ہندوستان

دہلی اقلیتی کمیشن کا چیف جسٹس کو حالیہ مظاہرات کے دوران پولیس کی زیادتیوں کے خلاف مکتوب

نئی دہلی: 14؍جنوری(پریس ریلیز)دہلی اقلیتی کمیشن این آر سی اور نئے شہریتی ایکٹ (CAA)کے خلاف صوبہ دہلی میں پر امن مظاہروں کی تائید کرتا آرہا ہے۔ کمیشن نے اب چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس شرداروندبوبڑے کو خط لکھ کر پولیس کی مظاہرین کے تئیں زیادتیوں کے خلاف ازخود سو موٹوایکشن لینے کی درخواست کی ہے۔ کمیشن کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے اپنے خط کے ساتھ ملک بھر میں ۸۷؍ واقعات کی تفصیلات منسلک کی ہیں جن میں پولیس نے پرامن مظاہرین کے خلاف بربریت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ واقعات یوپی، کرناٹک، جموں کشمیر، آسام، گجرات اور دہلی میں ہوئے ہیں۔ صدر اقلیتی کمیشن نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ پولیس نے نہ صرف دفعہ ۱۴۴؍نافذ کی، انٹرنیٹ اور موبائل کنکشن کاٹ دئیے بلکہ “اس نے اس سے بھی آگے جاتے ہوئے پرامن مظاہرین پر بہت سی جگہوں مثلا جامعہ ملیہ اسلامیہ، میرٹھ، بجنور، سیماپوری، بنارس اورمنگلور وغیرہ میں مظاہرین کے ہاتھ ،پاؤں اور سر توڑے اور تقریباً دو درجن لوگوں کا قتل بھی کیا۔ یہی نہیں بلکہ پولیس والے گھروں میں گھس گئے اور وہاں جو ملا اسے تہس نہس کردیا۔ اس کے درجنوں ویڈیو موجود ہیں جن میں سے کچھ “بائیکاٹ این آر سی” کے فیس بک پیج پر دیکھے جاسکتے ہیں”۔
ڈاکٹر خان نے چیف جسٹس آف انڈیا سے درخواست کی ہے کہ نہ صرف ان غلط کار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ’’بلکہ مستقبل کے لیے ایک نمونہ قائم کردیا جائے کہ سپریم کورٹ اس طرح کا رویہ برداشت نہیں کرے گی تاکہ عام شہریوں کے سول اور انسانی حقوق کی حفاظت کی جاسکے‘‘۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker