ہندوستان

۹؍ نومبر اور ۱۱؍ دسمبر ہندوستانی تاریخ کا سیاہ ترین دن: مولانا محمدولی رحمانی

پٹنہ: ۱۱/دسمبر:(عادل فریدی)
۹؍ نومبر ۲۰۱۹؁ء اور ۱۱؍ دسمبر۲۰۱۹ء؁ کو ہندوستانی تاریخ کے تاریک ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔یہی وہ دن ہیں جس میں آئین ، قانون ، مساوات ، جمہوری اقدار اور حقیت کے اصولوںکو تار تار کر دیا گیا اور ایک غیر آئینی اورتاناشای نظریہ ٔ حکومت کی بنیاد ڈالی گئی ۔۹؍ نومبر ۲۰۱۹؁ء کو بابری مسجد قضیہ میں عدلیہ کے وقار کو مجروح کر کے ساری دلیلوں کو تسلیم کرنے کے با وجود مسجدکے خلاف فیصلہ کیا گیا جو سب کے سامنے ہے اور آج ۱ ۱۱؍ دسمبر۲۰۱۹ء؁ کو آئین ہند ، مساوات اور جمہوری اقدار کا خون کرتے ہوئے ملک کو ایک مذہب کی بالا دستی کا شکار بنادیا گیا ہے ۔اور غیر آئینی و غیر دستوری سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کو قانون کے رکھوالوں نے ہی قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے منظور کر کے قانون کی شکل دے دی۔ ان دونوں دنوں کو ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ ترین دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ باتیں امیر شریعت حضر ت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے راجیہ سبھا سے منظور ہو کر قانون کی شکل اختیار کرنے والے سٹیزن شپ امینڈ منٹ بل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہیں ۔

حضرت امیرشریعت نے مزید کہا کہ اس بل کے ذریعہ سرکارنے ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے کی طرف مضبوط قدم اٹھایا ہے ، اب امیت شاہ اپنے وعدے کے مطابق این آر سی لاکر مسلمانوں کو پریشان کرنے کی ایک مستقل راہ پیدا کر دیں گے ۔اس قانون کے ذریعہ پاکستان ، افغانستان اوربنگلہ دیش سے آنے والے تمام غیر مسلموں کو شہریت دے کر کے ان کے لیے سہوت پیدا کر دی ۔ اور صرف مسلمانوں کو پریشان ہونے کے لیے چھو ڑ دیا گیا ۔ ان میں سے جو دستاویزات اکٹھا نہیںکر پائیں گے ان کو پریشان کیا جائے گا اور ہمیشہ کے لیے ان کے لیے عرصۂ حیات کو تنگ کیا جائے گا۔

حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے مزید کہا کہ اس غیرآئینی قانون کے خلاف سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایاجا ئے گا، اور اس کو کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ انہوںنے تمام ملی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ متحد ہو کر اس بل(جواب قانون ہو چکا ہے)و سپریم کورٹ میں چیلنج کریں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker