Baseerat Online News Portal

کرب آگہی کا شاعر :سید حسن نواب حسن

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
فی البدیہہ ،پرُ گو،دبستان عظیم آباد کے نامور نظم نگار شاعر حسن نواب حسن نے پیغمبر پورکلہوہ ضلع مظفر پورمیں ۷؍دسمبر ۲۰۱۹ء کے آغاز پر شب کے دو بجے داعی ٔاجل کو لبیک کہا ،وہ چند روز قبل اپنے نواسے کی شادی میں شرکت کے لیے وہاں گئے تھے، ان کی اکلوتی لڑکی کا انتقال کئی سال قبل ہوگیا تھا، غم نے ان کے جسم و جاں پر اثر ڈالا تھاوہ بلڈ پریشر اور عارضۂ قلب کے مریض تھے،آناً فاناً رات میں تکلیف ہوئی اور اسپتال پہنچنے کے قبل ہی جان جاں آفریں کے سپرد کردیا ،جنازہ اسی دن بعد نماز ظہر اُٹھا،نماز جنازہ ان کے داماد ارتضیٰ علی کے گھر کے باہر باغ میں مولانا سید اسد رضا سابق صدر مدرس مدرسہ سلیمانیہ نواب روڈ پٹنہ سیٹی نے پڑھائی اور پیغمبرپور کلہوہ مظفر پور میں ہی امام باڑہ بیت الاحزان سے ملحق قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
پسماندگان میں اہلیہ اور ایک لڑکا سیدمحمدعلی ارمان کو چھوڑا ان کے علاوہ پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں سے بھراپرُا خاندان موجود ہے،سوگواروں میں خاندان کے ساتھ ایک بڑی تعداد ان کے مداحوں اور ان کے حسن اخلاق کے اسیروں کی ہے، جن کے لیے ان کا اس طرح انسانی ذہن وادراک کے اعتبار سے اچانک اٹھ جانا سوہان روح ہے، حالانکہ قضاء اور قدر کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے، انسان اچانک اس لئے کہتا ہے کہ اسے پہلے سے وقت موعود کا علم نہیں ہوتا ۔
سید حسن نواب حسن بن سید خورشید نواب ایڈووکیٹ(م ۱۹۹۲ء؁) بن ارشاد حسن بن چودھری ہادی بخش کی ولادت شہر گیا کے محلہ پنچایتی اکھاڑہ توت باری میں تعلیمی اسناد کے مطابق ۲؍ نومبر۱۹۴۰ء کو ہوئی، ان کا سلسلہ نسب امام علی رضا سے ملتا ہے، والد سرکاری وکیل تھے، لیکن ذریعہ معاش زمینداری تھی، ابتدائی تعلیم گھر پر اتالیق سے حاصل کی ،جن کا نام مظفر حسین ضبط کا ظمی تھا،اس باکمال استاذ نے حسن نواب حسن کے اندر اردواور فارسی کی تعلیم کے ساتھ علم العروض سے بھی واقفیت بہم پہنچا دی، ہادی ہاشمی ہائی اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد انہوں نے آگے کی تعلیم جاری رکھی، بی اے کے بعد ایم اے میں داخلہ لیا، لیکن اسی درمیان ان کو لائف انشورنس کارپوریشن(LIC) میں ڈویلپمنٹ افسر کی نوکری مل گئی اور وہ اسی کے ہو کر رہ گئے، اپنی محنت لگن، ایمانداری کی وجہ سے انہوں نے ترقی کے منازل طے کرنے شروع کیے اور جب وہ۲۰۰۰ء؁ میں سبکدوش ہوئے تووہ ال آئی سی میںاے ڈی ام کے عہدہ پر تھے،سبکدوشی کے بعد بھی وہ ال آئی سی کے ٹریننگ سینٹر میں لیکچر کے لیے مدعو کئے جاتے تھے اور کارپوریشن ان کی صلاحیت ،صالحیت اور تجربے سے فائدہ اٹھاتی رہی تھی۔
حسن نواب حسن کی سسرال بھی مظفرپور تھی، ان کی شادی ۱۹۵۹ء؁ میں مظفرپور کے رئیس ظہیرحسین ساکن کمرہ محلہ کی دختر نیک اختر سے ہوئی تھی،۱۹۹۰ء؁ سے انہوں نے پٹنہ کو اپنا وطن ثانی بنا لیا تھا، لیکن محرم ،چہلم اور تقریبات کے موقع سے وہ گیا میں ہفتوں فروکش ہوتے ،اہل تشع کے یہاں جتنی مجلسیں ہوتی ہیں، سب کا انعقاد کراتے ،بیٹی کے انتقال کے بعد وہ مجلسوں کا انعقاد مظفرپور میں بھی کراتے تھے اور شرکت کو ضروری سمجھتے تھے ،سبکدوشی کے بعدوہ بہت دنوں تک کنکڑباغ میں رہتے رہے،لیکن ابھی چند سال قبل انہوں نے ہارون نگر سیکٹر ۲ میں اپنا مکان بنا لیاتھااور بودو باش یہیں اختیار کر لی تھی ۔
حسن نواب حسن کب میرے دل میں آبسے اور کب ان سے راہ و رسم ہوئی ،مجھے بالکل یاد نہیں ،شاید میرے مضامین نے جو مختلف اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں انہیں میری طرف متوجہ کیا ،کسی کتاب کی تقریب اجراء تھی ،وہ مجھے دعوت دینے آئے تھے اور میں نے اس موقع سے کتاب کی مناسبت سے چند جملے اپنے مولویانہ انداز میں کہے تھے جو ان کو بھاگئے اور ایسے بھائے کہ پروگرام میںجہاں ان کا اثرو نفوذ ہوتا،مجھے ضرور بلواتے، میرا سفر جب ایران کا ہوا تواحوال واقعی جاننے کے لیے امارت شرعیہ آئے،ایک پارٹی بھی دینے کا ارادہ کیا تھا ،لیکن مجھے ہی فرصت نہیں ملی ،خود جب کربلا گئے تو کئی تحفے میرے لئے لے کر آئے ،ان کی تفصیل تو مجھے یاد نہیں، لیکن ایک قلم یادگار ہے جو وہ میرا نام لکھوا کر لیتے آئے تھے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اس سفر میں ان کو یاد تھا، میں گذشتہ سال حج کو جانے لگا تو مٹھائی اور گلے کا ہار لے کر آئے،شوگر کی وجہ سے میں نے مٹھائی کھانے سے انکار کیا تو اپنے ہاتھ سے کھلایا اور کہا کہ کچھ نہیں ہوگا، ایک تہنیتی نظم بھی لکھ کر لائے تھے جو اپنی زبان سے سنایا ،ان کا لڑکا بھی ساتھ تھا، میرے گلے میں ہارڈال کر، گلے سے لگ کر بیٹے کو کہاکہ ا سے محفوظ کر لو، بیٹے نے اسے موبائل میں محفوظ کرلیا،حج سے آیاتو پھر ملنے آئے، اپنی کئی نظموں کے بارے میں وہ میری رائے جاننے کے خواہش مند تھے، لیکن میری مصروفیت نے ان کی نظموں میں مشغول ہونے کا موقع نہیں دیا اور وہ دنیا سے چلے گئے،جس دن مظفرپور جارہے تھے فون کیا اور کہا کہ میں دس دن کے لیے مظفر پور جارہاہوں، نواسہ کی شادی ہے، آتے ہی حاضر ہوںگا، انہیںکیا معلوم تھا کہ اب ان کی حاضری پٹنہ میں نہیں ہوپائے گی۔
وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتے تھے، کئی موقعوں سے انہوں نے میرے اوپر اور میری طبع ہونے والی کتابوں پر نظمیں لکھیں، گذشتہ مجلس شوریٰ کے موقع سے میری گزارش پر حضرت امیرشریعت اور امارت شرعیہ کی شان میں تہنیت نامہ لکھ لائے اور مجلس شوریٰ میں خود ہی پڑھ کر سنایا ،میری کتابوں کے اجرا ء کے موقعہ سے میرے گاؤں حسن پور گنگھٹی ، بکساما، ویشالی اور مہوا بھی گئے، اور یہ ساراکچھ للہ فی اللہ ہی ہوا کرتا تھا، میں انہیں اخراجات سفر دینے کی ہمت نہیں جٹاپاتا،وہ خلوص و محبت میں اپنے جیب پر سب کچھ برداشت کرتے رہتے،وہ انتہائی ملنسار، خوش اخلاق، وضعدار اوردوسروں کی آرام و راحت کا خیال رکھنے والے تھے، مرنے کے بعد بھی ان کے وارثوں نے اس کا خیال رکھا ،اسی دن نواسہ کی بارات تھی، اس لیے تدفین کا فیصلہ مظفرپور میں ہی کرلیا گیا، کیونکہ پٹنہ یا گیا لے جانے کی صورت میں اس دن شادی نہیں ہو سکتی تھی، اور لڑکی والوں کا بڑا نقصان ہو جاتا ،اتنے بڑے سانحہ کے بعداسی دن شادی کی تقریب کرنابڑے دل گردے کا کام ہے، اور یہ ان کی تربیت ہی کا اثر تھا، حالانکہ پٹنہ اور گیا لانے کے بعد مخلوق خدا کا ازدحام ہوتااور جنازہ کے مصلیان کی تعداد بھی بڑھ جاتی، لیکن لڑکی والوں کی رعایت میں اسے گوارا کر لیا گیا۔
یہ تو حسن نواب حسن کا انسانی کردار تھا، شاعری کے حوالے سے بات کریں تو وہ دبستان عظیم آباد کے بڑے نظم نگار شاعر تھے، انہوں نے غزلیں،قطعات،رباعیات ، حمد و نعت اور قصیدہ بھی کہے، منقبت کے اشعار بھی اچھے خاصے ہیں ،لیکن وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے ،ان کی فنی صلاحیت پورے طور پر نظم نگاری میں سامنے آتی ہے، ان کی ایک نظم پانی اور آنسو کا بہت پہلے میں نے تجزیاتی مطالعہ پیش کیا تھا ،جومیری کتاب حرف آگہی میں شامل ہے، وہ کہا کرتے تھے کہ میںنے کرب آگہی میں بھی اس مضمون کو شامل کر دیا ہے ،کرب آگہی کو چھپی ہوئی شکل میں وہ نہیں دیکھ سکے، اس نام پر دیر تک ہمارے ان کے درمیان گفتگو ہوئی تھی ،پھر انہوں نے اسے منتخب کر لیا تھا ،ان کی مشہور نظموں میں بہار نامہ ،خون ،زخمی پرندہ ،نور نظر پیدا نہ ہو،شناختی کارڈوغیرہ خاص طور پر قابل ذکرہیں، میری رائے ہے کہ حسن نواب حسن کی فکرمیں ندرت ،تخیلات میں ترفع،ہیئت کی پابندی اور اوزان وقافیہ کی ہمواری کی وجہ سے ان کی شاعری ہر طبقے میں مقبول ہوئی،ان کی نظموں کو پڑھ کر جوش کی لفظیات اور روانی کااحساس ہوتا ہے،البتہ جوش کی طرح ان کا لہجہ انقلابی نہیں ہے، بلکہ سبک دریاؤں کی روانی جیسا ہے ،جو ہولے ہولے قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے،اور جب تخلیق ختم ہوتی ہے تو آدمی ان کی سحر سے دیر میںنکل پاتا ہے ،ان خصوصیات کی وجہ سے حسن نواب حسن ادبی محفلوں کی جان تھے ،عظیم آباد کی ہر قسم کی مجلسوں میں وہ پوچھے جاتے تھے اور پوری پابندی سے شریک ہوتے تھے، انہوں نے لمبی عمر پائی، اس دور میں اسی (۸۰)سال کم نہیں ہوتے ہیں ،سلطان اختر نے ان کے بارے میں کہا تھا
وہ کہتا ہے ارباب ادب سنتے ہیں
ہوتی ہی نہیں ختم کہانی ان کی
اور حسن نواب حسن یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ’’لوختم کہانی ہو گئی‘‘اللہ انہیں آخرت میں حسنات کابہترین بدلہ دے، اور پس ماندگان کوصبر جمیل بخشے آمین۔

You might also like