Baseerat Online News Portal

مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

اے ایم یو کے شعبۂ عربی میں 21 روزہ رابطہ پروگرام کا آغاز
علی گڑھ: 11؍دسمبر
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبۂ عربی میں ریسرچ اسکالروں کے لئے یو جی سی ایچ آر ڈی سنٹر کے تحت 21روزہ رابطہ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
افتتاحی اجلاس کے دوران صدر شعبۂ عربی پروفیسر فیضان احمد نے اپنے خطاب میں ریسرچ اسکالروں کو محنت اور لگن سے کام کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ شک ہی سے تحقیق کا آغاز ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خون جگر کے بغیر کوئی بھی نقش تمام نہیں ہوتا ، چاہے ادب ہو یا نغمہ یا کوئی تاریخی عمارت۔
پروفیسر محمد صلاح الدین عمری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اسکالر کو چاہئے کہ وہ اپنی تحقیق کا آغاز ’’شک‘‘کو ملحوظ رکھتے ہوئے کرے اور بطور استدلال قرآن کی آیت کا ذکر کیا کہ ’’اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو تم کو چاہئے کہ پہلے اس کی تحقیق کرو ‘‘۔ انھوں نے کہا کہ یہی میتھڈلوجی آگے بڑھی اور اس کو ڈیکارٹ وغیرہ نے اپنایا۔
شعبۂ ترسیل عامہ کے سربراہ پروفیسر شافع قدوائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات عام لوگوں میں مشہور ہوتی ہے لیکن وہ بنیادی مصدر کے نتیجے میں کالعدم قرار دے دی جاتی ہے جیسے کہ سرسید کے والد کے نام کے ساتھ ’’میر‘‘ان کے نام کا جز نہیں ہے بلکہ یہ کلمۂ تعظیم ہے۔ اسی طرح سرسید کے بعض مضامین تراجم ہیں جن کا انھوں نے خود اعتراف کیا،جو ان کی علمی دیانت داری کا ثبوت ہے۔
پروفیسر عرشی خان نے اپنے وقیع لیکچر میں ریسرچ اسکالروں کو بحث و تحقیق اور اس کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کاموں پر نظر ثانی کرنا، نیا زاویۂ نظر تخلیق کرنا، مشکلات کا حل اور سوالات کے جوابات تلاش کرنے کا نام ریسرچ ہے، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے تحقیق کے پہلے زینے کو سوال کرنے سے تعبیر کیااور کہا کہ سوال کرنا بھی بہت بڑا فن ہے۔ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم دیانت داری اور ایمانداری سے بحث و تحقیق سے وابستہ ہوں۔
اس سے قبل افتتاحی کلمات میں پروگرام کو آرڈنیٹر ڈاکٹر احسان اللہ خان نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ریسرچ اسکالروں کے اندر بحث و تحقیق اور تنقید کا شعور پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے عہد نبوی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں تمام صحابۂ کرام صدوق و عدول تھے لیکن ان کے اندر بھی استفسار کا رجحان پایا جاتا تھا، اور اس کا مقصد صرف اطمینان قلب تھا جیسا کہ قرآن میں اسوئہ براہیمی اس حوالے سے پایا جاتا ہے کہ ـ’’اے میرے رب تو مردے کو کیسے زندہ کرتا ہے یہ مجھے دکھا دے تو اللہ نے فرمایا کہ کیا تم کو یقین نہیں تو فرمایا کیوں نہیںلیکن اطمینان قلب کے لئے ایسا کردیجئے‘‘ اور حدیث نبوی کے حوالے سے بحث و تحقیق کو جاری رکھنے کے لئے کہا کہ کوئی ان کہی بات یا بلا تحقیق چیزیں مت ذکر کیجئے۔
پروگرام کا آغاز ایم اے (سالِ اوّل) کے طالب علم عاصم باللہ کی تلاوت سے ہوا اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر احسان اللہ خان نے انجام دیئے۔ پروگرام میں شعبہ کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ کے زیر اہتمام ریسرچ کے طریقوں پر سرمائی اسکول کا انعقاد
علی گڑھ، 11؍دسمبر : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے شعبۂ بزنس ایڈمنسٹریشن کی جانب سے فرینک اینڈڈیبی اسلام مینجمنٹ کامپلیکس میں ریسرچ کے طریقوں پر سرمائی اسکول کا انعقاد کیا گیا جس میں مینجمنٹ، سوشل سائنس، کامرس اور دیگر مختلف شعبوں کے اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔
ہفت روزہ سرمائی اسکول کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بزنس ایڈمنسٹریشن شعبہ کے چیئرمین پروفیسر پرویز طالب نے محققین کے لئے ایسے پروگراموں کی افادیت بیان کی۔ انھوں نے ریسرچ طریقوں، ڈاٹا انالیسِس اور نتائج اخذ کرنے کے موضوعات پر جدید تکنیکوں کی معلومات کو اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں کے لئے لازمی قرار دیا۔
فیکلٹی آف مینجمنٹ اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ڈین پروفیسر ولید احمد انصاری نے ریسرچ ڈیزائن ، میتھڈولوجی اور ریسرچ کے وسائل کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شرکاء اس پروگرام سے خاطرخواہ استفادہ کریں گے۔
سرمائی اسکول کے کنوینر پروفیسر بلال مصطفیٰ خاں نے فارمولے پر مبنی ریسرچ کے تصور کے مقابلے اسکالروں پر زور دیا کہ وہ معروضی ریسرچ ڈیزائن کے لئے بہتر شماریاتی تکنیکوں اور وسائل کا استعمال کریں۔ انھوں نے شرکاء کو مشورہ دیا کہ وہ اپنا ریسرچ ورک شروع کرنے سے پہلے اپنا تفصیلی لائحۂ عمل تیار کرلیں۔ انھوں نے کہاکہ سرمائی اسکول کا بنیادی مقصد مفروضہ کی تیاری اور اس کی جانچ ، ٹائم سیریز انالیسِس ، پینکل رِگریشن، ملٹی ویریئٹ انالیسس اور اسٹرکچرل اِکویشن ماڈلنگ پروسیجر کی معلومات فراہم کرنا تھا۔
پروفیسر جمال احمد فاروقی نے ہائپوتھیسس ڈیولپمنٹ اور ٹسٹنگ کے موضوع پر اظہار خیال کیا۔ سرمائی اسکول میں 60؍اسکالروں نے شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) میں انٹر اسکول خطاطی مقابلہ کا انعقاد
اردو خطاطی میں رقیہ اور عربی خطاطی میں محمد شاداب نے اوّل انعام حاصل کیا
علی گڑھ، 11؍دسمبر: اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) میں ہر سال کی طرح اس سال بھی انٹر اسکول خطاطی مقابلہ کا انعقاد کیا گیا۔ اے ایم یو کے سبھی اسکولوں کے ساتھ ہی البرکات اسکول کے بچوں نے بھی مقابلہ میں حصہ لیا، جس میں انھیں اردو اور عربی میں خطاطی کرنی تھی۔
اس مقابلہ میں اردو میں اے ایم یو سٹی گرلس اسکول کی طالبہ رقیہ نے اوّل انعام حاصل کیا جب کہ اے بی کے ہائی اسکول گرلس کی طالبہ رمشا خانم اور سینئر سکنڈری اسکول گرلس کی طالبہ اریبہ حنیف نے بالترتیب دوئم و سوئم انعام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ ایس ٹی ایس اسکول کے طالب علم مہدی فضل اور اے ایم یو گرلس اسکول کی طالبہ کشف رضا کو حوصلہ افزائی انعام سے نوازا گیا۔
عربی خطاطی میں اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) کے محمد شاداب نے اوّل، اے ایم یو گرلس اسکول کی فِلزا زاہد اور سید حامد سینئر سکنڈری اسکول کے محمد مہتاب عالم نے مشترکہ طور سے دوئم اور اے ایم یو گرلس اسکول کی شبِ نور نے سوئم انعام حاصل کیا۔ اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول گرلس کی طالبہ نیاز فاطمہ کو حوصلہ افزائی انعام پیش کیا گیا۔
اے ایم یو اے بی کے ہائی اسکول (بوائز) کے پرنسپل ڈاکٹر محمد عباس نیازی نے مقابلہ میں شریک طلبہ و طالبات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔ مسٹر افضل احمد اور مسٹر محمد اعظم پروگرام کے کوآرڈنیٹر تھے۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر گیتا راجپوت نے انڈین پروستھوڈونٹکس سوسائٹی کی قومی کانفرنس میں ایک سیشن کی صدارت کی
علی گڑھ، 11؍دسمبر: ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے پروستھوڈونٹکس شعبہ کی پروفیسر گیتا راجپوت نے رائے پور، چھتیس گڑھ میں انڈین پروستھوڈونٹکس سوسائٹی کی 47ویں قومی کانفرنس میں ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کی جس میں چہرے کے جوڑوں میں ہونے والی بیماریوں (ٹیمپورو مانڈی بیولر جوائنٹ اینکائیلوسِس) پر تبادلۂ خیال کیا گیا اور ملک بھر سے جمع ہوئے ماہرین نے اپنے تجربات پیش کئے۔
پروفیسر گیتا راجپوت نے اس موقع پر چہرے میں پیدا ہونے والے ظاہری بگاڑ کو درست کرنے کے طور طریقوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مریض کے نچلے جبڑے کی کارکردگی بڑھانے اور مریض کو ہونے والے درد کو کم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ انھوں نے مرض کے علاج کے سلسلہ میں طلبہ کے مختلف سوالوں کے جواب بھی دئے۔ اجلاس میں طلبہ اور اساتذہ کثیر تعداد میں موجود تھے۔
کانفرنس میں ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج کے جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر فراز انصاری اور ڈاکٹر زیبا ناز نے پیوندکاری پر پوسٹر پرزنٹیشن میں پروفیسر گیتا راجپوت کو تعاون فراہم کیا۔ دونوں جونیئر ریزیڈنٹ نے اس موقع پر یونیورسٹی آف کینٹکی، امریکہ کے اورو فیشیئل پین سنٹر کے ڈائرکٹر مسٹر جیفری پی اوکیسن کے لیکچر میں بھی شرکت کی۔
٭٭٭٭٭٭
سید حامد سینئر سکنڈری اسکول (بوائز) اور سینئر سکنڈری اسکول (گرلس) میں منشیات کے خلاف بیداری پروگراموں کا انعقاد
علی گڑھ، 11؍دسمبر: اے ایم یو کے سید حامد سینئر سکنڈری اسکول (بوائز) اور سینئرسکنڈری اسکول (گرلس) میں منشیات کے خلاف بیداری مہم کے تحت پروگرام منعقد کئے گئے جن میں ماہرین نے نشہ خوری کے مہلک اثرات سے بچوں کو باخبر کیا اور انھیں بتایا کہ نشہ کی لت اگر کسی کو ہو تو اس کی اطلاع والدین اور بازآبادکاری مراکز میں دینا چاہئے تاکہ کاؤنسلنگ کی جاسکے۔
دونوں اسکولوں میں بیداری پروگراموں کااہتمام اے ایم یو کی فیکلٹی آف میڈیسن اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سوشل ڈیفنس، وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات، حکومت ہند کے اشتراک سے کیا گیا۔
سینئرسکنڈری اسکول (گرلس) میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عابد علی خاں (ڈپٹی ڈائرکٹر، ڈائرکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن ، اے ایم یو) نے کہاکہ نوعمر افراد میں نشہ خوری کی لت سے زندگی برباد ہوسکتی ہے اس لئے بچاؤ اور ساتھیوں کا تعاون بہت ضروری ہے۔ پروجیکٹ کوآرڈنیٹر پروفیسر ایم مبارک حسین، ڈاکٹر سائرہ مہناز، ڈاکٹر علی جعفر عابدی، ڈاکٹر صوفیہ ، ڈاکٹر صفیہ حبیب اور ڈاکٹر انور حسین صدیقی نے نوجوانوں کے اندر صحتمند طرز زندگی کی عادت پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے فرد اور سماج پر منشیات کے مہلک اثرات بیان کئے۔ پروگرام کے آخر میں پرنسپل محترمہ نغمہ عرفان نے اظہار تشکر کیا۔
دوسری طرف سید حامد سینئر سکنڈری اسکول (بوائز) میں منعقدہ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر انور شہزاد (اسسٹنٹ ڈائرکٹر، ڈائرکٹریٹ آف اسکول ایجوکیشن، اے ایم یو) نے کہاکہ والدین اور سرپرستوں کے لئے منشیات کے خطرات سے آگاہ ہونا لازم ہے تاکہ اپنے بچوں کو وہ مضر اثرات سے بچاسکیں۔ پرنسپل مسٹر ایس ایم مصطفیٰ نے اظہار تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو سٹی اسکول میں اسپورٹس ہفتہ کی فاتح ٹیموں اور کھلاڑیوں کو انعامات کی تقسیم
علی گڑھ، 11؍دسمبر: اے ایم یو سٹی اسکول میں انٹرہاؤس اسپورٹس ہفتہ کے تحت منعقد ہوئے مقابلوں میں طفیل ہاؤس نے فاتح کی ٹرافی پر قبضہ کیا جب کہ سرسید ہاؤس دوسرے نمبر پر رہا ۔ اسپورٹس ہفتہ میں اسکول کے سرسید ہاؤس، طفیل ہاؤس، نہرو ہاؤس اور آزاد ہاؤس کی ٹیموں نے کرکٹ، والی بال، باسکٹ بال، فٹبال اور ہاکی کے مقابلوں میں شرکت کی۔
اسکول پرنسپل سید تنویر نبی نے کامیاب ٹیموں کو ٹرافی پیش کی۔ انھوں نے سبھی مقابلوں کے ممتاز کھلاڑیوں کو سرٹیفیکٹ اور میڈل بھی تقسیم کئے۔ شباہت اصغر (فٹبال)، سجود علی (والی بال)، ایم معراج (باسکٹ بال) اور عبداللہ التتمش (کرکٹ) نے ممتاز کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔
اسپورٹس ٹیچر مسٹر عرفان احمد اور مسٹر اشرف خان نے اسپورٹس ہفتہ کی رپورٹ پیش کی، جب کہ محترمہ انور سلطانہ نے تقسیم انعامات تقریب کی نظامت کے فرائض انجام دئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یوکے لینڈ اینڈ گارڈن شعبہ کی جانب سے گیہوں کے فصل کی نیلامی 19؍دسمبر کو
علی گڑھ، 11؍دسمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو)کے لینڈ اینڈ گارڈن شعبہ کی جانب سے گیہوں کے فصل کی نیلامی 19؍دسمبر کو محکمہ کے احاطہ میں کی جائے گی۔
لینڈ اینڈ گارڈن شعبہ کے ممبر انچارج پروفیسر ذکی انور صدیقی نے یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ خواہشمند افراد فصل کو نیلامی سے قبل اچھی طرح دیکھنے کے بعد وقت پر آکر نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ نیلام کمیٹی کو پورا اختیار ہوگا کہ بغیر وجہ بتائے وہ بولی کو قبول کرے یا نہ کرے یا نیلامی کو ملتوی کردے۔ نیلام کے سلسلہ میں قطعی فیصلہ کا اختیار نیلام کمیٹی کو حاصل ہوگا۔ مزید معلومات کے لئے لینڈ اینڈ گارڈن شعبہ سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

You might also like