Baseerat Online News Portal

مہاراشٹر بی جے پی میں اندرونی گھمسان کا معاملہ آیا سامنے، ریاستی صدر نے کہا’میگابھرتی‘ کی وجہ سے پارٹی کو پہنچا نقصان

ممبئی:18 ؍جنوری(بی این ایس )
مہاراشٹر بی جے پی میں اسمبلی انتخابی نتائج کو لے کر گھمسان شروع ہو گئی ہے۔انتخابات میں گزشتہ بار کے مقابلے ملی کم سیٹوںکے لئے دوسری پارٹی سے آئے لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔مہاراشٹر بی جے پی کے صدر چندرکانت پاٹل نے کھلے عام کہا کہ دل بدلو کے آنے سے بی جے پی کی ثقافت خراب ہوگئی ہے۔انہوں نے بغیر نام لئے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس پر نشانہ لگایا اور کہا کہ پارٹی کے وفادار لوگوں کے بجائے بیرونی لوگوں کو ٹکٹ دئیے جانے سے انہیں ٹھیس پہنچی ہے۔ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے چندرکانت پاٹل نے کہا کہ میگابھرتی کی وجہ سے بی جے پی کی ثقافت کو نقصان پہنچا ہے۔میگابھرتی لفظ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے پہلے کانگریس اور این سی پی سے بی جے پی میں شامل ہوئے لوگوں کے لئے کیا جاتا ہے۔دل بدلوئوں کو بی جے پی میں شامل کرنے کی حکمت عملی پر فڑنویس کی ہی مانی جا رہی ہے۔ پاٹل نے کہا کہ الیکشن کے ٹکٹ دیئے جاتے وقت پارٹی کے قریب رہنماؤں کے بجائے دل کے قریب رہے لیڈروں کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ حالانکہ انہوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن سیاسی گلیاروں میں مانا جا رہا ہے کہ ان کا طنز سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس پر تھا۔ امیدواروں کو منتخب کرنے میں دیویندر فڑنویس کی چلی تھی۔کئی سارے ایسے لیڈروں کے ٹکٹ کاٹ دیے گئے تھے جو آنے والے وقت میں ان کے مخالف بن سکتے تھے۔ایسے لیڈروں میں ونود تاوڑے، ایکناتھ کھڈسے اور چندر شیکھر بونکلے کے نام اہم ہیں۔انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران بہت سے پرانے اور وفادار رہنما جیسے پرکاش مہتا اور راج کے پروہت کے بھی ٹکٹ کاٹ دیے گئے۔انتخابات نتیجہ آنے کے بعد ایکناتھ کھڈسے نے کھل کر دیویندر فڑنویس پر نشانہ لگایا تھا اورفڑنویس پر خود کو سائیڈلائن کرنے کا الزام لگایا تھا۔انہوں نے اس کی شکایت بی جے پی کے اعلی ٰقیادت سے بھی کی تھی۔

You might also like