Baseerat Online News Portal

کتابوں اور مطالعہ سے دوری نے مسلمانوںکو دینی ودینوری علوم سے محروم کردیاہے،جامع مسجدکتب خانہ مدرسہ محمدیہ میں محفوظ مخطوطات ومطبوعات کی جدیدمرتبہ فہرست کتب کے اجراءپر علمائے کرام کا اظہار تشویش

ممبئی:۱۸؍جنوری(نمائندہ خصوصی) ممبئی کی جامع مسجدکے قدیم کتب خانہ مدرسہ محمدیہ میں محفوظ مخطوطات ومطبوعات کتابوں کی فہرست کی ازسرنوترتیب اوراس کی رسم اجراءکے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے علماءکرام نے اس بات پرتشویش کا اظہار کیا کہ کتابوں اور مطالعہ سے دوری نے مسلمانوںکو دینی ودینوری علوم سے محروم کردیاہے،ان کا کہناہے کہ جس مسلم قوم نے دنیا سے جہالت اور تاریکی کو ختم کیا تھا ،وہ علم کی دولت سے محروم نظرآرہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملکی اور عالمی سطح پر ذلیل وخوار ہے۔واضح رہے کہ جامع مسجد کے قدیم کتب خانہ کی 14ہزار قیمتی مطبوعات اور دیڑھ ہزارنادرونایاب مخطوطات کو ڈیجیٹلیزیشن کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ٹیکنالوجی سے محفوظ کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت کی گئی ہے،مذکورہ تقریب کی صدارت مولانا منیراحمدنے کی جبکہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اورمفتی عزیز الرحمن فتحپوری نے مہمانان خصوصی کے طورپرشرکت کی اورمولانا علی صاحب شریوردھن اورمفتی رفیق پورکرنے اظہارخیال کیا ،سماجی رہنماءعلی ایم شمسی ،صحافی سمیع بوبیرے ،جاویدجمال الدین اور دیگر معززین اور شہریوںنے تقریب میں حصہ لیا ،ناظم کتب خانہ مفتی محمداشفاق قاضی نے ان ہزاروں کتب اور مخطوطات کو محفوظ کرنے اور ترتیب دینے میں اپنے رفقاءکے ہمراہ اہم رول اداکیا ہے۔اس موقع پر اپنے صدارتی خطبہ میں مولانا منیراحمد نے کہا کہ کتابوں سے دوری کے ساتھ ساتھ گھریلواور خاندانی تربیت کا نظم بھی ختم ہوچکا ہے ،جس کی وجہ سے معاشرہ میں بڑی خرابی نظرآرہی ہے ،دراصل مطالعہ کے شوق کے فقدان اور بزرگوں اور علماءکرام کی قربت سے محرومی نے انہیں دینی اور دینوی علوم سے بیگانہ کردیا ہے ،ہمیں ایک ایسے طریقہ کار کو اپنانا ہوگا جس کے تحت مستقبل میں ہماری نوجوان نسل اخلاقی تعلیم کو رائج کرلے ،ورنہ معاشرہ کی تباہی کو کوئی روک نہیں سکتا ہے۔مولانا منیر احمد نے آج کے اس پرآسودہ دورمیں جامع مسجد ٹرسٹ کے زیراہتمام مفتی محمد اشفاق قاضی کی نگرانی میں قدیم کتب خانہ اور مدرسہ کو جدیدطرز دینے پر ایک خوش آئند قدم قراردیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کو دینی کتابوں کے ساتھ عام اورمفید علوم کو پڑھنے کا موقعہ ملے گا ،جس کے لیے نبی کریم نے دعا کی ہے کہ زندگی میں فائدہ پہنچانے والا علم حاصل کیا جائے اور بے کار علوم سے دوررکھا جائے۔مہمان خصوصی مولانا سجادنعمانی نے حسب معمول مسلمانوں کی موجودہ حالت کے لیے انہیں ہی ذمہ دار قراردیتے ہوئے اس بات کو دوہرایا کہ دنیا کو ترقی اور کامرانی دلانے والی مسلم قوم ہی پسماندگی اور پچھڑچکی ہے اور اس کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے ،کیونکہ اس قوم نے علم سے منہ پھیرلیا ہے اور میلے ٹھیلوںاور تماشوںکی نذر ہوچکی ہے ،ایک سبب مطالعہ سے ان کی دوربھی ہے۔مولانا نعمانی نے مذہب اسلام کے ظہور اور خلفائے راشدین کے دورمیں علوم وفنون کی ترقی کی کئی مثالیں پیش کرتے ہوئے واضح طورپر کہا کہ اسلام نے دنیا میں تحقیق کے دورکی شروعات کی ،جبکہ یونان اور روم مفروضہ پر منحصر رہتے تھے اور اسلام نے ریسرچ کو اہمیت دی کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ ایک نئی خبر اور کسی بات کی تصدیق سے قبل اسے آگے نہ بڑھایا جائے اور یہ حقیقت ہے کہ حدیث کو اسی بنیاد پر جمع کیا گیا ۔ مسلمانوں نے دینی علوم کے ساتھ ساتھ طب،فلکیات،فلسفہ اور دیگر دینوی علوم کو دنیا کے سامنے پیش کیا ،انہوںنے ایک روسی خلائی ماہر کے اس بیان کو پیش کیا جس نے کہا تھا کہ اس کا علم انہوںنے ایک مسلم خلائی سائنسداں کے خاکہ سے حاصل کیا تھا، لیکن آجکا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں نے سب کچھ بھلا دیا ہے اور فتنوںکا شکار بن رہے ۔مہاراشٹر کے مفتی عزیز الرحمن فتح پوری نے بھی اس بات پر زور دیا کہ مسلمان علماءاور مبلغین نے کتابیں لکھنے اور انہیں عام لوگوں تک پہنچانے میں جو محنت وجدوجہد کی ہے ،اسے رائیگاں جانے نہیں دیا جائے ،انہوںنے جامع مسجد کے اس قدیم کتب خانہ اورمدرسہ کی ازسرنوترتیب اور جدیدکاری کا مکمل فائدہ اٹھانے کی اپیل کی تاکہ نوجوان نسل دین اور دینوی علوم سے واقف ہوسکیں۔ابتداءمیںناظم کتب خانہ اورمدرسہ محمدیہ مفتی محمداشفاق قاضی نے تفیصل پیش کرتے ہوئے کہا کہ جامع مسجد ممبئی کے احاطہ میں واقع کتب خانہ مدرسہ محمدیہ کا شمار ملک کے اہم اورقدیم ترین کتب خانہ میں کیا جاتا ہے ،جس میں 14ہزاراہم اور قیمتی مطبوعات اور دیڑھ ہزارنادرونایاب مخطوطات کا ایک بڑا ذخیرہ محفوظ ہے ،حال میں اس کی ازسرنوترتیب کے ساتھ ساتھ ان کی فہرست بھی مرتب کرلی گئی ہے۔اورگزشتہ پانچ سال کی محنت سے ان اشیاءکواسکین کرکے محفوظ کردیا ہے ،اس طرح یہ ایک جدید ڈیجٹیل لائبریری میں تبدیل ہوچکی ہے۔انہوںنے مطلع کرتے ہوئے کہا کہ ان ہزاروں نادراورنایاب مخطوطات اورمطبوعات کی پہلی فہرست 1922میں مولانا یوسف کھٹکھٹے نے مرتب کی تھی ،لیکن ایک عرصے بعد غالباً1956میں ڈاکٹرحامد اللہ ندوی نے اس کتب خانہ کے اردومخطوطات کا ایک تفصیلی تعارف پیش کروایا تھا جبکہ 2011میں عربی مخطوطات کی فہرست مرتب کی گئی۔ اس کتب خانہ کی ایک مجموعی فہرست کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی ، جس میں عربی ،اردواور فارسی مخطوطات اور مطبوعات شامل ہوں،لہذا تقریباً پانچ سال کی جدوجہد ومحنت کے نتیجہ میں یہ اہم ترین کام پایہ تکمیل کو پہنچا اور اب فہرست طبع ہوچکی ہے۔

You might also like