے انھوں نے پتھروغیرہ جمع کرکے اس کی پوری تیاری بھی کرلی تھیں۔اٹلی جنس اور دوسری رپورٹوں اور گواہوں کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ مئی کے فساد سے قبل کافی سرگرمیاں چل رہی تھیں۔یہ تیاریاں فسادی فوری طور پراور یکایک نہیں کرسکتے تھے‘‘۔
(بحوالہ:ہفتہ وار ’’نقیب‘‘۷؍دسمبر۷۸۹۱ئ)
چنانچہ ایک سال سے جاری سرگرمیاں۹۱؍مئی۷۸۹۱ ء کوبڑے پیمانے پر فساد کی شکل میں اختیار کرگیا۔جس میں ایک سوسے زائد افراد کاقتل کیاگیا،شہر کے تقریباََ ساٹھ محلے فساد سے متاثر ہوئے،مساجد،مکانات اور دکانوں کونذرِآتش کیاگیا۔کروڑوں روپے کی املاک کی تباہی ہوئی،۹۵۱؍افراد شدید زخمی ہوئے،۳۳۶مکانوں،۴۴۳ دکانوںاور ۴۱فیکٹریوں کو تباہ وبرباد کیا گیا،کل ملا کر دس کروڑ روپے سے زیادہ مالی نقصان کااندازہ ہوا۔
اس فساد میں خاص طور سے اقلیتوں کونشانہ بنایا گیا،پولس کی موجودگی میں جارح عناصر نے مظالم کے پہاڑ توڑے،پھر بعد میں لوگوں کوگھروں سے نکال کرپولس چوکیوں اور یہاں تک کہ جیلوں میں بھی درندگی اور بربریت کانشانہ مسلمانوں کوبنایاگیا۔سابق کمپٹرولر اینڈ آڈیٹرجنرل آف انڈیا مسٹرگیانا پرکاش کی زیر قیادت والی کمیٹی نے بھی پولس کے رویہ پر سخت تنقید کیااور ۰۳؍اگست ۷۸۹۱ء کورپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ :
’’میرٹھ کافساس منصوبہ بند اور منظم تھا،صورت حال سے نمٹنے میں پولس نے کوتاہی برتی،ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس نے زیادہ تر ہوا میں فائرنگ کی اور اس میں کوئی ہلاک یازخمی نہیں ہوا اور فساد روکنے کے بجائے اور بھی زیادہ پھیلتا چلاگیا۔میرٹھ میں جوصورت حال تھی اس میں قوت کا استعمال اور سخت اقدام ضروری تھا‘‘
(بحوالہ:ہفتہ وار ’’نقیب‘‘نومبر۷۸۹۱ئ)
چنانچہ حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی کے حکم مطابق امیر شریعت مولانا سید نظام الدین(اس وقت ناظم امارت شرعیہ)نے میں میرٹھ کے فسادزدہ شہرمیں مسلمانوں کے جانی ومالی نقصان کاجائزہ لینے،امداد اور آبادکاری کانقشہ مرتب کرنے کے لئے جولائی میں دورہ کیا۔لیکن اچانک دوبارہ حالات خراب ہونے اور شہر میںکرفیونافذ ہونے کی وجہ سے آپ کادورہ ادھورا رہ گیا اور آپ واپس آگئے۔حالات معمول ہونے پر آپ پھر دوباہ میرٹھ تشریف لے گئے اور ایک ہفتہ قیام کرکے مولانا احمد حسین(نائب ناظم)کے ساتھ امداد اور آبادکاری میں مشغول رہے۔
آپ یہاں دوران قیام امارت شرعیہ ریلیف فنڈ سے توپ خانہ بازار،چھوٹی مسجد کے پاس جن کے مکانات جلادئے گئے تھے ان کوسامانِ تعمیر فراہم کرایا،ان کوروزگار سے لگانے میںہرممکن مددکی،فیاض علی ،شاستری نگر اور ذاکر نگر میں فساد زدہ خاندانوں کومعاشی بحالی کے لیے سلائی مشین،رکشہ،بیٹری چارجر مشین اور موٹر میکانک کے اوزار فراہم کرائیں۔جوافراد جیل میں بند تھے ان کے گھروالوں کی امداد کی،بعض خاندانوںکونقد رقم بھی فراہم کرائیں،اس طرح نہ صرف اجڑے ہوئے خاندانوں کواپنے اپنے گھروں میں آباد کیاگیا بلکہ جن لوگوں کومدد دی گئی تھی وہ ازسرنو اپنے اپنے کاروبار میں لگ گئے۔
آپ نے میرٹھ فساد کادورہ کرکے جورپورٹ پیش کئے اس کا اقتباس ملاحظہ فرمائے:
’’میرٹھ میںامن ومان کی حالت پہلے سے بہتر ہے،کرفیواٹھا لیا گیا ہے،اور شہر کی رونق چہل پہل واپس آرہی ہے۔فساد سے متاثر افراد کی ریلیف اور آبادکاری کاکام جاری ہے،سرکاری طورپر لوگوں کومختصر امداد ملی ہے اصل کام مختلف مسلم تنظیموں کی طرف سے ہورہاہے۔مولانا احمد حسین صاحب کے ساتھ مختلف علاقوں کادورہ کیا،فساد میں جانی نقصانی بھی بڑے پیمانے ہوہواہے،جن لوگوں کی لاش ملی صرف ان کے معاوضہ کاسرکاری طور اعلان ہواہے۔مگر جن کی لاش ضائع کردی گئی ہے ان کے معاوضہ کامعاملہ ہنوزباقی ہے۔سرکار کی ذمہ داری ہے کہ مالی نقصان کامعاوضہ بھی دیاجائے،اور جن کی لاش نہیں ملی، مگر ان کے مارے جانے کاثبوت موجود ہے ان کوبھی معاوضہ دیاجائے۔‘‘
ْْْْْ(بحوالہ:ہفتہ وار ’’نقیب‘‘نومبر۷۸۹۱ئ)
بہار شریف کافساد
۹۷۹۱ء میں فرقہ پرست اور فسطائی ذہنیت رکھنے والے افراد کی منصوبہ بند اور منظم سازشوں کے نتیجے میں بہار شریف میں بھیانک فرقہ وارانہ فساد برپاکیا گیا۔اس فساد میں مسلمانوں کی جان،ان کی عزت وآبرو،املاک،اور دوکانوں کوخاص طور پرنشانہ بنایاگیا،مہینوں مسلمان اس فساد کی آگ میں جلتے رہے۔اس فساد سے شہر کے قرب وجوار کے کے تقریباََ ۲۳؍گائوں متاثر ہوئے،جس میں آٹھ گائوں میں بہت زیادہ جانی ومالی نقصان ہوا،سینکڑوں مکانات اور دکانیں نذر آتش کی گئیں،اس موقع پر حضرت امیر شریعت رابع مولانا سید منت اللہ رحمانی کے حکم پر مولانا سید نظام الدین صاحب(اس وقت ناظم امارت شرعیہ)بہار تشریف لے گئے،کئی روزقیام فرما کرآپ نے متاثرین کے درمیان امداررسائی کاکام کیا،فساد زدگان کی امداد وآبادکاری کے لئے’’امارت شرعیہ ریلیف مشن‘‘قائم کیا،اور متاثرین کی آبادکاری کے لئے امارت کے ریلیف فنڈ سے ایک لاکھ سے زائد تقسیم کئے۔
جمشید پور کافساد
جمشید پور میں صنعت وحرفت کوتباہ کرنے کے لیے فرقہ پرست عناصر نے ۱۱؍اپریل۹۷۹۱ء کوزبردست فرقہ وارانہ فساد کرایا۔جس میں سینکڑوں زندگی ختم ہوئی،بے شمار مسجدیں تباہ کی گئیں،دوہزار سے زیادہ مکانات نذرآتش اور ہزاروںد کانیں خاکستر کی گئیں۔تقریباََ ۰۵؍ہزار افراد اس فساد سے متاثر ہوئے،امارت شرعیہ کی سروے رپورٹ کے مطابق:
’’ مسلمان شہداء کی تعداد تین سو(۰۰۳) تھی،اس فساد میں شہید ہونے والوں کی ۰۹؍فیصد تعداد وہ ہے جوپولس کی گولیوں سے ہلاک ہوئے‘‘۔
جس وقت جمشید پور میں یہ فساد آگ کے انگاڑے کی طرح دھک رہی تھی اس وقت حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی بنگلہ دیش کے دورہ پر تھے۔وہاں سے واپسی کے بعد ۷۲؍اپریل ۹۷۹۱ء کوامیر شریعت رابع اور مولانا سید نظام الدین صاحب جمشید پور تشریف لے گئے،وہاں کے دوران قیام آپ لوگوں نے تباہ شدہ بستیوں کاجائزہ لیا۔لوگوں سے تفصیلی حالات سنے،آپ لوگوں کی نگرانی میں امارت کی طرف سے فسادزدگان کی امداد اور آبادکاری پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد روپے خرچ ہوئے،گڈری مارکیٹ کی ازسرِ نوتعمیر کرائی گئی،۷۱؍خاندان کی لڑکیوں کی شادی کے لئے رقم دی گئی،شہدا کے خاندان والوں کوامداد جاری کی گئی۔
مرادآباد کافساد
مرادآباد (یوپی)میں۳۱؍اگست۰۸۹۱ء کوجو فساد رونماء ہوا ،پولس والوں نے جس دردنگی ،بربریت کامظاہرہ کیااس سے انگریزی حکومت میں ہوئے ’’جلیا نوالاباغ ‘‘کی تاریخ دہرائی گئی،حالانکہ جلیانوالاباغ میں انگریزی فوجیوں کی گولی کانشانہ معصوم بچے اور بوڑھے نہیں بنے تھے،(لیکن اس فساد میں بچوں،جوانوں اور معصوموں کوگولی کانشانہ بنایا گیا،یہ فرق ہے دونوں میں،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں فساد کے موقع پر ہندو اور فوج دونوں کاکردار انگریزوں سے بدتر ہوتا ہے)یہ سوچے سمجھے ہوئے منصوبے کے تحت پولس کا بے گناہ اور نہتے مسلمانوں پر انتہائی وحشیانہ حملہ تھا۔
مرادآبادمیںآئینی انتخاب کے بعد ہی سے فضاگرم ہوگئی تھی،جس کی خبر اعلیٰ حکاموں کو تھی،عید کے دو ہفتہ قبل ،اکثریتی فرقہ کے کچھ افراد(چمار)ڈھول تاشہ کے ساتھ نماز کے وقت آکر دھمکی دی کہ اس کا بدلہ عید کے دن لیا جائے گا،چونکہ عیدگاہ سے قریب ہی اس طبقہ کی آبادی تھی،اور وہ لوگ سور( خنزیر) پالتے تھے،مسلمانوں پرقیامت صغری ڈھانے کے لئے منصوبہ کوعملی جامہ پہنانے کے لئے سور کوبطور حیلہ (بہانہ)استعمال کیاگیا،ٹھیک عید کے نماز کے وقت سور( خنزیر) عیدگاہ میں گھس آئے جس سے مسلمانوں کوتکلیف ہوئی،انہوں نے پولس سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے دریافت کیا کہ خنزیر کس طرح سے عیدگاہ میں آگئیں،اس پولس کے لوگوں نے بغیر کسی معذرت کے تلخ کلامی شروع کردی،دونوں طرف سے تیز کلامی ہوئی اور پھر اس کے بعد پھر وہ منظر سامنے آگیا جس کی دوسرے فرقہ کے لوگوں نے تیاری کررکھی تھی،۰۵؍۰۶ہزار نمازی جن میں مرد،بچے،بچیاں،خوش وخرم عید کی نمازاداکرنے آئے تھے اور بارگاہ رسالت میں سجدہ میںتھے ،عین اسی حالت میں نہتے مسلمانوں پر گولیاں چلائی گئی،کچھ لوگ گولیوں سے مارے گئے،جان بچانے کی بھگڈر میںسینکڑوں بچے اور بوڑھے کچل کرمرگئے،پولس کی دیوانگی اور جوش وانتقام کاعالم یہ تھا کہ جولوگ جان بچانے کے لئے مسجدمیں گھس گئے ،انہیں بھی پولس والوں نے مسجد کے اندر گھس کرمارا،مسجد کی خون سے لت پت صفیں پولس کی درندگی کی گواہ ہیں۔فساد میں سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے،عورتوں اور بچوں کے ساتھ نازیباسلوک کیا گیا،مکانات اور دکانوں کولوٹ لیاگیا،کروڑوں سے زائد کی املاک کی تباہی ہوئی،سرکاری اعدادوشمارکے مطابق عیدگاہ میں مارے گئے لوگوں کی تعداد ۲۵تھی،جن میں ۳۲ بچے (سولہ لڑکے،سات لڑکیاں)شامل تھے۔جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق مرنے والوں کی تعداد سینکڑوںسے کہیں زیادہ تھیں۔
اس حادثہ کے بعد حکمراںسیاسی جماعت،اور بعض سیاسی جماعت کے لیڈروں نے الزام تراشی ،پولس کی ناکامی اور واقعات کو توڑمروڑ کرپیش کرتے رہے،اور یہ کہا گیا کہ پولس پر پہلی گولی مسلمانوں نے ہی چلائی اور اس ایک نکتہ کوبنیاد بنا کرساری ذمہ داری مسلمانوں پرڈال دی گئی۔پہلی بات کہ کوئی بھی مسلمان ہتھیار بند ہوکر عید گاہ نہیں جاتے اورجہاں اتنابڑا مجمع ہوجس میں ہزاروں کی تعداد میں معصوم بچے اور بوڑھے بزرگ ہوں،تو کوئی بھی مسلمان گولی چلاکر سبھوں کوخطرہ میں ڈالنے کی جرأت نہیں کرسکتا،یہ افسران اور سیاسی چال بازوں کی مکمل فریب دہی اور انسانوں کے قتل کوجائز ٹھہرانے کی شیطانی دلیل تھی۔
اس ہولناک فساد سے آپ کافی مغموم ہوئے،اور اپنے تاثرات کااظہار ان الفاظ میں فرمایا:
مرادآباد میں پولس کی قاتلانہ کاروائی پرپردہ ڈالنے کیلئے اسے فسادکارنگ دیاگیا
مرادآباد عیدگاہ کاواقعہ کسی اعتبار سے بھی فرقہ وارانہ نوعیت کانہیں تھا۔پی اے سی اور نمازیوں میں تصادم اور انتظامیہ کی بے تدبیری اور ناکامی کو فرقہ وارانہ فساد کارنگ دے کرمسلمانوں کو انتقامی کاروائیوں کانشانہ بنایا گیا (۱) عیدگاہ میں نمازیوں کے اشتعال کاجوبھی سبب ہواس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پولس نے کسی وارلنگ کے بغیر اندھا دھند فائرنگ کرکے جلیانوالاباغ اور کانپور کی مسجدشہید گنج فائرنگ کی یاد تازہ کردی، جس میں انگریزی حکومت نے پرامن شہریوں کوگولیاں برساکر سینکڑوں لوگوں کوموت کے گھاٹ اتاردیاتھا۔
مرادآباد کے واقعات پر دوسرے شہروں میں ہونے والا رد عمل غیر فطری نہیں تھے۔ پولس کی درندگی اور بربریت نے سارے مسلمانوں اور سبھی امن پسند شہریوں کے جذبات کوحددرجہ مجروح کردیاتھا۔گرچہ ردعمل کسی مسئلہ کاحل نہیں ہے۔تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بیشتر شہریوں میں تمام مشتعل نہیں ہوئے،پولس نے مزاحمت کرکے اور فرقہ پرست غنڈوں کوابھار کرصورت حال کوفرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی تاکہ پی اے سی پر قتل عام کرنے کامقدمہ نہ ہوسکے۔
واقعات کے پیچھے غیرملکی سازش اور بیرونی ایجنٹوں کاہاتھ ہونے کااندیشہ ظاہر کرکے پولس کے ظالمانہ کردار اور انتظامیہ کی ناکامی پرپردہ ڈالنے کی کوشش بے حد مایوس کن ہے،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے بیحد ذمہ دار لوگ حقائق سے آنکھیںچارکرنے کے بجائے فرار کی راہیں تلاش کررہے ہیں۔ماضی میں اسی طرح کے طرز عمل کی وجہ سے آزادی کے ۳۳برس (۱) گزر جانے پربھی فرقہ وارانہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔
میں ملک کے سبھی فرقوں خصوصاََ مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جذبات سے مغلوب نہ ہوں،ایسے سنگین حالات کامقابلہ کرنے کے لئے ضبط وتحمل اور ہوش وگوش کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔چونکہ انتظامیہ اور امن وامان وقانون قائم کرنے والی مشینری اپنے فرائض اداکرنے میں ناکام ہوچکی ہے،اس لئے محب وطن اور امن دوست عناصر کوآگے بڑھ کہ فرقہ وارانہ امن اور یک جہتی کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔
میں وزیراعظم شری متی اندرا گاندھی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اقلیتی کمیشن کی سفارش کومدنظر رکھتے ہوئے حکومت فسادات میں ہلاک اور مجروح اور تباہ وبرباد ہونے والوں کے معاوضہ کی پوری ذمہ داری قبول کرے اور جس طرح ٹرین اور ہوائی حادثے میں جانی ومالی نقصان کامعاوضہ حکومت اداکرتی ہے اسی طرح فسادات میں جانی ومالی نقصان کابھی پورا معاوضہ اداکرے۔
ساتھ ہی اترپردیش میں پی اے سی کامسلم دشمن رویہ باربار کے تجربوں کے بعد اظہرمن الشمس ہوچکا ہے، اس لئے فرقہ وارانہ بدامنی کامقابلہ کرنے کے لئے ایسی مستقل امن فورس بنائی جائے جس میں سبھی فرقوں خصوصاََ اقلیتوں اور کمزور طبقوں کی معقول نمائندگی ہو۔
ْْْْْ (بحوالہ:ہفتہ وار ’’نقیب‘‘۵۲؍اگست ۰۸۹۱ئ)
۷۸۹۱ء کا تباہ کن سیلاب
۷۸۹۱ء بہار میں جوبھیانک سیلاب آیا،وہ انیسویں صدی کاسب سے بھیانک تباہ کن سیلاب تھا۔جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔کروڑوں روپئے کااثاثہ برباد ہوا،لاکھوں مکانات گرگئے،بستیوں کی بستیاں بے نشان ہوگئیں۔لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔اس دردناک المیہ کے موقع پرحضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب،قاضی مجاہدالاسلام صاحب اور امارت شرعیہ کے مخلص کارکنوں،نقبائ،معاون امارت شرعیہ نے اپنی اسلامی اور انسانی فریضہ اپنی بساط بھر ادا کیا۔
سیلاب کی تباہ کاریوں کی خبر ملتے ہی امارت شرعیہ کی پوری مشنری حرکت میںآگئی۔امارت شرعیہ کے ذمہ داروں کاایک ہنگامی اجلاس ہوا،اور سب سے پہلے تمام کارکنان امارت شرعیہ نے اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی امداد واعانت کے لئے اپنی ایک ایک دن کی تنخواہ ریلیف فنڈ میں دے دی،اور یہ بات طے پائی کہ سیلاب سے متاثر لوگوں کی فوری مددشروع کردی جائے۔چنانچہ امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب (اس وقت ناظم امارت شرعیہ)نے تمام فیلڈورکروں ،ذیلی دفاتر کے ذمہ داروں اور معلمین حضرات کو جلد از جلد مرکزی دفتر پھلواری شریف پہونچنے کی ہدایت جاری کی،اور تمام کاموں کوروک کرشمالی بہار کے مختلف علاقوں میں امارت شرعیہ کے مراکز قائم کرنے کافیصلہ کیااور کارکنوں پر مشتمل مختلف ٹیموں کی ترتیب عمل میں لائی گئی، اگست۷۸۹۱ء کے آخری ہفتہ سے راحت رسانی کا کام شروع ہوگیا۔ ۶۲؍اگست سے ۱۳؍دسمبر تک پورے چار ماہ شمالی بہار کے ضلع ویشالی، مظفرپور، سیتامڑھی، مدھوبنی، دربھنگہ، سمستی پور، کھگڑیا، بیگوسرائے، پورنیہ،کٹیہار،سہرسہ،مشرقی چمپارن اوردوسرے تباہ حال بستیوں تک محنت ومشقت اورتکلیف کے ساتھ پہونچ کرامداد پہونچائی جس سے لوگوں کوبڑی ڈھارس ملی۔
اس موقع پرریاستی حکومت کی طرف متاثرہ علاقوں میں ہورہی لاپرواہی پرسخت ناراضگی کااظہار کرتے ہوئے حکومت کوہدایت دی کہ متاثرہ شہروں کے بیچ ریلیف اور آبادکاری کاکام کم سے کم چھ ماہ تک جاری رہنا چاہئے۔سیلاب زدہ علاقوں میں ریلیف کی تقسیم کوبہتر بنانے کا حکومت کومشورہ دیا،نیز درجنوں مقامات پرندیوں کے پشتے کے ٹوٹنے پر نوٹس لیتے ہوئے حضرت امیر شریعت مدظلہ نے ایک بیان دیا،ذیل میں اس بیان کونقل کیا کیاجارہا ہے۔
ندیوں کے پشتے ٹوٹے پر تحقیقات کامطالبہ
’’بہار سیلاب کی تباہ کاریوں خصوصاََ شمالی بہار میں انسانی جان ومال کے غیر معمولی نقصان نیز پانی میں گھرے ہوئے لاکھوں افراد کے ناقابل بیان اور مصیبتوں میں گرفتار لوگوں کے ساتھ مجھے دلی ہمدردی ہے۔افسوس ہے کہ بارہ سو کروڑروپے خرچ کر کے ندیوں پر جوپشتے لوگوں کوسیلاب سے بچانے کے لئے بنائے گئے تھے وہی پشتے درجنوں مقامات پرٹوٹ کرلوگوں کی تباہی وبربادی کاباعث بنے۔پشتوں کے ٹوٹنے سے پانی کے ریلے نے آبادیوں کواس طرح اچانک بہالے گیا کہ لوگ سامان،غلہ اور مویشیوں کوبھی نہ بچاسکے۔پشتوں اور باندھوں پر پناہ لئے ہوئے بیشتر لوگ کھلے آسمان کے نیچے اس طرح دن گزار رہے ہیں کہ ان کے پاس جسم کے کپڑوں کے سواکچھ بھی نہیں ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جارہی ہے،جبکہ غیر سرکاری اندازے کے مطابق ہزاروں ہلاک ہوئے ہیں اور ہزار لاپتہ ہیں۔
چنانچہ اس بات کاپتہ تحقیقاتی کمیشن کے ذریعہ لگایا جائے کہ جن پشتوںکی مرمت اور حفاظت پر ہرسال کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں وہ اس طرح کیوں ٹوٹے؟جن لوگوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے۔
سیلاب سے متاثر سواکروڑ لوگوں کوامداد فراہم کرنے کی سرکار بھرپور کوشش کررہی ہے پھر بھی جگہ جگہ سے شکایتیں موصول ہورہی ہیں کہ یہ امدادبالکل ناکافی ہے اور مستحق لوگوں تک ٹھیک سے نہیں پہونچ رہی ہے۔بعض جگہوں میں ریلیف تقسیم کرنے میں امتیاز برتاجارہا ہے۔میرا مشورہ ہے کہ ہرحلقے میں سماجی اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں کولے ریلیف کمیٹیاں بنادی جائیں اور ان کے تعاون سے لوگوں کوامداددی جائے اور یہ ریلیف وآبادکاری کاکام چھ مہینہ تک چلتا رہے۔
سیلاب کی مصیبت سے محفوظ صوبہ،بیرون صوبہ ،امارت شرعیہ کے نقباء اور ذمہ داروں سے میں اپیل کرتا ہوں کہ اسلامی تعلیمات اور انسانی ہمدردی کاتقاضہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کے مصائب کوکم کرنے کے لئے مدد کوآگے آئیں۔فوری طور پرکھانے کے سامان کپڑوں،کراسن تیل اور سلائی کی ضرورت ہے‘‘۔
(بحوالہ:نقیب،۱۳؍اگست۷۸۹۱ئ)
اس موقع پر آپ نے ملک کے تمام اہل خیر حضرات سے ایک دردمندانہ ومخلصانہ اپیل کی۔جس کااثر صاف طور سے ظاہر ہوا،لوگ اس مصیبت کی گھڑی میں دل کھول کربے بس اور مجبور اپنے بھائیوں کولئے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے۔امیر شریعت نے جس انداز میں دلسوز اپیل کی تھی،ملاحظہ فرمائیں:
شمالی بہار ہولناک سیلاب کی زد میں، ۴۳۹۱ کے زلزلہ سے زیادہ بھیانک ہمارا انسانی فریضہ ہمیں پکار رہاہے
’’شمالی بہار کے حالیہ سیلاب کی ہولناکی کاتصویر نہیں کیا جاسکتا۔لاکھوں افرادبے گھر ہوچکے ہیں۔بھوک اور پیاس سے پریشان حال لوگ جنہیں کسی گھر کی چھت نصیب نہیں ہے۔سڑکوں کے کنارے کھلے آسمان کے نیچے تیز دھوپ یاشدید بارش کے شکار ہیں۔چھوٹے چھوٹے معصوم بچے بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔دومیل چار میل کی دوری تک کے لوگ ایک دوسرے کے حال سے ناآشنا ہیں۔نفسی نفسی کاعالم ہے۔اب جیسے جیسے پانی گھٹ رہا ہے اور حالات معلوم ہورہے ہیں تو اندازہ ہورہا ہے کہ ۴۳۹۱ء کے تاریخی زلزلہ سے جوتباہی ہوئی تھی اس سے بھی زیادہ بربادی اس سیلاب میں ہوئی ہے۔بڑی آبادیاں ہوں یاچھوٹے دیہات،گرنے والے مکانات کی گنتی مشکل ہے۔ہاں چند بچے ہوئے مکانات کوگنا جاسکتاہے۔سیلاب کی نذر ہوکرمرنے والے اور سانپ کے کاٹنے سے موت کے بعد اب کہیں کہیں وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کی خبر یں بھی مل رہی ہیں۔مٹی کے تمام مکانات اور بڑی بڑی حویلیاں بیٹھ چکی ہیں۔ان دردناک اور عبرتناک حالات کی تصویر نہیں کھینچی جاسکتی ۔سرکاری امداد واقعات کی ہولناکی اور وسعت کے اعتبار سے قطعی ناکافی ہے۔
ان حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انسانیت کی خدمت اور مصبیت زدہ انسانوں کی مددکے لئے آگے آئیں،اور بحیثیت خیر امت جوفرض اللہ نے ہم پرعائد کیاہے،ہم اس فرض سے عہدہ براہوں۔یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم بلالحاظ مذہب وملت سبھی انسانوں کی خدمت کوفریضہ انجام دیں۔اس سلسلہ میں امارت شرعیہ بہارواڑیسہ نے کام شروع کردیا ہے۔مختلف علاقوں میں کام کے لئے مختلف ٹیمیں بنادی گئی ہیں۔جواپنے وسائل کے مطابق کام شروع کرچکی ہیں۔
فوری طورسے تیار کھانے کاانتظام ،کپڑے کانظم کیا جارہا ہے،گڑے ہوئے مکانات کاسروے کرکے ممکن حدتک مددکی کوشش کی جارہی ہے۔اس سلسلہ میں تمام ہی انسانوں سے اور خصوصیت کے ساتھ اہل خیر مسلمانوں سے یہ اپیل کی جاتی ہے کہ وہ آگے آئیں۔مقامی طور پر نوجوان اس خدمت کی کام کے لئے منظم ہوں۔اور ملک کے سبھی اہل خیر سے درخواست کی جاتی ہے کہ اس اہم خدمت کے لئے جس پر لاکھوں لاکھ روپے کاخرچ ہے،آگے آئیں۔خود اپنی طرف سے اور دیگر اہل خیر کی طرف سے زیادہ سے زیادہ رقم جمع کرکے’’ناظم بیت المال امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ‘‘کے نام بر بذریعہ ڈاک ارسال فرمائیں‘‘۔
(بحوالہ:نقیب،۱۳؍اگست۷۸۹۱ئ)
گجرات میںفرقہ وارانہ فساد
ریاست گجرات ہندوانتہا پسند تنظیموں کامرکزرہاہے،یہاں ہندو انتہا پسند اورسیاسی پارٹی بی جے پی کی حکومت اقتدار میں ہے۔جس کے وزیراعلیٰ مسلم مخالف کے علامت نریندر مودی ہیں۔ جس نے اپنے دور حکومت میں ہندومسلم منافرت اور عیسائی ہندو نفرت کو بڑھاوا دیا، اسی بنیاد پر یہاں مسلم اور عیسائی اقلیتوں کی آبادی، کاروبار، مدارس، مساجد، اسکول، کاروبار،فیکٹریاں اور گرجاگھروں کی الگ الگ فہرست تیار کی گئی۔مگر اقلیتوںکے ایک آواز نے کورٹ کے ذریعہ اس مہم پر روک لگائی تھی۔۲۹۹۱ء میں بابری مسجد کی شہادت میںیہیںکے لوگ زیادہ تر شریک تھے۔دس سال کے بعدبابری مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کے لئے یہاں کی ہندوانتہاپسند تنظیم وشوہندو پریشد نے حکمراں جماعت بی جے پی کے تعاون سے ۵۱؍مارچ کوشیلاپوجن اور مندر تعمیر کامنصوبہ بنایا،گجرات سے بڑی تعداد میں لوگ اجودھیا جاناشروع کردیا۔۴۲؍فروری ۲۰۰۲ء کوسابر متی اکسپریس کے ذریعہ لگ بھگ ڈھائی ہزار کارسیوکوں کوگجرات سے لے کراجودھیا پہونچ گئی۔ان کارسیوکوں نے مظفرپور( بہار) جانے کے لئے ٹرین میں بیٹھے داڑھی والے مسافر کوفیض آباد ریلوے اسٹیشن پر بدتمیزی کرنے لگا،ان کی داڑھی نوچیں،پردہ نشیں خواتین کے نقاب پھاڑے،اورڈبے سے باہر کردیا اور پاکستان مخالف اور جے شری رام کے نعرے لگائے،جب مذکورہ معاملوں کی شکایت جی آر پی تھانہ میںکرائی گئی تو پولس تماشائی بنی رہی،گجرات سے شائع ہونے والاہندی روزنامہ’’جن مورچہ‘‘اخبار ۵۲؍فروری کے شمارے میں لکھتا ہے:
’’بڑاگائوں اور ردولی اسٹیشنوں کے درمیان اقلیتی طبقہ کے دونوجوانوں کوٹرین سے پھینک دیاگیا،ردولی کے مدرسہ الجامۃالاسلامیہ کے ۰۲سالہ طالب علم توحید کوسابرمتی اکسپریس ٹرین سے گوریا مئواسٹیشن پرپھینک دیاگیا اور کچھ دوسرے نوجوانوں کاکیاہوا اب تک پتہ نہیں چلاہے،ٹرینوں میں اقلیتوں پر مظالم اور دہشت گردی کولے کرایک ٹکرائو کاماحول پیدا ہوگیا‘‘۔
(بحوالہ:گجرات فساد،رپورٹ۲۰۰۲ئ)
کارسیوکوں کی ان حرکتوں کی وجہ سے اجودھیا اور فیض آباد کے مسلمان سہم گئے،شرپسندکارسیوکوں کی نازیباحرکتوں کی وجہ سے مسلم اقلیتی فرقہ تنگ آچکاتھا،جگہ جگہ اشتعال انگیز نعرے،فیض آباد سے گجرات اور راجستھان آنے والی ٹرینوں پرسوار مسافروں کے ساتھ چھیڑخوانی کرنا،گویا ایک مشغلہ بن گیا تھا،اور یہ سلسلہ تقریباََ ۰۲دنوں تک چلتارہا۔دوسرے دن جب ۷۲فروری کوگودھرا اسٹیشن پر سابر متی ایکسپریس صبح ۸بجے پہونچی تو ایک مسلم لڑکی شاہدہ بیگم جوبڑودہ جانے کے لئے ٹرین پر سوار ہورہی تھی اسے کارسیوکوںنے دھکے دے کرباہر کردیا،اور اسٹیشن پر جم کرتباہی مچائی،جب ٹرین سنگل پھلیا نامی جگہ پرپہونچی تو چین کھینچ کراسے روک دیاجہاں پر دوسرے لوگوں کی بھیڑجمع تھی،پھر پتھرائوشروع ہوگیا۔
وشوہندو پریشد کی اپیل پر گجرات میں یگیہ پر جانے والے کارسیوکوں نے جوطوفان کھڑا کررکھا تھا وہ دراصل ایک منصوبہ بند پروگرام کاایک حصہ تھا،مسلمانوں کے خلاف ان کی اشتعال انگیزی اپنا رنگ دیکھا رہی تھی،وشوہند پریشد کے لیڈروں کی طرف سے جارحانہ بیانات جاری کئے جارہے تھے۔پھر گودھرا میں ٹرین حادثہ نے انہیں ایک اور موقع دے دیا مسلم اقلیت کے خاتمہ کا۔یہ پوراجال اس طرح بچھایا گیا جس کو گجرات کے مسلم اقلیت سمجھ نہیں پائی،نتیجہ میں وشوہند پریشد نے بی جے پی اور بجرنگ دل ودیگر دوسری پارٹی کی حمایت سے دوسرے دن ملک گیر بند کا اعلان کردیا۔پھر ریاستی ومرکزی حکومت نے اس واقعہ کے رخ کو پوری طرح مسلمانوں کی طرف موڑ دیا،دوسرے دن مقامی گجراتی اخبارات نے مذکورہ معاملوں کواس طرح بڑھا چڑھا کرپیش کیا کہ پورے گجرات میں افواہوں کابازار گرم ہوگیا،پھر ہندئوں نے انتقام لینے کی آواز لگا کر پورے گجرات کی ان مسلم آبادیوں کو آگ لگادیا جو ان کی آبادی سے قریب تھا،فسادی آزادی کے ساتھ لوٹ وآتشزدگی اور قتل وغارتگری کابازار گرم رہا،جس میں پولس،بی جے پی کے سیاسی افراد اور سماجی لوگ وعام ہندوئوں نے کھل کر ساتھ دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ گجرات کافساد مسلمانوں کی منظم نسل کشی تھا،جس کی بڑی چالاکی وعیاری سے تیاری کی گئی تھی۔۲۲دنوں تک گجرات کے دس اضلاع کے سینکڑوں شہروقصبات میں حیوانیت رقص کرتی رہی،انسانیت ننگی کی جاتی رہی،معصوم اور کمسن بچے خواتین اور بوڑھے شہید کئے جاتے رہے اور جلائے جاتے رہے،جس میں ہزاروں سے زیادہ کی تعداد میں بے قصور مسلمانوں کا ناحق خون بہایاگیا،اس فساد میں وشوہندو پریشد اور بجرنگ دل والوں نے جس بہیمیت وسفاکیت کے ساتھ انسانی خون بہائے اورنہایت ہی کم سن بچوں اور عورتوں کے خون سے ہولی کھیلی ،اور جلتے ہوئے بچوں کی چیخیں سن کردرندہ صفت انسانوں کے دلوں میں رحم وانسانیت کے جذبات ابھرنے کے بجائے ان کی حیوانیت ودرندگی میں اضافہ ہوتا رہااور ان کی آہ پکار پرمسکراتے رہے۔اس فساد میں ان درندوں نے ایک نیا اور انوکھا طریقہ اپنایا کہ شہیدوں کے لئے دوگز زمین بھی فراہم نہ ہوسکے اور ان کی درندگی کاثبوت بھی نہ مل سکے،آزاد ہندوستان میں یہ پہلا فساد ہے جس نے بڑی تعداد میں بھاگتے ہوئے انسانوں پرپیٹرول چھڑک کراور مکانات میں بند کرکے آگ لگادی،مرنے والوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی تھی (۱)۔
اس فسادمیں سروے رپورٹ کے مطابق ۰۱؍ہزار سے زائد مکانات،۰۰۶؍سے زائد چھوٹے بڑے کارخانے اور فیکٹریاںتباہ کردی گئیں،سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کی دونیں لوٹ لئے گئے،بے شمار مساجد،مکاتیب کومنہدم کردیا گیا،کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز کے سروے کے مطابق:
’’گجرات فساد میں ریاست کویومیہ ۰۰۴؍سو کروڑ روپئے کاخسارہ ہوا،صرف فساد کے ابتدائی چار دنوں میں ۶۱؍کروڑ روپئے مالیت کی املاک کوتباہ کردیا گیا،جب کہ فساد کے سترہ دنوں کے بعد بھی لوٹ مار اور مسلمانوں کی املاک کوتباہ کرنے کاسلسلہ جاری رہا‘‘
فساد میں جن دوکانوں اور املاک کو جلایا اور لوٹا گیا اس کاتخمینہ لگاتے ہوئے سروے رپورٹ کہتا ہے:
’’فساد شروع ہونے کے بعد سے یومیہ ۰۵؍کروڑ روپئے مالیت کانقصان ہوا،دکان کوچھوڑ کرچھوٹے تجارتی ادارے ،ٹرنسپورٹ،بینکنک اور صنعتی اداروں کویومیہ ۰۵۳؍کروڑ روپئے مالیت کانقصان ہوا،کنفیڈریشن کے چیف ایکزیکٹیو آفیسر سنیل پاریکھ نے کہا کہ صرف صنعتی اداروں کاہی یومیہ ۰۰۳؍کروڑ روپئے کی مالیت کانقصان ہوا‘‘۔
(بحوالہ:گجرات فساد،رپورٹ۲۰۰۲ئ)
الغرض اس ہولناک فسا د میں ہوئی تباہی نے مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے ۰۵؍سال پیچھے چھوڑدیا۔
فساد پر حضرت امیر شریعت کی بے چینی
گجرات فسادکی جیسے ہی خبر ملی فوراََ حضرت امیر شریعت مولانا سید نظام الدین صاحب نے سیاسی اور سماجی سطح پرفساد کوروکنے کولئے کاروائی شروع کردی،ملک کے بیشتر قومی وملی رہنمائوں سے رابطہ کرکے گجرات کی حقیقی صورت حال سے واقف کرایا،حالات کی سنگینی اور ملک کی فرقہ وارانہ صورت حال کودیکھتے ہوئے یکم مارچ۲۰۰۲ء کو آپ دہلی تشریف لے گئے،اور ۵۱؍دنوں تک قیام کر کے ہر مکتب وفکر کے سیاسی وسماجی لوگوں سے گفت وشنیدکی، آپ کی ہدایت پرامارت شرعیہ کااعلیٰ سطحی وفد، ناظم، نائب ناظم، کارکنان ومبلغین پر مشتمل ۲۱؍مارچ کو احمدآباد، سورت، آنند، بڑودہ وغیرہ شہروں کا دورہ کیا اور معائنہ کے بعد اعلیٰ پیمانے پر ریلیف کاکام شروع کردیا۔
حضرت امیر شریعت کی ہدایت پر امارت شرعیہ کی ٹیم نے گجرات پہنچ کروہاںقیام امن ،مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت،دنگائیوں کے خلاف موثر کاروائی،ملک کے مختلف سرکردہ سیاسی رہنمائوں کوخطوط لکھ کرفون وفیکس کے ذریعہ مسلمانوں کی جان واملاک کی کے تحفظ،دینی وملی رہنمائوں اور مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں کوگجرات آنے کی دعوت،گجرات کے مختلف تنظیموں کے سربراہوں سے ملاقات،برادران وطن کے ساتھ اتحاد ویک جہتی ،آپسی بھائی چارگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی بنائے رکھنے کی اپیل کی گئی۔
آپ کی ہدایت پر وفد نے پناہ گزین کیمپوں میں جاکر متاثرین سے ملا اور ان کو ایف آئی آر درج کرانے کی ہمت وحوصلہ دلایا جس کاخاطر خواہ اثر ہوا اور بڑی تعداد میں مظلومین نے ایف آئی آر درج کرائے۔اس کے علاوہ
(۱) اسپتالوں اور کیمپوں میں مریضوں کی تیماداری کی گئی اور انہیں علاج کے لئے رقوم وپھل دئے گئے۔
(۲) شہدا کے ورثا اور بیوگان کوپانچ سو روپے سے لیکر پانچ ہزار تک کی نقد رقم دی گئی۔
(۳) بلاتفریق ہرمذہب کے افراد کو آٹا،چاول،دال،تیل،اور دیگر اشیاء خوردنی کی تین ہزار کٹ فراہم کی گئی، تاکہ انہیں زندہ رہنے کاحوصلہ ملے۔
(۴) فساد میں بڑی تعداد میں محنت کش اور مزدور طبقہ کے لوگوں کی ان کی اپنی لاریوں(ٹھیلوں)کوختم کردیا گیا،ایسے دوہزار تین سو پندرہ لوگوں کوکاروبار کے گیارہ لاکھ تین ہزار پانچ سو روپے کے علاوہ تین سو بیس لاریاں،دس پیدلرکشہ اور پانچ اونٹ لاریاں فراہم کرایا گیا۔
(۵) متاثرہ خاندانوں کے جوان لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کاایک اہم مسئلہ تھا،ایسے چارسو پچیس جوڑوں کے اجتماعی نکاح کرائے گئے اور مہر کی رقم کے علاوہ ضرورت کے دیگر سامان فراہم کراکر ان کے گھروں کوبسایا گیا۔
(۶) ۵۶۲؍مساجد کو شہید کیا گیا تھا اور بہت ساری مساجد کوبالکل زمیں بوس کردیاگیا تھا،ایسے درجنوں مساجد کی مرمت اور تعمیر کاکام کیاگیا۔
(۷) ۴۸۳؍دوکانوں اور مکانوں کی تعمیر ومرمت کاکام مکمل کراکر مستحقین ومتاثرین کو دئیے گئے۔
(۸) جہاں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب بہت کم تھااور قتل غارت گری کرکے ان کے گھروں کاسارا اثاثہ راکھ کی ڈھیر میں تبدیل کردیاتھا ،خوف وہراس سے سہمے ایسے مسلمانوجواپنے گائوں واپس نہیں آناچاہتے تھے ایسے مسلمانوںکے لئے ۳؍ہزار وار زمین ۹؍لاکھ روپے میں خرید کرباغ تبسم جوہاپوراسرخیز روڈ(احمدآباد)میں ۰۵؍پختہ مکانات (آر سی سی)پر مشتمل ’’امارت شرعیہ کالونی‘‘کی تعمیر کی گئی جس میں ۵۲ ؍لاکھ روپے صرف ہوئے۔
۵؍مارچ ۲۰۰۲ء کوآپ اس ہولناک فساد کے خلاف ملک کے عمائدین کے ساتھ دھرنے پربیٹھے،کانچی کے شنکر اچاریہ کے ساتھ ایک مشترکہ اپیل بحالی امن کے لئے جاری کی،اس کے بعد امارت شرعیہ کی طرف سے گورنر گجرات کوخط فیکس کیاگیا،اور بیانات جاری کئے گئے، ذیل میں امیرشریعت مولاناسید نظام الدین صاحب اور قاضی مجاہدالاسلام صاحب نے جوبیان جاری کیا وہ درج کیا جاتاہے۔
مظلومین گجرات کی بازآبادکاری: ہمارا دینی فریضہ
۷۲؍فروری کوسابر متی ٹرین میں ایک المناک حادثہ ہوا جس کی ہم نے بھی مذمت کی لیکن اس اتفاقی واقعہ کی تحقیق اور اصل مجرموں کوپکڑنے کے بجائے پورے گجرات میں مسلمانوں کے خلاف خون ریز فسادات شروع ہوگئے جس کے نتیجہ میں ۰۴شہر وقصبات میں کرفیو لگادیاگیا۔مسلمانوں کی ہزاروں املاک اور قیمتی اثاثے اور ہوٹل اور فیکٹریاں جلادی گئیں نہایت ہی بہیمانہ اور بے رحمانہ طریقے پر لوگوں کو جس میں عورتیں اور بچے بھی تھے زندہ جلا دیا گیا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ایک لاکھ کے قریب افراد مختلف پناہ گزیں کیمپوں میں اپنا سب کچھ کھو کربے سروسامانی کی زندگی گزاررہے ہیں۔یہ آگ شہروں سے نکل کر دیہاتوں تک پہنچی۔اور سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ عام طور پر یہ محسوس کیا جارہا ہے کہ پولس مظلوموں کی حفاظت کے بجائے بلوائیوں کاساتھ دیتی رہی ہے اگر ریاستی حکومت نے پہلے ہی مرحلہ میں ٹھوس کاروائی کی ہوتی تو نوبت یہاں تک نہیں پہونچتی۔جسے دوسرے امن پسند لوگ بھی قتل عام اور نسل کشی سے تعبیر کر رہے ہیں۔اس لئے ہم اولا مرکزی حکومت سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہ پورے متاثر علاقوں کوفوج کے حوالے کرے۔اور ریاستی حکومت کی کوتاہی، بلکہ ایک حد تک جانبدارانہ رویے کی تحقیقات کرکے اسے برخاست کیا جائے۔جب تک مظلوم کے ساتھ انصاف نہیں ہوگااس خوش حال ریاست میں امن واپس نہیں آئے گا۔
کہاجاتا ہے کہ مالی واقتصادی اعتبار سے ریاست کے مسلمانوں کو اس قدر تباہ کردیا گیا ہے کہ وہ ۰۵سال پیچھے چلے گئے ہیں۔اس واقعہ پر ملک کی سیکولر اور سماجی جماعتوں کوریاستی سرکار کامحاسبہ کرنا چاہئے اور مرکزی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ غیرجانبدارانہ کمیشن مقرر کرے۔پولس اور انتظامیہ کے رویہ کی غیر جانبدارانہ جانچ کر کے اہم سیاسی جماعتوں کو اپنا خصوصی وفد گجرات کے مظلومین کے حالات کاجائزہ لینے کے لئے بھیجناچاہئے۔ہمارے سامنے سب سے اہم بات مظلومین کی راحت رسانی ،ان کی ضروریات زندگی کی فراہمی اور بازآبادکاری ہے اور یہ مسئلہ ایک انسانی مسئلہ ہے،ہمارا دینی فریضہ ہے کہ اس کے لئے تمام انسانیت دوست اور امن پسند خاص کرمسلم اہل خیرحضرات اس کی طرف فوری توجہ دیں‘‘۔
(بحوالہ:گجرات فساد،رپورٹ۲۰۰۲ئ)
حیدرآباد کافساد
۴۲؍اکتوبر۰۹۹۱ء کوشہر حیدرآباد میں جوزبردست فرقہ وارانہ فساد اورخون ریزی ہوئی اس نے ظلم وتشدد کے سارے ریکارڈتور دئے۔اس خونی المیہ میں عورتوں اور بچوں کوخاص طور سے نشانہ بنایاگیا۔فساد کی خبر ملتے ہی حضرت امیر شریعت رابع حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی کی ہدایت پر مولانا سید نظام الدین صاحب(اس وقت ناظم امارت شرعیہ)اور مولانا انیس الرحمان قاسمی(اس وقت نائب قاضی)۱۳؍دسمبر ۰۹۹۱ء کوشہر حیدرآباد اور ضلع رنگاریڈی کے دورہ پر روانہ ہوئے۔
دل دہلا دینے والا فساد ۳۲؍ دنوں تک حیدرآباد میں گردش کرتا رہا۔ اس خون ریزی اور فساد میں ۲۲؍ مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ ۹۵۱؍ گائوں میں ہزاروں مکانات کو لوٹا گیا۔ ۱۳۱؍ مساجد اور ۴۲؍ عید گاہوں کو بھی منہدم کردیا گیا۔ بعض مساجد اور عیدگاہوں میں بت کورکھ دیاگیا۔آپ نے وہاں کادورہ کرکے لوگوں کے درمیان امن وبھائی چارگی کاپیغام دیا۔بے گھر ،بے سہارااور معصوم بچوں کے آنسو پوچھے اور انہیں دلاسادیا۔اس موقع پر امارت شرعیہ کی طرف سے آپ نے پچاس ہزار روپے کاچیک مصیبت زدہ کے درمیان تقسیم کیا۔
(بحوالہ :امیر شریعت رابع نمبر)
بجنور(اترپردیش) کافساد
اکتوبر ۰۹۹۱ء کو اترپردیس شہر کے بجنور میں زبردست فرقہ وارانہ فساد برپا ہوا، شرپسند عناصر نے تشدد اور ظلم کی انتہاکردی،مسلمانوں کے مکانات، دکانات اور ان کی املاک کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، اس فساد میں پولس اور بلوائیوں کی گولیوں اور ہتھیاروں سے مختلف محلوں کے تقریباََ ۷۷؍ افراد (مسلم) مارے گئے۔ ۳۱؍محلوں میں واقع ۶۶۴؍ مکانوں کو بلوائیوں نے لوٹا،۵۵؍دوکانوں کوآگ کے حوالہ کردیا۔اس فساد میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ ۷۲؍کروڑ روپے لگایاگیا۔حضرت امیر شریعت رابع مولانا منت اللہ رحمانی کی ہدایت پر مولانا سید نظام الدین صاحب(اس وقت ناظم امارت شرعیہ)اور مولانا انیس الرحمان قاسمی(اس وقت نائب قاضی)بجنور کے فساد زدہ علاقوں کے دورہ پر تشریف لے گئے۔وہاں کے معزز اور ذمہ دار حضرات کے ساتھ فساد زدہ علاقوں کادورہ کیا۔جانی ومالی نقصانات کاجائزہ لیاگیا۔پھر آپ نے مولانا مرغوب الرحمان صاحب ؒ(سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند)کے ذریعہ مسلم ریلیف کمیٹی کو امارت شرعیہ کی جانب سے دس ہزار روپے ریلیف کے لئے دیا۔
فسادات کے اسباب اورحل
حضرت امیرشریعت سادس کے عہد امارت میں کئی فرقہ وارانہ فسادات پیش آئے جس میں آپ نے مہینوں رہ کرمتاثرہ کے درمیان امداد رسائی کاکام کیا،راقم الحروف نے جب جاننے کی کوشش کی کہ فسادات کیوں ہوتے ہیں؟اس کے کیا اسباب ہیں؟اس وقت ہمیں کیا حکمت عملی کرنی چاہئے؟اور اسے روکنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے ؟آپ نے فرمایا:
’’فساد کی ابتدا تو ملک کی آزادی سے پہلے ہی ہوگئی تھی،مجھے امارت شرعیہ آنے کے بعد جہاں جہاں فساد ہوا، امارت شرعیہ کی طرف سے میں نے ان فسادزدہ علاقوں کادورہ کیا اور راحت کاری کے ساتھ مسلمانوں کوصبروتحمل کی تلقین کی۔میں نے محسوس کیا کہ یہ فساد میرے تجربات کے مطابق اکثر پہلے سے منصوبہ بنا کر اور افواہیں پھیلا کربرپا کئے گئے۔جس میں پولس نے ہر جگہ بلوائیوں کاساتھ دیا،حکومت اور انتظامیہ تماشائی بنی رہی اور جب فساد تھما تو مسلمانوں کو ہی مجرم ٹھہرا کرمقدمات قائم کئے گئے۔البتہ کچھ فساد ات وقتی فائدے کی حصولیابی کی وجہ سے ہوئے اور اس کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر شرپسندوں نے اس کو ہوا دیا۔اس طرح کے بھی سینکڑوں فسادات ہوئے ہمارے سامنے موجود ہیں‘‘۔
فسادات کے موقعہ پر ہماری ذمہ داری
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فسادات ہوں تو ہمیں ایسا کیا کرنا چاہئے جس سے فساد نہ ہونے پائے۔بقول حضرت امیر شریعت:
’’ویسے ملک میں برپاہونے والے فسادات میں عام طور پر ہمارا رویہ یہی ہوتا ہے کہ ہم فساد ہونے کے بعد کام شروع کرتے ہیں۔یاد رکھئے؛ ہرجگہ فساد ہونے سے پہلے کچھ نہ کچھ تنائو کا ماحول بنتا ہے،دراصل ہمارا کام یہیں سے شروع ہوتا ہے۔جیسے ہی اندازہ ہو کہ حالات بگڑ سکتے ہیں تو ہمیں حالات کوسنبھالنے کی کوشش شروع کردینی چاہئے۔فسادات کو روکنے کے لئے اول مسلمانوں کو اپنے علاقہ کے امن پسند غیر مسلموں سے بہتر تعلقات رکھنا چاہئے۔افواہوں پرخاموش نہ رہیں۔بلکہ فوراََ دونوں فرقہ کے امن پسند لوگ جمع ہوکر اسکی تحقیقات کریں،اگر غلطی اپنے فرقہ کے کسی فرد کی ہوتو ان لوگوں کوباور کراتے ہوئے اور یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ غلطی ہم لوگوں سے ہوئی ہیں اس لئے مسلمانوں کی طرف سے ہم مافی مانگتے ہیں۔انشاء اللہ اس طرز عمل سے بڑا فساد ٹل سکتا ہے۔ بہت سی جگہیں ایسی ہیں جہاں مسلمانوںکی غلط حکمت عملی سے فساد ہوا جس کا میں نے تجربہ کیا،اور جب میں نے حکمت عملی سے کام لیا تو الحمدللہ فساد ٹل گیا۔
آخری بات
مسلمان اپنی زندگی کو شریعت وسنت کے مطابق گزاریں،کتاب وسنت پر خود عمل کریں اور اپنے اخلاق وکردارکواسلام کے نظام تعلیم کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔اسی کے ساتھ مسلکی وعلاقی حد بندیوں سے اوپر اٹھ کر وحدت واجتماعیت کی زندگی گزاریں، تاکہ ان کامذہبی اور معاشی وقار قائم رہے، نیز دینی وقومی تعلیم کے میدان میں بھی آگے بڑھیں،اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کریں ،اپنی معاشی واقتصادی حالت کو بھی مستحکم کرنے کی کوشش کریں،تجارت وکاروبار کے میدان میں بھی آگے بڑھیں۔اگر ہم نے ان چند بنیادی باتوں پرعمل کیا تو ملت ترقی کرے گی او رخوشحالی وفارغ البالی سے ہم کنار ہوگی۔
٭٭٭
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بو رڈ کا قیام
آزاد ہندوستان میں جب دستور سازی ہوئی تو دستور کی دفعہ۵۲اور۹۲کے ذریعہ مسلم پرسنل لا کو قانونی تحفظ دیاگیا؛ لیکن دستور کے رہنمااصول دفعہ ۴۴میں یہ کہا گیا کہ ریاستیں کوشش کریں گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لئے یکساں قانون نافذ ہو،اس طرح سے مسلم پرسنل لاء کے خاتمہ کا بیج بو دیاگیا،۶۵۹۱ء میں جب ہندو پرسنل لاء میں ترمیم کی گئی اور ہندو کوڈ بل پاس ہوا تو ا س وقت کے وزیر قانون مسٹر پاٹکر نے کہا تھا کہ ’’ہندو قوانین میں جو اصلاحات کی جارہی ہیں وہ مستقبل قریب میں ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائیں گی‘‘۔
وزیر قانون کا یہ بیا ن دراصل حکومت ہند کی پالیسی کا اعلان تھا،اسی کے ساتھ کچھ نام نہاد مسلمانوں کو بھی اس کام کے لئے آگے بڑھا یا گیا،جنہوں نے مسلم معاشرہ کی اصلاح اور ترقی پسندی کے نام پر مسلم پرسنل لاء میں ترمیم کا نعرہ بلند کیا ،اخبارات ورسائل ،سمینار وسمپوزیم ،اور پبلسٹی کے تمام ذرائع مسلم پرسنل لاء کی مخالفت میں سرگرم ہوگئے۔
پھر۲۷۹۱ء میں جب لے پالک بل (متنبیٰ بل )پارلیامنٹ میں پیش ہونے کی بات ہوئی اور بل کا مسودہ رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے حکومت نے اخبارات میں شائع کرایا تو سب سے پہلے امارت شرعیہ نے اس بل کی مخالفت شروع کی، مولاناسید نظام الدین صاحب اور قاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒنے اس کی مخالفت میں مدلل تحریریںمرکزی حکومت کو بھیجیں کہ یہ بل شریعت اسلامی کے خلاف ہے؛ اس لئے ا س کو واپس لیا جائے ،اسی روز امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒکو اطلاع دی گئی، آپ دوسرے ہی دن پٹنہ تشریف لے آئے،امیر شریعت رابع ؒنے فرمایا کہ یہ مسلمانوں کے ملی تشخص کے لئے بڑا خطرہ ہے،حکومت اس کے ذریعہ یونیفارم سول کورڈ نافذ کرنا چاہتی ہے،اس سے مسلمانوں کے عائلی قوانین اور دوسرے شرعی احکام میں مداخلت کا راستہ کھل جائے گا،ا س لئے فوراََاس بل کے خلاف ملک کی رائے عامہ کو ہموار کرنا چاہئے،حضرت امیر شریعت رابعؒ نے معاملہ کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے اس طرف خصوصی توجہ دی اور قاضی صاحب کو لے کر دہلی کا سفر کیا،وہاں پہنچ کر مفتی عتیق الرحمان عثمانی ؒاور دوسری جماعتوں کے ذمہ داروں سے مشورہ ہوا ،پھربڑی محنت اور جدوجہد کے بعد دیوبند میں ایک نمائندہ اجتماع منعقد کیا گیا،اس اجتماع میں قاری محمدطیب صاحب ؒکے مشورہ کے بعد ایک بڑا اجلاس ممبئی میں منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا اور یہ بھی طے ہوا کہ سارے مسلک کے علماء کو اس میں دعوت دی جائے، حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ ،حضرت مولانا منت اللہ رحمانی ؒ،حضرت مولانا منظور قاسمی نعمانی ،حضرت مولانامحمد سالم صاحب قاسمی اور قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ پر مشتمل وفد ممبئی گیا، تقریباََایک مہینہ وہاں رہ کر کنونشن کی تیاری مکمل کی ،وہاں کے علماء اور دانشوران کو جمع کرکے جب یہ بات سامنے رکھی گئی تو ایک جوش ایمانی لوگوں میں پید اہوگیا ،اور یہ طئے کیا گیا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا کنونشن بلایا جائے ،جس کی تاریخ ۸۲؍دسمبر۲۷۹۱ء بمقام عروس البلاد(ممبئی) مقرر کی گئی، ایک مجلس استقبالیہ بنائی گئی جس کے صدر شاہزادہ یوسف نجم الدین ،سکریڑی یوسف پٹیل اور شیخ عبدالستار بنائے گئے،تمام مسلک کے علماء ودانشوران کو دعوت دی گئی اور سبھوں نے باہمی جھگڑوں،سیاسی،اور علاقائی گروہ بندیوں سے بالاتر ہوکر قانون شریعت کی حفاظت کے لئے پوری قوت اور کامل اتحاد کے ساتھ اپنے واضح موقف کا دو ٹوک اعلان کیا کہ ’’شریعت اسلامیہ کے احکام وحی الٰہی پر مبنی ہیں،ان میں نہ کوئی کمی ہے جسے پورا کرنے کی ضرورت ہواور نہ کوئی زیادتی ہے جسے کم کرنے کی حاجت پیش آئے‘‘۔
بہار سے امارت شرعیہ کا ایک قافلہ حضرت مولاناسید نظام الدین صاحب کی قیادت میں ممبئی پہنچا، امیر شریعت رابع ؒاور قاضی صاحبؒوہاں پہلے سے موجود تھے، اس تاریخی اجلاس میں ایک ہزار سے زیادہ مختلف تنظیموں اور جماعتوں کے نمائندہ (حنفی، شافعی، اہل حدیث،سنی،شیعہ،دیوبندی،بریلوی،دائودی بوہرہ،سلیمانی بوہرہ وغیرہ) ملک بھر سے شریک ہوئے، اور سبھوں کی ایک ہی آواز تھی :
’’ ہندوستان کے مسلمان جان ،مال کا نقصان برداشت کرسکتے ہیں؛ لیکن شریعت اسلامی میں کوئی ترمیم وتبدیلی ہرگز گوارہ نہیں کریں گے،مسلمان فقط حکم الہی کے پابند ہیں،عبادات کی طرح وہ اپنے عائلی مسائل میں بھی( جس کو ’’مسلم پرسنل لائ‘‘ کہا جاتا ہے) اس کے پابند ہیں،اس میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کرسکتے ،جس طرح ملک کی آزادی کے لئے مسلمانوں نے قربانی دی ہے اگر مذہب کو غلام بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھی حفاظت کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کو ہم تیار ہیں ‘‘
ساتھ ہی یہ تجویز بھی منظورہوئی کہ اس ملک میں شریعت اسلامی کے تحفظ کے لئے ایک بورڈ قائم کیا جانا چاہئے جس کانام ’’مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ہو،دن میں مندوبین کے اجلاس کے بعد رات میں ایک عام اجلاس ہواجس میں پانچ لاکھ سے زیادہ لوگوں کا مجمع تھا،لوگوں کا تاثر تھا کہ خلافت تحریک کے بعد مسلمانان ہند کا اتنا بڑا کوئی اجتماع منعقد نہیں ہوا،اس اجلاس کا اثر یہ ہوا دوسرے دن وزیر اعظم محترمہ اندراگاندھی نے اعلان کیا:
’’ہماری حکومت مسلم پرسنل لاء میں کسی طرح کی تبدیلی او رترمیم کا ارادہ نہیں رکھتی‘‘
یہی اجلاس ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ‘‘کی تشکیل کا محرک بنا،اس کے بعد پورے ملک کی مسلم رائے عامہ تحفظ شریعت تحریک پر متحد ہوگئی ۔
جنرل سکریٹریز
حضرت مولانا سید شاہ منت اللہ رحمانیؒ ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ‘‘کے پہلے جنرل سکریٹری منتخب کئے گئے،آپ نے تقریباََ۸۱؍سال(۷۱؍اپریل۳۷۹۱ء تا۹۱؍مارچ۱۹۹۱ء )تک اس اہم عہدہ پر رہ کر اپنی بیش بہا خدمات انجام دیں،ان کے انتقال کے بعد۳۲؍نومبر ۱۹۹۱ء کو اتفاق ر ائے سے حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب(امیر شریعت سادس ،امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ وجھارکھنڈ)کا انتخاب عمل میں آیا ۔
جنرل سکریٹری دوم کی حیثیت سے آپ کا انتخاب
۱۹۹۱ء میں جب حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی ؒکا اچانک وصال ہوا تولکھنؤ میں مئی کے مہینہ میں بورڈ کی عاملہ کا اجلاس ہوا،اس اجلاس میں آپ بھی شریک تھے،اچانک بورڈ کے صدر مولانا علی میاں ندویؒنے عارضی طور پر آپ کا نام جنرل سکریٹری کے لئے پیش کردیا،کسی کے وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی اور خود آپ کو بھی اس کی خبر نہ تھی کہ نام پیش کیا جائے گا،مولانا علی میاں ندویؒ آپ سے اصرار کرنے لگے کہ آپ یہ عہدہ قبول کر لیں،چنانچہ آپ نے صدر بورڈ کے حکم پر یہ عہدہ قبول کرلیا،پہلے تو یہ نامزدگی آٹھ مہینہ کے لئے ہوئی،اس وقت بورڈ کا کوئی دفتر نہیں تھا،مولانا علی میاں ندویؒ کے کمرہ میں ہی آپ نے ایک میز رکھوایا اور خط وکتابت کا کام شروع کردیا، مگرجب ۳۲؍نومبر ۱۹۹۱ء کودہلی میں بورڈ کا اجلاس عام ہوااورحضرت مولانا علی میاں ندویؒکودوبارہ صدر منتخب کیا گیا تو حضرت مولانا علی میاں ندوی ؒنے عاملہ کے اتفاق ر ائے سے آپ کو جنرل سکریٹری منتخب کیا۔آپ’’ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘ کے بانیوں میں سے ہیں اور بورڈ کی تشکیل کے بعد سے ہی آپ مسلسل کام کر رہے ہیں، چونکہ تحفظ شریعت کی اس تحریک میں حضرت امیر شریعت رابعؒکے ساتھ پوری امارت شرعیہ شریک تھی،قاضی صاحب ؒاور آپ تو حضرت امیر شریعت رابعؒکے دست راست تھے۔آپ کی صلاحیت اور کارکردگی ملکی پیمانے پر سامنے آچکی تھی؛ چنانچہ آپ نے۹؍سال تک علی میاں ندوی ؒؒکے عہد صدارت میں تحفظ شریعت کی تحریک کو قوت بخشی ، تحفظ شریعت کی یہ عظیم الشان تحریک حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی ناظم اعلیٰ ندوۃ العلمائ(لکھنؤ) اور حضرت امیرشریعت سادس مولانا سید نظام الدین صاحب مدظلہ ودیگر علماء ودانشوران کی قیادت میں آج بھی الحمد للہ سرگرم عمل ہے۔
جنرل سکریٹری بننے کے بعد پہلی کوشش
۳۷۹۱ء میںبورڈ کے قیام کے بعد سے ہی اس کے مرکزی دفتر کے لئے عمارت کی حصول یابی کی جدوجہد چل رہی تھی،مولانا سید نظام الدین صاحب مدظلہ نے جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے مرکزی دفتر کے لئے دہلی میں اس کے لئے جگہ تلاش کی ،صبح سے لے کر شام تک اس کے لئے تگ ودو میں لگے رہے،چنانچہ آپ کی کوششوں سے۵؍اگست ۴۹۹۱ء کو جامعہ نگر ،مین بازار-A/1۶۷،اوکھلا،نئی دہلی،۵۲میں ایک فلیٹ حاصل ہوگیا،جس میں پانچ کمرے ،ایک ہال ،باتھ روم اور کچن شامل ہے،پھر ۱۰۰۲ء میں حضرت مولانا قاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒؒ کی کوششوں سے اسی فلیٹ کی بالائی منزل کا نصف حصہ خریدا گیا، دفتر کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا ہے،جس میں کمپیوٹر،فیکس مشین،ریفرنس لائبریری اور لیگل سیل کا شعبہ قائم ہے۔
بے مثال جرأت مندی
نومبر ۱۹۹۱ء کودہلی میں بورڈ کا اجلاس عام ہوا جس کے صدر استقبالیہ مولانا سعید احمد ہاشمی (اس وقت ریلوے بورڈ کے چیئر مین) تھے،اس زمانے میں سی کے جعفر شریف ریلوے کے وزیر ہوا کرتے تھے،جعفر شریف صاحب نے مولانا سعید صاحب سے کہاکہ ہم بورڈ کے تمام ممبروں کی دعوت کرنا چاہتے ہیں،مولانا سعید صاحب نے صدر استقبالیہ ہونے کے ناطے بغیرکسی سے مشورہ کئے دعوت منظور کرلی،جب بورڈ کی میٹنگ ہوئی تو مولانا سعید صاحب نے یہ بات رکھی کہ سی کے جعفر صاحب کے یہاں ہم لوگوں کی دعوت ہے، توآپ نے برجستہ و جرأت مندی کے ساتھ کہا کہ ہم لوگ کہیں نہیں جائیںگے،ہم اپنے تمام ممبروں کو کہاں کہاں لے کر گھومیں گے،ان میں بڑے بڑے علمائ،مشائخ،دانشوران شامل ہیں،جن کو دعوت کرنا ہو وہ ہم لوگوں کا انتظام وہاں کرے جہاں ہم لوگوں کا انتظام ہے،ہاں اگر کوئی صاحب ذاتی طور پر ایک یا دو ممبرکو لے جانا چاہیں تو بے شک لے جائیں،اس سے ہماری جماعت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،حضرت امیر شریعت کے اس جرأت مندانہ فیصلہ سے آخر کار دعوت منسوخ کرنی پڑی،آپ کے اس فیصلہ کا لوگوں پر اچھا اثر ہوا،جب یہ واقعہ صدر بورڈ مولانا علی میاں ندویؒ کو معلوم ہوا تو انھوں نے اس فیصلے کی بڑی تحسین کی اور فرمایا کہ آپ نے بہت اچھا کیا۔
ہم جنسی کے موضوع پر وزیراعظم سے ملاقات
بحیثیت جنرل سکریٹری مولانا سید نظام الدین صاحب کی قیادت میں بورڈ کے وفد نے تین مرتبہ مختلف موقع سے ملکی مسائل پر وزیر اعظم سے ملاقات کی اور اپنی بات رکھی،جب دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے ہم جنسی، یعنی لواطت کے فعل کو جائز قرار دیاتو اس موضوع پربھی مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد نے آپ کی قیادت میں ۶۱؍ستمبر۹۰۰۲ء کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کی ،آپ نے مطالبہ کیا کہ بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے ہم جنسی یعنی لواطت کے فعل کو جائز قرار دینے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف حکومت ہند سپریم کورٹ میں سخت موقف اختیار کرے،اس فیصلہ کے نتیجہ میں ہم جنسی میں مبتلا افراد ناپختہ کارنوجوانوں کو جو ابھی بالغ ہوئے ہیں بہلا پھسلا کر بلا خوف وبلاجھجک اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنائیں گے،ہندوستانی معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی معاشرہ ہے اور اس ملک میں موجود تمام مذاہب میں ہم جنسی کے فعل کو گناہ اور پاپ تصور کیا جاتا ہے،دہلی ہائی کورٹ میں درخواست گزار ناز فائونڈیشن نے خود یہ اعتراف کیا ہے کہ ہم جنسی میں ملوث افراد عموماََ ایڈس کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں،اس لئے صحت عامہ ،اخلاق عامہ اور مذہبی احساسات کے نقاط نظر سے ہم جنسی کے فعل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا،گفتگو کے درمیان آپ نے کہا کہ دہلی ہائی کورٹ نے چند مفروضات کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے کہ ہم جنسی کا رجحان پیدائشی طور پر ہوتا ہے،اور یہ رجحان لا علاج ہے،دہلی ہائی کورٹ نے جدید سائنسی اور طبی تحقیقات کے وافرذخیرہ کو نظر انداز کردیا؛ جن کے ذریعہ ان مفروضات کی تردید ہوتی ہے،دہلی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں اس بات کو قبول کیا ہے کہ ۶۱؍سال کی عمر سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ ہم جنسی جرم کی حیثیت رکھے گی اوریہ عمل جرم سمجھاجائے گا،مگر یہ فیصلہ کہ اس سے بڑی عمر کے افرا د کے درمیان یہی فعل جرم قرار نہیں پائے گا،تعجب خیز اور افسوس ناک ہے، دہلی ہائی کورٹ نے اس فیصلہ کے ذریعہ قانون سازی کے میدان میں دخل اندازی کی ہے،جبکہ قانون سازی پارلیامنٹ اسمبلیز اور کونسلس کا کام ہے اور بالواسطہ طریقہ پر قانون تعزیرات ہند کی دفعہ۷۷۳ میں ترمیم کا جو عمل دہلی ہائی کورٹ نے کیا ہے وہ سراسر غیر جمہوری ہے۔
آپ نے مزید کہا کہ ہم صرف مسلمانوں کی جانب سے نہیں ؛بلکہ ہندوستان کے تمام مذہبی طبقات کے احساسات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم جنسی کی مخالفت میں سپر یم کورٹ میں واضح اور سخت موقف حکومت اختیار کرے،یہ بات سارے ہندوستانی سماج کے اخلاقی رجحانات کے مطابق ہوگی اور ملک کو ہم جنسیت کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امراض سے بچائے گی جن سے آج مغربی ممالک پریشانی میں مبتلا ہیں،آپ کی قیادت میں وفد نے وزیراعظم سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مسلم اوقاف کے تعلق سے جو مسودہ قانون پارلیامنٹ کے آئند ہ اجلاس میں پیش کیا جانے والا ہے،اس کی کا پی بورڈ کو فراہم کی جائے اور بورڈ کی رائے کے بعد ہی اسے پارلیامنٹ میں پیش کیا جائے،وزیراعظم نے وفد کو بتایا کہ یہ بل ابھی پوری طرح سے تیار نہیں ہوا ہے خود ان کی رائے ہے کہ بل کے مکمل ہونے کے بعد اس کے تعلق سے مسلمانوں کا رد عمل معلوم کیا جائے اور یقینا اس کی نقل بورڈ کوفراہم کی جائیگی، لیکن ابھی تک خود ان کے سامنے یہ بل نہیں آیا ہے، مگر وہ اوقاف کی جائیدادوں کی حفاظت اور صحیح استعمال کی فکر رکھتے ہیں۔
آپ نے منموہن سنگھ سے کہا کہ شادیوں کے لازمی رجسٹریشن کے قوانین بعض ریاستوں میںبن چکے ہیںاور اطلاع یہ ہے کہ مرکز بھی اس طرح کا قانون بنانے والا ہے لیکن اس قانون کو دیہاتوں اور دیہاتوں کے غریب افراد اور دوردراز کے علاقوں میں روبہ عمل لانا بہت دشوار؛ بلکہ ناممکن ہے،ہم نکاح رجسٹریشن کے خلاف نہیں ہیں؛ بلکہ اس کو لازمی کرنے کے خلاف ہیں ،اس میں لازمی کی شرط نہ رکھی جائے،وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ان باتوں کو بغور سنا اور کہا کہ ملک کے جن طبقات میں شادی کے موقع پر باضابطہ تحریری ریکاڈ مرتب کیا جاتا ہے اور محفوظ رکھا جاتا ہے ان طبقات کے بارے میں یہ ذمہ داری شادی کی مذہبی رسومات کو انجام دینے والوں کے سر ڈالی جا ئے کہ وہ جوتحریری ریکارڈ تیار کریںاوراس کی نقل متعلقہ دفتر کو روانہ کردیں اس سے کافی سہولت ہوگی اور دشواری پر قابو پایا جاسکے گا۔
ڈاکٹر منموہن سنگھ نے دونوں معاملات پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ،انھوں نے نئے قانون وقف کے بل کی کاپی بورڈ کو فراہم کرانے سے اتفاق کیا اور ہم جنسی کے بارے میں انھوں نے یہ تیقن دیا کہ حکومت ہند سپرم کورٹ کے سامنے ایسے ہی موقف کا اظہار کرے گی جو موقف ہندوستان کی تہذیب وتمدن اور اخلاقی رجحانات سے ہم آہنگ ہوگا،وفد میں شامل سکریٹری عبد الرحیم قریشی،عبدالستار یوسف شیخ،خازن پروفیسر ریاض عمر،کنوینر لیگل سیل کمیٹی یوسف حاتم مچھالا ،رکن بورڈمولانا عبد الوہاب خلجی کے علاوہ تین ارکارن پارلیامنٹ اسد الدین اویسی،مولانا اسرار الحق قاسمی، محمد ادیب اور جنرل سکریٹری جماعت اسلامی ہند مولانا نصرت علی شامل تھے۔
داڑھی اور برقعہ پر جسٹس کا ٹجو کے ریمارک پر آپ کارد عمل
ایک مسلم طالب علم کے داڑھی رکھنے کے خلاف اور مسلمانوں کی داڑھی اور برقعے کو طالبان سے جوڑ کرطالبانی ذہنیت کی علامت قرار دینے کے سپرم کورٹ کے جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے جو فیصلہ دیا اس پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے مولانا سید نظام الدین صاحب نے اپنے رد عمل کااظہار کیا اور اسے بدبختانہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کی اورکہا کہ فرقہ پرسست سیاسی لیڈروں کی جانب سے داڑھی کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے تحت مسلمانوں پر الزام لگاتے ہیں؛ مگر سپرم کورٹ جیسی اعلیٰ ترین عدالت کے ایک جج سے ایسی توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ سیاسی لیڈروں کی زبان استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں پر بے بنیاد الزام عائد کریں گے،آپ نے کہا کہ جب ملک میں کسی اسکول یا کالج یا سرکاری دفاتر میں سکھ بھا ئیوں کے ڈارھی رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے تو ایسی پابندی مسلمانوں پر کیوں لگائی جارہی ہے،اگر سکھ مت کے اندر داڑھی رکھنا مذہب کا جز ہے تو مذہب اسلام میں بھی داڑھی رکھنا مذہبی اعتبار سے ضروری ہے،اگر مسلمانوں کی ایک تعداد داڑھی نہیں رکھتی ہو تو سکھ بھائیوں کی بھی ایک تعداد داڑھی منڈاتی ہے اور اس بنیاد پر کوئی نہیں کہتا کہ داڑھی رکھنا سکھ مذہب کا جز نہیں ہے۔آپ نے کہا کہ داڑھی کے مسئلہ پر ایر فورس کے مسلم آفیسر کے معاملہ میں فیصلہ کرتے ہوئے سپر م کورٹ کے ایک جج نے کہا تھا کہ اسلام میں داڑھی رکھنا فرض نہیں سنت ہے،گویا سنت پر عمل کرنا ضروری نہیںہے،یہ بات انتہائی غلط اور اسلام کی تعلیمات کی غلط تشریح وتاویل ہے،مذہب اسلام مسلمانوں کو فرض اور سنت دونوں پر عمل کرنے کی ہدایت دیتا ہے،اور لازم قرار دیتا ہے اس طرح داڑھی مسلمانوں کے لئے مذہبی اعتبار سے ضروری ہے۔
آپ نے جسٹس کاٹجو کے اس ریمارک کی بھی کھلے الفاظ میں مذمت کی کہ مذہب کی آزادی کے نام پر بنیادی حق کو زیادہ وسعت نہیں دی جاسکتی ،افسوس ہے کہ جسٹس کاٹجو اس دستوری حقیقت کا انکار کررہے ہیں کہ بنیادی حقوق کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ اگر کسی قانون یا حکم نامے کے ذریعہ ان میں سے کسی حق میں کمی واقع ہوتی ہے یا یہ حق ختم ہوتا ہے تو عدالتیں اس قانون یا حکم نامہ کو رد کرنے اور بے اثر قرار دینے کا اختیار رکھتی ہیں،مولانا نے حکومت ہند سے مطالبہ کیاکہ جس طرح سکھوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت ہے اسی طرح مسلمانوں کو تمام سرکاری شعبوں اور محکموں میں داڑھی رکھنے کی اجازت دی جائے اور سرکاری یا سرکار سے امداد پانے والے تمام تعلیمی اداروں کو ہدایت جاری کی جائے کہ وہ مسلم طلبا کو داڑھی رکھنے کی اجازت دیں،مولانا نے کہا کہ جسٹس کاٹجو کا یہ فیصلہ ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں سیاہ ترین فیصلوں میں شمار کیا جائے گا۔
بحیثیت جنرل سکریٹری بورڈ میںسرگرمیاں اورآپ کے کارنامے
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے جنرل سکریٹری کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بورڈ میں آپ کی متعدد سرگرمیاں رہی،آپ کی جنرل سکریٹری شِپ میںکئی تاریخی اجلاس عام ہوئے،مسلمانوں کے فلاح وبہبود کے لئے کمیٹیاں بنی،دارالقضاء کا قیام عمل میں آیا،جس کی تفصیل ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔
اجلاس عام
۳۷۹۱ء سے ۳۱۰۲ء تک بورڈ کے کل ۳۲؍ اجلاس عام ہوئے،مسلم پرسنل لا بورڈ کاجنرل سکریٹری منتخب ہونے کے بعدیعنی ۱۹۹۱ء سے لیکر ۳۱۰۲ء تک آپ کے زمانے میں ۴۱؍تاریخی اورکامیاب اجلاس عام ملک کے مختلف شہروں میں منعقد ہوئے۔ جو حسب ذیل ہیں:
(۱) ۳۲؍۴۲ نومبر۱۹۹۱ء کو(جامعہ ملیہ اسلامیہ )نئی دہلی میں۔
(۲) ۹؍۰۱؍ اکتوبر ۳۹۹۱ء کو(جامعۃ الہدایہ)جے پور میں۔
(۳) ۶؍۷؍اکتوبر۵۹۹۱ء کو(مدرسہ اسلامیہ عربیہ الفضل )احمدآباد میں۔
(۴) ۸۲؍۹۲؍۰۳؍اکتوبر ۹۹۹۱ء کو(حج ہائوس)ممبئی میں۔
(۵) ۳۲؍اپریل ۰۰۰۲ء کو(دارالعلوم ندوۃ العلماء )لکھئنو میں۔
(۶) ۸۲؍۹۲؍اکتوبر۰۰۰۲ء کو(دارالعلوم سبیل الرشاد)بنگلور میں۔
(۷) ۱۲؍۲۲؍۳۲؍جون ۲۰۰۲ء کو(دارالعلوم حیدرآباد)حیدرآباد میں۔
(۸) ۱؍۲؍مارچ۳۰۰۲ء کو(خانقاہ جامعہ رحمانی )مونگیر میں۔
(۹) ۹۲؍اپریل تا یکم مئی۵۰۰۲ء کو(تاج المساجد)بھوپال میں۔
(۰۱) ۰۱؍۱۱؍۲۱؍جنوری ۷۰۰۲ء کو(تامل ناڈو بیت الحجاج)مدراس میں۔
(۱۱) ۹۲؍فروری تا ۲؍مارچ ۸۰۰۲ء کو کلکتہ میں۔
(۲۱) ۹۱؍۰۲؍۱۲؍ مارچ۰۱۰۲ء کولکھنؤ میں۔
(۳۱) ۰۲؍۱۲؍۲۲؍اپریل ۲۱۰۲ء کوممبئی میں۔
(۴۱) ۲۲؍۳۲؍۴۲؍مارچ ۳۱۰۲ء کواجین میں۔
کمیٹیوں کے نام اور کنوینر
۲۲؍سال سے زائد آپ کے جنرل سکریٹری شپ میں کئی کمیٹیاں تشکیل دی گئی،جن کی سرگرمیاں مختلف مواقع پر رہی ہیں۔
(۱)ملک گیر آئینی حقوق بچائو تحریک (کنوینر، حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی)
(۲)اصلاح معاشرہ کمیٹی (کنوینر، حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی)
(۳)تفہیم شریعت کمیٹی (کنوینر، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
(۴)دارالقضاء کمیٹی (کنوینر ،مولانا عتیق احمد بستوی)
(۵)لازمی نکاح رجسٹریشن کمیٹی (کنوینر، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس)
(۶)لیگل سیل کمیٹی (کنوینر، یوسف حاتم مچھالہ ایڈوکیٹ)
(۷)بابری مسجد کمیٹی (کنوینر، یوسف حاتم مچھالہ ایڈوکیٹ)
(۸)قانونی کمیٹی (کنوینر، محمد عبدالرحیم قریشی)
(۹)بابری مسجد برائے مقدمات کمیٹی (کنوینر، ظفریاب جیلانی ایڈوکیٹ)
(۰۱)مجموعہ قوانین اسلامی ترتیب نوکمیٹی (کنوینر، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
خدمات اور سرگرمیاں
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے آپ کے۲۲؍سالہ عہد میں جوخدمات انجاد دی ہیں،یہاں اختصار کے ساتھ ان کاذکر کیا جاتا ہے:
٭ ۶؍دسمبر ۲۹۹۱ء کوبابری مسجدکی شہادت کا المناک واقعہ پیش آیا،اس کے بعدملک میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فساد برپا ہوگئے، مسلمانوں کے مطالبہ پر بورڈ نے اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لیااورواقعات، حالات کی سنگینی اور موقع کی نزاکت کے پیش نظر مولانا سید نظام الدین صاحب نے مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ۹؍۰۱؍جنوری۳۹۹۱ء کوبستی حضرت نظام الدین نئی دہلی میں طلب کیا،اور بابری مسجد کی شہادت پر اپنا اصولی موقف واضح کیا۔
٭ اسی زمانہ میں بابری مسجد معاملہ کوطے کرنے کے لئے پندرہ افراد پر مشتمل ’’مسلم پرسنل لابورڈ بابری مسجد کمیٹی‘‘ایک کمیٹی تشکیل دی گئی،اس کمیٹی کادائرہ کار صرف بابری مسجد اور اس کے متعلق امور تک رکھاگیا۔
٭ بابری مسجد کی شہادت کے احتجاج میں۹؍جنوری۳۹۹۱ء کو صدر تھانہ نئی دہلی میں دھرنا دیا گیا،اس موقع پر مولانا سید نظام الدین صاحب سمیت بورڈ کے کئی ارکان کی گرفتاریاں عمل میں آئی۔
٭ وشو ہندو پریشد نے ۵۱؍مارچ ۲۰۰۲ء کو بابری مسجد کی جگہ جس پر مندر کی تعمیر کرنا چاہتے تھے ،اس جگہ پر پوجا ارچنا کرنے کاپروگرام بنایاتو اٹل بہاری واچپائی(وزیر اعظم) کی جانب سے اس شیلا پوجن کے پروگرام کے تعلق اور بابری مسجد کے مسئلہ پر گفت وشنیدکی دعوت آئی،اس وقت گجرات میں خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی،اس کشت خون کو روکنے کے سلسلہ میں وزیر اعظم اٹل بہاری واچپائی کے ایماپر مولانا سید نظام الدین صاحب کی قیادت میںایک وفدکانچی کے شری شنکر اچاریہ سے ملاقات کی،آپ کے مشورہ پر کانچی شنکر آچاریہ نے گجرات کا دورہ کرکے امن بحال کرنے کی کوشش کاوعدہ کیا،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ وشو ہندو پریشد یہ تیقن دے گی کہ بابری مسجد کی جگہ پر کچھ نہیں کیا جائے گا،اور عدالت مسلمانوں کے حق کو تسلیم کرنے کافیصلہ دے گی تو مسجد کی تعمیر پر اعتراض نہیں کیا جائے گا،اور نیز یہ کہ مجوزہ شیلا پوجن بابری مسجد کی زمین سے ہٹ کراس زمین پر ہوگی جوحکومت کی تحویل میں ہے۔
٭ ہم جنسی کے موضوع پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد نے مولانا سید نظام الدین صاحب قیادت میں ۶۱؍ستمبر۹۰۰۲ء کو وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کی ،آپ نے مطالبہ کیا کہ بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے ہم جنسی یعنی لواطت کے فعل کو جائز قرار دینے کے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف حکومت ہند سپریم کورٹ میں سخت موقف اختیار کرے،ہندوستانی معاشرہ بنیادی طور پر مذہبی معاشرہ ہے اور اس ملک میں موجود تمام مذاہب میں ہم جنسی کے فعل کو گناہ اور پاپ تصور کیا جاتا ہے،وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آپ کی باتوں کو بغور سنا اور انھوں نے یہ تیقن دیا کہ حکومت ہند سپرم کورٹ کے سامنے ایسے ہی موقف کا اظہار کرے گی جو موقف ہندوستان کی تہذیب وتمدن اور اخلاقی رجحانات سے ہم آہنگ ہوگا۔
٭ آپ کے زمانہ میں۹۲؍۰۳؍اپریل ۵۰۰۲ء کوبھوپال میں تفہیم شریعت کمیٹی کی تشکیل دی گئی،بورڈ نے محسوس کیا کہ مسلم پرسنل لابورڈ سے عدم واقفیت کی بناء پر بعض اوقات عدالتوں میں غلط اور خلاف شرع فیصلے ہوجاتے ہیں،اس لئے ضرورت کے پیش نظر متعلقہ مسائل کی شرعی حیثیت اور ان کی حکمت ومعنویت پر مسلمان وکلاء سے گفتگو اور تبادلہ خیال ۹؍جولائی ۵۰۰۲ء کی صبح بورڈ کے مرکزی دفتر میںوکلاء کااجتماع ہوا،آپ نے اس موقع پر تفہیم شریعت کمیٹی کی تعلق سے بعض امور پر تبادلہ خیال کیا اور بعض مسائل کی وضاحت بھی کی۔پہلے اس کمیٹی کے کنوینر مولانا سید جلال الدین انصر عمری تھے ،ان کی مصروفیت کے پیش نظر مولانا سید نظام الدین صاحب کے مشورہ سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کوتفہیم شریعت کاکل ہند کنوینر مقرر فرمایا گیا۔
٭ نکاح کے تقدس کو قائم رکھنے اورزوجین کے درمیان اعتدال اور احتیاط کے پہلو کو ملحوظ رکھنے لے لئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے تیرہویں اجلاس ۹۹۹۱ء ممبئی میں آپ کے جنرل سکریٹری شپ میں ایک معیاری نکاح نامہ کی ترتیب کی تجویز منظور ہوئی،چنانچہ یہ نکاح نامہ مرتب ہوااجلاس بھوپال۵۰۰۲ء میں اس نکاح نامہ کوکثرت رائے سے منظور کیا گیا۔نکاح نامہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اگر زوجین اس پر دستخط کردیں تو انہیں ازدواجی نزاعات حل کرنے کے لئے عدالتوں میں جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اور دارالقضاء یا شرعی پنچایت میں ان کے اختلاف کاحل ہوجائیںگے۔
٭ یہ امر واقعہ ہے کہ عائلی قوانین کا ایسا کوئی مستند مجموعہ پہلے سے موجود نہیں تھا جوزمانہ حاضر کی ضروریات اور تقاضوں کوپورا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی صحیح ترجمانی کرتا ہواور اس پر مستند علماء کااتفاق بھی ہو۔بورڈ کے اکابرین نے اس ضرورت کومحسوس کی اور مستند علمائ،وکلاء اور قانون دانوں کے مشورہ سے ایک مجموعہ تیار کرایا جس کوعدالتوں میں بطور سند پیش کیا جاسکے،بورڈ کے سابق جنرل سکریٹری مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ کی نگرانی میں اس کام کی شروعات ہوئی اور مولانا سید نظام الدین صاحب کی جنرل سکریٹری شپ میں اس کام کوبڑھایاگیا جو۰۰۰۲ء میں مکمل ہوئی،پھر ۱۰۰۲ء میں اس کااردو اور انگریزی زبان میں ترجمہ کروایا گیا۔
٭ نکاح کے لازمی رجسٹریشن سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر نیشنل وومن کمیشن کی جانب سے قانون کامسودہ تیار کرنے کامسئلہ بنگلور کی مجلس عاملہ کی میٹنگ منعقد۸؍مارچ۶۰۰۲ء میں زیر بحث آیا،بنگلور کے اجلاس میں کچھ اشکلات سامنے آئے تھے،جس پر دہلی میںمقیم ارکان بورڈ کے ساتھ مولانا سید نظام الدین صاحب کی صدارت میں ایک میٹنگ ہوئی،آپ نے فرمایا کہ اگر لازمی رجسٹریشن قانون سے لازمی کالفظ ہٹادیا جائے اور مسلمانوں کی رعایت کرتے ہوئے ابھی جوتجویز سامنے رکھے گئے ہیں تو ہمیں اس کی مخالفت نہیں کرنی چاہئے۔
٭ مسلم خواتین کو اسلام کی تعلیمات اور شریعت اسلامی میں عدل وتوازن سے واقف کرانے ااور ان میں دینی اساس وشعور کوبیدار کرنے کے لئے بورڈ کے تحت ایک ویمنس سیل کام کررہاہے،چنانچہ بورڈ نے اجلاس کانپور ۹۸۹۱ء میں معاشرتی اصلاح کے لئے مسلم خواتین میں بیداری لانے اور ان کے مقام ومرتبہ کوواضح کرنے کے لئے’’مسلم خواتین سیل‘‘قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سال کو’’سال خواتین‘‘کی حیثیت سے منایا،اس کے بعد زیر عنوان پورے ملک میں ایک مہم چلائی،آپ نے اس سلسلے میں بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیااور آپ کے جنرل سکریٹری شپ میں ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ۷؍۸؍اپریل ۱۰۰۲ء کوخواتین کاایک بڑا دوروزہ سمینار دہلی میں منعقد ہوا۔
٭ سپرم کورٹ کے جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو اس فیصلہ کی آپ نے کھل کرمذمت کی جس میں انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی ڈارھی اور برقعے طالبانی ذہنیت کی علامت ہے۔بورڈ کی جانب سے آپ نے سخت الفاظ میں جسٹس مارکنڈے کاٹجوسے کہا کہ فرقہ پرسست سیاسی لیڈروں کی جانب سے داڑھی کو دہشت گردی سے جوڑنے کی بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے تحت مسلمانوں پر الزام لگاتے ہیں؛ مگر سپریم کورٹ جیسی اعلیٰ ترین عدالت کے ایک جج سے ایسی توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ سیاسی لیڈروں کی زبان استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں پر بے بنیاد الزام عائد کریں گے۔آپ نے کہاکہ جسٹس کاٹجو کا یہ فیصلہ ہندوستان کی عدلیہ کی تاریخ میں سیاہ ترین فیصلوں میں شمار کیا جائے گا۔بالآخر جسٹس کاٹجو نے اپنے ریمارک واپس لینے کا اعلان کیااور ۰۳؍مارچ۹۰۰۲ء کو سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے مراحقب کرنے میں کامیابی ملی۔
٭ ۴؍جنوری ۰۱۰۲ء کو مولانا سید نظام الدین صاحب نے وزیراعظم جناب منموہن سنگھ، مرکزی وزیر داخلہ مسٹر پی۔چدمبرم اور مرکزی وزیر قانون مسٹر ویرپا موئیلی کو جسٹس لبراہن کمیشن کی رپورٹ کے سلسلے خطوط روانہ کیااور کہاکہ جسٹس لبراہن نے جن (۸۶) اشخاص کو بابری مسجد کے انہدام کے لئے ذمہ دار قرار دیا ہے ان میں کئی ان کیسیس میں ملزم نہیں بنائے گئے ہیں۔ رائے بریلی کے کیس میں، جس میں مسٹرلال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اومابھارتی اور ونئے کٹیار جیسے ملزمان شامل ہیں، کارروائی انتہائی سست رفتاری کے ساتھ چل رہی ہے اب تک صرف چند گواہوں کے بیانات کروائے گئے ہیں، لکھنؤ کے کیس کی شنوائی اب تک شروع نہیں ہوئی ۔ ان کے خلاف موزوں ایف۔آئی۔آر درج کروائی جائے اور اس کی تفتیش سی۔بی۔آئی کے حوالے کی جائے کہ وہ تیزی سے اس کام کو مکمل کرکے خاطیوں کو قانون کے حوالے کرے۔آپ نے خط کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ بابری مسجد کے انہدام کے جرم کے ارتکاب پر جو فوجداری کیسیس رائے بریلی اور لکھنؤ کی خصوصی عدالتوں میں ہیں ان میں سازش مجرمانہ کی دفعہ لگائی جائے،کیونکہ جسٹس لبراہن کمیشن نے اپنی چھان بین میں سازش کا پتہ چلایا ہے۔
٭ حکومت دینی مدارس کے نظام میں دخل دینے کے لئے طویل عرصہ سے کوشاں رہا ہے،چنانچہ ۶۰۰۲ء میں اس نے ’’مرکزی مدرسہ بورد‘‘کے قائم کرنے کافیصلہ کیا؛تاکہ مدرسہ حکومت سے مربوط ہوجائیں،مولانا سید نظام الدین صاحب نے اس فیصلہ کی پرزور مخالفت کی اور کہا کہ ملک کے آئین کی آرٹیکل۰۳ کے تحت ملک کی مذہبی اور انسانی اقلیتوں کو اپنے تعلیمی اداروں کے قیام کا حق حاصل ہے،لازمی حق تعلیم ایکٹ دستور میں دی گئی بنیادی حقوق سے متصادم ہے ،اس لئے اس کانفاذ مدارس اسلامیہ پر نہیں ہونا چاہئے۔چنانچہ بالآخر حکومت سرکاری مدرسہ بورڈ کی تجویز سے دست بردار ہوگئی۔
٭ بعض ریاستوں میں ’’وندے ماترم‘‘اور ’’سوریہ نمسکار‘‘نافذ کرنے کی بات کہی گئی،آپ نے اس کی نہ صرف یہ کہ شدید مخالفت کی حکومت ہند کو اس کے نافذ کرنے کے خلاف کئی خطوط بھی لکھے ،جس کے بہتر اثرات مرتب ہوئے۔
٭ آپ کے جنرل سکریٹری شپ میں بورڈ نے رائے عامہ کو بیدار کرنے،لوگوں میں شعور پیدا کرنے اور مسلم پرسنل لا کی اہمیت اور افادیت سے واقف کرانے کے لئے اردو،انگریزی اور ہندوستان کی مختلف زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت پر خاص توجہ دی اور اب تک بحیثیت مجموعی تین درجنوں سے زائد کتابیں اور رسائل شائع ہوچکے ہیں،جو موضوع کے اعتبار سے بڑے مفید اور اہم ہیں۔
٭ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ مسلمانوں کواپنی کارکردگی سے مطلع رکھنے اور مسلمانوں تک اپنا پیغام پہنچانے کے لئے ۵۰۰۲ء سے مسلسل پابندی کے ساتھ سہ ماہی ’’خبر نامہ‘‘آپ کی ادارت میں شائع ہورہا ہے،آپ کے اداریہ علمی اور ادبی حلقوں میں پڑی قدر سے دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔
٭ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے اپنے قیام کے روز اول سے ہی عائلی قوانین کے تحفظ کے سلسلے میں پورے ملک میں اصلاح معاشرہ اور دارالقضاء قائم کرنے کے لیے کوششیں شروع کردیں تھیں،اجلاس عام۳۸۹۱ء منعقدہ کلکتہ میں دارالقضاکے قائم کرنے کی تجویز منظور کی گئی ،۳۹۹۱ء بمقام جے پور کے اجلاس عام میں آپ کی جنرل سکریٹری شپ میں یہ طے کیا کہ مسلمانوں کی عائلی اور سماجی زندگی کو شریعت اسلامی کے طریقہ پرکاربند رکھنے کے لئے ملک کے بعض اہم شہروں اور بعض ریاستوں میں دارالقضاکا قیام عمل میں آیا،آپ نے اس طرف توجہ فرمائی ،آج بورڈ کے تحت مختلف علاقوں میں ۹۲دارالقضاء قائم ہیں ،ان دارالقضائوں میں اب تک ہزاروں مقدمات کے فیصلہ ہوچکے ہیں۔بعض مقدمات میں ملکی عدالت نے دارالقضاکے فیصلہ ہی کو نافذ کیا ہے۔
٭٭٭
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker