Baseerat Online News Portal

سیکولرازم کو آئین سے ختم کرنے کا بڑھتا مطالبہ

ڈاکٹر سیّد احمد قادری
یوں تو آزادیٔ ہند کے بعد سے مسلسل بھارت کے سیکولر ہونے اورسیکولرازم پر مبنی ملک کے آئین پر فرقہ پرستوں کو اعتراض رہا ہے۔ ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوشش کرنے والوں کا ملک کے آئین سے سیکولرازم کو ہٹانے کا مطالبہ اب تیز ہوتا جا رہا ہے۔ سال نوکے جنوری ماہ میں ’’ بدلتے دور میں ہندوتوا ‘‘ عنوان سے شائع ہونے والی ایک کتاب کے اجرأ کے موقع پر راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ(آر ایس ایس ) کے کنویینر نند کمار نے اپنے ایک انٹرویو میں بہت ہی واضح طور پر کہا ہے کہ ’ ہندوستان کو لفظ سیکولر کی آئین میں شمولیت پر نظر کرنی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکولرازم ایک مغربی تصور ہے۔ جس کا ہندوستانی ثقافت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مذکورہ کتاب کے اجرأ کے موقع پر آر ایس ایس کے سینئر عہدیدار کرشن گوپال بھی موجود تھے۔ ملک کے آئین سے سیکولرازم کو ہٹائے جانے کا مطالبہ کوئی نیا نہیں ہے ۔ فرقہ پرستوں نے ہمیشہ سیکولرازم پرمبنی آئین کی مخالفت کی ہے ۔نریندر مودی کی پہلی وزارت کے ایک وزیر رام کرشن ہیگڑے نے توسیکولرازم اور سیکولرازم سے محبت کرنے والوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ جو لوگ بھی سیکولر ہیں ، وہ سب اپنے والدین کی ناجائز اولاد ہیں ۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی دوسری بار بر سر اقتدارآنے کے بعد سیکولرازم کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ 2019 ء کے لوک سبھا انتخاب کے دوران سیکولرازم کہیں نقاب اوڑھے بھی نظر نہیں آئی۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی جڑیں اتنی زیادہ مضبوط اور اتنی گہرائی تک پیوست ہیں کہ اتنی آسانی سے فرقہ پرستوں کے ذریعہ اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں ہے۔ صدیوں سے یہ ملک سیکولر رہا ہے اور رہے گا۔ اس ملک میں جب بادشاہت کا دور تھا ، یعنی مسلمانوں کی اولین حکومت محمد بن قاسم سے لے کر مغلوں کی حکومت اور پھر کمپنی بہادر اور برٹش حکومت تک نے کبھی بھی ا پنے مذہب کو اپنی حکومت کی بنیاد نہیں بنایا ۔ اس لئے کہ صدیوں سے یہ تصور رہا ہے کہ جن ممالک میں بھی مخلوط آبادی ہو، مختلف مذاہب کے ماننے والے ہوں ،وہاں اگر کامیاب حکمرانی کرنی ہے تو حکومت کو مذہب سے نہیں جوڑا جائے ۔ بھارت کے مسلم حکمرانوں کا تعلق اسلام مذہب سے ضرور رہا ، لیکن حکومت کی پالیسی ہمیشہ سیکولر رہی اور صدیوں تک برسر اقتدار رہنے والے مسلم حکمرانوں نے کبھی بھی اپنے مذہب اسلام کی ،حکومت کے زور پر تبلیغ پر زور نہیں دیا ۔ مسلمانوں سے حکومت چھیننے اور قبضہ جمانے والے انگریزوں نے بھی اپنے عیسائی مذہب کو اس ملک پر مسلط کرنے کی دانستہ کوشش نہیںکی۔ ہاں چند ر گپت موریہ نے ضرور اپنے دور حکومت میں اپنے جین مذہب کو حکومت کا مذہب قرار دیا تھا اور دوسرے راجہ اشوک کا نام آتا ہے کہ اس نے بودھ مذہب کو حکومت کا مذہب نہ صرف تسلیم کیا تھا، بلکہ اپنے بھائی مہندر کو پورے ملک میں حکومت کے خرچ پربودھ مذہب کی تبلیغ کے لئے مامور کیا تھا ۔ان دو مثالوں کے علاوہ تیسری کوئی مثال اس ملک میں ایسی نہیں ملتی ہے ۔یہی وجہ رہی ہے کہ ہمارے ملک بھارت کا صدیوں سے سیکولر مزاج رہا ہے ۔ ہمارے ملک کو جب انگریزوں کی غلامی سے آزادی ملی ، تب بھی آئین سازوں نے اس ملک کو حکومت کے لئے کسی بھی مذہب نہیں جوڑا ، بلکہ آئین میں لفظ سیکولر یا سیکولرزم کی شمولیت کو بھی ضروری نہیں سمجھا گیا اور آئین کے شق 15.1 میں بہت ہی واضح طور پر یہ لکھا گیا کہ ’’”The state shall not discriminate against any citizen on grounds only of religion, race, cast, sex, place of birth or any of them ” ـ۔ آئین کے اس رو سے ملک کے اندر مذہب ، ذات، صنف(سیکس)، جائے پیدائش کی بنیاد پر کسی بھی طرح کی تفریق نہیں کی جائے گی ۔ برسہا برس تک آئین کے اس رو پر عمل بھی کیا جاتا رہا اور ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا گیا کہ تمام مذاہب برابر ہیں ، کسی مذہب کو بھی کسی دوسرے مذہب پر فوقیت حاصل نہیںاور ملک کے ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے ، اسے ماننے کاحق حاصل ہے۔ لیکن آزادی کے کچھ عرصہ بعد جب یہ محسوس کیا جانے لگا کہ ملک کے اندر فرقہ پرست عناصر سر ابھار رہے ہیں اور ملک کے سیکولر کردار کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، ایسے حالات میں یہ ضروری سمجھا گیا کہ ملک کے آئین میں لفط سیکولر کی شمولیت ہو۔ چنانچہ 1976 ء میں وزیر اعظم وقت اندرا گاندھی کی سربراہی میں آئین کی تمہید میں 42 ویں ترمیم کے تحت لفظ ـ’’سیکولر‘‘ کو اس طرح شامل کیا گیا ۔” Secularism in india …..with the 42 nd Amendment of the contitution of india enactedin 1976,the preamble to the constitution asserted that india is a secular nation. However neither india’s constitution nor its laws define the relationship between religion and state.”
دراصل سیکولرازم اور سیکولر کو مذہبی رواداری کی حد تک محدود نہیں کیا جانا چاہئے ۔ بلکہ سیکولرازم کو آپسی خیرسگالی ، دوستی، محبت، اخوت ،آپسی اتحاد و اتفاق اور قومی یکجہتی کے معنوں میں بھی استعمال کیا جانا چاہئے کہ موجودہ وقت میں ، جس طرح سے سیکولر اور سیکولرزم سے نفرت بڑھ رہی ہے ، اور غیر اعلان شدہ طور پرپابندی عائد کی جا رہی ہے ،بلکہ انتہا تو یہ ہے کہ سیکولر اور سیکولرزم کی جگہ راشٹر واد کو فروغ دینے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ اس کے پیچھے منشا یہ ہے کہ کسی خاص طبقہ اور مذہب کے لوگوں کو حب الوطنی کے نام پر زد و کوب کیا جائے ۔ انھیں خوف و دہشت میں رکھا جائے ۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج جو لوگ بھی خود کو ملک کابہت بڑا خیر خواہ اور وطن پرست ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، درصل ان کی، تاریخ آزادیٔ ہند میں ایثار و قربانی کاکہیں پر بھی کوئی ذکر نہیں ہے ، بلکہ انگریزوں سے معافی مانگنے اور قومی پرچم کو ایک طویل عرصے تک قبول نہیں کئے جانے کی بھی تاریخ موجودہے ۔اس لئے ظاہر ہے ایسے لوگ خود کو حُب الوطن ثابت کرنے کے لئے بے چین و بے قرار ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو آئین میں شامل لفظ سیکولر اور سیکولرازم کے معنٰی اور مطلب کو سمجھنا بھی نہیں چاہتے ہیں ۔انھیں معلوم ہونا چاہئے کہ سیکولر ہونے یا سیکولرزم کی تائید کرنے کا قطئی یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لا مذہب یعنی کسی بھی مذہب کا ماننے والا نہیں۔ بلکہ سیکولر ہونے والا اور سیکولرازم پر یقین رکھنے والا اپنے پسندیدہ مذہب کا پابند اور عقیدت مند رہنے کے ساتھ ساتھ دوسرے تمام مذاہب کو حقارت اور نفرت سے نہ دیکھے ، بلکہ عزت و احترام کرے ۔ ملک کے بیالیسویں ترمیم میں اسی نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ انڈیا ایک سیکولر ملک ہے اور ملک کے آئین اور نہ ہی قانون میں ،مذہب اور حکومت کے رشتہ کی تشریح کرتا ہے ۔یعنی اس ملک کے آئین کے مطابق یہ ملک بھارت ایک سیکولر ملک ہے اور اس ملک کی حکومت اور مذہب کے درمیان کسی بھی طرح کوئی تعلق ہوگا ۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مضبوط اور ترقی یافتہ ممالک کے آئین اور قوانین میں اس بات کا اعتراف بہت ہی واضح طور پرہے کہ ملک کا، حکومت اور مذہب سے کسی طرح کا تعلق نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام جمہوری ممالک میں ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب ماننے اور اپنے طور پر فروغ دینے کی آزادی ہے ۔ملک کی حکومت کومذہب سے جوڑنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی ۔ امریکہ جیسے اتنے بڑے جمہوری ملک کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ اس ملک میں مختلف مذاہب،ذات، سماج، رنگ و نسل، رواج و رسوم کے لوگ بستے ہیں ، جنھیں ایک میلٹنگ پوڈ میں بدل دیا گیا ہے ۔ بلا تفریق رنگ و نسل ہر شہری پہلے اپنے ملک کی ترقی، فلاح و بہبود کو فوقیت دیتا ہے ۔ اگر کوئی سیاست داں ان راہوں سے بھٹک کر الگ راہ چلنے کی کوشش کرتا ہے ، تو اس کے خلاف زبردست احتجاج اور مظاہرے ہوتے ہیں ۔ امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن (1801-109)نے امریکہ کو آزادی دلانے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خاص خیال رکھا تھا کہ ملک کی ترقی اس بات پر مضمر ہے کہ ملک کو حکومت اور مذہب سے الگ رکھا جائے ۔ دونوں کے درمیان کسی بھی طرح کا تعلق نہیں رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ بیشتر ایسے ممالک بشمول بھارت، کسی بھی مندر، مسجد، چرچ، گرودوارہ،بودھ مٹھ وغیرہ میں ان مذاہب کے عقیدت مندوں کی جانب سے دیئے گئے عطیات اور دیگر آمدنی کو ٹیکس کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا ہے ۔
لیکن ان دنوں جس طرح ملک کے آئین کو بدلنے اور خاص طور پر سیکولر کردار کو ختم کرنے کی دانستہ کوششیں ہو رہی ہیں ، وہ بہت ہی افسوسناک ہے ۔ ملک کے اقتدار پر قابض رہنے اور اپنے ’’ہندوتوا ‘‘ ایجنڈہ کے نفاذ کے لئے منظم اور منصوبہ بند تریقے سے فرقہ واریت اور مذہبی جنون کو بڑھاوا دینے کو کوششیں دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔دراصل یہ لوگ مذہبی جنون کو ملک میں اس طرح فروغ دے کر ،اپنی کمیوں ،کوتاہیوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے اور ملک کے اقتدار پر مستقل قابض رہنے کے لئے اس قدر عجلت میں ہیں کہ انھیں ملک کے مستقبل کی قطئی فکر نہیں رہی ۔ کاش کہ یہ لوگ ماضی کی تاریخ کو سامنے رکھتے اوراس کا مطالعہ کرتے تو انھیں اندازہ ہوتا کہ حکومت کا مذہب سے بے جا تعلق پیدا کر ، دوسر ے مذاہب اور اس کے ماننے والوں کو آئے دن زد و کوب کر، منافرت بھرے نعرے لگا کر ، دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والی خواتین کو طرح طرح دھمکیاں دے کر ، نوجوانوں کو قتل کر ملک کی یکجہتی ، بھائی چارگی،رواداری اور محبت کو ختم کر ملک کے لئے کوئی اہم’’ کارنامہ‘‘ انجام دے رہے ہیں ، تو ان کی اور پردے پیچھے بیٹھے ان کی مدد کرنے والے آقاوں کی بہت بڑی بھول ہے ۔
افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اب آئے دن ملک کے سیکولر اور سیکولرز م کی بحث چھیڑی جا رہی ہے ، ایک طرف تو ملک کے نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائڈو ایک مذہبی تقریب میں یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ سیکولرزام تو اس ملک کے ڈی این اے میں شامل ہے ۔اسی طرح ہمارے ملک کے(سابق) وزیر داخلہ اور موجودہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کوآئین کی تمہید میں 1976 ء میں 42 ویں ترمیم کے ذریعہ ’’سیکولر‘‘ اور ’’سوشلسٹ‘‘ جیسے الفاظ کا شامل کیا جانا بھی کافی بوجھ محسوس ہوا اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے تھے کہ ان الفاظ کا سیاست میں غلط استعمال ہو رہا ہے کیونکہ اس سے سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ ان کے اس بیان پر حزب مخالف نے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا ۔ دراصل راج ناتھ سنگھ لفظ’سیکولر‘ کے معنیٰ سے زیادہ اس لفظ کے جو جذبات اور روح ہیں ، ان سے بہت پریشان ہیں ۔ اگر ’ سیکولر‘ اور’ سوشلسٹ‘جیسے الفاظ بے معنیٰ ، بے مطلب اور بے وقعت ہوتے ، تو اوّل تو انھیں 1976 میں آئین میں شامل نہیں کیا جاتا ، اور اگرشامل ہو ہی گیا تھا تو پھر 1977 میں جنتا پارٹی کی جو مرارجی دیسائی کی سربراہی میں حکومت برسراقتدار آئی تھی ، جس میں اٹل بہاری باجپئی اور لال کرشن اڈوانی جیسے دور اندیش اور ان ہی کے نظریہ کے حامی رہنمأ بھی شامل تھے ۔ اٹل بہاری باجپئی کی بھی حکومت رہی لیکن ان لوگوں نے ان الفاظ کو آئین سے کیوں نہیں حذف کرا دیا تھا ۔ در حقیقت ہمارے راج ناتھ سنگھ کی پریشانی یہ ہے کہ ان کی نظروں کے سامنے کھلم کھلا لفظ ’’سیکولر‘‘ کو معنوی اور جذباتی دونوں لحاظ سے لہو لہان کیا جا رہا ہے ، لیکن یہ کچھ کر نہیں پا رہے ہیں ۔ آر ایس ایس کی سخت گیری سے خوف زدہ اور مجبور ہیں ۔ کریں تو کیا کریں ۔آئین میں سیکولر اور سیکولرازم کی شمولیت کے باعث ان دونوں لفظوں کو عدالتی پناہ بھی حاصل ہے ۔
مشکل یہ ہے آج جولوگ ملک میں بد امنی اور منافرت کو پھیلا رہے ہیں ، وہ اپنے ملک کی سنہری تاریخ سے واقف ہیں اور نہ ہی واقف ہونا چاہتے ہیں ۔ میں مسلم مؤرخوں کی بیان کردہ تاریخ کی بجائے ہندومذہب سے تعلق رکھنے والے سیکولر ہندو تاریخ دانوں کے خاص طور پر حوالے دینا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ بپن چندرا،رومیلا تھاپڑ،تارا چرن،ہربنس مکھیا،راج کشور، بی این پانڈے،رام چندر گوہا،پی سیتا رمیاوغیرہ کی لکھی تاریخ کا مطالعہ کریں ، تو آنکھیں کھل جائینگی ۔لیکن ان فرقہ پرستوں کا مقصد تو کچھ اور ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک کی
سا لمیت سے مسلسل کھلواڑ کر رہے ہیں اور انتہا یہ ہے کہ جب کبھی کوئی ہندو مذہب کا ماننے والابھی سیکولر اور سیکولرزم کی باتیں کرتا ہے ، تو وہ سیدھے ’دیش دروہ ‘ یعنی غدار وطن قرار دیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو گالیوں اور گولیوںسے نوازا جاتا ہے ۔ دابھولکر، کلبرگی،پنسارے ، گوری لنکیش وغیرہ کے قتل کئے جانے کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔ ابھی ابھی رام چندرر گوہا اور دیگر ایسی قابل فخر شخصیات کے ساتھ جو کچھ ہوا ۔ اسے دنیا نے دیکھا اورہر جانب سے اس کی مذمت کی گئی۔
ان تمام حالات میں ملک کی سا لمیت کو ضرور نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔ لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اس لئے کہ اس ملک کی یکجہتی، گنگا جمنی تہذیب اور ہندوستانی اقدار کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ کوئی بھی قوت اتنی آسانی سے انھیں ختم نہیں کر سکتی ۔ بڑھتے اندھیرے میں ایک جگنو کی روشنی بھی کافی ہوتی ہے ۔

You might also like