ہندوستان

کل ہنداسلامک علمی اکیڈمی کانپورکی ماہانہ نشست منعقد،مختلف اہم امورپرتجاویزپاس

کانپور:14؍جنوری(پریس ریلیز) دور جدید میں پیش آنے والے نئے اور پیچیدہ مسائل کے حل کیلئے شہر کانپور کے جید علماء و مفتیان پر مشتمل کل ہند اسلامک علمی اکیڈمی کی ماہانہ نشست عصر تا عشاء اکیڈمی کے آفس جمعیت بلڈنگ رجبی روڈ میں اکیڈمی کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں سب سے پہلے سی اے اے، این آرسی و این پی آر کی موجودہ شکل کیخلاف تجویز پاس کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی پورے ملک خصوصاً شہر کانپور میں ہونے والے پرامن احتجاجی پروگراموں کی تائید کی گئی اور اراکین نے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ان پروگراموں میں شرکت کی اپیل کی اور مصروفیات سے اپنا وقت فارغ کرکے خود بھی اس میں شریک ہوکرحمایت کرنے کاحلف لیا۔
اراکین نے اس پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز وریاستی حکومتوں نے ہی اب عوام کو گمراہ کرنا شروع کر دیا ہے، اپنے جھوٹ کو پھیلانے کیلئے سرکاری اور جماعتی سطح پرتمام تر کوششیں کر رہی ہیں۔ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر جو کہ ہمارے ملک ہندوستان کیلئے بے حد حساس اور پورے ملک کا مسئلہ بنا ہوا ہے، اس مسئلہ پر کسی طرح سے بھی عوام کی بات سننے اور اس کی خامیوں پر غورکو تیار نہیں ہے، بلکہ صرف اپنی ہی بات بتائے جا رہی ہے۔اسے ہمارے ملک عزیز کیلئے اچھی صورتحال نہیں کہا جاسکتا۔ اکیڈمی کے اراکین نے مشترکہ طور سے کہا کہ سی اے اے قانون کی مخالفت کو موجودہ حکومتیں مسلمانوں کا مسئلہ بناکر برادران وطن کو گمراہ کر رہی ہیں، یہ مسئلہ توملک کے آئین و دستورکے ساتھ ساتھ یہاں کے کروڑوں آدی واسیوں، دلتوں، غریبوں اور کمزوروں کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک کے باہمی اتحاد،ایکتا، بھائی چارہ کے بارے میں ساری دنیا جانتی ہے کہ ہم ہمیشہ سے مل جل کر ایک دوسرے کی تہذیب وثقافت کا احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شریک ہوتے آئے ہیں۔ یہی ہمارے ملک کی سب سے بڑی طاقت ہے، اس پر ہمیں فخر بھی ہے۔ ملک دشمن طاقتیں یہاں کے اسی پر امن اور محبت والے ماحول کو خراب کرنے دن رات لگی ہوئی ہیں، لیکن ملک کے عوام بشمول علماء ان ملک دشمن طاقتوں کو ان کے ناپاک ارادوں اور منصوبوں میں کسی قیمت پر بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
تمام اراکین نے کہا کہ آج حکومت مسلمانوں کا بار بار نام لے کرسی اے اے کوہندو مسلم کا مسئلہ بناکر اپنی فکر کو ملک کے عوام پرجبراًتھوپنے کی کوشش نہ کرے، ملک کا مسلمان تو کل بھی ہندوستانی تھا، آج بھی ہندوستانی ہے اور آئندہ بھی ہندوستانی ہی رہے گا، اس ملک کیلئے ہماری بہت بڑی قربانیاں دی ہیں۔حکومت سیاست سے اوپر اٹھ کرسنجیدگی کے ساتھ مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کے نفع و نقصان کے بارے میں فکر کرے۔ آج سڑکوں پر اترنے والے لوگ کسی دوسرے ملک سے آئے ہوئے لوگ نہیں ہیں، وہ یہیں کے عوام ہیں اور اپنے مستقبل کیلئے فکر مند ہیں۔ وہ اگر اپنی کوئی بات آپ تک پہنچانا چاہ رہے ہیں تو بحیثیت حکمراں آپ کی ذمہ داری ہے کہ ان کے مسئلہ کو سنیں اور ان کے سوالات کا جواب دے کر تمام شبہات کو دورکرے۔
علمی اکیڈمی کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی قاضی شہر کانپور نے کہا کہ ہم پہلے سے ہی لوگوں کو بیدار کرتے آ رہے ہیں اور آج بھی کہہ رہے ہیں کہ بدلتے مذہبی،قومی و سماجی اور سیاسی پس منظر میں جب کہ مشترکہ سماج کے تانے بانے اور امن وامان کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ سماج کے مختلف طبقات کے درمیان برادرانہ تعلق، امن واتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن جد وجہد کریں تاکہ تخریبی قوتوں کے منصوبے ناکا م ہو جائیں۔
علمی اکیڈمی کے اراکین نے ایک آواز ہو کر کہا کہ قابل مبارکباد ہیں تمام مذہب وعقائد سے وابستہ رہنما اور سماجی قائدین جو ہمارے وطن عزیز کی قدیم روایت کثرت میں وحدت اورباہمی میل جول کے قیام کیلئے میدان میں آرہے ہیں اور سی اے اے قانون جو کہ آئین اور دستور ہند کی روح کے خلاف ہے، اس کے بارے میں لوگوں کو بیدار کر رہے ہیں۔
میٹنگ میں اکیڈمی کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی، نائب صدر مولانا خلیل احمد مظاہری، جنرل سکریٹری مفتی اقبال احمد قاسمی اور سکریٹری مفتی عبدالرشید قاسمی کے علاوہ دیگر ممبران مفتی اسعد الدین قاسمی،مولانا محمد انیس خاں، مولانا محمد انعام اللہ قاسمی، مفتی سعد نور قاسمی، مفتی محمد دانش قاسمی،مفتی عزیز الرحمن قاسمی، مفتی سعود مرشد قاسمی، مفتی حفظ الرحمن قاسمی، مفتی اظہار مکرم قاسمی کے علاوہ دیگر لوگ بھی شریک رہے۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker