ہندوستان

مدرسہ ریاض العلوم مسجدفرقانیہ میں اکابرعلماء اوربزرگان دین کے ہاتھوں حفاظ کرام کی دستار بندی، مدارس کی حیثیت تعلیم گاہ کی نہیں؛ بلکہ یہ ہمارے ایمان کی حفاظت گاہ ہیں:مولانامحمدسلمان بجنوری نقشبندی

ممبئی:13؍جنوری(بصیرت نیوز سروس ) شہر ممبئی کی معروف اورقدیم ترین دینی درسگاہ مدرسہ ریاض العلوم مسجدفرقانیہ گوونڈی کاستائیسواں سالانہ اجلاس دستاربندی بحسن وخوبی اختتام کوپہونچا۔اس موقع پرمدرسہ کے 24؍خوش نصیب حفاظ کرام کے سروں پراکابرعلمائے کرام اوربزرگان دین کے ہاتھوں دستارفضیلت باندھی گئی ۔اجلاس کی صدارت عارف باللہ حضرت قاری حبیب صاحب باندوی مہتمم جامعہ عربیہ ہتھورا باندہ ورکن شوریٰ دارالعلوم دیوبندنے فرمائی ۔اجلاس کا آغاز مدرسہ کے استاذ قاری ابوشحمہ کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا؛ جبکہ بارگاہ نبوت میں نذرانہ عقیدت مدرسہ کے طالب علم محمد شاکر نے پیش کیا۔

اس موقع پرعوام وخواص سے خطاب کرتے ہوئے قاری حبیب باندوی نے کہاکہ اس وقت ملک کے جونازک حالات ہیں،ایسے حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری مزیدبڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے مدارس دینیہ کی حفاظت فرمائیں؛ کیوں کہ یہی مدارس ہیں جوآپ کے لئے ایسے افرادمہیاکرتے ہیں جوآپ کی دینی وایمانی رہنمائی کے اہم فرائض انجام دیتے ہیں۔مال ودولت اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اوراس نعمت کے خرچ کی سب سے بہترین جگہ مدارس ہیں،اگرآپ اپنی جائزاورحلال آمدنی کومدارس ومکاتب پرخرچ کرتے ہیں توگویاآپ اللہ کی نعمت کاصحیح استعمال کررہے ہیں۔صدقہ ،زکوٰۃ اورانفاق فی سبیل اللہ ایسے خیرکے کام ہیں جسے اللہ خوب پسندکرتاہے ،لیکن اس میں نام ونموداورشہرت وریاکاری سے بچنابہت ضروری ہے ،آپ اپنے مال کواللہ کے راستے میں اس طرح خرچ کریں کہ اگردائیں ہاتھ سے دے رہے ہیں توبائیں ہاتھ کوبھی پتہ نہ چلے، اللہ کے راستے میں ایساخرچ کرنااللہ کے نزدیک بہت محبوب ہے اوراس کااجروثواب بھی اللہ کے نزدیک بہت زیادہ ہے۔قاری صاحب نے مزیدکہاکہ یہ مدرسہ اہلیانِ ممبئی بالخصوص گوونڈی والوں کے لئے اللہ کی جانب سے بہت بڑی نعمت ہے، ماشاء اللہ  مدرسہ ترقی کی جانب گامزن ہے، ہر سال مدرسہ سے بڑی تعداد میں حفاظ کرام، قراء عظام اور علماء پیدا ہورہے ہیں، مدرسہ کی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں اوراخراجات بھی،آپ حضرات اپنی حلال کمائی کابڑاحصہ مدرسہ کے تعاون پرخرچ کریں، انشاء اللہ آخرت میں بڑااجروثواب ملے گا۔

اس موقع پرمہمان خصوصی اورایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبندکے استاذ مولانامحمدسلمان بجنوری نقشبندی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مدارس کی حیثیت تعلیم گاہ کی نہیں؛ بلکہ یہ مدارس ایمان کی حفاظت گاہ ہیں،یہی وہ مدارس ہیں جہاں ہمارے ایمان کی حفاظت کی تدابیرکی جاتی ہیں،آج پوری دنیاان مدارس کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف ہے ،کیوں کہ انہیں معلوم ہے کہ جب تک یہ مدارس ومکاتب قائم ہیں،مسلمانوں کوان کے ایمان سے ہٹانامشکل ہی نہیں ناممکن ہے،اسی لئے ان کی سازش کامرکزمدارس دینیہ اورعلمائے کرام ہیں،ہمیں اس سازش کوسمجھناہوگااوراس سے حفاظت کی تدابیرکرنی ہوں گی۔آج دنیاوالے ہمارے مدارس کوتعلیم گاہ نہیں مانتے ہیں،اورہم منوانابھی نہیں چاہتے،کیوں کہ ہمارامقصددین وایمان کی حفاظت ہے۔تاریخ اٹھاکردیکھ لیں،ہندوستان میں مدارس کے قیام کامقصدبھی ہندوستانی مسلمانوں کے ایمان کاتحفظ تھا،آج ملک کے جوحالات ہیں،جس طرح مسلمانوں کے لئے دن بدن حالات خراب کئے جارہےہیں،اس میں غیروں سے زیادہ ہمارااپناقصورہے،ہمیں غیروں سے اتناخطرہ نہیں ہے جتنااپنوں سے ہے،اسی لئے ہمیں اپنی اصلاح کرنی ہوگی،اللہ کی عطاکی ہوئی سب سے بڑی نعمت ایمان کی دولت ہمارے پاس ہے،ہم ایمان والے ہیں ہمارافرض بنتاہے کہ ہم پکے سچے مومن بنیں تاکہ ہماراعمل ہمارے دین کے پھیلنے کاسبب بن جائے نہ کہ ہماری بدعملی خودہمارے لئے شامت اعمال بن جائے۔مولانابجنوری نے ملک کی موجودہ صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف حکومت کی جانب سے مسلمانوں کوشہربدرکرنے کی ناپاک سازش رچی جارہی ہے اوردوسری جانب ہم مسلمانوں کاحال یہ ہے کہ حکومت کے آلہ کاربن کرمسلمانوں کے لئے مصیبت کھڑی کررہے ہیں اورلاکھوں کروڑوں روپے کمارہے ہیں،اس سے زیادہ بے غیرتی اورایمان وضمیرفروشی کیاہوسکتی ہے،مولانانے آخرمیں کہاکہ آج کل کچھ لوگوں کامحبوب مشغلہ بن گیاہے علماء کومطعون کرنے کا،یادرکھیں یہ وہ لوگ ہیں جوخودکچھ نہیں کرتے ہیں؛ بلکہ گفتارکے غازی ہیں،الحمدللہ علمائے کرام حالات سے نمٹنے کی تدابیرمیں مشغول ہیں اوردعابھی کررہے ہیں؛ لیکن یہ یادرکھیں کہ دعائیں قبول ہونے کے لئے بھی ہماری نیتوں اورہمارے اعمال کادرست ہوناضروری ہے۔اس موقع پرمولانامنیراحمدصاحب نے قرآن اورحفظ قرآن کی فضیلت پرپرمغزخطاب کیااورعوام وخواص سے اپیل کی کہ ہرشخص اپنے بچوں کوحافظ قرآن بنائے اس سے بڑی کوئی دولت نہیں ہے۔

مشہورسماجی وملی شخصیت مولاناحکیم محموداحمدخاں دریابادی نے شہریت ترمیمی قانون،این آرسی اوراین پی آرپرتفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ یہ حکومت کی بڑی سازش ہے کہ وہ مسلمانوں کودوسر ے درجہ کاشہری بناناچاہتی ہے،بلکہ یہ کہاجائے تومبالغہ نہیں ہوگاکہ وہ مسلمانوں کوان کے تمام بنیادی حقوق سے محروم کرکے جیل سے بھی بدترحراستی کیمپ میں ڈال دیناچاہتی ہے جہاں انسان بے موت مرجائے۔انہوں نے عوام وخواص سے اپیل کی کہ اس وقت ہرشخص کوچوکنارہناہے،حکومت اورآرایس ایس کے کارندے مختلف طریقوں سے مسلمانوں کوبربادکرنے کی سازش رچ رہے ہیں اس لئے بہت زیادہ ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے،گھروں میں عورتوں اوربچوں کوسمجھادیں کہ کسی شخص کوبھی اپناکوئی دستاویزنہیں دیناہے۔یہ ملک پہلے بھی ہماراتھاآج بھی ہے اورانشاء اللہ ہمیشہ رہے گا۔اجلاس کے آخرمیں مدرسہ کے مہتمم مولاناصغیراحمدنظامی نے مہمانان کرام کاشکریہ اداکیا۔اجلاس کی نظامت مولاناذاکرقاسمی نے کی۔اس جلسہ میں شرکت کرنے والوں میں مدرسہ معراج العلوم چیتاکیمپ کے مہتمم قاری صادق خان ،مولاناسلمان خوشترحلیمی، مولانا بدرالدجی قاسمی ، صدر مدرس مولانا ظفیرالحق قاسمی ،مدرسہ ہٰذا کے صدر مفتی محمد احمد قاسمی، مفتی آصف انظارندوی، مدرسہ ہٰذا کے صدر ڈاکٹر ایس آئی علی اور مدرسہ کے تمام ذمہ داران و اساتذۂ کرام موجود تھے

دیگر اہم شرکاء میں بصیرت میڈیا گروپ کے چیئرمین مولانا غفران ساجد قاسمی مولانامحمدعارف ثاقبی،ہفت روزہ ملی بصیرت کے ایڈیٹرمولاناخان افسرقاسمی، منیجنگ ایڈیٹرمولاناوکیل مظاہری ،شجرالہدی شیخ، مولانا محمد حامد، حافظ رحمت اللہ ریاضی، قاری شہاب الدین صدیقی، شمشاد بھائی، زید بھائی، آفاق انصاری،  حافظ عقیل احمد، حافظ عبدالخالق اور علاقے کے دیگر مشہور و معزز لوگ موجود تھے.

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker