Baseerat Online News Portal

طالبان رواں ماہ کے اختتام تک امریکہ سے معاہدہ کیلئے پرامید

آن لائن نیوزڈیسک
افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے فوجیوں کے انخلا کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنے کی غرض سے ’عسکری کارروائیاں‘ کم کرنے پر رضامند ہوگئے ہیں اور امریکا کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا محور معاہدے پر دستخط کی تاریخ مقرر کرنا ہے۔ گفتگو کرتے ہوئے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے سہیل شاہین نے بتایا کہ ’ہم نے امن معاہدے پر دستخط ہونے تک کے چند دنوں کے لیے عسکری کارروائیاں کم کرنے پر اتفاق کیا ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بھی بتایا کہ عسکری کارروائیوں میں کمی کا مقصد غیر ملکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا، یہ صرف ’ہماری عسکری کارروائیوں میں کمی ہے، یہ ہمارا استحقاق ہے کہ ہمیں کب، کہاں اور کس طرح عسکری کارروائیوں میں کمی لانی ہے اور یہ صرف غیر ملکی افواج کے لیے نہیں، پرتشدد کارروائیوں میں کمی افغانستان اور دیگر تمام افواج کے لیے ہے‘۔طالبان ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ کیا حملوں میں کمی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد بھی جاری رہے گی اور انہوں نے کہا کہ جب معاہدہ پر دستخط ہوں گے اس میں موجود شقیں نافذ ہوجائیں گی۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا وہ کون سی شقیں ہیں تاہم یہ کہا کہ معاہدے سے اشرف غنی حکومت سمیت بین الافغان مذاکرات کا انعقاد ہوگا اور ملک بھر میں جنگ بندی پر بات کی جائے گی۔رواں ہفتے کے آغاز میں قطر کے دارلحکومت دوحہ میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی اخوند المعروف ملا برادر کے درمیان بات چیت کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تھا۔دونوں فریقین کے مابین مذاکرات کے 3 دور ہوچکے ہیں اور جمعے کے وقفے کے بعد ہفتے کو دوبارہ ملاقات کا امکان ہے۔

You might also like